TrueHadith

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

Sunan Abu DawoodHadith 2251

Narrated by Samurah ibn Jundub

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ عَلَی مَاشِيَةٍ فَإِنْ کَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ

عیاش بن ولید عبدالاعلی، سعید، قتادہ، حسن، حضرت سمرة بن جندب سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چوپایوں پر گزرے اور ان کا مالک موجود ہو تو مالک کی اجازت سے ان کا دودھ پی سکتے ہو اور اگر مالک موجود نہ ہو تو ان کو تین مرتبہ پکارے (تاکہ اگر وہ قریب ہے تو آجائے) اگر وہ جواب دے (یعنی آجائے) تو اس سے اجازت لے کر، ورنہ اس کی اجازت کے بغیر دودھ پی لے لیکن اپنے ساتھ لیکر نہ جائے۔

Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (peace_be_upon_him) said: When one of you comes to the cattle, he should seek permission of their master if he is there; if he permits, he should milk (the animals) and drink. If he is not there, he should call three times. If he responds, he should seek his permission; otherwise, he may milk (the animals) and drink, but should not carry (with him).

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2252

Narrated by Abbad ibn Shurahbil

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَفَرَکْتُ سُنْبُلًا فَأَکَلْتُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَائَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَا عَلَّمْتَ إِذْ کَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ کَانَ جَائِعًا أَوْ قَالَ سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ ِ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، ابوبشر، حضرت عباد بن شرحبیل سے روایت ہے کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے ایک باغ میں گیا اور ایک شاخ کو مسل کر میں نے کھالیا اور کچھ اپنے کپڑے میں باندھ لیا اتنے میں باغ کا مالک گیا اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا بھی چھین لیا میں (اس کی شکایت لیکر) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باغ والے سے فرمایا یہ نادان تھا تو نے اس کو مسئلہ نہ بتایا اور یہ بھوکا تھا تو نے اس کو نہ کھلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس نے میرا کپڑا بھی واپس کر دیا اور مزید ایک وسق یا نصف وسق اناج دیا۔

Narrated Abbad ibn Shurahbil: I suffered from drought; so I entered a garden of Medina, and rubbed an ear-corn. I ate and carried in my garment. Then its master came, he beat me and took my garment. He came to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) who said to him: You did not teach him if he was ignorant; and you did not feed him if he was hungry. He ordered him, so he returned my garment to me, and gave me one or half a wasq (sixty or thirty sa's) of corn.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1320856)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ بِمَعْنَاهُ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبشر، حضرت ابن شرحبیل سے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی ایسا ہی مروی ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2253

Narrated by The uncle of AbuRafi ibn Amr al-Ghifari

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَکْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا لَفْظُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَکَمٍ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ کُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ آکُلُ قَالَ فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ وَکُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسْفَلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ

عثمان بن ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوبکر بن معتمر بن سلیمان بن ابی حکم، حضرت ابورافع بن عمرو سے روایت ہے کہ میں بچپن میں انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا۔ لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اے لڑکے تو درختوں پر ڈھیلے کیوں مارتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کھجوریں جھاڑ کر ان کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا درختوں پر ڈھیلے نہ مارا کر بلکہ جو کھجوریں از خود نیچے گر جائیں تو ان کو کھا لیا کر۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور دعا کی۔ یا اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔

Narrated The uncle of AbuRafi ibn Amr al-Ghifari: I was a boy. I used to throw stones at the palm-trees of the Ansar. So I was brought to the Prophet (peace_be_upon_him) who said: O boy, why do you throw stones at the palm-trees? I said: eat (dates). He said: Do not throw stones at the palm trees, but eat what falls beneath them. He then wiped his head and said: O Allah, fill his belly.

Permalink