TrueHadith

تقدیر کے بیان میں ۔

Sunan Ibn MajahHadith 73

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ أَنَّهُ يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِکُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَکُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَکُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَکَ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اکْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا

علی بن محمد، وکیع و محمد بن فضیل وابومعاویہ، علی بن میمون رقی، ابومعاویہ و محمد بن عبید، اعمش، زید بن وہب، عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے بیان فرمایا اور وہ سچے اور تصدیق کئے گئے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کا مادہ تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک رکھا جاتا ہے پھر جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرتا ہے اسی مدت تک پھر گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اسی مدت تک پھر اللہ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں جس کو چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا عمل ، عمر ، رزق، اور بدبخت ہونا یا خوش بخت ہونا لکھ دو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھا ہوا اس پر سبقت کر جاتا ہے، اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسکے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تولکھا ہوا اس پر سبقت کر جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کرلیتا ہے جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔

‘Abdullâh bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah (p.b.u.h) , the true and truly inspired one, told us that: ‘The creation of one of you is put together in his mother’s womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: “Write down his deeds, his life span, his provision and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise).” By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm’s length between him and it, then the decree overtakes him and he does the deeds of the people of Hell until he enters therein. And one of you may do the deeds of the people of Hell until there is no more than a forearm’s length between him and it, then the decree overtakes him and he does the deeds of the people of Paradise until he enters therein.” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 74

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْئٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ خَشِيتُ أَنْ يُفْسِدَ عَلَيَّ دِينِي وَأَمْرِي فَأَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْئٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ فَخَشِيتُ عَلَی دِينِي وَأَمْرِي فَحَدِّثْنِي مِنْ ذَلِکَ بِشَيْئٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَکَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ کَانَ لَکَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قُبِلَ مِنْکَ حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُخْطِئَکَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُصِيبَکَ وَأَنَّکَ إِنْ مُتَّ عَلَی غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ وَلَا عَلَيْکَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ فَذَکَرَ مِثْلَ مَا قَالَ أُبَيٌّ وَقَالَ لِي وَلَا عَلَيْکَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَا وَقَالَ ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَکَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ کَانَ لَکَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ مِنْکَ حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ کُلِّهِ فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُخْطِئَکَ وَمَا أَخْطَأَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُصِيبَکَ وَأَنَّکَ إِنْ مُتَّ عَلَی غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ

علی بن محمد، اسحاق بن سلیمان، ابوسنان، وہب بن خالد حمصی، حضرت ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ میرے جی میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے مجھے ڈر ہوا کہ کہیں مجھ پر دین اور معاملہ یہ خیالات بگاڑ نہ دیں۔ میں ابی بن کعب کے پاس آیا اور عرض کی ، اے ابوالمنذر، میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے ہیں مجھے اپنے دین اور معاملہ کے خراب ہونے کا ڈر ہوا ہے مجھے تقدیر کے متعلق کوئی حدیث بیان کریں ممکن ہے اللہ مجھے اس سے کوئی نفع دے، انہوں نے بیان کیا اگر اللہ ہل سماء و ارض کو عذاب دینا چاہے تو عذاب دے سکتے ہیں ، تب بھی وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہے اور اگر ان پر رحم کرنا چاہیں تو اس کی رحمت ان کے لئے ان کے عملوں سے بہتر ہو گی، اور اگر تیرے پاس مثل احد پہاڑ کے سونا ہو یا مثل احد پہاڑ کے مال ہو اور تو اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دے تو وہ تیری طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ تو تقدیر پر ایمان لے آئے، پس جان لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچی تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو مصیبت تجھ سے ٹل گئی وہ تجھے پہنچنے والی نہیں تھی، اگر تو اس یقین کے علاوہ کسی اور یقین پر مر گیا تو جہنم میں داخل ہوگا۔ تجھ پر کوئی حرج نہیں کہ تو میرے بھائی عبداللہ بن مسعود کے پاس جائے اور ان سے سوال کرے، میں عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے ابی بن کعب کی طرح فرمایا اور مجھ سے کہا کہ کوئی حرج نہیں کہ تم حذیفہ کے پاس جاؤ اور سوال کرو میں حذیفہ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے اسی طرح کہا جیسے عبداللہ نے کہا تھا اور فرمایا کہ زید بن ثابت کے پاس جاؤ میں زید بن ثابت کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، اگر اللہ ہل سماء و ارض کو عذاب دینا چاہیں تو وہ ان کو عذاب دے سکتے ہیں تب بھی وہ ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہیں ، اور اگر ان پر رحم کرنا چاہیں تو اس کی رحمت ان کے لئے ان کے عملوں سے بہتر ہوگی اور اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہے یا احد پہاڑ کے برابر مال ہے اور تو اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دے وہ تیری جانب سے قبول نہیں کیا جائے گا حتی کہ تو تقدیر پر ایمان لے آئے، جان لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچی ہے وہ تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی، اور جو مصیبت تجھے نہیں پہنچی وہ تجھ کو پہنچنے والی نہیں تھی، اور اگر تو اس کے علاوہ کسی اور عقیدہ پر مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گیا ۔

