Sunan An-Nasa'i — Hadith 2719
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْکِينٍ قِرَائَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنْکِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ أَلَيْسَ حَسْبُکُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ حُبِسَ أَحَدُکُمْ عَنْ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِي وَيَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا
احمد بن عمرو بن سرح و حارث بن مسکین، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حج میں مشروط نیت کو درست خیال نہیں فرماتے تھے۔ ان کی رائے تھی کہ کیا تم لوگوں کے لئے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں اگر تمہارے میں سے کسی کو حج سے روک دیا جائے تو طواف اور سعی کرنے کے بعد ہر چیز سے حلال ہو جائے وہ احرام کھول دے اور آئندہ سال حج کی قضا کرے پھر قربانی دے یا اگر میسر نہ ہو تو وہ روزے رکھے۔
It was narrated that Salim said: “Ibn ‘Umar used to denounce stipulating conditions in Hajj, and said: ‘Is not the Sunnah of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sufficient for you? If one of you is prevented from performing (finishing) Hajj let him circumambulate the House and (perform Sa’i) between As Safa and Al-Marwah, then exit hiram completely until he performs Hajj the following year. And let him offer a HadI or fast if he cannot find a HadI. (Sahih)