TrueHadith

آپ خمس کہاں کہاں تقسیم کرتے اور کن کن قرابت داروں کو تقسیم فرماتے

Sunan Abu DawoodHadith 2585

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّهُ جَائَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُکَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنْ الْخُمُسِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ مِنْکَ وَاحِدَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْئٌ وَاحِدٌ قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِکَ الْخُمُسِ کَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ قَالَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُعْطِي قُرْبَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ قَالَ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ وَعُثْمَانُ بَعْدَهُ

عبیداللہ بن عمرو بن میسرہ، عبدالرحمن بن مہدی، عبداللہ بن مبارک، یونس بن یزید، زہری، سعید بن مسیب، حضرت جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس خمس کے بارے میں گفتگو کرنے کی غرض سے گئے جو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کر دیا تھا (اور بنی نوفل اور بنی عبدشمس کو نہیں دیا تھا حالانکہ ان سب کا رشتہ ایک تھا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ہمارے بھائیوں یعنی بنی مطلب کو حصہ دلا دیا اور ہمیں آپ نے کچھ بھی نہ دیا حالانکہ آپ سے ہماری اور ان کی قرابت داری ایک جیسی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنو مطلب اور بنوہاشم ایک ہیں۔ جبیر کہتے ہیں کہ آپ نے اس خمس میں سے بنی عبدشمس اور بنی نوفل کو کچھ نہیں دیا تھا جس میں سے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا۔ جبیر کہتے ہیں کہ ( آپ کی وفات کے بعد ابوبکر بھی خمس کو اسی طرح تقسیم کرتے رہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم فرمایا کرتے تھے بجز اس کے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابت داروں کو نہ دیتے تھے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیات میں دیا کرتے تھے (ممکن ہے اس وقت وہ ضروت مند نہ رہے ہوں) اور عمر بن خطاب ان کو دیا کرتے تھے اور اس کے بعد حضرت عثمان بھی ان کو دیتے رہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2586

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ الْخُمُسِ شَيْئًا کَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ قَالَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُعْطِي قُرْبَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا کَانَ يُعْطِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ عُمَرُ يُعْطِيهِمْ وَمَنْ کَانَ بَعْدَهُ مِنْهُمْ

عبیداللہ بن عمر عثمان بن عمر، یونس، زہری، سعید بن مسیب، حضرت جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی عبدشمس اور بنی نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا جیسا کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا۔ حضرت جبیر کہتے ہیں کہ ابوبکر بھی اسی طرح تقسیم کرتے رہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے سوائے اس کے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں کو نہ دیتے تھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ان کو دیا کرتے تھے۔ البتہ حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزیزوں کو دیا کرتے تھے اور ان کے بعد جو بھی خلیفہ ہوئے وہ بھی دیتے رہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2587

حَدَّثَنَا مُسَدِّدٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَی فِي بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَکَ بَنِي نَوْفَلٍ وَبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ حَتَّی أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَائِ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْکِرُ فَضْلَهُمْ لِلْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَکَ اللَّهُ بِهِ مِنْهُمْ فَمَا بَالُ إِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَکْتَنَا وَقَرَابَتُنَا وَاحِدَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا وَبَنُو الْمُطَّلِبِ لَا نَفْتَرِقُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ شَيْئٌ وَاحِدٌ وَشَبَّکَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مسدد، ہشیم، محمد بن اسحاق ، زہری سعید بن مسیب، حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ جب خیبر کی جنگ ہوئی تو مال غنیمت میں سے آپ نے ذوی القربی کا حصہ بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم فرمایا اور بنی نوفل اور بنی عبدشمس کو چھوڑ دیا۔ تو میں اور عثمان بن عفان مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! بنی ہاشم کی فضیلت کا ہم انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان میں پیدا فرمایا لیکن ہمارے بھائیوں بنی مطلب کا کیا حال ہے آپ نے ان کو دیا اور ہم کو نہ دیا حالانکہ آپ سے ہماری بھی قرابت ایک ہی ہے تب آپ نے فرمایا ہم اور بنی مطلب کبھی جدا نہیں ہوئے نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں۔ اور ہم اور وہ ایک ہیں۔ اور آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ یوں!

