TrueHadith

گستاخ رسول کی سزا

Sunan Abu DawoodHadith 3795

Narrated by Abdullah Ibn Abbas

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ عَنْ عِکْرِمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَی کَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ قَالَ فَلَمَّا کَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّکَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاکَ بِالدَّمِ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَی يَتَخَطَّی النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّی قَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا کَانَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِيکَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَکَانَتْ بِي رَفِيقَةً فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِيکَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّکَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّی قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ

عباد بن موسیٰ ختلی، اسماعیل بن جعفر مدنی، اسرائیل، عثمان اشحام، عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اندھے کی ام ولد (وہ باندی جس نے مالک کا بچہ جنا ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا کرتی تھی اور آپ کی برائی میں نَعُوذُ بِاللہ) مشغول رہتی تھی۔ وہ اندھا اسے اس سے منع کرتا تھا تو وہ باز نہ آتی تھی اور وہ اسے ڈانٹتا تھا لیکن وہ اس کی ڈانٹ نہیں سنتی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک رات جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو میں پڑی تھی اور آپ کو برا بھلا کہہ رہی تھی تو اس کے اندھے مالک نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اس پر تکیہ لگا لیا۔ اور اسے قتل کردیا۔ اس عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ پڑا ہوا تھا تو وہ وہاں پر خون سے لتھڑ گیا صبح کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں اس شخص کو جس نے اپنے اوپر میرا حق رکھتے ہوئے یہ فعل کیا ہے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے تو وہ اندھا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا لرزتا کانپتا ہوا آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس عورت کا ساتھی ہوں وہ آپ کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ کی برائی میں پڑی رہا کرتی تھی میں اسے منع بھی کرتا تھا تو وہ باز نہ آئی تھی اور اسے ڈانٹا ڈپٹا تو اس پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری بڑی اچھی ساتھی تھی گذشتہ رات وہ آپ کو برا بھلا کہنے لگی اور آپ کے بارے میں ایسی ویسی بات کہنے لگی تو میں نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر تکیہ لگا دیا۔ (زور لگایا) یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کردیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار گواہ رہو اس کا خون ھدربیکار لغو ہے (ضائع) ہے۔

Narrated Abdullah Ibn Abbas: A blind man had a slave-mother who used to abuse the Prophet (peace_be_upon_him) and disparage him. He forbade her but she did not stop. He rebuked her but she did not give up her habit. One night she began to slander the Prophet (peace_be_upon_him) and abuse him. So he took a dagger, placed it on her belly, pressed it, and killed her. A child who came between her legs was smeared with the blood that was there. When the morning came, the Prophet (peace_be_upon_him) was informed about it. He assembled the people and said: I adjure by Allah the man who has done this action and I adjure him by my right to him that he should stand up. Jumping over the necks of the people and trembling the man stood up. He sat before the Prophet (peace_be_upon_him) and said: Apostle of Allah! I am her master; she used to abuse you and disparage you. I forbade her, but she did not stop, and I rebuked her, but she did not abandon her habit. I have two sons like pearls from her, and she was my companion. Last night she began to abuse and disparage you. So I took a dagger, put it on her belly and pressed it till I killed her. Thereupon the Prophet (peace_be_upon_him) said: Oh be witness, no retaliation is payable for her blood.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 3796

Narrated by Ali ibn AbuTalib

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً کَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّی مَاتَتْ فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا

عثمان بن ابوشیبہ، عبداللہ بن جراح، جریر، مغیرہ، شعبی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہود عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ کی برائی میں پڑی رہتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خون ہدر (ضائع قرار) دے دیا۔

Narrated Ali ibn AbuTalib: A Jewess used to abuse the Prophet (peace_be_upon_him) and disparage him. A man strangled her till she died. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) declared that no recompense was payable for her blood.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 3797

Narrated by AbuBakr

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَغَيَّظَ عَلَی رَجُلٍ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقُلْتُ تَأْذَنُ لِي يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ فَأَذْهَبَتْ کَلِمَتِي غَضَبَهُ فَقَامَ فَدَخَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ مَا الَّذِي قُلْتَ آنِفًا قُلْتُ ائْذَنْ لِي أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ أَکُنْتَ فَاعِلًا لَوْ أَمَرْتُکَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا کَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظُ يَزِيدَ

موسی بن اسماعیل، حماد، یونس، حمید بن ہل، ہارون بن عبد اللہ، نصیر بن فرج، ابواسامہ، یزید بن زریح، یونس بن عبید، حمید بن ہلال، عبداللہ بن مطرف، حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ الاسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں بیٹھا ہوا تھا پس وہ کسی آدمی پر غضبناک ہو گئے اور اسے سخت سست کہا میں نے عرض کیا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفیہ آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن ماردوں؟ ابوبرزہ کہتے ہیں کہ میرے اس جملہ سے ان کا غصہ جاتا رہا اور وہ کھڑے ہو کر گھر کے اندر داخل ہوگئے اور مجھے بلابھیجا اور فرمایا کہ تم نے ابھی کیا کہا تھا میں نے کہا کہ مجھے اجازت دیں تو اس کی گردن ماردوں؟ فرمایا کہ اگر میں تمہیں اس کا حکم دیتا تو کیا تم ایسا کر دیتے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی فرد بشر کے لیے کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا (برابھلا کہنے پر) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ یزید بن زریع کے ہیں۔

Narrated AbuBakr: AbuBarzah said: I was with AbuBakr. He became angry at a man and uttered hot words. I said: Do you permit me, Caliph of the Apostle of Allah (peace_be_upon_him), that I cut off his neck? These words of mine removed his anger; he stood and went in. He then sent for me and said: What did you say just now? I said: (I had said:) Permit me that I cut off his neck. He said: Would you do it if I ordered you? I said: Yes. He said: No, I swear by Allah, this is not allowed for any man after Muhammad (peace_be_upon_him).

Permalink