TrueHadith

حضرت ام سلمہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 25266

حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سُبَيْعَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ وَأَرَادَتْ التَّزْوِيجَ فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْكِ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَزَوَّجُ إِذَا شَاءَتْ

حضرت ابوالسنابل سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف ٢٣ یا ٢٥ دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں ، نبی علیہ السلام کے پاس کسی نے آکر اس کی خبردی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتی ہے تو (ٹھیک ہے کیونکہ) اس کی عدت گزر چکی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25267

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ فَأَفَضْتُ بُكَاءً فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنْ الصَّعِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَتْ فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ جب میرے شوہر حضرت ابوسلمہ فوت ہوگئے تو یہ سوچ کر کہ وہ مسافر تھے اور ایک اجنبی علاقے میں فوت ہوگئے میں نے خواب آہ وبکاء کی اسی دوران ایک عورت میرے پاس مدینہ منورہ کے بالائی علاقے سے میرے ساتھ رونے کے لئے آگئی نبی علیہ السلام نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم اپنے گھر میں شیطان کو داخل کرنا چاہتی ہو جسے اللہ نے یہاں سے نکال دیا تھا حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ پھر میں اپنے شوہر پر نہیں روئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25268

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَبْهَانَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کر سکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25269

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ بَشَرِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں ) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25270

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ سُوقَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَعَلَّ فِيهِمْ الْمُكْرَهَ فَقَالَ إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی علیہ السلام نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25271

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي الدُّهْنِيَّ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے منبرکے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25272

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ وَهُوَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ كَذَا قَالَ سُفْيَانُ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي قَالَ يُجْزِئُكِ أَنْ تَصُبِّي عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال(زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں ؟) نبی علیہ السلام نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25273

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی علیہ السلام تم لوگوں کی نسبت ظہر کی نماز جلدی پڑھ لیا کرتے تھے اور تم لوگ ان کی نسبت عصر کی نماز زیادہ جلدی پڑھ لیتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25274

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ

حضرت عائشہ اور ام سلمہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25275

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ الصِّيَامِ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْجُمُعَةُ وَالْخَمِيسُ

ہنیدہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے روزے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام مجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے جن میں سے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا تھا پھر جمعرات اور جمعہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25276

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ ثُمَّ يَصُومُ

ابوبکر بن عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25277

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ فَرَأَى عَمَّارًا فَقَالَ وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ عَنْ أُمِّهِ قُلْتُ نَعَمْ أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا تَلِجُ عَلَيْهَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نبی علیہ السلام کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی علیہ السلام سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی علیہ السلام لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی علیہ السلام نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25278

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ مِنْ آخِرِ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ وَمَا يَفِيصُ بِهَا لِسَانُهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی علیہ السلام کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25279

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ وَعَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ فِي رَمَضَانَ

ابوبکربن عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں والد کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25280

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا نبی علیہ السلام نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25281

حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25282

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَاهَا عَنْ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحِجْرِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ جَيْشًا فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ أُخْرِجَ كَارِهًا قَالَ يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي جَعْفَرٍ فَقَالَ هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک پناہ گزین حطیم میں پناہ لے گا اللہ ایک لشکر بھیجے گا جب وہ لوگ مقام بیداء میں پہنچیں گے تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی علیہ السلام نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25283

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ كُنْتُ أَجُرُّ ذَيْلِي فَأَمُرُّ بِالْمَكَانِ الْقَذِرِ وَالْمَكَانِ الطَّيِّبِ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ

ابراہیم بن عبدالرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25284

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَالَ فَقَالَ يَا أُمَّهْ قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا قَالَتْ يَا بُنَيَّ فَأَنْفِقْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَخَرَجَ فَلَقِيَ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَجَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا بِاللَّهِ مِنْهُمْ أَنَا فَقَالَتْ لَا وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25285

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ وَالْمُخَنَّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی علیہ السلام نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25286

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَقْضِي لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَإِنَّمَا هُوَ نَارٌ فَلَا يَأْخُذْهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر تے ہو ، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت وبلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شص کی بات تسلیم کرکے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لوکہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہاہوں لہذا اسے چاہئے کہ اسے نہ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25287

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے انہیں حکم دیا کہ قربانی کے دن (دس ذی الحجہ کو) فجر کی نماز نبی علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں پڑھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25288

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي قَالَ فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا قَالَتْ تَزَوَّجُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ فَقَالَتْ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَزَوَّجُ أُخْتِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبِي وَوَافَقَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عُقَيْلٌ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں ، نبی علیہ السلام نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے ، نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے ( کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ(ابوسلمہ) کو بنوہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25289