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2588

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ السُّدِّيِّ فِي ذِي الْقُرْبَی قَالَ هُمْ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

حسین بن علی، وکیع، حسن بن صالح، حضرت سدی سے ذوی القربی کی تفسیر میں منقول ہے کہ اس سے مراد عبدالمطلب کی اولاد ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2589

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ حَجَّ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَی وَيَقُولُ لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِقُرْبَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ کَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِکَ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ

احمد بن صالح، عنبسہ، یونس، ابن شہاب، حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ (خارجیوں کے سردار) نجدہ حروری نے جب عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے موقعہ پر حج کیا تو اس نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس ذوی القربی کا حصہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا اور پوچھا کہ آپ کی رائے میں ذوی القربی سے مراد کون ہے؟ تو جواب میں حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابت دار ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو حصہ دیا تھا اور حضرت عمر نے اس میں سے ہمارے سامنے بھی پیش کیا ہم نے اپنے حق سے کم سمجھ کر اس کو لوٹا دیا اور اس کو لینے سے انکار کر دیا۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2590

Narrated by Abdullah ibn Abbas

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًا يَقُولُ وَلَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسَ الْخُمُسِ فَوَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَيَاةَ أَبِي بَکْرٍ وَحَيَاةَ عُمَرَ فَأُتِيَ بِمَالٍ فَدَعَانِي فَقَالَ خُذْهُ فَقُلْتُ لَا أُرِيدُهُ قَالَ خُذْهُ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ قُلْتُ قَدْ اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ

عباس بن عبدالعظیم، یحیی بن بکیر، ابوجعفر، مطرف، حضرت عبداللہ بن ابی لیلی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خمس کے خمس کو میری ولایت میں دیا تو میں اس کو اس کے مصارف پر صرف کرتا رہا اور یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات تک اور اس کے بعد ابوبکر وعمر کی زندگی تک جاری رہا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر کی آخر حیات میں مال آیا۔ انھوں نے مجھے بلایا اور کہا لے لو۔ تم اس کے زیادہ حقدار ہو۔ میں نے کہا ہم کو اس کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد عمر نے اس کو بیت المال میں جمع کرایا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas: Yazid ibn Hurmuz said that when Najdah al-Haruri performed hajj during the rule of Ibn az-Zubayr, he sent someone to Ibn Abbas to ask him about the portion of the relatives (in the fifth). He asked: For whom do you think? Ibn Abbas replied: For the relatives of the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) divided it among them. Umar presented it to us but we found it less than our right. We, therefore returned it to him and refused to accept it.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2591

Narrated by Ali ibn AbuTalib

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ وَفَاطِمَةُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي حَقَّنَا مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَأَقْسِمْهُ حَيَاتَکَ کَيْ لَا يُنَازِعَنِي أَحَدٌ بَعْدَکَ فَافْعَلْ قَالَ فَفَعَلَ ذَلِکَ قَالَ فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّی إِذَا کَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ کَثِيرٌ فَعَزَلَ حَقَّنَا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقُلْتُ بِنَا عَنْهُ الْعَامَ غِنًی وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَيْهِ حَاجَةٌ فَارْدُدْهُ عَلَيْهِمْ فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ لَمْ يَدْعُنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ بَعْدَ عُمَرَ فَلَقِيتُ الْعَبَّاسَ بَعْدَمَا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ فَقَالَ يَا عَلِيُّ حَرَمْتَنَا الْغَدَاةَ شَيْئًا لَا يُرَدُّ عَلَيْنَا أَبَدًا وَکَانَ رَجُلًا دَاهِيًا

