أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ قَالَ نَادَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّا کُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً يَعْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ اذْبَحُوهَا فِي أَيِّ شَهْرٍ کَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا قَالَ إِنَّا کُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فِي کُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ حَتَّی إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ فَإِنَّ ذَلِکَ هُوَ خَيْرٌ
عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن، غندر، شعبہ، خالد، ابوقلابة، ابوملیح، نبیشة سے روایت ہے کہ ایک شخص قبیلہ ہذیل کا فرد تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تم کو منع کیا تھا قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے تاکہ تم لوگوں کو وہ گوشت کافی ہو جائے یعنی اس وقت لوگ محتاج تھے تو میں نے منع کر دیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین روز سے زیادہ نہ جمع کرو۔ بلکہ اس کو کھالو یا صدقہ کر دو تاکہ تمام محتاجوں کو مل جائے اور کوئی شخص بھوکا نہ رہ جائے۔ لیکن تم لوگوں کو خداوند قدوس نے دولت مند بنا دیا تو تم لوگ کھاؤ اور خیرات دو اور اس کو رکھ لو اور چھوڑو اور یہ دن 10۔11۔12۔ ذی الحجہ ہیں کھانے اور پینے کے اور یاد الہی میں مشغول رہنے کے۔ یہ بات سن کر ایک شخص نے عرض کیا ہم لوگ تو ماہ رجب میں دور جاہلیت میں عتیرہ کرتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ذبح کرو خداوند قدوس کے واسطے اور جس ماہ تمہارا دل چاہے اور تم نیک کام کرو رضا الہی کے لیے اور کھانا کھلاؤ مساکین کو۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگ دور جاہلیت میں فرع کرتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بکریوں میں فرع ہے لیکن کھلانے دے اس کی والدہ کو جس وقت وہ تیار ہو جائے تو کاٹ دو اور تم صدقہ دو گوشت کا مسافروں کو یہ بہتر ہے۔
It was narrated that Abu Razin Laqit bin ‘Amir Al-UqailI said: “I said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, we used to offer sacrifices during the Jahiliyyah in Rajab, and eat of (their meat) and offer some to those who came to us.’ The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘There is nothing wrong with that.” (One of the narrators) WakI’ bin ‘Udus said: “I will not leave it.” (Hasan)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا کَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا
یعقوب بن ابراہیم، ابن علیة، خالد، ابوقلابة، ابوملیح، نبیشة سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ دور جاہلیت میں عتیرہ کرتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ذبح کرو خداوند قدوس کے واسطے۔ جس مہینہ میں پس جس قدر ہو سکے تم لوگ نیکی کرو خداوند قدوس کے واسطے اور کھانا کھلاؤ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas, from Maimunah, that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم passed by a dead sheep that had been thrown aside. He said: “Who does this belong to?” They said: “Maimunah.” He said: “Why did she not make use of its skin?” They said: “It is dead meat (i.e., it was not slaughtered properly).” He said: “Allah, the Mighty and Sublime, has only forbidden us to eat it.” (Sahih).
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ وَکِيعِ بْنِ عُدُسٍ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نَذْبَحُ ذَبَائِحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَنَأْکُلُ وَنُطْعِمُ مَنْ جَائَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِهِ قَالَ وَکِيعُ بْنُ عُدُسٍ فَلَا أَدَعُهُ
عمرو بن علی، عبدالرحمن، ابوعوانة، یعلی بن عطاء، وکیع بن عدس، ابورزین لقیط بن عامر سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ماہ رجب میں ہم لوگ دور جاہلیت میں جانور ذبح کیا کرتے تھے۔ پھر ہم لوگ وہ جانور کھا لیا کرتے تھے اور جو کوئی ہمارے پاس آیا تھا ہم لوگ اس کو کھلاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے حضرت وکیع نے بیان کیا کہ جو اس حدیث کا راوی ہے کہ میں اس کو نہیں چھوڑتا ہوں (یعنی ماہ رجب کی قربانی کو)۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم passed by a dead sheep that he had given to a freed slave woman of Maimunah, the wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمHe said: ‘Why don’t you make use of its hide?’ They said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, it is dead meat.’ The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘It is only forbidden to eat it.”(Sahih).