Jami' Tirmidhi — Hadith 2047
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَی نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ کَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَی کُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
قتیبہ، ابوعوانہ، قتادہ، شہر بن حوشب، عبدالرحمن بن غنم، حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطاب فرمایا۔ میں اس کی گردن کے نیچے کھڑا تھا وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان گر رہا تھا میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا۔ پس وارث کے لیے وصیت نہیں۔ لڑکا صاحب فراش کا ہوگا (یعنی جس کی وہ بیوی یا باندی ہے) اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Amr ibn Kharijah (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) sat on his she-camel and addressed the people. He (Amr) was standing under its neck and it was pouring out its cud, its saliva dropping on his shoulders. He heard him say, “Indeed, Allah, the Majestic and Glorious, gave every owner of right his due (right). There is no will for the heir. The child belongs to the (owner of the) bed and, for the adulterer are stones.” [Nisai 3643, Ibn Majah 2712, Ahmed 1768] --------------------------------------------------------------------------------