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ فَقَالَ قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کانعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی علیہ السلام کی صورت میں عطاء فرمادیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25290

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی علیہ السلام ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25291

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25292

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَمَا تَرَيْنَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ

ایک عورت نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا کہ میرا شوہر روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دیدیتا ہے جبکہ میرا بھی روزہ ہوتا ہے اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام بھی مجھے روزے کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25293

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرُوا الْكُحْلَ قَالُوا نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا قَالَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا فِي سِتْرِ بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ بِهَا كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا کی آنکھوں میں شکایت پیدا ہوگئی انہوں نے نبی علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی آنکھوں کے متعلق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا (زمانہ جاہلیت میں ) تم میں سے ایک عورت ایک سال تک اپنے گھر میں گھٹیاترین کپڑے پہن کررہتی تھی پھر اس کے پاس سے ایک کتا گزراجاتا تھا اور وہ مینگنیاں پھینکتی ہوئی باہر نکلتی تھی تو کیا اب چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25294

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفًا فَجَاءَهُ بِلَالٌ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25295

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ نَعَمْ إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِمَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتاہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25296

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے جب ان سے نکاح کیا تو تین دن ان کے پاس قیام فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تمہارے اہل خانہ کے سامنے اس میں کمی کا کوئی پہلو نہیں ہونا چاہئے اگر تم چاہو تو میں سات دن تک تمہارے پاس رہتا ہوں لیکن اس صورت میں دیگرازواج مطہرات کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25297

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ عَنْ كَبْشَةَ ابْنَةِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَتْ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ أَخْبِرِينِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ قَالَتْ نَهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا وَأَنْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا کہ یہ بتائیے نبی علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ کو کس چیز سے منع کیا تھا انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام نے ہمیں کھجور کو اتنا پکانے سے منع فرمایا تھا کہ اس کی گٹھلی بھی پگھل جائے نیز اس بات سے کہ ہم کشمس اور کھجور ملاکرنبیذ بتائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25298

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے منبرکے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25299

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُسَاوِرٌ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو حضرت علی سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مؤمن تم سے نفرت نہیں کرسکتا اور کوئی منافق تم سے محبت نہیں کرسکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25300

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خَزِيرَةٌ فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا ادْعِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ قَالَتْ فَجَاءَ عَلِيٌّ وَالْحُسَيْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْخَزِيرَةِ وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ تَحْتَهُ كِسَاءٌ لَهُ خَيْبَرِيٌّ قَالَتْ وَأَنَا أُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ بِهِ ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا قَالَتْ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ فَقُلْتُ وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مِثْلَ حَدِيثِ عَطَاءٍ سَوَاءً قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آ گئیں جس میں خزیرہ تھا ، نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کروہ خزیرہ کھانے لگے نبی علیہ السلام اس وقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی علیہ السلام کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتاہے۔ اس کے بعد نبی علیہ السلام نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے ، دو مرتبہ یہ دعاکی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سرداخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25301

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ قَالَ نَعَمْ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پراجرملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں ۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجرملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25302

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ تُهَرَاقُ الدَّمَ فَقَالَ تَنْتَظِرُ قَدْرَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنْ الشَّهْرِ فَتَدَعُ الصَّلَاةَ ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ ثُمَّ تُصَلِّي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام سے اس عورت کا حکم دریافت کیا جس کا خون مسلسل جاری رہے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اتنے دن رات تک انتظار کرے جتنے دن تک اسے پہلے ناپاکی کا سامنا ہوتا تھا اور مہینے میں اتنے دنوں کا اندازہ کرلے اوراتنے دن تک نماز چھوڑے رکھے، اس کے بعد غسل کرکے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25303

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُرْخِينَ شِبْرًا قُلْتُ إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ قَالَ فَذِرَاعٌ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکاسکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25304

