TrueHadith

باب بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

Jami' TirmidhiHadith 3877

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ قَالَ اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

ابوسلمہ یحیی بن خلف، عبدالوہاب ثقفی، عبداللہ بن عثمان بن خثیم، ابوزبیر، حضرت جابر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بنو ثقیف کے تیروں نے جلا دیا ہے۔ لہذا ان کے لئے بد دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ ثقیف والوں کو ھدایت دے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that people said, “O Messenger of Allah! The arrows of the Thaqif have burned us, so curse them.” He said, “O Allah, guide Thaqif.” [Ahmed 14708]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3878

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَکْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَائٍ ثَقِيفًا وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

زید بن اخزم طائی، عبدالقاہر بن شعیب، ہشام، حسن، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو تین قبیلوں کو پسند نہیں کرتے تھے، ثقیف، بنو حنیفہ۔ اور بنو امیہ۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet (SAW) died while he detested three tribes: Thaqif. Banu Hanifah and Banu Umayyah.

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3879

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ شَرِيکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَقِيفٍ کَذَّابٌ وَمُبِيرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُکْنَی أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ کُوفِيٌّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيکٍ وَشَرِيکٌ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ وَإِسْرَائِيلُ يَرْوِي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ وَيَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ

علی بن حجر، فضل بن موسی، شریک، عبداللہ بن عصم، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قبیلہ بنو ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ہلاک کرنے والا ہے۔ عبدالرحمن بن واقد نے شریک سے اسی سند سے اسی کی مانند حدیث نقل کی ہے۔ عبداللہ بن عصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔ وہ عبداللہ بن عصم سے روایت کرتے ہیں۔ اسرائیل ان سے روایت کرتے ہوئے انہیں عبداللہ بن عصمہ کہتے ہیں اس میں حضرت اسماء بنت ابوبکر سے بھی روایت ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “There is in Thaqif a liar and one who will cause ruin." [Ahmed 4790]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3880

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَکْرَةً فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَکَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهُ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ فُلَانًا أَهْدَی إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَکَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ وَفِي الْحَدِيثِ کَلَامٌ أَکْثَرُ مِنْ هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَائِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْکِينٍ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي مِسْکِينٍ وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلَائِ

احمد بن منیع، یزید بن ہارون، ایوب، سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی۔ آپ نے اسے اس کے بدلے چھ جوان اونٹنیاں عنایت فرمائیں۔ اس پر بھی وہ خفا رہا۔ پس جب یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ فلاں شخص نے مجھے بطور ہدیہ ایک انٹنی دی میں اس کے بدلے چھ اونٹنیاں دی لیکن وہ اس کے باوجود ناراض ہے لہذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ قریشی انصاری اور ثقفی اور دوسی کے علاوہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔ اس حدیث میں اور چیزوں کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے کئی سندوں سے منقول ہے۔ یزید بن ہارون، ایوب ابی العلاء سے روایت کرتے ہیں۔ اور یہ ایوب بن مسکین ہیں۔ انہیں ابن مسکین بھی کہتے ہیں۔ شاید یہ وہی حدیث ہے جو ایوب سے سعید مقری ہے حوالے سے منقول ہے۔ ایوب، ابوعلاء اور ایوب بن مسکین ایک شخص ہیں۔ ابن ابی مسکین بھی انہی کو کہتے ہیں۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: A villager presented to Allah’s Messenger (SAW) a young she-camel. He reciprocated by giving him six young camels. But, the man was displeased. This came to the Prophet’s (SAW) knowledge. He praised and glorified Allah and said, “So-and-so gave me a gift of a she-camel, so I reciprocated with six young she-camels, yet he became angry. I have resolved, therefore, that I shall not accept a gift except from a Quraysh, an Ansar, a Thaqafi, or a Daws.” [Ahmed 7923]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3881

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَهْدَی رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي کَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ فَتَسَخَّطَهُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ إِنَّ رِجَالًا مِنْ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمْ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ عَلَيَّ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ أَيُّوبَ

محمد بن اسماعیل، احمد بن خالد حمصی، محمد بن اسحاق، سعید بن ابی سعید مقبری، ابوسعید مقبری، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ان اونٹوں میں سے ایک اونٹی دی جو اسے غابہ مقام سے ملے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس بدلے میں کچھ دیا تو وہ خفا ہوگیا۔ چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عرب کے لوگ مجھے ہدئی دیتے ہیں اور میں جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے انہیں دے دیتا ہوں لیکن پھر بھی وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے مجھ پر ناراض ہوتے ہیں۔ اللہ کی قسم میں آج کے بعد قریشی، انصاری اور ثقفی اور دوسی کے علاوہ کسی عرب سے ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔ یہ حدیث یزید بن ہارون کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: A man of Banu Fazarah presented to the Prophet (SAW) a she-camel from the camels that had come to his possession at Ghabah. So, the Prophet (SAW) reciprocated to him some of it, but he became angry. Then I heard Allah’s Messenger (SAW) say (about this) from the pulpit, “Of the men of the Arabs, someone presents a gift, so I return the gesture to the extent I can. But he becomes angry and displays anger to me. By Allah, after this moment, I will not accept gift from the men of Arab except from the Qurayshi, Ansari, Thaqafi or Dawsi.” [Abu Dawud 3537]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3882

