أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّ نِسَائَکَ وَذَکَرَ کَلِمَةً مَعْنَاهَا يَنْشُدْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَائَکَ أَرْسَلْنَنِي وَهُنَّ يَنْشُدْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبِّينِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَحِبِّيهَا قَالَتْ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّکِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا وَکَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي کَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَزْوَاجُکَ أَرْسَلْنَنِي وَهُنَّ يَنْشُدْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتِمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي مِنْ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا قَالَتْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَکْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا وَلَا أَکْثَرَ صَدَقَةً وَلَا أَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي کُلِّ شَيْئٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ کَانَتْ فِيهَا تُوشِکُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ
محمد بن رافع نیسابوری، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ایک دن جمع ہو گئیں اور انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا اور یہ کہلوایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات انصاف چاہتی ہیں حضرت ابوبکر کی صاحبزادی (یعنی حضرت عائشہ صدیقہ میں) چنانچہ حضرت فاطمہ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چادر میں تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا ہے اور وہ حضرت ابوقحافہ (یعنی حضرت ابوبکر) کی صاحبزادی (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) کے درمیان انصاف چاہتی ہیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے محبت رکھتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرو۔ یہ بات سن کر حضرت فاطمہ واپس تشریف لے آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات سے عرض کیا جو کچھ کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا اور عرض کرنے لگ گئیں کہ تم نے تو کوئی کام انجام نہیں دیا۔ تم اب پھر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو جاؤ۔ حضرت فاطمہ نے عرض کیا کہ اس سلسلہ میں خدا کی قسم میں اب نہیں جاؤں گی اور آخر حضرت فاطمہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی تھیں (وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی کے خلاف کس طرح کر سکتی تھیں) اس کے بعد تمام ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت زینب وہ بیوی تھیں جو کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں میرے برابر کی خاتون تھیں (یعنی عزت و احترام خاندان و جاہت اور حسن جمال میں) پھر حضرت زینب نے فرمایا کہ مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے بھیجا ہے اور وہ انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں (یعنی ازواج مطہرات کے درمیان وہ انصاف چاہ رہی ہیں) حضرت ابوقحافہ کی صاحبزادی یعنی حضرت عائشہ صدیقہ کے درمیان میں پھر میری جانب چہرہ متوجہ فرمایا اور مجھ کو برا بھلا کہنے لگ گئیں اور میں اس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہوں کی جانب دیکھتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو اجازت فرماتے ہیں ان کے جواب دینے کی اور وہ مجھ کو برا کہتی رہی یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا جواب دینا برا محسوس نہیں ہو گا۔ اس وقت میں بھی سامنے ہوئی اور میں نے کچھ دیر میں ان کو بند کر دیا یعنی میں نے خاموشی اختیار کی پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ حضرت ابوبکر کی صاحبزادی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ میں نے (آج تک) کوئی خاتون نیکی صدقہ و خیرات اور اپنے نفس پر محنت مشقت اٹھانے میں اجر و ثواب کے واسطے حضرت زینب سے زیادہ (باصلاحیت خاتون) نہیں دیکھی اور ان کے مزاج میں صرف معمولی قسم کی تیزی تھی لیکن وہ تیزی جلد ہی ختم اور زائل ہو جاتی تھی۔ حضرت امام نسائی نے فرمایا کہ یہ روایت خطاء ہے اور دراصل صیحح روایت وہی ہے جو کہ سابق میں گزر چکی ہے۔
It was narrated that ‘Aishah said: “The wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم got together and sent Fatimah to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمThey told her to say: ‘Your wives” - and he (the narrator) said something to the effect that they are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah. She said: “So she entered upon the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم when he was with ‘Aishah under her cover. She said to him: ‘Your wives have sent me and they are urging you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Quhafah.’ The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to her: ‘Do you love me?’ She said: ‘Yes.’ He said: ‘Then love her.’ So she went back to them and told them what he said. They said to her: ‘You did not do anything; go back to him.’ She said: ‘By Allah, I will never go back (and speak to him) about her again.’ She was truly the daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمSo they sent Zainab bint Jabsh.” ‘Aishah said: “She was somewhat my equal among the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمShe said: ‘Your wives have sent me to urge you to be equitable with regard to the matter of the daughter of Abu Qubafah.’ Then she swooped on me and Abused me, and I started watching the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم to see if he would give me permission to respond to her. She insulted me and I started to think that he would not disapprove if I responded to her. So I insulted her and I soon silenced her. Then the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. said to her: ‘She is the daughter of Abu Bakr.” ‘Aishah said: “And I never saw any woman who was better, more generous in giving charity, more keen to uphold the ties of kinship, and more generous in giving of herself in everything by means of which she could draw closer to Allah than Zainab. But she had a quick temper; however, she was also quick to calm down.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake, and what is correct is the one which is before it.
