TrueHadith

باب حضرت فاطمہ کی فضیلت کے بارے میں

Jami' TirmidhiHadith 3802

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْکِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْکِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّهَا بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نَحْوَ هَذَا

قتیبہ، لیث، ابوملیکہ، حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت چاہی کہ ہم اپنی لڑکی کا نکاح علی سے کر دیں۔ میں اس بات کی اجازت نہیں دیتا آپ سے تین مرتبہ اسی طرح کہنے کے بعد فرمایا ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ علی بن ابی طالب اگر میری بیٹی کو طلاق دینا چاہے تو دے دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کرلے۔ میری بیٹی فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے برا لگتا ہے جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Miswar ibn Makhramah (RA) reported having heard the Prophet (SAW) say from the pulpit, “Banu Hisham ibn Mughirah sought my permission to marry their daughter to Ali ibn Abu Talib. I do not permit that. I do not permit that. I do not permit that, unless Ibn Abu Talib decides to divorce my daughter and marry their daughter. She is part of me. It pains me what pains her and it hurts me what hurts her.” [Ahmed 18948, Bukhari 926, Muslim 2449, Abu Dawud 2071, Ibn e Majah 1998]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3803

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ أَحَبَّ النِّسَائِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ وَمِنْ الرِّجَالِ عَلِيٌّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

ابراہیم بن سعید جوہری، اسود بن عامر، جعفر احمر، عبداللہ بن عطاء، ابن بریدة، حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمہ سے اور مردوں میں سب سے زیادہ محبت حضرت علی سے تھی۔ ابراہیم کہتے ہیں یعنی آپ کے اہل بیعت میں سے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that the dearest to Allah’s Messenger (SAW) among women was Fatimah and among men was Ali. Ibrahim said that this meant from ‘people of his household.’

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3804

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيًّا ذَکَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَکَذَا قَالَ أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَکُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ رَوَی عَنْهُمَا جَمِيعًا

احمد بن منیع، اسماعیل بن علیہ، ایوب، ابن ابی ملیکہ، حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت علی نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے جو چیز اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے اور جو چیز اسے تعب دیتی ہے وہ مجھے بھی تعب دیتی ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایوب بھی ابن ابی ملیکہ سے وہ ابوزبیر اور کئی دوسرے حضرات سے روایت کرتے ہیں جبکہ بعض حضرات ابن ابی ملیکہ سے روایت مسور کے حوالے سے روایت کرتے ہیں۔ احتمال یہ ہے کہ انہوں نے دونوں سے روایت کی ہو۔ چنانچہ عمرو بن دینار بھی ابن ابی ملیکہ سے اور مسور سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں۔

Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) reported that Sayyidina Ali mentioned the daughter of Abu Jahl. That came to the Prophet’s (SAW) knowledge and he said, “Surely Fatimah is part of me. It hurts me what hurts her and it tires me what tires her.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3805

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَليٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَصُبَيْحٌ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ

سلیمان بن عبدالجبار بغدادی، علی بن قادم، اسباط بن نصر ہمدانی، سدی، صبیح مولی ام سلمہ، حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی فاطمہ اور حسن حسین سے فرمایا کہ میں بھی ان سے لڑوں گا جس سے تم لڑوں گے اور جس سے تم صلح کرو گے اس سے میں بھی صلح کروں گا۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ حضرت ام سلمہ کے مولی معروف (مشہور) نہیں ہیں۔

Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said to Ali, Fatimah, Hasan and Husain, “I will fight against whom you fight and make peace with whom you make peace.” [Ahmed 9704, Ibn e Majah 145]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3806

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَّلَ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ کِسَائً ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَائِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّکِ إِلَی خَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْئٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَأَبِي الْحَمْرَائِ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَعَائِشَةَ

محمود بن غیلان، ابواحمد زبیری، سفیان، زبید، شہر بن حوشب، حضرت ام سلمہ فرماتیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین علی اور فاطمہ کو ایک چادر میں اوڑھائی اور دعا کی کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں اور خاص لوگ ہیں ان سے ناپاکی کو دور کر کے انہیں اچھی طرح پاک کر دے۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم خیر پر ہی ہو یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ اس باب کی سب سے بہتر روایت ہے۔ اس باب میں حضرت انس عمرو بن ابن ابی سلمہ اور ابوحمراء سے بھی روایت ہے۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that the Prophet (SAW) put a cloak over Hasan, Husayn, Ali and Fatimah and prayed, “O Allah, they are people of my house and closest to me. Remove from them evil and purify them a perfect purification.” Umm Salamah (RA) submitted, “I too am with them, O Messenger of Allah!” He said, “Indeed you are on what is good.” [Ahmed 26570]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3807

