TrueHadith

اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1656

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَی عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَی حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ کَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَی نُغْضِ کَتِفَيْهِ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُئُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّی جَلَسَ إِلَی سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلَائِ إِلَّا کَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَتَرَی أُحُدًا فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنْ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ کُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ هَؤُلَائِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ مَا لَکَ وَلِإِخْوَتِکَ مِنْ قُرَيْشٍ لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ قَالَ لَا وَرَبِّکَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّی أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابوعلاء، حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا تو میں سرداران قریش کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک آدمی موٹے کپڑے سخت جسم و چہرے والا آیا اور ان کے پاس کھڑا ہوا اور کہا بشارت دے دو مال جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی کہ ان کے لئے جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان کے سینوں پر اس طرح رکھا جائے گا کہ شانہ کی نوک سے پار ہو جائے گا اور شانوں کی نوک پر رکھا جائے گا یہاں تک کہ پستان کے سر سے پار ہو جائے اور آدمی بے قرار ہو جائے گا تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لئے میں نے کسی آدمی کو نہ دیکھا کہ جس نے اس کو کوئی جواب دیا ہو وہ پھرے اور میں نے ان کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے پاس جا بیٹھے تو میں نے کہا میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی بات ناگوار گزری ہے تو انہوں نے کہا یہ لوگ کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا میں گیا تو فرمایا کیا تم احد دیکھ رہے ہو تو میں نے اپنے اوپر پڑنے والی سورج کی شعاع کو دیکھا اور میں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنی کسی ضرورت کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں میں اسکو دیکھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے اس کی مثل سونا ہو لیکن اگر ہو تو میں تین دینار کے علاوہ سب کا سب خرچ کر دوں اور یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور سمجھ رکھتے میں نے کہا آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا حال ہے نہ آپ ان سے ملتے ہیں نہ ان کے پاس جاتے اور نہ ان سے کچھ مانگتے ہیں فرمایا اللہ کی قسم میں نہ ان سے دنیا مانگوں گا ورنہ دنیوی معاملہ کروں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں۔

Ahnaf b. Qais reported: I came to Medina and when I was in the company of the grandees of Quraish a man with a crude body and an uncouth face wearing coarse clothes came there. He stood up before them and said: Give tidings to those who amass riches of the stones which would be heated in the Fire of Hell, and would be placed at the tick of the chest till it would project from the shoulder bone and would he put on the shoulder bone till it would project from the tick of his chest, and it (this stone) would continue passing and repassing (from one side to the other). He (the narrator) said: Then people hung their heads and I saw none among them giving any answer. He then returned and I followed him till he sat near a pillar. I said: I find that these (people) disliked what you said to them and they do not understand anything. My friend Abu'l-Qasim (Muhammad) (may peace he upon him) called me and I responded to him, and he said: Do you see Uhud? I saw the sun (shining) on me and I thought that he would send me on an errand for him. So I said: I see it. Upon this he said: Nothing would delight me more than this, that I should have gold like it (equal to the bulk of Uhud), and I should spend it all except three dinars. (How sad it is) that they hoard worldly riches, and they know nothing. I said: What about you and your brothers Quraish? You do not go to them for any need and do not accept anything from them. He said: By Allah, I neither beg anything from them (from worldly goods), nor do I ask them anything about religion till I meet my Allah and His Messenger.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1657

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ کُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِکَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِکَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ قَالَ ثُمَّ تَنَحَّی فَقَعَدَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْئٌ سَمِعْتُکَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَائِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا کَانَ ثَمَنًا لِدِينِکَ فَدَعْهُ

شیبان بن فروخ، ابوالاشہب، خلیدعصری، حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں قریش کی ایک جماعت میں تھا کہ حضرت ابوذر یہ کہتے ہوئے گزرے، خوشخبری دے دو مال جمع کرنے والوں کو ایسے داغوں سے جو ان کی پشت پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے، پھر وہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے، میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ابوذر ہے میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا یہ کیا بات تھی جو میں نے آپ سے ابھی سنی، کہا میں نے وہی بات کہی جس کو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا میں نے کہا آپ عطا وبخشش کے مال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا اس کو لے لو کیوں کہ اس سے آج کل تمہیں مدد حاصل ہوگی اور اگر یہ تیرے دین کی قیمت ہو تو چھوڑ دو۔

Ahnaf b. Qais reported: While I was in the company of the (elites) of Quraiah, Abu Dharr came there and he was saying: Give tidings to the hoarders of riches that their backs would be branded (so deeply) that (the hot Iron) would come out of their sides, and when the backs of their necks would be branded, it would come out of their foreheads. He (Abu Dharr) then went away and sat down. I asked who he was. They said: He is Abu Dharr. I went to him and said to him: What is this that I heard from you which you were saying before? He said: I said nothing but only that which I heard from their Prophet (may peace be upon him). I again said: What do you say about this gift? He said: Take it, for today it is a help. But when it becomes a price for your religion, then abandon it.

Permalink