عثمان بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ہاشم بن برید، حسین بن میمون، عبداللہ بن عبد اللہ، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ میں عباس فاطمہ اور زید بن حارثہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب تصور فرمائیں تو خمس میں جو حق کتاب اللہ کی رو سے ہمارا بیٹھتا ہے اسے اپنی زندگی میں ہمارے اختیار میں دے دیجئے۔ تاکہ آپ کے بعد کوئی ہم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کرے۔ حضرت علی کہتے ہیں پس آپ نے ایسا ہی کیا اور میں نے اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کیا پھر ابوبکر نے مجھے اس کا اختیار دیا یہاں تک کہ جب حضرت عمر کی خلافت کا آخری سال تھا۔ ان کے پاس بہت سا مال آیا۔ انھوں نے اس میں سے ہمارا حق نکالا اور تقسیم کیلئے مجھے بلا بھیجا۔ میں نے کہا اب کے سال ہم کو مال کی حاجت نہیں اور مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہے۔ آپ ان کو دے دیجئے پس حضرت عمر نے اس کو دے دیا۔ پھر حضرت عمر کے بعد کسی نے اس مال کے لیے مجھے نہیں بلایا۔ پھر میں حضرت عباس سے ملا جب میں حضرت عمر کے پاس سے نکلا۔ تو انھوں نے کہا اے علی تم نے ہم کو آج سے محروم کردیا ایک چیز سے اب ہم کو کبھی یہ حصہ نہ ملے گا اور عباس بہت عقل مند تھے۔

Narrated Ali ibn AbuTalib: I, al-Abbas, Fatimah and Zayd ibn Harithah gathered with the Prophet (peace_be_upon_him) and I said: Apostle of Allah, if you think to assign us our right (portion) in this fifth ( of the booty) as mentioned in the Book of Allah, and this I may divide during your lifetime so that no one may dispute me after you, then do it. He said: He did that. He said: I divided it during the lifetime of the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). AbuBakr then assigned it to me. During the last days of the caliphate of Umar a good deal of property came to him and took out our portion. I said to him: We are well to do this year; but the Muslims are needy, so return it to them. He, therefore, returned it to them. No one called me after Umar. I met al-Abbas when I came out from Umar. He said: Ali, today you have deprived us of a thing that will never be returned to us. He was indeed a man of wisdom.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2592

Narrated by AbdulMuttalib ibn Rabi'ah ibn al-Harith

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ وَعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغْنَا مِنْ السِّنِّ مَا تَرَی وَأَحْبَبْنَا أَنْ نَتَزَوَّجَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُهُمْ وَلَيْسَ عِنْدَ أَبَوَيْنَا مَا يُصْدِقَانِ عَنَّا فَاسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَی الصَّدَقَاتِ فَلْنُؤَدِّ إِلَيْکَ مَا يُؤَدِّي الْعُمَّالُ وَلْنُصِبْ مَا کَانَ فِيهَا مِنْ مَرْفَقٍ قَالَ فَأَتَی عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ فَقَالَ لَنَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا نَسْتَعْمِلُ مِنْکُمْ أَحَدًا عَلَی الصَّدَقَةِ فَقَالَ لَهُ رَبِيعَةُ هَذَا مِنْ أَمْرِکَ قَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَحْسُدْکَ عَلَيْهِ فَأَلْقَی عَلِيٌّ رِدَائَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَيْکُمَا ابْنَايَ بِجَوَابِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَی بَابِ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نُوَافِقَ صَلَاةَ الظُّهْرِ قَدْ قَامَتْ فَصَلَّيْنَا مَعَ النَّاسِ ثُمَّ أَسْرَعْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَی بَابِ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُمْنَا بِالْبَابِ حَتَّی أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِأُذُنِي وَأُذُنِ الْفَضْلِ ثُمَّ قَالَ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ ثُمَّ دَخَلَ فَأَذِنَ لِي وَلِلْفَضْلِ فَدَخَلْنَا فَتَوَاکَلْنَا الْکَلَامَ قَلِيلًا ثُمَّ کَلَّمْتُهُ أَوْ کَلَّمَهُ الْفَضْلُ قَدْ شَکَّ فِي ذَلِکَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ کَلَّمَهُ بِالْأَمْرِ الَّذِي أَمَرَنَا بِهِ أَبَوَانَا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً وَرَفَعَ بَصَرَهُ قِبَلَ سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّی طَالَ عَلَيْنَا أَنَّهُ لَا يَرْجِعُ إِلَيْنَا شَيْئًا حَتَّی رَأَيْنَا زَيْنَبَ تَلْمَعُ مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ بِيَدِهَا تُرِيدُ أَنْ لَا تَعْجَلَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِنَا ثُمَّ خَفَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَقَالَ لَنَا إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ ادْعُوا لِي نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ فَدُعِيَ لَهُ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ يَا نَوْفَلُ أَنْکِحْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ فَأَنْکَحَنِي نَوْفَلٌ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوا لِي مَحْمِئَةَ بْنَ جَزْئٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُبَيْدٍ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَی الْأَخْمَاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَحْمِئَةَ أَنْکِحْ الْفَضْلَ فَأَنْکَحَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَأَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنْ الْخُمُسِ کَذَا وَکَذَا لَمْ يُسَمِّهِ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ