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَال سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ يُحَدِّثُ عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ مَسْرُوحٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِذَلِکَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَيْسَ هَکَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ فَقُلْتُ لَيْسَ هَکَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَکِنَّهُ حَدَّثَنِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ قَالَ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيکَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ وَيُقَالُ الْأَسْدُ هُمْ الْأَزْدُ

ابراہیم بن یعقوب، وہب بن جریر، جریر، عبداللہ بن ملاذ، نمیر بن اوس، مالک بن مسروح، حضرت عامر بن ابی عامر اشعری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بنو اشعر اور بنو اسد بھی کتنے اچھے قبیلے ہیں۔ یہ لوگ جنگ میں فرار نہیں ہوتے اور مال غنیمت سے چراتے نہیں۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ روای کہتے ہیں میں نے یہ حدیث معاویہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح نہیں بلکہ اس طرح فرمایا وہ مجھ سے ہیں اور میرے ہی ہیں۔ ابوعامر کہتے ہیں میں نے کہا میرے والد نے مجھ سے اس طرح بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ حضرت معاویہ نے فرمایا تم اپنے باپ کی روایت کو زیادہ بہتر جانتے ہوگے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس روایت کو صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسد اور ازد دونوں ایک ہی قبیلہ ہیں۔

Aamir ibn Abu Aamir Ash’ari reported on the authority of his father that Allah’s Messenger (SAW) said, “How excellent, a tribe the Asad and the Ashari are! They do not flee from the battle and they do not cheat in the booty. They are mine and I am theirs.” The narrator said that he narrated it to Mu’awiyah (RA) but he said that it was not in that manner. (It was): Allah’s Messenger (SAW) said, “They are mine and for me.” Again the narrator objected; This is not how my father narrated to me, but he narrated: I heard Allah’s Messenger (SAW) say, “They are mine and I am theirs.” Mu’awiyah (RA) submitted, “Then you know better the hadith of your father.” [Ahmed 17166]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3883

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ صحیح و سالم رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ اس باب میں حضرت ابوذر، ابوبریدہ اور ابوہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet (SAW) said, “Aslam-may Allah give them peace! and And, Ghifar-may Allah forgive them! [Ahmed 4702]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3884

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ قبیلہ غفار کو اللہ تعالیٰ بخش دے اور عیصہ نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Abdullah ibn Dinar reported a hadith like that of Shu’bah with the addition, “And Usayyah disobeyed Allah and His Messenger.” Sayyidina Ibn Umar reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “Aslam-may Allah give them peace! And, Ghifar-may Allah forgive them! And, Usayyah disobeyed Allah and His Messenger

Permalink

Jami' TirmidhiHadith (internal ref #1521923)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَزَادَ فِيهِ وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

محمد بن بشار، مؤمل، سفیان، عبد اللہ، شعبہ ہم سے روایت کی محمد بن بشار نے انہوں نے مؤمل سے انہوں نے سفیان سے اور وہ عبداللہ سے شعبہ کی مانند نقل کرتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

-

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3885

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارٌ وَأَسْلَمُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ قَالَ جُهَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

قتیبہ، مغیرة بن عبدالرحمن، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جان ہے۔ غفار، اسلم، مزینہ، اور جہینہ کے لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد، طی اور غطفان کے لوگوں سے بہتر ہوں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, the Ghifar, Aslam, Muzaynah and those of Juhaynah” or, he said, “Juhaynah and those who belong to Muzaynah are better in Allah’s sight on the Day of Reserrection than Asad, Watiy and Ghatafan.” [Ahmed 9820, Muslim 2521, Bukhari 3523]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3886

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ جَائَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَائَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی فَلَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، جامع بن شداد، صفوان بن محرز، حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ بنو تمیم کا ایک وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بنو تمیم تمہیں بشارت ہو۔ وہ کہنے لگے۔ آپ ہمیں بشارت دی رہیں ہیں تو کچھ عنایت بھی کریں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر یمن والوں کی ایک جماعت آئی تو آپ نے ان سے فرمایا تم لوگ خوشخبری قبول کر لو۔ اس لئے کہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔ انہوں نے عرض کیا ہم نے اسے قبول کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that a deputation of Banu Tamim came to Allah’s Messenger who said, “Glad tidings, O Banu Tamim!” They said, “Since you give us glad tidings, do grant us something, too!” The narrator reported that the face of Allah’s Messenger (SAW) changed colour. Also, a deputation of the people of Yemen came (to him) and he said, “Accept the glad tidings that Banu Tamim did not accept.” They said, “Indeed, we accept (it).” [Ahmed 19897, Bukhari 3191] --------------------------------------------------------------------------------

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3887

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَمُزَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

محمود بن غیلان، ابواحمد، سفیان، عبدالملک بن عمیر، عبدالرحمن بن ابی بکرة، حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسلم، غفار، اور مزینہ کے لوگ تمیم اسد اور غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے لوگوں سے بہتر ہیں اور ان کا ذکر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز کرتے تھے۔ چنانچہ لوگ کہنے لگے یہ لوگ محروم ہوگئے اور خسارے میں رہ گئے۔ آپ نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

-

Permalink