TrueHadith

جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہو جانے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 2728

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَاهُ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَی سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاکِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّکِ تَرْجِينَ النِّکَاحَ إِنَّکِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاکِحٍ حَتَّی تَمُرَّ عَلَيْکِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِکَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَلَا أَرَی بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ کَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّی تَطْهُرَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کے پاس لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سبیعہ بنت حارث کے پاس جائے اور اس سے اس کی مروی حدیث کے بارے میں پوچھے اور اسکے بارے میں پوچھو جو اس کے فتویٰ طلب کرنے کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا تو عمر بن عبداللہ بن عتبہ کو لکھا اور اسے اس کی خبر دی کہ سبیعہ نے اسے خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی جو نبی عامر بن لوئی میں سے تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے اور ان کی وفات حجۃ الوداع میں ہوگئی اور وہ حاملہ تھی پس اس کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا پس جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے پیغام نکاح دینے والوں کے لئے بناؤ سنگار کیا تو بنو عبداللہ میں سے ایک آدمی ابوالسنابل بن بعکک اس کے پاس آیا تو اس نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تجھے بناؤ سنگار کئے ہوئے دیکھتا ہوں شاید کہ تو نکاح کی امید رکھتی ہے اللہ کی قسم تو اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک تجھ پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹے اور شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ وضع حمل ہوتے ہی آزاد ہو چکی ہوں اور مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں چاہوں ابن شہاب نے کہا کہ میں وضع حمل ہوتے ہی عورت کے نکاح میں کوئی حرج نہیں خیال کرتا اگرچہ وہ خون نفاس میں مبتلا ہو لیکن جب تک خون نفاس سے پاک نہ ہو جائے شوہر اس سے صحبت نہیں کر سکتا۔

'Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba (b. Mas'ud) reported that his father wrote to Umar b. 'Abdullah b al Arqam al-Zuhri that he would go to Subai'ah bint al-Hirith al-Aslamiyya (Allah be pleased with her) and ask her about a verdict from him which Allah's Messenger (may peace be upon him) gave her when she had asked that from him (in regard to the termination of 'Idda at the birth of a child) 'Umar b. Abdullah wrote to 'Abdullah b. 'Utba informing him that Subai'ah had told him that she had been married to Sa'd b. Khaula and he belonged to the tribe of Amir b. Lu'ayy, and was one of those who participated in the Battle of Badr, and he died in the Farewell Pilgrimage and she had been in the family way at that time. And much time had not elapsed that she gave birth to a child after his death and when she was free from the effects of childbirth she embellished herself for those who had to give proposals of marriage. Abd al-Sunabil b. Ba'kak (from Banu 'Abd al-Dar) came to her and said: What is this that I see you embellished; perhaps you are inclined to marry, By Allah, you cannot marry unless four months and ten days (of 'Idda are passed). When he said that, I dressed myself, and as it was evening I came to Allah's Messenger (may peace be upon him) and asked him about it, and he gave me a religious verdict that I was allowed to marry when I had given birth to a child and asked me to marry if I so liked. Ibn Shihab said: I do not find any harm fur her in marrying when she has given birth to a child even when she is bleeding (after the birth of the child) except that her husband should not go near her until she is purified.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2729

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنَ عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُمَا يَذْکُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِدَّتُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَلَّتْ فَجَعَلَا يَتَنَازَعَانِ ذَلِکَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَبَعَثُوا کُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَجَائَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ وَإِنَّهَا ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ

محمد بن مثنی عنبری، عبدالوہاب، یحیی بن سعید، حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور ابن عباس دونوں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور وہ دونوں ذکر کر رہے تھے اس عورت کا جسے اس کے شوہر کی وفات کے چند دنوں بعد وضع حمل ہوگیا تھا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کی عدت دونوں سے لمبی ہوگئی اور ابوسلمہ نے کہا وہ حلال یعنی آزاد ہو چکی ہے اور وہ دونوں اس میں جھگڑنے لگے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اپنے بھیتجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں پھر انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا وہ ان کے پاس آئے اور انہیں خبر دی کہ ام سلمہ نے کہا ہے سبیعہ اسلمیہ کو اس کے خاوند کی وفات کے چند دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا تھا تو اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ نکاح کرلے۔

Abu Salama b. 'Abd al-Rahman and Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) got together in the house of Abu Huraira (Allah be pleased with him) and began to discuss about the woman who gave birth to a child a few nights after the death of her husband. Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) said: Her 'Idda is that period which is longer of the two (between four months and ten days and the birth of the child, whichever is longer). AbuSalama, however said: Her period of 'Idda is over (with the birth of the child), and they were contending with each other over this issue, whereupon Abu Huraira (Allah be pleased with him) said: I subscribe (to the view) held by my nephew (i. e. Abu Salama). They sent Kuraib (the freed slave of Ibn 'Abbas) to Umm Salama to ask her about it. He came (back) to them and informed them that Umm Salama (Allah be pleased with her) said that Subai'ah al-Aslamiyya gave birth to a child after the death of her husband when the few flights (had hardly) passed and she made mention of that to Allah's Messenger (may peace be upon him) and he commanded her to marry.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221231)

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَأَرْسَلُوا إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ وَلَمْ يُسَمِّ کُرَيْبًا

محمد بن رمح، لیث، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، یحیی بن سعید، لیث اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیث نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ انہوں نے یعنی ابوسلمہ ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلمہ کی طرف پیغام بھیجا کریب کا نام ذکر نہیں کیا

This hadith has been narated with the same chain of transrmitters except with a small change of words (and that is): They sent him to Umm Salama, but no mention was made of Kuraib.

Permalink