احمد بن صالح، عنبسہ، یونس، حضرت ابن شہاب عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث نے بیان کیا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث نے اور عباس بن عبدالمطلب نے عبدالطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور عرض کرو یا رسول اللہ! اب ہماری جو عمر ہوگئی ہے اس سے آپ واقف ہی ہیں (یعنی ہم بالغ ہو گئے ہیں اور شادی کے لائق ہو گئے ہیں) ہم چاہتے ہیں کہ نکاح کرلیں اور اے اللہ کے رسول! آپ سب لوگوں سے بڑھ کر بھلائی پہنچانے والے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ ہمارے باپوں کے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں ہے پس آپ ہمیں صدقات کی وصولی پر مامور فرما دیجئے۔ ہم آپ کو وہی دیں گے جو دوسرے عامل لا کر دیا کرتے ہیں اور اس سے جو فائدہ حاصل ہوگا وہ ہم پائیں گے عبدالمطلب کہتے ہیں کہ ابھی ہم گفتگو کر رہے تھے کہ علی بن ابی طالب ادھر آنکلے اور بولے خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں سے کسی کو بھی صدقات کی وصولی پر مامور نہیں کریں گے۔ ربیعہ نے کہا تم یہ سب حسد کی بنا پر کہہ رہے ہو۔ تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بن گئے اور ہم نے تم پر حسد نہیں کیا۔ یہ سن کر علی نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں ابوالحسن ہوں عقل اور تجربہ میں تم میں سب سے زیادہ۔ خدا کی قسم! میں اس وقت تک یہاں سے نہیں ہٹوں گا جب تک تمہارے بیٹے اس کام سے نا امید ہو کر نہیں آجاتے جس مقصد کیلئے تم ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج رہے ہو۔ عبدالمطلب کہتے ہیں کہ میں اور فضل بن عباس دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے جب ہم پہنچے تو ظہر کی تکبیر ہوئی اور ہم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں اور فضل جلدی کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے کے دروازے کی طرف چلے۔ آپ اس دن زینب بنت جحش کے پاس تھے ہم دروازے پر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ نے ازراہ شفقت میرا اور فضل کا کان پکڑا اس کے بعد بولے جو تمہارے دل میں ہے کہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہم دونوں کو اندر آنے کی اجازت دی۔ ہم اندر چلے گئے تھوڑی دیر تک ہم ایک دوسرے کو گفتگو شروع کرنے کے لیے کہتے رہے۔ آخر کار میں نے یا فضل نے اس میں عبداللہ کا شک ہے۔ وہی کہہ دیا جو ہمارے باپوں نے ہم سے کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہے پھر کافی دیر تک نگاہ اٹھا کر چھت کی طرف دیکھتے رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپ ہمیں کچھ جواب نہ دیں گے۔ مگر پھر ہم نے حضرت زینب کو دیکھا کہ وہ پردے کی اوٹ سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہہ رہی تھیں کہ جلدی نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہی معاملہ پر غور فرما رہے ہیں۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکایا اور فرمایا یہ صدقہ ہے اور یہ لوگوں کے مال کا میل کچیل ہے اور یہ محمد اور آلِ محمد کے لیے درست نہیں ہے۔ نوفل بن حارث کو بلاؤ وہ بلائے گئے۔ آپ نے ان سے فرمایا تم اپنی بیٹی کا عبدالمطلب سے نکاح کردو۔ پس نوفل نے اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کر دیا۔ پھر فرمایا محمیہ بن جزء کو بلاؤ۔ اور وہ بنی زیید کا ایک شخص تھا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خمس وصول کرنے پر مامور کر رکھا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا تم اپنی بیٹی کا نکاح فضل سے کردو۔ پس اس نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اٹھو! اور ان دونوں کی طرف سے خمس کے مال میں سے اتنا اور اتنا مہر ادا کر دو۔ زہری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن حارث نے مجھ سے مہر کی مقدار بیان نہیں کی۔

