TrueHadith

نماز گرہن کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1499

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَکَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ وَفِي رِوَايَةِ مَالِکٍ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ہشام بن عروة، عائشہ، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوب لمبا قیام کیا پھر رکوع کیا تو خوب لمبا کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا اور یہ پہلے قیام سے کم تھا پھر رکوع کیا تو خوب لمبا کیا لیکن پہلے رکوع سے کم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ فرمایا اور کھڑے ہو گئے اور خوب لمبا قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر رکوع لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور قیام کو لمبا کیا اور وہ قیام پہلے سے کم تھا پھر لمبا رکوع کیا لین پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا پھر نماز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آفتاب کھل چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا : سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اللہ سے دعا مانگو، نماز پڑھو اور صدقہ دو، اے امت محمد! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں اس بات میں کہ اس کا بندہ یا بندی زنا کرے، اے امت محمد! اللہ کی قسم اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبردار رہو! میں نے اللہ کے احکامات پہنچا دیے ہیں۔ اور مالک کی روایت میں ہے کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔

'A'isha reported that there was a solar eclipse in the time of the Messenger of Allah (may peace be upon him). He stood up to pray and prolonged his stand very much. He then bowed and prolonged very much his bowing. He then raised his head and prolonged his stand much, but it was less than the (duration) of the first stand. He then bowed and prolonged bowing much, but it was less than the duration of his first bowing. He then prostrated and then stood up and prolonged the stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged his bowing, but it was less than the first bowing. He then lifted his head and then stood up and prolonged his stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged bowing and it was less than the first bowing. He then prostrated himself; then he turned about, and the sun had become bright, and he addressed the people. He praised Allah and landed Him and said: The sun and the moon are two signs of Allah; they are not eclipsed on account of anyone's death or on account of anyone's birth. So when you see them, glorify and supplicate Allah, observe prayer, give alms. O Ummah of Muhammad, none is more indignant than Allah When His servant or maid commits fornication. O people of Muhammad, by Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212083)

حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَزَادَ أَيْضًا ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ

یحیی بن یحیی، ابومعاویہ، حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث نقل کی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ کیا میں نے احکام پہنچا دیے ہیں۔

This hadith has been narrated by Hisham b. 'Urwa with the same chain of transmitters but with this addition:" Verily the sun and the moon are among the signs of Allah." And similarly this addition was made:" He then lifted his hands and said: O Allah! have I not conveyed it?"

Permalink

Sahih MuslimHadith 1500

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَقَامَ وَکَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَائَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَائَةً طَوِيلَةً ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَائَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَی مِنْ الْقِرَائَةِ الْأُولَی ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَی مِنْ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو الطَّاهِرِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّکْعَةِ الْأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی اسْتَکْمَلَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَقَالَ أَيْضًا فَصَلُّوا حَتَّی يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْکُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا کُلَّ شَيْئٍ وُعِدْتُمْ حَتَّی لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنْ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ و قَالَ الْمُرَادِيُّ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَانْتَهَی حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ح، ابوطاہر، محمد بن سلمہ مرادی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروة بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، تکبیر کہی گئی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا تو طویل رکوع کیا پھر اپنے سر کو اٹھایا تو ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرات کی اور یہ قرات پہلی قرات سے کم تھی پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن پہلے رکوع سے کم تھا پھر سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا پھر سجدہ کیا لیکن ابوالطاہر نے ثم سجدہ ذکر نہیں کیا پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کیا یہاں تک کہ چار رکوع اور چار سجدے پورے کئے۔ اور سورج روشن ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے، پھر پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف بیان کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی آیات میں سے دو آیات ہیں، کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ نماز ادا کرو یہاں تک کہ اللہ اس کو تم سے کھو لدے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس جگہ ہر وہ چیز دیکھی ہے جس کا تم وعدے دیے گئے ہو یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ میں نے جنت سے ایک گچھا لینے کا ارادہ کیا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا مراوی کہتے ہیں کہ اقدم کی بجائے اتقدم کہا ہے اور میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا ہے جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے دیکھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا اور یہ وہ ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ بنا کر چھوڑے ابوطاہر کی حدیث ( فَافْزَعُوا الی الصَّلَاةِ) پر ختم ہوگئی اور اس کے بعد اس نے ذکر نہیں کی۔