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ
اسمعیل بن مسعود، بشر، ابن المفضل، شعبہ، عمرو بن مرہ، مرہ جہنی، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عظمت اور بزرگی تمام خواتین پر ایسی ہے کہ جیسی کہ ثرید کی فضیلت (یعنی شوربے کی فضیلت) دوسرے کھانوں پر ہے۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The superiority of ‘Aishah to other women is like the superiority of TharId to other kinds of food.” (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی سَائِر الطَّعَامِ
علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن ابوذئب، حارث بن عبدالرحمن، ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ کی عظمت اور بزرگی تمام خواتین پر ایسی ہے کہ جیسی کہ ثرید کی فضیلت (یعنی شوربے کی فضیلت) دوسرے کھانوں پر ہے۔
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The superiority of ‘Aishah to other women is like the superiority of TharId to other kinds of food.” (Hasan)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ الصَّغَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شَاذَانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا أَتَانِي الْوَحْيُ فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْکُنَّ إِلَّا هِيَ
ابو کبر بن اسحاق، شاذان، حماد بن زید، ہشام بن عروہ، ابیہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اے ام سلیم تم مجھ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں تکلیف نہ دو خدا کی قسم مجھ پر کبھی وحی نازل نہیں ہوتی مگر یہ کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی چادر یا لحاف میں ہوتا ہوں۔
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Umm Salamah, do not bother me about ‘Aishah, for by Allah, the Revelation has never come to me under the blanket of any of you apart from her.”(Sahih)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رُمَيْثَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نِسَائَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلَّمْنَهَا أَنْ تُکَلِّمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّاسَ کَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَتَقُولُ لَهُ إِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ کَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ فَکَلَّمَتْهُ فَلَمْ يُجِبْهَا فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا کَلَّمَتْهُ أَيْضًا فَلَمْ يُجِبْهَا وَقُلْنَ مَا رَدَّ عَلَيْکِ قَالَتْ لَمْ يُجِبْنِي قُلْنَ لَا تَدَعِيهِ حَتَّی يَرُدَّ عَلَيْکِ أَوْ تَنْظُرِينَ مَا يَقُولُ فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا کَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْکُنَّ إِلَّا فِي لِحَافِ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَانِ الْحَدِيثَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَبْدَةَ
محمد بن آدم، عبدہ، ہشام، عوف بن حارث، رمیثہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے ان سے عرض کیا کہ تم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرو اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ لوگ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حصے اور ہدایا بھیجا کرتے تھے اور جس دن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری ہوتی (تو لوگ اور زیادہ ہدایہ بھیجتے تھے) اور لوگ کہتے تھے کہ ہم لوگ بھلائی کے طلب گار ہیں جس طریقہ سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے محبت فرماتے آپ بھی اسی طرح محبت فرماتے۔ ایک روز حضرت ام سلمہ نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ سے متعلق عرض کیا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرنے میں غور کریں) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جس وقت حضرت ام سلمہ نے پھر عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن جس وقت ان کی باری آئی (یعنی حضرت ام سلمہ کی) تو انہوں نے دوسری مرتبہ اس سلسلہ میں گفتگو فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دفعہ بھی کوئی جواب عطا نہیں فرمایا۔ ازواج مطہرات ان سے دریافت کرنے لگیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ہمارے مسئلہ کا) کیا جواب ارشاد فرمایا؟ تو حضرت ام سلمہ نے جواب دیا کہ مجھ سے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ چنانچہ حضرات ازواج مطہرات (ہی خود) پھر حضرت ام سلمہ سے فرمانے لگیں کہ تم اس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جواب لینا چنانچہ جب ان کا نمبر آیا تو پھر حضرت ام سلمہ نے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ام سلمہ تم مجھ کو (حضرت) عائشہ صدیقہ کے سلسلہ میں تکلیف نہ پہنچاؤ (یعنی تمہارے بار بار سوال کرنے سے مجھ کو تکلیف پہنچ رہی ہے) میرے اوپر وحی نہیں نازل ہوتی مگر یہ کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کے لحاف میں ہوتا ہوں۔ حضرت امام نسائی نے فرمایا کہ یہ دونوں روایات راوی عہدہ کی روایت سے صیحح ہیں۔
