Sunan An-Nasa'i — Hadith 2026
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ قَالَ کَفَی بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَی رَأْسِهِ فِتْنَةً
ابراہیم بن حسن، حجاج، لیث بن سعد، معاویہ بن صالح، صفوان بن عمرو، راشد بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے سنا کہ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا حالت ہے (یعنی فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا مطلب ہے وہ فرمان یہ ہے کہ) تمام مسلمانوں کی قبر میں آزمائش کی جاتی ہے یعنی ان کو عذاب ہوتا ہے لیکن شہید کی آزمائش نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا کہ ان کے سروں پر تلوار کی چمک کی آزمائش کافی ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “This is the one at whose death the Throne shook, the gates of heaven were opened for him and seventy thousand angels attended his funeral. It squeezed him once then released him.”(Sahih)