It was narrated that Ibn Dailami said: “I was confused about this Divine Decree (Qadar), and I was afraid lest that adversely affect my religion and my affairs. So I went to Ubayy bin Ka’b and said: ‘0 Abu Mundhir! I am confused about this Divine Decree, and I fear for my religion and my affairs, so tell me something about that through which Allah may benefit me.’ He said: ‘If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of His earth, He would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud in gold, or the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell. And it will not harm you to go to my brother, ‘Abdulláh bin Mas’ ud, and ask him (about this).’ So I went to ‘Abdullâh and asked him, and he said something similar to what Ubayy had said, and he told me: ‘It will not harm you to go to Hudhaifah.’ So I went to Hudhaifah and asked him, and he said something similar to what they had said, And he told me: ‘Go to Zaid bin Thibit and ask him.’ So I went to Zaid bin Thâbit and asked him, and he said: ‘I heard the Messenger of Allah say: “If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of His earth, He wouid do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds, If you had the equivalent of Mount Uhud in gold, or the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine decree, and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you, and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell.” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 75

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عُودٌ فَنَکَتَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ کُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّکِلُ قَالَ لَا اعْمَلُوا وَلَا تَتَّکِلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَی وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنَی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَی

عثمان بن ابی شیبہ، وکیع ، علی بن محمد، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، سعد بن عبیدة، ابوعبدالرحمن سلمی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا جنت یا جہنم میں ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے، عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اسی پر تکیہ نہ کرلیں (اور عمل چھوڑ دیں) آپ نے فرمایا نہیں بلکہ عمل کرتے رہو اور تکیہ کر کے نہ بیٹھے رہو ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے پھر آپ نے پڑھا، مگر جس نے مال دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھائی کی تصدیق کی تو آسان کر دیں گے ہم اس کے واسطے آسانی کر دیں گے اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی کی اور اچھائی کی تکذیب کی تو آسان کر دیں گے ہم اس کی مشکلات کے لئے۔

It was narrated that ‘Ali said: We were sitting with the Prophet and he had a stick in his hand. He scratched in the ground with it, then raised his head and said: ‘There is no one among you but his place in Paradise or Hell has already been decreed.’ He was asked: ‘0 Messenger of Allah, should we not then rely upon that?’ He said: ‘No, strive and do not rely upon that, for it will be made easy for each person to do that for which he was created.’ Then he recited: “As for Mm who gives (in charity) and keeps Ms duty to Allah and fears Him, And believes in Al-Husnd. We will make smooth for him the path of ease (goodness). But he who is a greedy miser and thinks himself self-sufficient. And denies AlHusnd. We will make smooth for him the path for evil. (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 76

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي کُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَی مَا يَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ فَإِنْ أَصَابَکَ شَيْئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا وَلَکِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَائَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و علی بن محمد طنافسی، عبداللہ بن ادریس، ربیعہ بن عثمان، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک تندرست مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے ہر چیز میں بھلائی طلب کر جو تجھے نفع دے اس میں رغبت کر اور اللہ سے مدد مانگ اور دل نہ ہار اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو یوں نہ کہہ اگر میں اس اس طرح کرلیتا بلکہ یہ کہہ کہ جو اللہ نے مقدر کر دیا اور جو اس نے چاہا کیا ، کیونکہ، لفظ اگر، شیطان کا کام شروع کرا دیتا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (P.B.U.H) said: ‘The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer, although both are good. Strive for that which will benefit you, seek the help of Allah, and do not feel helpless. If anything befalls you, do not say, “If only I had done such and such.” Rather say, “Qaddara Allahu vwa ma sha’a fa’ala (Allah has decreed and whatever He wills, He does).” For (saying) ‘If’ opens (the door) to the deeds of Satan.” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 77