'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), reported There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah (may peace be upon him). So, the Messenger of Allah (may peace he upon him) went to the mosque and stood up and glorified Allah, and the people formed themselves in rows behind him. The Messenger of Allah (may peace be upon him) made a long recital (of the Qur'an) and then pronounced takbir and then observed a long ruku'. He then raised his head and said: Allah listened to him who praised Him: our Lord, praise is due to Thee. He then again stood up and made a long recital, which was less than the first recital. He pronounced takbir and observed a long ruku', and it was less than the first one. He again said: Allah listened to him who praised Him; our Lord, praise is due to Thee. (Abu Tahir, one of the narrators) made no mention of:" He then prostrated himself." He did like this in the second rak'ah, till he completed four rak'ahs and four prostrations and the sun became bright before he deported. He then stood up and addressed people, after lauding Allah as He deserved, and then said: The sun and the moon are two signs among the signs of Allah These do not eclipse either on the death of anyone or on his birth. So when you see them, hasten to prayer. He also said this: Observe prayer till Allah dispels the anxiety (of this extraordinary phenomenon) from you. The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: I saw in my place everything which you have been promised. I even saw myself desiring to pluck a bunch (of grapes) from Paradise (and it was at the time) when you saw me moving forward. And I saw Hell and some of its parts crushing the others, when you saw me moving back; and I saw in it Ibn Luhayy and he was the person who made the she-camels loiter about. In the hadith transmitted by Abu Tahir the words are:" He hastened to prayer," and he made no mention of what follows.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1501

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا وَتَقَدَّمَ فَکَبَّرَ وَصَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِي رَکْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، اوزاعی، ابوعمر، ابن شہاب، زہری، عروة، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارنے والے کو بھیجا کہ وہ کہے نماز کے لئے جمع ہو جاؤ، لوگ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے تکبیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کو چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھایا۔

'A'isha reported that there was a solar eclipse during the lifetime of the Messenger of Allah (may peace be upon him) and he sent the announcer (to summon them) for congregational prayer. The people gathered together and he pronounced takbir and he observed four rak'ahs, in the form of two rak'ahs (i. e. he observed two qiyams and two ruku's in one rak'ah) and four prostrations.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1502

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَائَتِهِ فَصَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِي رَکْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن نمیر، ابن شہاب، عروة، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلوة خسوف میں قرات بالجہر کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔

'A'isha reported that the Apostle of Allah (may peace be upon him) recited loudly in the eclipse prayer, and he observed four rak'ahs in the form of two rak'ahs and four prostrations.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1503

قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي کَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِي رَکْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

زہری، کثیر، ابن عباس سے بھی یہی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔

Zuhri said: Kathir b. 'Abbas narrated on the authority of Ibn 'Abbas that the Apostle of Allah (may peace be upon him) observed four rak'ahs and four prostrations in two rak'ahs.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212088)

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ کَانَ کَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ کَسَفَتْ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ

حاجب بن ولید، محمد بن حرب، محمد بن ولید زبیدی، زہری، کثیر بن عباس، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے دن نماز پڑھائی باقی حدیث گزر چکی۔

Zuhri said: Kathir b. Abbas used to narrate that Ibn 'Abbas used to relate about the prayer of the Messenger of Allah (may peace be upon him) in regard to the eclipse of the sun like that what was narrated by 'Urwa on the authority of 'A'isha.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1504

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً يَقُولُ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ انْکَسَفَتْ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا ثُمَّ يَرْکَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْکَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْکَعُ رَکْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ وَکَانَ إِذَا رَکَعَ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ ثُمَّ يَرْکَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَکْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ کُسُوفًا فَاذْکُرُوا اللَّهَ حَتَّی يَنْجَلِيَا

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت زیادہ دیر تک قیام کیا پھر رکوع کیا پھر قیام کیا پھر رکوع کیا پھر قیام پھر رکوع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو اَللَّهُ أَکْبَرُ فرماتے اور جب سر اٹھاتے تو (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) فرماتے پھر کھڑے ہوتے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کی آیات میں سے ہیں اللہ ان کی وجہ سے ڈراتا ہے جب تم گرہن کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔

'Ata' reported: I heard 'Ubaid b. 'Umair say: It has been narrated to me by one whom I regard as truthful, (the narrator says: I can well guess that he meant 'A'isha) that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (may peace be upon him) and he stood up (in prayer) for a rigorously long time. He then bowed and then stood up and then bowed and then stood up and then bowed, thus observing three ruku's in two rak'ahs and four prostrations. He then departed and the sun brightened. He pronounced "Allah is the Greatest" while bowing. He would then bow and say: "Allah listened to him who praised Him" while lifting up his head. He then stood up, and praised Allah and lauded Him, and then said: The sun and the moon do not eclipse on the death of anyone or on his birth. But both of them are among the signs of Allah with which Allah terrifies His servants. So when you see them under eclipse, remember Allah till they are brightened.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1505

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی سِتَّ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن ہشام، قتادہ، عطاء بن ابی رباح، عبید بن عمیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے کئے۔

This hadith is narrated thus on the authority of 'A'isha through another chain of transmitters:" The Messenger of Allah (may peace be upon him) observed six ruku's and four prostration in (two rak'ahs)."

Permalink