TrueHadith

ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

Musnad AhmadHadith 25219

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتْ سَاعَةٌ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِيهَا أَحَدٌ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ أَيُّوبُ أُرَاهُ قَالَ خَفِيفَتَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ نبی علیہ السلام کے پاس اس وقت کوئی نہیں آتا تھا نبی علیہ السلام دو رکعتیں پڑھتے تھے اور منادی نماز کے لئے اذان دینے لگتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25220

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ الْحَجِّ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جما لیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25221

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَعَفَّانُ وَيُونُسُ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِيهِ فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَّرَهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ مَا يُولِعُكَ بِهِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا قَالَ عَفَّانُ عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ مَا تَوَالُعُكَ بِهِ

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کی کسی گلی میں ایک مرتبہ ابن صائد کو دیکھا تو اسے سخت سست کہا اور اس کے متعلق تلخ جملے کہے، جس پر وہ پھول گیا کہ راستہ بند ہو گیا حضرت ابن عمر نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25222

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي قَالُوا نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ قَالُوا لَا قُلْتُ كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ قَالَ فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى قَالَ لَا أَدْرِي قُلْتُ مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ فَقَالَ مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ مِنْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَخْبَرْتُهَا قَالَتْ مَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ غَضْبَةٌ يَغْضَبُهَا

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں ابن صائد سے دو مرتبہ ملا ہوں پہلی مرتبہ جب میں اس سے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی تھے میں نے ان میں سے کسی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کرپوچھتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی سوال کروں تو کیا مجھے اس کا صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں میں نے کہا کیا تم اسے وہی دجال سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تم غلط بیانی سے کام لے رہے ہو بخدا تم میں سے کسی نے مجھے اس وقت بتایا تھا جب اس کے پاس مال و اولاد کی کمی تھی کہ یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک مال واولاد میں تم سب سے زیادہ نہ ہوجائے اور آج ایسا ہی ہے پھر میں اس سے جدا ہو گیا۔اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کی آنکھ خراب ہوگئی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری یہ آنکھ کب سے خراب ہوئی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ تمہارے سر میں ہے اور تم ہی کو پتہ نہیں ہے اس نے کہا اے ابن عمر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ اگر اللہ چاہے تو آپ کی اس لاٹھی میں بھی آنکھ پیدا کرسکتا ہے اور گدھے جیسی آواز میں اتنی زور سے چیخا کہ اس سے پہلے میں نے کبھی نہ سنا تھا، میرے ساتھی یہ سمجھے کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حالانکہ بخدا مجھے کچھ خبر نہ تھی، حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آ کرخروج کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25223

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَالَ فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى انْكَسَرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَشْعُرْ بِذَلِكَ فَدَخَلْتُ عَلَى أُخْتِي حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ وَمَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کردے گا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکر خروج کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25224

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ بِالصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی علیہ السلام نماز کھڑی ہونے سے پہلے مختصر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25225

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَمِائَتَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ وَكَانَ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی علیہ السلام دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25226

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا بَدَا الْفَجْرُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی علیہ السلام دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25227

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانورکے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25228

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی علیہ السلام صرف مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25229

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّالَقَانِيَّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت اذان اور اقامت کے درمیان نبی علیہ السلام دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25230

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ و قَالَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے حجۃ الوداع میں مجھے اپنے حج کا احرام کھول دینے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25231

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قَالَ نَافِعٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَتْ لَهُ فُلَانَةُ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ فَقَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی علیہ السلام نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانورکے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25232

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ قُلْنَ فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا قَالَ إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ وَلَبَّدْتُ فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي كِتَابِ الْحَجِّ أَنْحَرَ هَدِيَّتِي

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی علیہ السلام نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانورکے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سر کے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25233

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ فِي بَيْتِي يُخَفِّفُهُمَا جِدًّا قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُخَفِّفُهُمَا كَذَلِكَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت میرے گھر میں نبی علیہ السلام دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25234

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنْ الدَّوَابِّ فَقَالَ حَدَّثَتْنِي إِحْدَى النِّسْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْتُلُ الْحُدَيَّا وَالْغُرَابَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام سے کسی نے سوال پوچھا یا رسول اللہ احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کرسکتے ہیں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25235

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا قَالَ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونیوالا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہوگا تو میں نے نبی علیہ السلام کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25236

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ أَوْ بِعَامَيْنِ فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا وَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دوسال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25237

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دوسال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25238

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ أَوْ عَامَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دوسال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25239

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ جَدِّهِ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ فَلَا يَنْجُو إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ فَقَالَ رَجُلٌ كَذَا وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَلَا كَذَبَتْ حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکر کا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبر دے گا ایک آدمی نے کہا کہ یقینا اسی طرح ہوگا بخدا حضرت حفصہ کی طرف میں نے جھوٹی نسبت کی ہے اور نہ ہی حضرت حفصہ نے نبی علیہ السلام پر جھوٹ باندھا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25240

