TrueHadith

جس شخص میں قربانی کر نے کی طاقت نہ ہو؟

Sunan An-Nasa'iHadith 4289

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَذَکَرَ آخَرِينَ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ عَنْ عِيسَی بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَی عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَی أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَکِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِکَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَکَ وَتَقُصُّ شَارِبَکَ وَتَحْلِقُ عَانَتَکَ فَذَلِکَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِکَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، سعید بن ابی ایوب، عیاش بن عباس قتبانی، عیسیٰ بن ہلال صدفی، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے ارشاد فرمایا مجھ کو ماہ ذی الحجہ دس تاریخ میں بقر عید کرنے کا حکم ہوا ہے خداوند قدوس نے اس روز کو اس امت کے واسطے عید بنایا۔ اس نے عرض کیا اگر میرے پاس کچھ بھی موجود نہ ہو (یعنی قربانی کے مطابق نصاب موجود نہ ہو) لیکن ایک ہی بکری یا اونٹنی کیا میں اس کو قربانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں (اس لیے کہ ایک ہی جانور موجود ہے کہ جس کی قربانی کر نے سے دشواری ہوگی) لیکن تم اپنے بال اور ناخن کتروا لو اور مونچھ کے بال مونڈ لو بس یہی تمہاری قربانی ہے خداوند قدوس کے نزدیک۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم offered the sacrifice on the Day of Sacrifice in Al-Madinah. He said: “If he did not offer the Nahr (sacrifice a camel) he would have offered Dhabihah (sacrificed a sheep) at the prayer place.” (Hasan)

Permalink