Narrated AbdulMuttalib ibn Rabi'ah ibn al-Harith: AbdulMuttalib ibn Rabi'ah ibn al-Harith said that his father, Rabi'ah ibn al-Harith, and Abbas ibn al-Muttalib said to AbdulMuttalib ibn Rabi'ah and al-Fadl ibn Abbas: Go to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) and tell him: Apostle of Allah, we are now of age as you see, and we wish to marry. Apostle of Allah, you are the kindest of the people and the most skilled in matchmaking. Our fathers have nothing with which to pay our dower. So appoint us collector of sadaqah (zakat), Apostle of Allah, and we shall give you what the other collectors give you, and we shall have the benefit accruing from it. Ali came to us while we were in this condition. He said: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: No, I swear by Allah, he will not appoint any of you collector of sadaqah (zakat). Rabi'ah said to him: This is your condition; you have gained your relationship with the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) by marriage, but we did not grudge you that. Ali then put his cloak on the earth and lay on it. He then said: I am the father of Hasan, the chief. I swear by Allah, I shall not leave this place until your sons come with a reply (to the question) for which you have sent them to the Prophet (peace_be_upon_him). AbdulMuttalib said: So I and al-Fadl went towards the door of the apartment of the Prophet (peace_be_upon_him). We found that the noon prayer in congregation had already started. So we prayed along with the people. I and al-Fadl then hastened towards the door of the apartment of the Prophet (peace_be_upon_him). He was (staying) with Zaynab, daughter of Jahsh, that day. We stood until the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) came. He caught my ear and the ear of al-Fadl. He then said: Reveal what you conceal in your hearts. He then entered and permitted me and al-Fadl (to enter). So we entered and for a little while we asked each other to talk. I then talked to him, or al-Fadl talked to him (the narrator, Abdullah was not sure). He said: He spoke to him concerning the matter about which our fathers ordered us to ask him. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) remained silent for a moment and raised his eyes towards the ceiling of the room. He took so long that we thought he would not give any reply to us. Meanwhile we saw that Zaynab was signalling to us with her hand from behind the veil, asking us not to be in a hurry, and that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) was (thinking) about our matter. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) then lowered his head and said to us: This sadaqah (zakat) is a dirt of the people. It is legal neither for Muhammad nor for the family of Muhammad. Call Nawfal ibn al-Harith to me. So Nawfal ibn al-Harith was called to him. He said: Nawfal, marry AbdulMuttalib (to your daughter). So Nawfal married me (to his daughter). The Prophet (peace_be_upon_him) then said: Call Mahmiyyah ibn Jaz'i to me. He was a man of Banu Zubayd, whom the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) had appointed collector of the fifths. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said to Mahmiyyah: Marry al-Fadl (to your daughter). So he married him to her. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: Stand up and pay the dower from the fifth so-and-so on their behalf. Abdullah ibn al-Harith did not name it (i.e. the amount of the dower).

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2593

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ کَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنْ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنْ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعٍ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنْ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي فَبَيْنَا أَنَا أَجَمْعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنْ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَی جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَقْبَلْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا بِشَارِفَيَّ قَدْ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا فَلَمْ أَمْلِکْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِکَ الْمَنْظَرَ فَقُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ فَوَثَبَ إِلَی السَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَأَخَذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ قَالَ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَقِيتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ عَدَا حَمْزَةُ عَلَی نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّی جَائَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ فَإِذَا حَمْزَةُ ثَمِلٌ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی رُکْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ فَنَکَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَی فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ

