أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ جَنَازَتَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مَعَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَکَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَکُنْ يَقْسِمُ لَهَا
ابوداؤد سلیمان بن سیف، جعفر بن عون، ابن جریج، حضرت عطاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس کے ہمراہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شرکت کی جو کہ (مقام) سرف پر ہوا چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ میمونہ رضی اللہ عنہ ہیں جس وقت تم لوگ ان کا جنازہ اٹھاؤ تو اس کو حرکت نہ دینا بلکہ سکون و اطمینان سے اس کو اٹھانا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں جن میں سے آٹھ کا نمبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقرر فرمایا کرتے تھے اور ایک اہلیہ محترمہ کا نمبر مقرر نہیں فرماتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم died he had nine wives; he used to be intimate with all of them except one, who had given her day and night to ‘Aishah.” (Sahih)
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يُصِيبُهُنَّ إِلَّا سَوْدَةَ فَإِنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ
ابراہیم بن یعقوب، ابن ابی مریم، سفیان، عمرو بن دینار، عطاء، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت وفات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح مبارک میں نو بیویاں تھیں جن میں سے حضرت سودہ کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنا نمبر حضرت عائشہ صدیقہ کو دے دیا تھا
Anas narrated that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to go around to his wives in a single night, and at that time he had nine wives.(Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَطُوفُ عَلَی نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ
اسمعیل بن مسعود، یزید، ابن زریع، سعید، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں۔
It was narrated that ‘Aishah said: “I used to feel jealous of those (women) who offered themselves (in marriage) to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and I said: ‘Would a free woman offer herself?’ Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: ‘You can postpone whom you will of them, and you may receive whom you will.’ I said: ‘By Allah, I see that your Lord is quick to respond to your wishes.” (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ الْمُخَرَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَغَارُ عَلَی اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقُولُ أَوَتَهَبَ الْحُرَّةُ نَفْسَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَی رَبَّکَ إِلَّا يُسَارِعُ لَکَ فِي هَوَاکَ
محمد بن عبداللہ بن مبارک، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، ابیہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ان خواتین کے بارے میں شرم و حیا محسوس کرتی تھی جو خود کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد فرمایا کرتی تھیں اور میں کہا کرتی تھی کہ کیا کوئی آزاد خاتون خود کو ہبہ کر سکتی ہے؟ اس پر خداوند قدوس نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی آخرتک۔ یعنی ان میں سے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل چاہے دور رکھیں اور جس کو دل چاہے نزدیک رکھیں۔ پھر جن کو دور رکھا تھا اگر ان میں سے پھر کسی کو طلب کریں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ تو میں نے عرض کیا خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروردگار جس بھی شئی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواہش فرماتے ہیں فورا عطا فرما دیتا ہے۔
It was narrated that Sahl bin Saad said: “I was among the people when a woman said: ‘I offer myself (in marriage) to you, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, see what you think of me.’ A man stood up and said: ‘Many me to her.’ He said: ‘Go and find (something), even if it is an iron ring.’ So he went, but he could not find anything, not even an iron ring. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Do you have (memorized) any Surahs of the Qur’an?’ He said: ‘Yes.’ So he married him to her on the basis of what he knew of Surahs of the Qur’an.” (Sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَنَا فِي الْقَوْمِ إِذْ قَالَتْ امْرَأَةٌ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَکَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا فَقَالَ اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ أَمَعَکَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَيْئٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ
محمد بن عبداللہ بن یزید، سفیان، ابوحازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن دوسرے لوگوں کے ساتھ میں بھی مجلس میں شریک تھا کہ ایک خاتون نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں خود کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کرتی ہوں میرے بارے میں جو مناسب خیال فرمائیں وہ فیصلہ فرما دیں۔ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا اس خاتون سے نکاح فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور تم کچھ لے آؤ چاہے وہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ وہ شخص روانہ ہو گیا تو اس کو کچھ نہیں مل سکا۔ یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی تک نصیب نہ ہو سکی (تاکہ اس انگوٹھی کو ہی مہر مقرر کر سکے) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم کو قرآن کریم کی کچھ سورتیں یاد ہیں؟ اس شخص نے عرض کیا جی ہاں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کریم کی بعض سورتوں کے عوض اس کا نکاح اس خاتون سے فرما دیا۔
It was narrated from ‘Aishah, the wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم , that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم came to her when Allah commanded him to give his wives the choice. ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم started with me and said: ‘I am going to tell you something, but you do not have to rush until you consult your parents.” She said: “He knew that my parents would not tell me to leave him.” Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner.’ “I said: ‘Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger, and the abode of the Hereafter.” (Sahih)