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَلَّمَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُونَ لَهُ حَيْثُ كَانَ فَإِنَّهُمْ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدِيَّتِهِ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّهُ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ صَوَاحِبِي كَلَّمْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ لِتَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّمَا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةُ قَالَتْ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُرَاجِعْنِي فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي فَقُلْنَ لَا تَدَعِيهِ وَمَا هَذَا حِينَ تَدَعِينَهُ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ فَكَلَّمْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ صَوَاحِبِي قَدْ أَمَرْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ تَأْمُرُ النَّاسَ فَلْيُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ تِلْكَ الْمَقَالَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُخْتِهِ رُمَيْثَةَ ابْنَةِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لَهَا إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (نبی علیہ السلام کی ازواج مطہرات) میری سہیلیوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی علیہ السلام سے اس موضوع پر بات کروں کہ نبی علیہ السلام لوگوں کو یہ حکم دیدیں کہ نبی علیہ السلام جہاں بھی ہوں وہ انہیں ہدیہ بھیج سکتے ہیں دراصل لوگ ہدایا پیش کرنے کے لیے حضرت عائشہ کی باری کا انتظار کرتے تھے کیونکہ ہم بھی خیر کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنی عائشہ ہیں چنانچہ میں نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھ سےمیری سہیلیوں نے آپ کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرنے کے لئے بات کی کہ آپ لوگوں کو یہ حکم دیدیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ آپ کو ہدیہ بھیج سکتے ہیں کیونکہ لوگ اپنے ہدایاپیش کرنے کے لئے عائشہ کی باری کا خیال رکھتے ہیں اور ہم بھی خیر کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنی عائشہ ہیں اس پر نبی علیہ السلام خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔میری سہلیاں آئیں تو میں نے انہیں بتادیا کہ نبی علیہ السلام نے اس حوالے سے مجھ سے کوئی بات نہیں کی انہوں نے کہا کہ تم یہ بات ان سے کہتی رہنا اسے چھوڑنا نہیں چنانچہ نبی علیہ السلام جب دوبارہ آئے تو میں نے گذشتہ درخواست دوبارہ دوہرادی ، دو تین مرتبہ ایسا ہی ہوا اور نبی علیہ السلام ہر مرتبہ خاموش رہے بالآخر نبی علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمادیا کہ اے ام سلمہ عائشہ کے حوالے سے مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ بخدا عائشہ کے علاوہ کسی بیوی کے گھر میں مجھ پروحی نہیں ہوتی انہوں نے عرض کیا کہ میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ عائشہ کے حوالے سے آپ کو ایذاء پہنچاؤں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25305

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَتْ فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَ مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25306

حَدَّثَنَا يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا قَالَ قَدِمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ فَحَبَسُونِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام عصر کی نماز کے بعد میرے پاس آئے تو دو رکعتیں پڑھیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25307

حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ أَبُو تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا أُمَّهْ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا حَتَّى يُغْنِيَهُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ يَكْفِيَهُمَا كَانَتَا لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

مطلب بن عبداللہ مخزومی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا بیٹا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی علیہ السلام سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا اماں جان کیوں نہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنی دو بیٹیوں یا بہنوں یا قریبی رشتہ دار عورتوں پر ثواب کی نیت سے اس وقت تک خرچ کرتا رہے کہ فضل خداوندی سے وہ دونوں بے نیا ز ہوجائیں یا وہ ان کی کفایت کرتا رہے تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25308

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ماہ شعبان و رمضان کے روزے رکھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25309

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی (آگے آیت ہے)۔انہ عمل غیر صالح۔الخ

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25310

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام یہ دعا فرماتے تھے کہ اے دلوں کو ثابت قدم رکھنے والے میرے دل کو اپنے دین پرثابت قدمی عطا فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25311

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25312

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نماز فجر کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں تجھ سے علم نافع ، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25313

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَلَمْ تَخْتَمِرْ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں ( تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25314

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ فَرَجَعَ قَالَ فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ فَمَضَتْ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُنَّ أَغْلَبُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے کہ سامنے سے عبداللہ بن عمرگزرنے لگے نبی علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے، پھر حضرت ام سلمہ کی بیٹی گزرنے لگی تو نبی علیہ السلام نے اسے بھی روکا لیکن وہ آگے سے گزرگئی، نماز سے فارغ ہو کر نبی علیہ السلام نے فرمایا عورتیں غالب آجاتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25315

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ

حضرت عائشہ یا ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا میرے گھر میں ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس کبھی نہیں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا حسین شہید ہوجائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس نے سرخ رنگ کی مٹی نکال کر دکھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25316

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ قَالَتْ فَانْسَلَلْتُ فَقَالَ أَنُفِسْتِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ قَالَ ذَاكَ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے بھی وہی کیفیت پیش آرہی ہے جو دوسری عورتوں کو پیش آتی ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ وہی چیز ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی تمام بیٹیوں کے لئے لکھ دی گئی ہے پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آکر نبی علیہ السلام کے لحاف میں گھس گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25317

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ فَقَالَتْ مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا

یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کی رات کی نماز اور قرات کے متعلق حضرت ام سلمہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی علیہ السلام کی نماز اور قرأت کہاں ؟ نبی علیہ السلام جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی علیہ السلام کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25318

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا قُلْتُ لَا حَدِّثْنِي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ دِرْعِي فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَتْ نَعَمْ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ قُلْتُ وَمَا قَالَ قَالَتْ قَالَ إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ فَلَمْ يُتَنَاهَ عَنْهُ أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ قَالَتْ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ثُمَّ يَقْبِضُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ أَوْ إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ

حسن بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے انصار کی ایک عورت نے بتایا ہے وہ اب بھی زندہ ہیں اگر تم چاہو تو ان سے پوچھ سکتے ہو اور میں تمہیں ان کے پاس لے چلتاہوں راوی نے کہا نہیں آپ خود ہی بیان کردیجئے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس گئی تو اسی دوران نبی علیہ السلام بھی ان کے یہاں تشریف لے آئے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ نبی علیہ السلام غصے میں ہیں ، میں نے اپنی قمیص کی آستین سے پردہ کرلیا، نبی علیہ السلام نے کوئی بات کی جو مجھے سمجھ نہ آئی میں نے حضرت ام سلمہ سے کہا کہ ام المؤمنین میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی علیہ السلام غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں کیا تم نے ان کی بات سنی ہے میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے انہوں نے بتایا کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے جب زمین میں شرپھیل جائےگا تو اسے روکانہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئے گی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25319

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا لَكُمْ الْخَمْسَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25320

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَتْ يَا عُمَرُ زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحْيَيْنِ وَجَرَّةً وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتْ زَيْنَبَ ابْنَتَهَا فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا فَيَنْصَرِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ ذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَتَاهَا وَقَالَ أَيْنَ هَذِهِ الْمَشْقُوحَةُ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ فَقَالَ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ فَقَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا فَدَخَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی ولی یہاں موجود نہیں ہے ، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا، انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی علیہ السلام سے میرا نکاح کرا دو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی علیہ السلام کے نکاح میں دیدیا۔پھر نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دوچکیاں ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25321

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ فَصَارَ إِلَيَّ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ قَالَ فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالُوا وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنْ النِّسَاءِ إِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ عُدْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ ابْنَةُ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ قَالَتْ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا قَالَتْ فَقُلْتُ أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا فَقَالَ أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر جس رات نبی علیہ السلام نے میرے پاس آنا تھا وہ یوم النحر (دس ذی الحجہ) کی رات تھی، چنانچہ نبی علیہ السلام میرے پاس آگئے، اسی دوران میرے یہاں وہب بن زمعہ بھی آگئے جن کے ساتھ آل ابی امیہ کا ایک اور آدمی بھی تھا اور ان دونوں نے قمیصیں پہن رکھی تھیں ، نبی علیہ السلام نے وہب سے پوچھا کہ اے ابو عبداللہ کیا تم نے طواف زیارت کرلیا ہے، انہوں نےعرض کیا یا رسول اللہ ابھی تو نہیں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا پھر اپنی قمیص اتاردو، چنانچہ ان دونوں نے اپنے سر سے کھینچ کر قمیص اتادری، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو۔ام قیس کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عکاشہ بنواسد کے کچھ لوگوں کے ہمراہ میرے یہاں سے نکلے انہوں نے دس ذی الحجہ کی شام کو قمیصیں پہن رکھی تھیں ، پھر رات کو وہ میرے پاس واپس آئے تو انہوں نے اپنی قمیص اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں ، میں نے عکاشہ سے پوچھا کہ اے عکاشہ جب تم یہاں سے گئے تھے تو قمیصیں پہن رکھی تھیں اور جب واپس آئے تو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دن ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کرچکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو ہم نے چونکہ طواف نہیں کیا تھا اس لئے تم ہماری قمیصیں اس طرح دیکھ رہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25322

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولُ النِّسَاءِ شِبْرٌ قُلْتُ إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذِرَاعٌ لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنالٹکائیں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر ایک گزلٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25323

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَإِنْ قَالَتْ لَا فَقُلْ لَهَا إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ فَسَأَلَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ لَا قُلْتُ إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ لَعَلَّهُ إِيَّاهَا كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا أَمَّا إِيَّايَ فَلَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے؟ چنانچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی علیہ السلام ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25324

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مَخْضُوبٌ أَحْمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی علیہ السلام کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25325