احمد بن صالح، عنبسہ بن خالد، یونس، ابن شہاب، علی بن حسین، حسین بن علی، حضرت علی سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک فربہ اونٹنی تھی جو مجھے جنگ بدر میں مال غنیمت کے طور پر ملی تھی اور ایک اونٹنی وہ تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس دن خمس میں سے دی تھی۔ جب میں نے دخترِ رسول فاطمہ کے ساتھ ہم بستر ہونے کا ارادہ کیا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار کو تیار کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر (ایک خوشبودار گھاس) لائیں اور اس کو سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنے ولیمہ کی تیاری کروں۔ میں اس خیال میں اپنی اونٹنیوں کے لیے سامان تیار کر رہا تھا جیسے کہ پالان اور گھاس کے ٹوکرے اور رسیاں وغیرہ۔ اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے برابر میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب میں سامان اکٹھا کر کے لوٹا تو میں نے دیکھا کہ میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور کمریں بھٹی ہوئی ہیں اور کسی نے ان کے جگر نکال لیے ہیں جب میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا تو یہ منظر مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کی حرکت ہے تو لوگوں نے کہا حمزہ بن عبدالمطلب کی۔ اور وہ اس گھر میں چند انصاریوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں۔ ایک گانے والی نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے یوں گایا أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ الخ (یعنی اے حمزہ اٹھ اور یہ موٹی اونٹنیاں جو میدان میں بندھی ہوئی ہیں ان کے حلق پر چھری رکھ دے اور ان کو خون میں نہلادے اور اے حمزہ! ان کے پاکیزہ گوشت کے ٹکڑوں سے بھنا ہوا گوشت جلد از جلد شراب پینے والوں کے لیے تیار کر) حمزہ یہ سن کر فورا اٹھے اور تلوار لے کر ان کے کوہانوں کو کاٹ ڈالا۔ ان کی کمریں پھاڑ ڈالیں اور ان کے جگر نکال لیے۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زید بن حارثہ بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کیفیت کو بھانپ لیا۔ دریافت فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے آج کا سا خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم کیا ہے اس نے ان کے کوہان کاٹ ڈالے ان کی کمریں پھاڑ ڈالیں اور اب وہ چند شرابیوں کے ساتھ ایک گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر منگائی اور اس کو اوڑھ کر چل پڑے۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے چلا اور زید بن حارثہ بھی ساتھ ہو لیے۔ یہاں تک کہ وہ گھر آ گیا جس میں حمزہ تھے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جب اجازت ملی تو اندر گئے دیکھا سب لوگ شراب پیے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حمزہ کو ان کی حرکت پر ملامت کرنے لگے۔ آپ نے دیکھا کہ حمزہ بھی نشہ میں ہیں اور نشہ کی شدت سے ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں۔ حمزہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے قدم مبارک) پر نگاہ ڈالی۔ پھر نگاہ تھوڑی اوپر کی تو آپ کے گھٹنوں کو دیکھا پھر تھوڑی نظر اٹھائی تو آپ کی ناف کی طرف دیکھا پھر کچھ اور اوپر نظر اٹھائی اور آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا اس کے بعد حمزہ بولے تم سب میرے باپ کے غلام ہو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانا کہ حمزہ نشہ میں بالکل مدہوش ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے الٹے پاؤں پھرے اور وہاں سے نکلے آپ کیساتھ ہم بھی نکل آئے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2594

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ الضَّمْرِيِّ أَنَّ أُمَّ الْحَکَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَتْهُ عَنْ إِحْدَاهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيًا فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي وَفَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَکَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْئٍ مِنْ السَّبْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَکُنَّ يَتَامَی بَدْرٍ لَکِنْ سَأَدُلُّکُنَّ عَلَی مَا هُوَ خَيْرٌ لَکُنَّ مِنْ ذَلِکَ تُکَبِّرْنَ اللَّهَ عَلَی إِثْرِ کُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَکْبِيرَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ قَالَ عَيَّاشٌ وَهُمَا ابْنَتَا عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