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا وَدَلًّا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ فِي قِيَامِهَا وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَکَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا فَلَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَأَکَبَّتْ عَلَيْهِ فَقَبَّلَتْهُ ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَبَکَتْ ثُمَّ أَکَبَّتْ عَلَيْهِ ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَضَحِکَتْ فَقُلْتُ إِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ مِنْ أَعْقَلِ نِسَائِنَا فَإِذَا هِيَ مِنْ النِّسَائِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهَا أَرَأَيْتِ حِينَ أَکْبَبْتِ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعْتِ رَأْسَکِ فَبَکَيْتِ ثُمَّ أَکْبَبْتِ عَلَيْهِ فَرَفَعْتِ رَأْسَکِ فَضَحِکْتِ مَا حَمَلَکِ عَلَی ذَلِکَ قَالَتْ إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا فَبَکَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَسْرَعُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَذَاکَ حِينَ ضَحِکْتُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ

محمد بن بشار، عثمان بن عمر، اسرائیل، میسرة بن حبیب، منہال بن عمرو، ام المومنین حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے عادات چال چلن خصلتوں اور اٹھنے بیٹھنے میں فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ سے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا۔ جب حضرت فاطمہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے ان کا بوسہ لیتے اور اپنی جگہ پر بیٹھاتے۔ اسی طرح جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی اپنی جگی کھڑی ہو جاتی آپ کا بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر گر پڑیں آپ کا بوسہ لیا پھر سر اٹھا کر رونے لگیں۔ حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ پہلے تو میں سمجھتی تھی کہ وہ عورتوں میں سب سے زیادہ عقلمند ہیں لیکن بہرحال عورت تھیں۔ پھر جب آپ فوت ہوگئے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں گر کر سر اٹھا کر رونے لگیں اور دوسری مرتبہ ہنسیں۔ وہ فرمانے لگی کہ آپ کی حیات طیبہ میں ، میں نے یہ راز چھپایا۔ بات یہ ہے کہ مجھے بتایا آپ اس مرض میں وفات پاجائیں گے اس پر میں رونے لگی اور دوسری مرتبہ فرمایا کہ تم اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھے ملو گی۔ (یعنی جنت میں) اس پر میں ہنسنے لگی۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے اور کئی سندوں سے حضرت عائشہ سے منقول ہے۔

Sayyidah Ayshah (RA), the mother of the Believers, narrated: I have not seen anyone resembling Allah’s Messenger (SAW) more closely than Fatimah daughter of Allah’s Messenger (SAW) in habits, gait and characteristics, and in her getting up and her sitting down. When she came to the Prophet (SAW) he would stand up for her, kiss her and make her sit in his place. And when he visited her, she stood up from her seat, kissed him and gave him her place to sit down. When he was taken ill, she came to him, fell down on him, and kissed him. Then she raised her head and wept. Again, she fell down on him, and raised her head and laughed. I said (to myself). “I had thought that she was the most intelligent of women, but, after all, she is a woman.” When the Prophet (SAW) died, I said to her, ‘What do you say when you fell down on the Prophet (SAW) and raised your head (afterwards), you wept. Then again, you tell down, raised your head and laughed? What made you do that?” She said, “While he was alive, I had kept this secret. He informed me that he would die from that illness, so I wept. Then he informed me that I would be the quickest of his family to meet him. So at that time, I laughed.” [Bukhari 3623, Abu Dawud 5217, Muslim 2450, Ibn e Majah 1621, Ahmed 26475]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3808

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا قَالَتْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

مسنگ

-

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3809

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَی عَائِشَةَ فَسُئِلَتْ أَيُّ النَّاسِ کَانَ أَحَبَّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَاطِمَةُ فَقِيلَ مِنْ الرِّجَالِ قَالَتْ زَوْجُهَا إِنْ کَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ قَالَ وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ وَيُرْوَی عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَکَانَ مَرْضِيًّا

حسین بن یزید کوفی، عبدالسلام بن حرب، ابوالجحاف، جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپی کیساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس سے سب سے زیادہ محبت تھی۔ ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے۔ پھر پوچھا کہ مردوں میں کس سے سب سے زیادہ محبت تھی انہوں نے فرمایا کہ ان کے (یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے) شوہر سے اور میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ (یعنی علی رضی اللہ عنہ) بکثرت روضے رکھتے اور نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

Jumay’ ibn Umayr Taymi reported that he went to Sayyidah Ayshah (RA) with his paternal aunt. He asked her, “Which one of the people was dearest to Allah’s Messenger (SAW). She said, “Fatimah.” She was asked, “And of the men?” she said, “Her husband. And I know he was much given to fast and to stand (in salah).

Permalink