حَدَّثَنَا سَيَّارٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَبِيبٍ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ الْمَدِينَةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا ہماری بیٹھک کو خوب صاف ستھرا کرلو کیونکہ آج زمین پر ایک ایسا فرشتہ اترنے والا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25326

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ نَبْهَانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبَا مِنْهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا قَالَ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا لَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت میمونہ نبی علیہ السلام کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم آگئے، یہ اس وقت کا واقعہ ہےجب کہ حجاب کا حکم نازل ہوچکا تھا نبی علیہ السلام نے فرمایا ان سے پردہ کروہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ نابینا نہیں ہیں ؟ یہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان سکتے ہیں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا تو کیا تم دونوں بھی نابیناہو؟ کیا تم دونوں انہیں نہیں دیکھ رہی ہو؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25327

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہو جائے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25328

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی علیہ السلام کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کیوجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25329

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ قَالَتْ فَقَالَ لِي قُومِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي قَالَتْ فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا قَالَ وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَأَنْتِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیرکے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی، اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی علیہ السلام نے انہیں پکڑ کر اپنی گود یں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرکے دونوں کو بوسہ دیا۔اس کے بعد نبی علیہ السلام نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سرداخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم بھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25330

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَيَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب سلام پھیرتے تو نبی علیہ السلام کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں ، اور نبی علیہ السلام کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25331

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرٌو عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین مسجد ان کے گھرکا آخری کمرہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25332

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ افْسَحْ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام حضرت ابوسلمہ کی میت پر تشریف لائے، ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں ، نبی علیہ السلام انہیں بند کیا اور فرمایا جب روح قبض ہوجاتی ہے تو آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں ، اسی دوران گھرکے کچھ لوگ رونے چیخنے لگے، نبی علیہ السلام نے فرمایا اپنے متعلق خیر کی ہی دعا مانگا کرو، کیونکہ ملائکہ تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں ، پھر فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما، پیچھے رہ جانیوالوں میں اسکا کوئی جانشین پیدا فرما اوراے تمام جہانوں کو پالنے والے ہماری اور اس کی بخشش فرما، اے اللہ اس کی قبر کوکشادہ فرما اور اسے اس کے لئے منور فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25333

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ جَالِسًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25334

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ لِهِنْدٍ أَزْرَارٌ فِي كُمِّهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْخَزَائِنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْفِتْنَةِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يَا رُبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام رات کو نیند سے بیدار ہوئے تو یہ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ آج رات کتنے خزانے کھولے گئے ہیں لا الہ الا اللہ آج رات کتنے فتنے نازل ہوئے ہیں ، ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا ہائے دنیا میں کتنی ہی کپڑے پہننے والی عورتیں ہیں جو آخرت میں برہنہ ہوں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25335

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا لُفِّي رَأْسِي قَالَتْ فَقَالَتْ فَدَيْتُكِ إِنَّمَا يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ قُلْتُ وَيْحَكِ أَوَلَسْنَا مِنْ النَّاسِ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ فَنَادَيْتُكُمْ أَلَا هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَقُلْتُ أَلَا سُحْقًا أَلَا سُحْقًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کو برسرمنبریہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو اس وقت وہ کنگھی کر رہی تھیں انہوں نے اپنی کنگھی کرنیوالی سے فرمایا میرے سرکے بال لپیٹ دو اس نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہوں نبی علیہ السلام تو لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں ، حضرت ام سلمہ نے فرمایا اری کیا ہم لوگوں میں شامل نہیں ہیں ؟ اس نے ان کے بال سمیٹے اور وہ اپنے حجرے میں جا کر کھڑی ہوگئیں ، انہوں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو جس وقت میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا اور تمہیں گروہ درگروہ لایا جائے گا اور تم راستوں میں بھٹک جاؤگے، میں تمہیں آواز دے کر کہوں گا کہ راستے کی طرف آجاؤ تو میرے پیچھے سے ایک منادی پکار کر کہے گا انہوں نے آپ کے بعد دین کو تبدیل کردیا تھا ، میں کہوں گا کہ یہ لوگ دور ہو جائیں یہ لوگ دور ہو جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25336

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ

یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کی رات کی نماز اور قرات کے متعلق حضرت ام سلمہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی علیہ السلام عشاء کی نماز اور نوافل پڑھ کر جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی علیہ السلام کی نماز کا اختتام صبح پر ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25337

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ اعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ قَالَ فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ قَالَ فَقَالَتْ نَعَمْ وَأَشْفِيكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ

