Sunan Abu Dawood — Hadith 284
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاکِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ فَقَالُوا مَا نَجِدُ لَکَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِکَ فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَائُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَکَّ مُوسَی عَلَی جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ
موسی بن عبدالرحمن، محمد بن سلمہ، زبیر، بن خریق، عطاء، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سفر کیے لیے روانہ ہوئے راستہ میں ایک شخص کو پتھر لگا جس سے اسکا سر پھٹ گیا اسکو احتلام ہوا اس نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم مجھے تیمم کی اجازت دیتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ہم تیرے لیے تیمم کی کوئی گنجائش نہیں پاتے کیونکہ تجھے پانی کے حصول پر قدرت حاصل ہے لہذا اس نے غسل کیا اور مر گیا جب ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں نے اسکو ناحق مار ڈالا اللہ انکو ہلاک کرے جب انکو مسئلہ معلوم نہ تھا تو انکو پوچھ لینا چاہیئے تھا کیونکہ نہ جاننے کا علاج معلوم کر لینا ہے اس شخص کے لیے کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر کپڑا باندھ کر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارا بدن دھو ڈالتا۔
-