TrueHadith

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب

Jami' TirmidhiHadith 3761

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّمَا فِي يَدِي قِطْعَةُ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَی مَوْضِعٍ مِنْ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلَی حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخَاکِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

احمد بن منیع، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ریشمی مخمل کا ایک ٹکڑا ہے۔ میں اس سے جنت کی جس جانب بھی اشارہ کرتا ہوں وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے۔ میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سنایا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھائی نیک شخص ہے یا فرمایا عبداللہ نیک آدمی ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I saw in a dream as though I had a piece of silk in my hand. I did not point with it to any place in paradise, but it flew there with me. So, I related it to Hafsah and she recounted it to the Prophet ‘ who said, “Your brother is a righteous man.” or (he said), “Abdullah is a righteous man.” [Bukhari 1121, Muslim 2478, Ahmed 4494]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3762

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَقَ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا أُرَی أَسْمَائَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ فَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّی أُسَمِّيَهُ فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّکَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

عبداللہ بن اسحاق جوہری، ابوعاصم، عبداللہ بن مؤمل، ابن ابی ملیکہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں چراغ (کی روشنی) دیکھی تو فرمایا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے یقین ہے کہ اسماء کے ہاں ولادت ہوئی ہے۔ تم لوگ اسکا نام نہ رکھنا میں خود اس کا نام رکھوں گا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا اور کھجور چبا کر اسکے منہ میں دی۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

Sayyidah Ayshah reported that the Prophet (SAW) saw the (light of a) lantern in the house of Zubayr and said, “0 Ayshah, I do not see Asma but that a child is born to her. Do not name him till I give him a name.” Then he named him Abdullah and chewed a date and rubbed the moistened date on the child’s palate. --------------------------------------------------------------------------------

Permalink