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ کَاسِبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَی عَلَيْهِمَا السَّلَام فَقَالَ لَهُ مُوسَی يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنْ الْجَنَّةِ بِذَنْبِکَ فَقَالَ لَهُ آدَمُ يَا مُوسَی اصْطَفَاکَ اللَّهُ بِکَلَامِهِ وَخَطَّ لَکَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ أَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی ثَلَاثًا

ہشام بن عمار و یعقوب بن حمید بن کا سب، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، طاؤس، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خبر دیتے ہیں فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدم اور موسیٰ میں بات ہوئی ، موسیٰ نے فرمایا اے آدم، آپ ہمارے باپ ہیں آپ نے ہمیں رسوا کیا اور اپنے گناہ کی وجہ سے جنت سے نکال دیا، آدم نے کہا اے موسیٰ اللہ نے آپ کو اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا اور اپنے دست قدرت سے تورات تحریر کی تم مجھے ایسے معاملہ پر ملامت کرتے ہو جو اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال قبل میرے لئے مقدر فرما دیا تھا، (اسی طرح) آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔

It was narrated that ‘Amr bin Dinâr heard Tawus say: “I heard Abu Hurairah narrating that the Prophet P.B.U.H said: ‘Adam and Musa debated, and Musa said to hint “0 Adam, you are our father but have deprived us and caused us to be expelled from paradise because of your sin.” Adam said to him: “0 Musa, Allah chose you to speak with and He wrote the Tawrâh for you with His own Hand. Are you blaming me for something which Allah decreed for me forty years before He created me?” Thus Adam won the argument with Musa, thus Adam won the argument with Musa, thus Adam won the argument with Musa.’” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 78

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ بِاللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْقَدَرِ

عبداللہ بن عامر ابن زرارة، شریک، منصور، ربعی، حضرت علی سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کوئی بندہ اس وقت تک ایمان والا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ ایمان لائے چار چیزوں پر اللہ وحدہ لا شریک پر اور میرے رسول ہونے پر، موت کے بعد زندہ ہونے پر اور تقدیر پر۔

It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah s.a.w.w said: ‘No slave truly believes until he believes in four things: in Allah alone with no partner; that I am the Messenger of Allah; in the resurrection after death; and in the Divine Decree (Qadar).’” (Hasan)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 79

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی جِنَازَةِ غُلَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَی لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ السُّوئَ وَلَمْ يُدْرِکْهُ قَالَ أَوَ غَيْرُ ذَلِکَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ و علی بن محمد، وکیع، طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ، عائشہ بنت طلحہ، ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کو ایک انصار کے لڑکے کے جنازے پر بلایا گیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت کی چڑیوں میں سے اس چڑیا کے لئے خوشخبری ہے اس نے برا کام نہیں کیا اور نہ اس سے گناہ ہوا آپ نے فرمایا اس کے علاوہ کچھ کہو، عائشہ اللہ نے جنت کے لئے اہل تخلیق فرما لئے ہیں ، جن کو اس نے جنت کے لئے پیدا فرمایا ہے ، جس وقت وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور آگ کے لئے بھی اہل پیدا فرمائے ہیں جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔

It was narrated that ‘Aishah me Mother of the Believers said: “The Messenger of Allah s.a.w.w. was called to the funeral of a child from among the Ansar. I said: ‘0 Messenger of Allah, glad tidings for him! He is one of the little birds of Paradise , who never did evil or reached the age of doing evil (i.e., age of accountability).’ He said: it may not be so, 0 ‘Aishahl For Allah has created people for Paradise , He created them for it when they were still in their fathers’ loins. And He has created people for Hell, He created them for it when they were still in their fáthers’ loins.’” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 80

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَعِيلَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ مُشْرِکُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا کُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ و علی بن محمد، وکیع، سفیان ثوری، زیاد بن اسماعیل مخزومی، محمد بن عباد بن جعفر، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قریش کے مشرکین تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑے کے لئے آئے، تو یہ آیت نازل ہوئی، جس دن وہ آگ میں ڈالے جائیں گے اپنے چہروں کے بل، چکھو جہنم کا لمس، ہم نے ہر چیز کو انداز سے پیدا فرمایا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: “The idolators of Quraish came and disputed with the Prophet P.B.U.H concerning the Divine Decree. Then the following Verse was revealed: ‘The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): “Taste you the touch of Hell!” Verily, We have created all things with Qadar. (Divine Decree)’“‘ (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 81