احمد بن صالح، عبداللہ بن وہب، عیاش بن عقبہ، حضرت فضل بن حسن ضمری سے روایت ہے کہ ام حکم یا ضباعہ جو زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹیاں تھیں۔ ان سے کسی ایک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند قیدی آئے تو میں میری بہن اور رسول خدا کی صاحبزادی فاطمہ آپ کے پاس پہنچیں۔ اور آپ سے اپنے حال کا شکوہ کیا اور چاہا کہ ہم کو کوئی قیدی دلوادیں (جوہمارے گھر کے کام کاج میں ہمارا ہاتھ بٹائے) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے وہ یتیم بچے اور بچیاں مستحق ہیں جن کے باپ بدر کے دن شہید ہوئے تھے البتہ میں تم کو اس سے بہتر بات بتائے دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس (33) مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس (33) مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس (34) مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ ۔ پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2595

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ عَنْ أَبِي الْوَرْدِ عَنْ ابْنِ أَعْبُدَ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُحَدِّثُکَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ قُلْتُ بَلَی قَالَ إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَ فِي يَدِهَا وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا وَکَنَسَتْ الْبَيْتَ حَتَّی اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاکِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا مِنْ الْغَدِ فَقَالَ مَا کَانَ حَاجَتُکِ فَسَکَتَتْ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا وَحَمَلَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا فَلَمَّا أَنْ جَائَکَ الْخَدَمُ أَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَکَ فَتَسْتَخْدِمَکَ خَادِمًا يَقِيهَا حَرَّ مَا هِيَ فِيهِ قَالَ اتَّقِي اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّکِ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِکِ فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَکِ فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَکَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْکَ مِائَةٌ فَهِيَ خَيْرٌ لَکِ مِنْ خَادِمٍ قَالَتْ رَضِيتُ عَنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَنْ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحیی بن خلف، عبدالاعلی، سعید بن جریری، ابوودر، حضرت ابن اعبد سے روایت ہے کہ حضرت علی نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تم سے اپنی اور فاطمہ کی ایک حدیث بیان نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں اور آپ کو اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب تھیں میں نے کہا کیوں نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا فاطمہ نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے۔ مشک میں پانی بھرا یہاں تک کہ ان کے سینہ میں درد رہنے لگا اور گھر میں جھاڑو دی یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے تو میں نے ان سے (فاطمہ سے) کہا کاش تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور اپنے لیے خادم طلب کرتیں۔ پس وہ گئیں تو دیکھا کہ آپ کے پاس کچھ لوگ بات چیت کر رہے ہیں یہ دیکھ کر وہ لوٹ آئیں پھر اگلے دن گئیں تب آپ نے پوچھا کیا بات ہے؟ وہ خاموش ہو گئیں میں نے کہا یا رسول اللہ! میں عرض کرتا ہوں انھوں نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑگئے اور مشک اٹھائی یہاں تک کہ ان کے سینہ میں درد ہونے لگا اب آپ کے پاس غلام اور باندیاں آئی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کے پاس جا کر آپ سے ایک باندی طلب کرلیں جو ان کو گھر کے کاموں کی مشقت سے بچا لے۔ آپ نے فرمایا اے فاطمہ خدا سے تقوی اختیار کر اور اپنے رب کا حکم بجا لا اور اپنے گھر کا کام کاج کیا کر اور جب تو سونے لگے تو تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر پڑھ لیا کر پس یہ سو بار ہو جائے گا یہ تیرے واسطے خادم سے بہتر ہے۔ حضرت فاطمہ بولیں میں اللہ اور اس کے رسول سے راضی ہوں۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1321222)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ وَلَمْ يُخْدِمْهَا

احمد بن محمد، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت علی بن حسین سے بھی یہی قصہ مذکور ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خادم نہیں دیا۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2596