It was narrated from Umm Salamah that the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم asked her to speak to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and tell him, that the people were trying to bring their gifts to him when it was ‘Aishah’s day, and to say to him: “We love good things as much as ‘Aishah does.” So she spoke to him, but he did not reply her. When her turn came again, she spoke to him again, but he did not reply her. They said to her: “How did he respond?” She said: “He did not answer me.” They said: “Do not leave him alone until he answers you or you comprehend what he says.” When her turn came again, she spoke to him and he said: ‘Do not bother me about ‘Aishah, for the Revelation has never come to me under the blanket of any of you apart from the blanket of ‘Aishah.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: These two Hadiths of ‘Abdah are Sahih.
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِکَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان، ہشام، ابیہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ لوگ حضرت عائشہ صدیقہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نمبر دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حصے بھیجا کرتے تھے اور اس سے مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہوجائیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبت فرماتے تھے اسی وجہ سے لوگ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت عائشہ صدیقہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن ان کو حصہ اور ہدیہ زیادہ بھیجا کرتے تھے۔
It was narrated that ‘Aishah said: “The people used to try to bring their gifts (to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم on ‘Aishah’s day, hoping thereby to earn the pleasure of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم .” (Sahih)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هُدَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَوْحَی اللَّهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَقُمْتُ فَأَجَفْتُ الْبَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَلَمَّا رُفِّهَ عَنْهُ قَالَ لِي يَا عَائِشَةُ إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ
محمد بن آدم، عبدہ، ہشام، صالح بن ربیہ بن ہدیر، حضرت عائشہ صدیقہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی کہ خداوند قدوس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ چنانچہ میں اٹھی اور دروازہ کی آڑ میں ہوگئی۔ جس وقت وحی آنا بند ہوگئی تو مجھ سے فرمایا اے عائشہ صدیقہ جبرائیل علیہ السلام تم کو سلام فرما رہے ہیں۔
It was narrated that ‘Aishah said: “Allah sent Revelation to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمwhen I was with him, so I got up and closed the door between him and I. When it was taken off him, he said to me: ‘‘Ajshah, Jibril sends greetings of Salam to you.” (Da’if)
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ تَرَی مَا لَا نَرَی
نوح بن حبیب، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام تم کو سلام فرما رہے ہیں انہوں نے عرض کیا عَلَيْکِ السَّلَامَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ سب کچھ دیکھ لیتے ہیں جو کہ ہم نہیں دیکھتے۔
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to her: “Jibril sends greetings of Salarn to you.” She said: “And upon him be peace and the mercy of Allah and His blessings; you see what we do not.” (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ مِثْلَهُ سَوَائٌ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ وَالَّذِي قَبْلَهُ خَطَأٌ
عمرو بن منصور، حکم بن نافع، شعیب، زہری، ابوسلمہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بیان فرمایا کہ اے عائشہ صدیقہ! یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جو کہ تم کو سلام فرما رہے ہیں۔ اس کی ہی طرح اوپر بھی روایت گزر چکی ہے۔ امام نسائی نے فرمایا یہ روایت درست ہے اور پہلی روایت خطا ہے۔
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘‘Aishah, this is Jibril and he is sending greetings of Salam to you.” The same. (Sahih). Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is correct, and the one that is before it is a mistake.