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ لَهَا شَيْئًا مِنْ الْقَدَرِ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَکَلَّمَ فِي شَيْئٍ مِنْ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَاهُ حَازِمُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شَيْبَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، مالک بن اسماعیل، یحییٰ بن عثمان، مولی ابی بکر، یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ، حضرت ابوملیکہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے متعلق کچھ اشکال ذکر کیے، انہوں نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ نے فرمایا جس نے تقدیر میں کسی قسم کا کلام کیا اس سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا اور جس نے اس قسم کا کلام نہیں کیا اس سے اس کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔

Abdullda bin Abi Mulaikah narrated that his father entered upon ‘Aishah and said something to her about the Divine Decree. She said: “I heard the Messenger of Allah P.B.U.H say: ‘Whoever says anything about the Divine Decree will be questioned about that on the Day of Resurrection, and whoever does not say anything about it will not be questioned about it.’” (Da’if)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 82

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ فَکَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنْ الْغَضَبِ فَقَالَ بِهَذَا أُمِرْتُمْ أَوْ لِهَذَا خُلِقْتُمْ تَضْرِبُونَ الْقُرْآنَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ بِهَذَا هَلَکَتْ الْأُمَمُ قَبْلَکُمْ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِکَ الْمَجْلِسِ وَتَخَلُّفِي عَنْهُ

علی بن محمد، ابومعاویہ، داؤد بن ابی ہند، حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطہ سے ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آئے وہ تقدیر کے متعلق جھگڑ رہے تھے، غصہ کی وجہ سے یوں محسوس ہوا کہ آپ کے چہرے میں انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں ، فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے یا تم اس چیز کے لئے پیدا کئے گئے ہو، تم قرآن کے ایک حصے کو دوسرے حصے کے مقابلہ میں بیان کرتے ہو اسی کام کے سبب تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئیں ، راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میں نے کسی مجلس کے بارے میں اتنا نہیں چاہا کہ میں اس سے بچا رہوں ، جتنا اس مجلس کے متعلق چاہا (تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی سے بچتا۔ )

‘Amr bin Shu’aib narrated from his father that his grandfather said: “The Messenger of Allah P.B.U.H came out to his Companions when they were disputing about the Divine Decree, and it was as if pomegranate seeds had burst on his face (i.e., it turned red) because of anger. He said: ‘Have you been commanded to do this, or were you created for this purpose? You are using one part of the Qur’ân against another part, and this is what led to the doom of the nations who came before you.”‘Abdullâh bin ‘Anir said: “I was never so happy to have missed a gathering with the Messenger of Allah P.B.U.H as I was to have missed that gathering.” (Hasan)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 83

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي حَيَّةَ أَبُو جَنَابٍ الْکَلْبِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَکُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَيُجْرِبُ الْإِبِلَ کُلَّهَا قَالَ ذَلِکُمْ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ

ابوبکر بن ابی شیبہ و علی بن محمد، وکیع، یحییٰ بن ابی حیة ابوحناب کلبی، ابوحیة ابوحناب کلبی، حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں ، ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں ، ایک بدوی شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ کو معلوم ہے کہ جس اونٹ کو خارش لگی ہو وہ تمام اونٹوں کو خارش لگا دیتا ہے، آپ نے فرمایا یہ تقدیر ہے ورنہ پہلے کو کس نے خارش لگائی۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah P.B.U.H said: ‘There is no ‘Adwa (contagion) no Tiyarah (evil omen) and no Hamah.’ A Bedouin man stood up and said: ‘0 Messenger of Allah, what do you think about a camel that suffers from mange and then all the other camels get mange?’ He said: ‘That is because of the Divine Decree. How else did the first one get mange?’” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 84

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عِيسَی الْجَرَّارُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَدِيُّ ابْنُ حَاتِمٍ الْکُوفَةَ أَتَيْنَاهُ فِي نَفَرٍ مِنْ فُقَهَائِ أَهْلِ الْکُوفَةِ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَدِيَّ ابْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ قُلْتُ وَمَا الْإِسْلَامُ فَقَالَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ کُلِّهَا لِخَيْرِهَا وَشَرِّهَا حُلْوِهَا وَمُرِّهَا

علی بن محمد، یحییٰ بن عیسیٰ خزاز، عبدالاعلیٰ بن ابی المساور، شعبی، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ عدی بن حاتم کوفہ آئے ہم اہل کوفہ کے فقہا کی ایک جماعت میں ان کے پاس آئے اور کہا کہ ہم سے ایسی حدیث بیان فرمائیے جو آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا انہوں نے فرمایا اے عدی بن حاتم ، اسلام قبول کر لے مامون ہو جائے گا، میں نے عرض کیا کہ اسلام کیا ہے، آپ نے فرمایا تو شہادت دے لا الہ الا اللہ اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تو ایمان لائے ہر قسم کی تقدیر خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو یا نا پسندیدہ ۔