Narrated by Mujja'ah ibn Mirarah al-Yamani

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ عِيسَی کُنَّا نَقُولُ إِنَّه مِنْ الْأَبْدَالِ قَبْلَ أَنْ نَسْمَعَ أَنَّ الْأَبْدَالَ مِنْ الْمَوَالِي قَالَ حَدَّثَنِي الدَّخِيلُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ نُوحِ بْنِ مُجَّاعَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ سِرَاجِ بْنِ مُجَّاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ مُجَّاعَةَ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُ دِيَةَ أَخِيهِ قَتَلَتْهُ بَنُو سَدُوسٍ مِنْ بَنِي ذُهْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ جَاعِلًا لِمُشْرِکٍ دِيَةً جَعَلْتُ لِأَخِيکَ وَلَکِنْ سَأُعْطِيکَ مِنْهُ عُقْبَی فَکَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةٍ مِنْ الْإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِکِي بَنِي ذُهْلٍ فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْهَا وَأَسْلَمَتْ بَنُو ذُهْلٍ فَطَلَبَهَا بَعْدُ مُجَّاعَةُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ وَأَتَاهُ بِکِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَتَبَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ صَاعٍ مِنْ صَدَقَةِ الْيَمَامَةِ أَرْبَعَةِ آلَافٍ بُرًّا وَأَرْبَعَةِ آلَافٍ شَعِيرًا وَأَرْبَعَةِ آلَافٍ تَمْرًا وَکَانَ فِي کِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُجَّاعَةَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِمُجَّاعَةَ بْنِ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَی إِنِّي أَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِکِي بَنِي ذُهْلٍ عُقْبَةً مِنْ أَخِيهِ

محمد بن عیسی، عنبسہ بن عبدالواحد، ابوجعفر، ابن عیسی، حضرت مجاعہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی دیت (خون بہا) طلب کر نے کے لیے گئے جس کو بنی سدوس نے مار ڈالا تھا جو بنی ذہل میں سے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی مشرک کی دیت دلاتا تو تیرے بھائی کی دیت پہلے دلاتا۔ (لیکن مشرک کی دیت نہیں ہے اس لیے) میں تجھ کو اس کا بدلہ دلائے دیتا ہوں۔ پھر آپ نے اس کے لیے سو اونٹ لکھ دئیے اول خمس میں سے جو بنی ذہل کے مشرکین سے حاصل ہو۔ پھر مجاعہ کو ان سو اونٹوں میں سے کچھ مل گئے۔ (اور کچھ باقی رہ گئے) اس کے بعد بنوذھل مسلمان ہو گئے اور جب حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو ان سے مجاعہ نے اپنے باقی ماندہ اونٹوں کا مطالبہ کیا اور ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر لے کر گئے۔ حضرت ابوبکر نے مجاعہ کو (اونٹوں کے بدلہ میں) بارہ ہزار صاع یمامہ کے صدقہ میں سے دلائے اور چار ہزار صاع گیہوں کے چار ہزار جَو کے اور چار ہزار کھجور کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تحریر مجاعہ کو لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ تحریر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے مجاعہ بن مرارہ کے لیے جو بنی سلمی میں سے ہے میں نے اس کو سو اونٹ دینا طے کیا ہے اول خمس میں سے جو بنی ذھل کے مشرکوں سے حاصل ہوں یہ اس کے مقتول بھائی کا بدلہ ہے۔

Narrated Mujja'ah ibn Mirarah al-Yamani: Mujja'ah went to the Prophet (peace_be_upon_him) asking him for the blood-money of his brother whom Banu Sadus from Banu Dhuhl had killed. The Prophet (peace_be_upon_him) said: Had I appointed blood-money for a polytheist, I should have appointed it for your brother. But I shall give you compensation for him. So the Prophet (peace_be_upon_him) wrote (a document) for him that he should be given a hundred camels which were to be acquired from the fifth taken from the polytheists of Banu Dhuhl. So he took a part of them, for Banu Dhuhl embraced Islam. He then asked AbuBakr for them later on, and brought to him the document of the Prophet (peace_be_upon_him). So AbuBakr wrote for him that he should be given one thousand two hundred sa's from the sadaqah of al-Yamamah; four thousand (sa's) of wheat, four thousand (sa's) of barley, and four thousand (sa's) of dates. The text of the document written by the Prophet (peace_be_upon_him) for Mujja'ah was as follows: "In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful. This document is from Muhammad, the Prophet, to Mujja'ah ibn Mirarah of Banu Sulma. I have given him one hundred camels from the first fifth acquired from the polytheist of Banu Dhuhl as a compensation for his brother."

Permalink