TrueHadith

حالت سفر میں دلہن کے پاس (سہاگ رات کے لیے) جانے سے متعلق

Sunan An-Nasa'iHadith 3327

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا الْغَدَاةَ بِغَلَسٍ فَرَکِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرَی بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَی أَعْمَالِهِمْ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسُ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجَمَعَ السَّبْيَ فَجَائَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَکَ قَالَ ادْعُوهُ بِهَا فَجَائَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ غَيْرَهَا قَالَ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا قَالَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا إِلَيْهِ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ عَرُوسًا قَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ شَيْئٌ فَلْيَجِئْ بِهِ قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالْأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسَةً فَکَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زیاد بن ایوب، اسماعیل ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد فرمانے کے لیے خیبر کے لیے روانہ ہونے کا ارادہ فرمایا تو ہم لوگوں نے اندھیرے ہی میں خیبر کے نزدیک نماز فجر ادا کی پھر سوار ہوئے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوطلحہ بھی سوار ہوئے اور میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان کی سواری پر بیٹھا جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی گلیوں میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طریقہ سے فرمانے لگے پہلے اللہ اکبر فرمایا اور پھر فرمایا خیبر برباد ہوگیا۔ جن لوگوں کے مکانات اور صفوں کے درمیان ہم لوگ اتریں گے (یعنی ہم لوگ جن پر حملہ آور ہوں گے) اور ان لوگوں پر برا دن چڑھے گا (یعنی وہ دن ان کے واسطے برا ہوگا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ اس طریقہ سے ارشاد فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت ہم لوگ اپنے اپنے کام کے واسطے نکل رہے تھے (حدیث کے راوی عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو) کہنے لگے کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ (جبکہ ہم لوگوں کے بعض ساتھی کہتے ہیں کہ وہ اس طریقہ سے کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا لشکر پہنچ گیا۔) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم لوگوں نے زبردستی خیبر فتح کیا اس کے بعد قیدیوں کو جمع کیا گیا تو اس دوران خیبر زبردستی حاصل کیا گیا پھر قیدی لوگ ایک جگہ جمع کیے گئے تو اس دوران حضرت دحیہ کلبی حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے ایک باندی مجھ کو عنائت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جاؤ اور تم اس کو لے لو۔ انہوں نے حضرت صفیہ بنت حی کو لے لیا۔ اس بات پر ایک شخص خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ کو قبیلہ بنو قریظ اور قبیلہ بنونضیر کی سردار حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ہے وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کے علاوہ کسی کے واسطے درست نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کو اس خاتون کے واسطے بلا لو چنانچہ وہ ان کو لے کر حاضر ہوئے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی جانب دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ تم کوئی دوسری باندی لے لو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد فرما کر ان کے ساتھ نکاح فرما لیا۔ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت انس سے دریافت فرمایا کہ اے ابوحمزہ! حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بطور مہر کیا چیز عنائت فرمائی؟ انہوں نے فرمایا ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر فرما کر ان سے نکاح فرما لیا پھر راستہ ہی میں ام سلیم نے ان کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے تیار کیا اور رات کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئیں پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک ان کے پاس رہے اور فرمایا کہ کسی کے پاس کچھ ہو وہ لے کر آجائے۔ پھر دستر خوان بچھایا گیا اور کوئی شخص پنیر لے کر حاضر ہوا تو کوئی شخص کھجور لے کر حاضر ہوا اور کوئی شخص گھی لے کر حاضر ہوا پھر ان سب کو ملا دیا گیا اور یہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ (یعنی مسنون ولیمہ تھا)۔

It was narrated from Humaid that he heard Anas say: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم stayed with Safiyyah bint Huyayy bin Al on the way (back from) Khaibar for three days when he married her, then she was among those who were commanded to observe Hijab.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3328

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ عَلَی صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حِينَ عَرَّسَ بِهَا ثُمَّ کَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ

محمد بن نصر، ایوب بن سلیمان، ابوبکر بن ابواویس، سلیمان بن بلال، یحیی، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حی سے نکاح فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر خیبر کے دوران راستہ میں تین روز ٹھہرے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد وہ پردہ نشین خواتین میں شامل کی گئیں۔

It was narrated that Anas said: “The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم stayed between Khaibar and Al-Madinah for three days when he consummated his marriage to Safiyyah bint Huyayy, and I invited the Muslims to his WalImah, in which there was no bread or meat. He commanded that a leather cloth (be spread) and dates, cottage cheese and ghee were placed on it, and that was his WalImah. The Muslims said: ‘(Will she be) one of the Mothers of the Believers, or a female slave whom his right hand possesses?’ They said: ‘If he has a Hijab for her, then she will be one of the Mothers of the Believers and if she does not have a Hijab then she will be a female slave whom his right hand possesses.’ When he rode on, he set aside a plate for her behind him and extended a Htjab between her and the people.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3329

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَی وَلِيمَتِهِ فَمَا کَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ وَأَلْقَی عَلَيْهَا مِنْ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَکَانَتْ وَلِيمَتَهُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَی أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَکَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَکَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ

علی بن حجر، اسماعیل، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین روز قیام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات میں حضرت صفیہ بنت حی کے پاس رہے اور میں نے مسلمانوں کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت ولیمہ کے واسطے بلایا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم فرمایا اس وقت وہاں پر روٹی اور گوشت موجود نہ تھا پھر اس چمڑے کے دستر خوان پر کھجوریں اور پنیر اور گھی وغیرہ آنے لگ گئے۔ پس اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ ہو گیا۔ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے کھجوریں لا کر ڈال دیں اور کسی شخص نے پنیر اور کسی نے گھی اور کسی نے مالیدہ بنا کر پیش کیا۔ سب نے مل کر وہ کھانا کھا لیا پھر لوگوں نے یہ بات کہنا شروع کر دیا کہ صفیہ بھی ایک شادی شدہ خاتون ہو گئیں اور ازواج مطہرات اور جیسی اور دوسری شادی شدہ خواتین ہیں اس طریقہ سے صفیہ بھی ہیں اور وہ سب لوگوں کی ماں بن گئیں یا ابھی وہ باندی ہی ہیں۔ پھر کہنے لگے اگر وہ باپردہ ہو گئیں تو یہ سمجھو کہ وہ مومنین کی ماں ہیں یعنی دوسری ازواج مطہرات کی طرح وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ بن گئیں۔ جس وقت وہاں سے کوچ ہوا یعنی اس جگہ سے روانگی ہوئی تو کجاوہ پر بسترا بچھایا گیا۔ پیچھے کی جانب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پردہ لگایا گیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمیعن کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا۔ (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساتھ صفیہ بھی تھیں اس لیے کہ پردہ سے آڑ کرنا لازم تھا)

It was narrated that ‘Amir bin Saad said: “I entered upon Qura bin Ka’b and Abu Mas’ud Al-Ansari during a wedding and there were some young girls singing. I said: ‘You are two of the Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم who were present at Badr, and this is being done in your presence!’ They said: ‘Sit down if you want and listen with us, or if you want you can go away. We were granted a concession allowing entertainment at weddings.” (Sahih)

Permalink