Sha’bi said: “When ‘Adi bin Hátim came to Kufah, we came to him with a delegation of the Fuqahs’ of Kufah and said to him: ‘Tell us of something that you heard from the Messenger of Allah P.B.U.H.’ He said: ‘I came to the Prophet P.B.U.H and he said: “0 ‘Adi bin Hâtim, enter Islam and you will be safe.” I said, “What is islam?” He said: “To testify to La ilahaa illallah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and to believe in all the Divine Decrees, the good of them and the bad of them, the sweet of them and the bitter of them.” (Da’if)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 85

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَزِيدَ الرِّقَاشِيِّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّيشَةِ تُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ بِفَلَاةٍ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اساط بن محمد، اعمش، یزید رقاشی، غنیم بن قیس، حضرت ابوموسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، قلب کی مثال پر کی طرح ہے جس کو ہوائیں کسی میدان میں الٹ پلٹ کرتی ہوں ۔

It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari said: “The Messenger of Allah (p.b.u.h) said: ‘The likeness of the heart is that of a feather blown about by the wind in the desert.’” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 86

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَی عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارِيَةً أَعْزِلُ عَنْهَا قَالَ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا فَأَتَاهُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ قَدْ حَمَلَتْ الْجَارِيَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُدِّرَ لِنَفْسٍ شَيْئٌ إِلَّا هِيَ کَائِنَةٌ

علی بن محمد، یعلی، اعمش، سالم بن ابی الجعد، حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ایک لونڈی ہے کیا میں اس سے عزل کر لوں ؟ آپ نے فرمایا اس کو وہی پیش آئے گا جو اس کے لئے مقدر ہو چکا ہو، تھوڑے عرصہ بعد وہ صاحب آئے اور کہا کہ لونڈی حاملہ ہوگئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نفس کے لئے جو چیز اس کے مقدر کی گئی ہے وہی واقع ہوتی ہے۔

It was narrated that Jabir said: “A man from among the Ansdr came to the Prophet P.B.U.H and said: ‘0 Messenger of Allah, I have a slave girl. Should I do ‘Art (coitus interruptus) with her?’ He said: ‘Whatever is decreed for her shall come to her.” He (the Ansari) carrie to him later on and said: “That slave girl has become pregnant.” The Prophet P.B.U.H said: “Nothing is decreed for a person but it will surely come to pass.” (Hasan)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 87

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَائُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا

علی بن محمد، وکیع، سفیان، عبداللہ بن عیسیٰ، عبداللہ بن ابی الجعد، حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، بھلائی عمر کو زیادہ کر دیتی ہے، اور تقدیر کو سوائے دعا کے کوئی چیز نہیں لوٹاتی، اور آدمی رزق سے اپنی اس خطا کی وجہ سے محروم کر دیا جاتا ہے جس کو وہ کر بیٹھتا ہے۔

It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah P.B.U.H said: ‘Nothing extends one’s life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he conmijts’” (Da’if)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 88

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ قَالَ بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

ہشام بن عمار، عطاء بن مسلم خفاف، اعمش، مجاہد، حضرت سراقہ بن جعشم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل اس بارے میں ہوتا ہے جس کے متعلق قلم خشک ہو چکا ہے اور اندازے کئے جاچکے ہیں یا ایسے امر کے متعلق عمل ہوتا ہے جو آئندہ آنے والا ہے ؟ آپ نے فرمایا عمل اس بارے میں ہوتا ہے جس کے متعلق قلم خشک ہو چکا اور اندازے کئے جا چکے اور ہر ایک کو سہولت دی گئی ہے اس کام کے لئے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا۔

It was narrated that Suriqáh bin Ju’shum said: “I said: ‘0 Messenger of Allah p.b.u.h, is one’s deed in that which has already dried of the Pen and what has passed of the Divine decree, or is it in the future?’ He said: ‘No, it is in that which as already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, and each person is facilitated for what he has been created.’” (Sahih)

Permalink

Sunan Ibn MajahHadith 89

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُکَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ

محمد بن مصفی حمصی، لقیہ بن الولید، اوزاعی، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازوں پر نہ جاؤ اور اگر تم ان سے ملو تو سلام نہ کرو۔

It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah P.B.U.H said: ‘The Magians of this Ummah are those who deny the decrees of Allah. if they fall sick, do not visit them; if they die, do not attend their funerals; and if you meet them, do not greet them with Salãm.’” (Da’if)

Permalink