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25241

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25242

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25243

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25244

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا شَفَّاءُ تَرْقِي مِنْ النَّمْلَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے تو میرے یہاں شفاء نامی ایک خاتون موجود تھیں جو پہلو کی پھنسیوں کا جھاڑ پھونک سے علاج کرتی تھیں ، نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ یہ طریقہ حفصہ کو بھی سکھا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25245

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا الشَّفَّاءُ كَانَتْ تَرْقِي مِنْ النَّمْلَةِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ قریش کی شفاء نامی ایک خاتون موجود تھیں جو پہلو کی پھنسیوں کا جھاڑ پھونک سے علاج کرتی تھیں نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ یہ طریقہ حفصہ کو بھی سکھا دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25246

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْجُمَحِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَعْلَمُهَا إِلَّا حَفْصَةَ سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهَا قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تَعْنِي التَّرْتِيلَ

ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی کسی زوجہ محترمہ میرے یقین کے مطابق حضرت حفصہ سے نبی علیہ السلام کی قرات کے متعلق کسی نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑ توڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پر وقف کر کے) دکھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25247

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25248

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25249

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25250

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25251

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْهُمَا كِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25252

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ لَمْ يُجْمِعْ الصِّيَامَ مَعَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جس شخص کا روزہ فجر کے وقت کے ساتھ جمع نہ ہوا تو اس کا روزہ نہیں ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25253

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ وَهُوَ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْتِي جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يُرِيدُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَرَجَعَ مَنْ كَانَ أَمَامَهُمْ لِيَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ فَيُصِيبَهُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْتَكْرَهًا قَالَ يُصِيبُهُمْ كُلَّهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے مشرق سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکرکا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبردے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آدمی کا کیا بنے گا جو اس لشکر میں زبردستی شامل کرلیا گیا ہوگا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ آفت تو سب پر آئے گی البتہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت پر اٹھائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25254

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ چار چیزیں ایسی ہیں جو نبی علیہ السلام ترک نہیں فرماتے تھے دس محرم کا روزہ عشرہ ذی الحجہ کے روزے ہر مہینے میں تین روزے اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25255

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ہر مہینے میں تین دن روہ رکھتے تھے جمعرات اور اگلے ہفتے میں پیر کے دن۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25256

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَكَانَتْ يَمِينُهُ لِطَعَامِهِ وَطُهُورِهِ وَصَلَاتِهِ وَثِيَابِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے اور نبی علیہ السلام کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے وضو کرنے کپڑے پہننے اور لینے دینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25257

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثًا

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے پھر یہ دعا پڑھتے کہ پروردگار مجھے اس دن کے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعاء فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25258

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ عَنِ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنْ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے پیرجمعرات اور اگلے ہفتے میں پیر کے دن۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25259

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ اضْطَجَعَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَكَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِأَكْلِهِ وَشُرْبِهِ وَوُضُوئِهِ وَثِيَابِهِ وَأَخْذِهِ وَعَطَائِهِ وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ وَكَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنْ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ لیٹ جاتے پھر یہ دعا پڑھتے کہ پروردگارمجھے اس دن کے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعاء فرماتے تھے اور نبی علیہ السلا م کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے وضو کرنے کپڑے پہننے اور لینے دینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے پیرجمعرات اور اگلے ہفتے میں پیر کے دن۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25260

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِسَائِرِ حَاجَتِهِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے پھر یہ دعا پڑھتے کہ پروردگارمجھے اس دن کے عذاب سے بچا نا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعاء فرماتے تھے۔ اور نبی علیہ السلام کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25261

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ وَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ثُمَّ عَلِيٌّ ثُمَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَتَجَلَّلَهُ فَتَحَدَّثُوا ثُمَّ خَرَجُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَسَائِرُ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ فَلَمَّا جَاءَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے ، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگرصحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی علیہ السلام اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25262

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تَتَحَرَّكْ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے ، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگرصحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی علیہ السلام اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25263

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحُرُّ بْنُ الصَّيَّاحِ عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنْ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام دس محرم کا روزہ نوذی الحجہ کا روزہ اور ہر مہینے میں تین روزے پیر اور دو مرتبہ جمعرات کے دن رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25264

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ عُطَارِدَ بْنَ حَاجِبٍ قَدِمَ مَعَهُ ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اشْتَرَيْتَهُ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عطارد بن حاجب ایک ریشمی کپڑا لے کر آیا جو اسے کسری (شاہ ایران) نے پہننے کے لئے دیا تھا حضرت عمرنے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ اسے خرید لیتے (تو بہترہوتا) نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25265

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ وَأَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ نَافِعٌ أُرَاهَا حَفْصَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهَا قَالَ فَقِيلَ لَهَا أَخْبِرِينَا بِهَا قَالَ فَقَرَأَتْ قِرَاءَةً تَرَسَّلَتْ فِيهَا قَالَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ نَافِعٌ فَحَكَى لَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ قَطَّعَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَطَّعَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی کسی زوجہ محترمہ میرے یقین کے مطابق حضرت حفصہ سے نبی علیہ السلام کی قرات کے متعلق کسی نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑ توڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پر وقف کر کے) دکھایا۔

-

Permalink