Sunan Abu Dawood — Hadith 3227
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُنَّ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ تَبْتَغِي إِلَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا
احمد بن محمد بن حنبل، حجاج، بن محمد، ابن جریج بن عطاء، عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انہوں نے بتلایا کہ حضور ایک مرتبہ (اپنی زوجہ مطہرہ) حضرت بنت جحش کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، آپ نے ان کے پاس شہد پیا تو میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپس میں طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہے گی کہ آپ کے منہ سے مغافیر (یہ ایک بدبو دار چیز کا نام ہے) کی بو آرہی ہے (کیونکہ حضور کو بدبو سے انتہائی نفرت تھی) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے ایک پاس آئے تو اس نے آپ سے وہی کہا تو آپ نے فرمایا کہ بلکہ میں نے تو شہد پیا ہے۔ زینب بنت جحش کے پاس۔ اور آئندہ دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا۔ (یہ واقعہ ہوا) تو قرآن کریم کی آیت، لم تحرم ما احل اللہ۔ نازل ہوئی۔ آگے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحفصہ کو حکم ہوا کہ دونوں اللہ سے توبہ کریں اور جب نبی نے اپنی بعض ازواج سے چھپا کر ایک بات کہی ( اور یہ آیت اس لیے لائے کہ) حضور نے فرمایا تھا کہ بلکہ میں نے تو شہد پیا ہے۔
-