TrueHadith

وارث کے لیے وصیت نہیں

Jami' TirmidhiHadith 2046

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَهَنَّادٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَی لِکُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ وَمَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الطَّعَامَ قَالَ ذَلِکَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ثُمَّ قَالَ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ وَأَنَسٍ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَرِوَايَةُ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَهْلِ الْحِجَازِ لَيْسَ بِذَلِکَ فِيمَا تَفَرَّدَ بِهِ لِأَنَّهُ رَوَی عَنْهُمْ مَنَاکِيرَ وَرِوَايَتُهُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ أَصَحُّ هَکَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ قَال سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ حَدِيثًا مِنْ بَقِيَّةَ وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاکِيرُ عَنْ الثِّقَاتِ و سَمِعْت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ زَکَرِيَّا بْنَ عَدِيٍّ يَقُولُ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ خُذُوا عَنْ بَقِيَّةَ مَا حَدَّثَ عَنْ الثِّقَاتِ وَلَا تَأْخُذُوا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ مَا حَدَّثَ عَنْ الثِّقَاتِ وَلَا عَنْ غَيْرِ الثِّقَاتِ

علی بن حجر، ہناد، اسماعیل بن عیاش، شرحبیل بن مسلم، خولانی، حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے حصہ مقرر کر دیا ہے۔ لہذا اب کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔ جو آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کا دعوی کرے یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے اس پر قیامت تک اللہ تعالیٰ کی لعنت مسلسل برستی رہے گی۔ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے خرچ نہ کرے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کھانا بھی نہیں؟ فرمایا کھانا ہمارے سب مالوں سے افضل ہے۔ پھر فرمایا مانگی ہوئی چیز اور دودھ کے لیے ادھار لیے ہوئے جانور واپس کیے جائیں اور قرض ادا کیا جائے اور ضامن اس چیز کا ذمہ دار ہے جس کی اس نے ضمانت دی ہے۔ اس باب میں حضرت عمرو بن خارجہ اور انس بن مالک سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور ابوامامہ سے اور سندوں سے بھی منقول ہے۔ اسماعیل بن عیاش کی اہل عراق اور اہل حجاز سے وہ روایت قوی نہیں جن کو نقل کرنے میں وہ منفرد ہیں۔ کیونکہ انہوں نے منکر روایتیں نقل کی ہیں۔ جبکہ ان کی اہل شام سے نقل کردہ احادیث زیادہ صحیح ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری بھی یہی کہتے ہیں۔ احمد بن حسن، احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش بقیہ سے زیادہ صحیح ہیں کیونکہ ان کی بہت سی احادیث جو وہ ثقہ راویوں سے نقل کرتے ہیں منکر ہیں۔ عبداللہ بن عبدالرحمن زکریا بن عدی سے اور وہ ابواسحاق فزاری سے نقل کرتے ہیں کہ بقیہ سے وہ حدیثیں لے لو جو وہ ثقات سے روایت کرتے ہیں۔ لیکن اسماعیل بن عیاش ثقات سے روایت کریں یا غیر ثقات سے ان کوئی روایت نہ لو۔

Sayyidina Abu Umamah Bahili narrated I heard Allah’s Messenger (SAW) say during the sermon of the Farewell pilgrimage, Allah, the Blessed and the Exalted, has assigned every owner of right, his right. There is no will for an heir. The child belongs to the bed, and for the adulterer are stones and his reckoning is with Allah, the Exalted. As for him who traces himself to anyone other than his father, or connects himself to another than his master then on him is the curse of Allah stamped up to the Day of resurrection. No woman may spend from the home of her husband, save with his permission. Someone asked “O Messenger of Allah, not even food?” He said, “That is the most excellent of our properties.” He also said, “That which is borrowed is to be repaid, and the minhah is to be returned, and the debt must be discharged, and the guarantor is responsible.” [Abu Dawud 2870, Ibn Majah 2713]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2047

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَی نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ کَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَی کُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ

قتیبہ، ابوعوانہ، قتادہ، شہر بن حوشب، عبدالرحمن بن غنم، حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطاب فرمایا۔ میں اس کی گردن کے نیچے کھڑا تھا وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان گر رہا تھا میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا۔ پس وارث کے لیے وصیت نہیں۔ لڑکا صاحب فراش کا ہوگا (یعنی جس کی وہ بیوی یا باندی ہے) اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Amr ibn Kharijah (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) sat on his she-camel and addressed the people. He (Amr) was standing under its neck and it was pouring out its cud, its saliva dropping on his shoulders. He heard him say, “Indeed, Allah, the Majestic and Glorious, gave every owner of right his due (right). There is no will for the heir. The child belongs to the (owner of the) bed and, for the adulterer are stones.” [Nisai 3643, Ibn Majah 2712, Ahmed 1768] --------------------------------------------------------------------------------

Permalink