TrueHadith

زیر نظر حدیث شریف میں راوی غیلان پر اختلاف

Sunan An-Nasa'iHadith 2341

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ عُمَرَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَا يُفْطِرُ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ

ہارون بن عبد اللہ، حسن بن موسی، ابوہلال، غیلان، ابن جریر، عبد اللہ، ابن معبد زمانی، ابوقتادة، عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ہمارا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ شخص اتنے زمانہ سے افطار نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ تو اس شخص نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا (یعنی ایسا شخص روزہ کے ثواب سے محروم ہے کیونکہ بھوک پیاس اس کی عادت بن گئی ہے)۔

It was narrated that ‘Umar said: “We were with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم arid we passed by a man. They said: ‘Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, this man has not broken his fast for such and such a time.’ He said: ‘He has neither fasted nor broken his fast.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2342

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ

محمد بن بشار، محمد، شعبة، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، ابوقتادة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس قدر روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سوال سے ناراض ہوگئے (کیونکہ اس شخص کا یہ سوال نامناسب اور بے موقع تھا) اس کو یہ سوال کرنا چاہیے تھا کہ مجھے کس قدر روزے رکھنا چاہیے تاکہ اس کی قوت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو حکم شرح ارشاد فرماتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ کم کرنے کے واسطے فرمایا ہم لوگ خداوند قدوس کے معبود برحق اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر رضامند ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ہمیشہ روزے رکھنا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طریقہ سے کرے تو (گویا کہ) اس نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا۔

It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was asked about his fasting and he got angry. ‘Umar said: “We are content with Allah as our Lord, Islam as our religion and Muhammad as our Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.” And he was asked about someone who fasted for the rest of his life and said: “He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)

Permalink