TrueHadith

مشکوک دن میں روزہ رکھنے کی ممانعت

Sunan DarimiHadith 1620

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

صلہ بیان کرتے ہیں ہم حضرت عمار بن یاسر کے پاس موجود تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی حضرت عمار نے فرمایا کھاؤ حاضرین میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے اور بولے میں روزہ دار ہوں حضرت عمار بن یاسر نے فرمایا جو شخص مشکوک دن (جس کے بارے میں شبہ ہو وہ رمضان کا پہلا دن ہے یا شعبان کا آخری دن ہے میں روزے رکھے اس نے حضرت ابوقاسم کی نافرمانی کی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1621

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ أَصْبَحْتُ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ مِنْ شَعْبَانَ أَوْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَتَيْتُ عِكْرِمَةَ فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا فَقَالَ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ حَلَفَ وَلَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ فَعَذَّرْتُ وَإِنَّمَا تَسَحَّرْتُ قُبَيْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قُلْتُ هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا

حضرت سماک بن حرب بیان کرتے ہیں ایک دن مشکوک تھا کہ وہ شعبان کا آخری دن ہے یارمضان کا دن ہے؟ میں نے روزہ رکھ لیا اور حضرت عکرمہ کے پاس آیا اور وہ روٹی اور سبزی کھا رہے تھے انہوں نے فرمایا آؤ کھانا کھاؤ میں نے کہا میں روزہ دار ہوں تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم آؤ تم ضرور کھانا کھاؤ۔ جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے قسم اٹھا لی ہے اور اس میں کوئی استثناء نہیں رکھا گیا میں آگے بڑھا اور میں نے تھوڑا سا کھانا کھا لیا کیونکہ میں نے تھوڑی دیر ہی پہلے سحری کی تھی پھر میں نے کہا اب آپ بتائیں آپ کے پاس اس بارے میں کیا علم ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی اکرم کا یہ فرمان سنایا تھا کہ یعنی چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر ہی افطار کرو اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل آجائے تو تیس کی تعداد پوری کرو رمضان کے مہینے کا استقبال پہلے ہی نہ کرو۔

-

Permalink