حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْکُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی السَّائِلَةُ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، نافع، عبداللہ بن عمر، رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر صدقہ کرنے اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔
Abdullah b. Umar reported that as Allah's Messenger (may peace be upon him) was sitting on the pulpit and talking about Sadaqa and abstention from begging, he said: The upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower one which begs.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًی وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
محمد بن بشار، محمد بن حاتم، احمد بن عبدہ، یحیی قطان، یحیی، عمرو بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا افضل یا بہتر صدقہ وہ ہے اس کے بعد بھی دینے والا غنی رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ دینا اپنے عیال سے شروع کرے۔
Hakim b. Hizam reported Allah's Messenger (may peace be upon him) having said this: The most excellent Sadaqa or the best of Sadaqa is that after giving which the (giver) remains rich and the upper hand is better than the lower hand, and begin from the members of your household.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدٍ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِکَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَکَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، سعید، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا کیا پھر فرمایا یہ مال ہرا بھرا اور شیریں ہے جو اس کو پاکیزہ نفس سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو اس کو نفس کی حرص و ہوس سے لیتا ہے تو اس کے لیے برکت نہیں دی جاتی اور وہ ایسے شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Hakim b. Hizam reported: I begged the Apostle of Allah (may peace be upon him), and he gave me. I again begged, he again gave me. I again begged, he again gave me, and then said: This property is green and sweet; he who receives it with a cheerful heart is blessed in it, and he who receives it with an avaricious mind would not be blessed in it, he being like one who eats without being satished, and the upper hand is better than the lower hand.
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَکَ وَأَنْ تُمْسِکَهُ شَرٌّ لَکَ وَلَا تُلَامُ عَلَی کَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی
نصر بن علی جہضمی، زہیر بن حرب، عبد بن حمید، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کر دینا تیرے لیے بہتر ہے اگر تو اس کو روک لے گا تو تیرے لیے برا ہوگا اور دینے کی ابتداء اپنے اہل و عیال سے کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Abu Umama reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: 0 son of Adam, it is better for you if you spend your surplus (wealth), but if you withhold it, it is evil for you. There is (however) no reproach for you (if you withhold means necessary) for a living. And begin (charity) with your dependants; and the upper hand is better than the lower hand.