TrueHadith

مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1748

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَائِ کَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ قَالَ إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ

عثمان بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، اسحاق، جریر، اعمش، ابووائل، سلمان بن ربیعہ، حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال تقیسم فرمایا تو میں نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگ زیادہ مستحق و حقدار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں نے مجھے اختیار دیا کہ یہ مجھ سے بے حیائی کے ساتھ مانگیں یا مجھے بخیل کہیں پس میں تو بخل کرنے والا نہیں ہوں۔

Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) distributed something. Upon this I said: Messenger of Allah, I swear by God, the others besides them were more deserving than these (to whom you gave charity). He said: They had in fact left no other alternative for me. but (that they should) either beg importunately from me or they would regard me as a miser, but I am not a miser.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1749

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا ح و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَائٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَکَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَی صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَائِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَائٍ

عمرو ناقد، اسحاق بن سلیمان رازی، مالک، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موٹے کناروں والی نجرانی چادر تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دیہاتی ملا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر کے ساتھ بہت شدت و سختی کے ساتھ کھنچا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک پر چادر کی کناری کا نشان پڑ گیا اور یہ کناری کا نشان اس کے سختی کے ساتھ کھینچے کی وجہ سے پڑا پھر اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے مال میں سے جو تیرے پاس ہے میرے لئے حکم کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا۔

Anas b. Malik reported: I was walking with the Messenger of Allah (may peace be upon him) and he had put on a mantle of Najran with a thick border. A bedouin met him and pulled the mantle so violently that I saw this violent pulling leaving marks of the border of the mantle on the skin of the neck of the Messenger of Allah (may peace be upon him). And he (the bedouin) said: Muhammad, issue command that I should be given out of the wealth of Allah which is at your disposal. The Messenger of Allah (may peace be upon him) turned his attention to him and smiled, and then ordered for him a gift (provision).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1212423)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَفِي حَدِيثِ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنْ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ فَجَاذَبَهُ حَتَّی انْشَقَّ الْبُرْدُ وَحَتَّی بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، ہمام، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، سلمہ بن شبیب، ابومغیرہ، ابواوزاعی، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ زیادتی ہے پھر اس نے آپ کو اتنا کھینچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک اس قدر پھٹ گئی کہ اس کا کنارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں رہ گیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters. And In the hadith transmitted by Ikrima b. 'Amir there is an addition: "He (the bedouin) pulled his (mantle) so violently that the Apostle of Allah (may peace be upon him) was drifted very close to the bedouin." And in the hadith transmitted by Hammam, (the words are): "He pulled it so violently that the mantle was torn and the border was left around the neck of the Messenger of Allah (may peace be upon him)."

Permalink

Sahih MuslimHadith 1750

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَائٌ مِنْهَا فَقَالَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَضِيَ مَخْرَمَةُ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن ابی ملیکہ، حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبائیں تقسیم فرمائیں لیکن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ نہ عطا فرمایا تو مخرمہ نے کہا اے میرے بیٹو! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو میں ان کے ساتھ چلا (دروازہ پر) مخرمہ نے کہا جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے پاس بلا لاؤ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے پاس بلایا۔ آپ اس کی طرف نکلے اور آپ پر ان میں سے ایک قبا تھی تو آپ نے فرمایا یہ میں نے تیرے لئے رکھ چھوڑی پھر مخرمہ نے چادر کی طرف دیکھا اور مسور کہتے ہیں مخرمہ خوش ہوگئے۔

Miswar b. Makhrama reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) distributed some cloaks but did not bestow one upon Makhrama. Upon this Makhrama said: 0 my son, come along with me to the Messenger of Allah (may peace be upon him). So I went with him. He said: Enter the house and call him (to come out) for me. So I called him and he (the Holy Prophet) came out, and there was a cloak (from those already distributed) on him. He (the Holy Prophet) said: I had kept it for you. He (Makhrama), looked at it and was pleased.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1751

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَی أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَقَامَ أَبِي عَلَی الْبَابِ فَتَکَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَائٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ

ابوخطاب، زیاد بن یحیی حسانی، حاتم بن وردان ابوصالح، ایوب سختیانی، عبداللہ بن ابی ملیکہ، حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ قبائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی گئیں تو مجھے میرے باپ مخرمہ نے کہا ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو۔ قریب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیں۔ میرے باپ نے کھڑے ہو کر بات کی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آواز پہچان لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قباء لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قباء لے کر نکلے اور آپ اس کی خوبصورتی دکھاتے ہوئے فرما رہے تھے کہ یہ میں نے آپ کے لیے رکھ چھوڑی تھی یہ میں نے تیرے لیے رکھ چھوڑی تھی۔

Miswar b. Makhrama reported: Some cloaks were presented to the Messenger of Allah (may peace be upon him). My father Makhrama said to me: Come along with me to him; perhaps we may be able to get anything out of that (stock of cloaks). My father stood at the door and began to talk. The Apostle of Allah (may peace be upon him) recognised him by his voice and came out and there was a cloak with him, and he was showing its beauties and saying: I kept it for you, I kept it for you.

Permalink