Sunan An-Nasa'i — Hadith 4707
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَائِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا تَکُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ بِعَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدِهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
ہلال بن العلاء بن ہلال، سعید بن سلیمان، سلیمان بن کثیر، عمرو بن دینار، طاؤس، ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی ہنگامہ کے دوران قتل کر دیا جائے یا تیروں اور کوڑوں کی مار سے جو لوگوں کے درمیان ہونے لگے اس سے مارا جائے یا جو شخص لکڑی (کی چوٹ) سے مارا جائے تو اس کی دیت دلوائی جائے گی جس طریقہ سے کہ قتل خطاء میں دیت دلوائی جاتی ہے اور جو شخص قصدا قتل کیا جائے تو اس میں قصاص واجب ہے اب جو شخص قصاص کو روکے گا تو اس پر لعنت ہے خداوند قدوس کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی اس کا فرض اور نفل کچھ قبول نہیں ہوگا ۔
It was narrated from Al Qasim bin Rabi’ah, from ‘Abdullah bin ‘Amr, that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The accidental killing, which seems intentional, with a whip or stick, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be (she-camels) with their young in their wombs.” (Sahih)