ابوعمران اسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ حج کے لئے گیا میں نبی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا میں حج سے پہلے عمرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا حج سے پہلے عمرہ کرنا چاہو توحج سے پہلے کرلو اور بعد میں کرنا چاہو تو بعد میں کر لو، میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس شخص نے حج نہ کیا ہو اس کے لئے حج سے پہلے عمرہ کرنا صحیح نہیں ہے پھر میں نے دیگر امہات المؤمنین سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، چنانچہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس واپس آیا اور انہیں ان کا جواب بتایا، انہوں نے فرمایا اچھا میں تمہاری تشفی کر دیتی ہوں میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ساتھ عمرے کا احرام باندھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25338

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ قَالَ فَأَتَاهَا يَشْتَدُّ أَوْ يُسْرِعُ شَكَّ شَاذَانُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ أَبَدًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہونگے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس تیزی سے پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25339

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ فَقَالَتْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غَدِيَّةً بِبُرْمَةٍ قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً تَحْمِلُهُ فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ هُوَ فِي الْبَيْتِ قَالَ فَاذْهَبِي فَادْعِيهِ وَائْتِنِي بِابْنَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي إِثْرِهِمَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً خَيْبَرِيًّا كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ فَلَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيْ الْكِسَاءِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ قَالَ بَلَى فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ قَالَتْ فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ جب انہیں حضرت امام حسین کی شہادت کا علم ہوا تو انہوں نے اہل عراق پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حسین کو شہید کردیا ان پر خدا کی مار ہو انہوں نے حسین کو دھوکہ دے کرتنگ کیا ان پر خدا کی مار ہو، میں نے وہ وقت دیکھاہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آگئیں جس میں خزیرہ تھا ، نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کروہ خزیرہ کھانے لگے نبی علیہ السلام اسوقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی علیہ السلام کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتا ہے۔اس کے بعد نبی علیہ السلام نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے ، دو مرتبہ یہ دعاکی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کر کے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں آپ کے اہل خانہ میں سے نہیں ہوں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیوں نہیں تم بھی چادر میں آجاؤ چنانچہ میں بھی نبی علیہ السلام کی دعاء کے بعد اس میں داخل ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25340

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَيَّ مِنْ الرَّحَى أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَةٌ فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ الْخَادِمِ وَإِذَا صَلَّيْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقُولِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تُكْتَبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُسِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهِ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهِ عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں ایک خادمہ کی درخواست لے کر آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ چکی پر آٹا پیس پیس کر اور اسے گوندھ گوندھ کرہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر اللہ نے تمہیں کچھ دینا ہوا تو وہ تمہیں مل کر رہے گا، البتہ اس وقت میں تمہیں اس سے بہترین چیز بتاتا ہوں جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ،٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور٣٤ مرتبہ الحمد للہ کہہ لیا کرو یہ کل سو ہو گئے یہ کلمات تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہیں ، اور جب فجر کی نماز پڑھا کرو تو دس مرتبہ نماز فجر کے بعد اور دس مرتبہ نماز مغرب کے بعد یہ کہہ لیا کرو لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت بیدہ الخیروہوعلی کل شئی قدیر تو ان میں سے ہر کلمے کے بدلے تمہارے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ، دس گناہ مٹادیئے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا ثواب اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا، اور شرک کے علاوہ اس دن کا کوئی گناہ تمہیں پکڑنہ سکے گا، اور صبح جس وقت تم یہ کلمات کہوگی تو شام تک ہرشیطان اور برائی سے تمہاری حفاظت کا ذریعہ بن جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25341

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَنْتَبِهُ ثُمَّ يَنَامُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام پر اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا پھر نبی علیہ السلام یوں ہی سوجاتے پھر آنکھ کھلتی اور پھر سوجاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25342

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَائِيُّ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام وترکے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25343

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ان کے کمربند میں سے ایک بالشت کے برابر کپڑا حضرت فاطمہ کو دیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25344

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُجَصَّصَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے قبر پر پختہ عمارت بنانے یا اس پر چونا لگانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25345

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجَصَّصَ قَبْرٌ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ أَوْ يُجْلَسَ عَلَيْهِ قَالَ أَبِي لَيْسَ فِيهِ أُمُّ سَلَمَةَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے قبر پر پختہ عمارت بنانے یا اس پر چونا لگانے (یا اس پر بیٹھنے ) سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25346

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے احرام باندھ کر آئے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25347

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ جُبَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ ابْنَةِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَهَلَّ مِنْ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِعُمْرَةٍ أَوْ بِحَجَّةٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ فَرَكِبَتْ أُمُّ حَكِيمٍ عِنْدَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے حج یا عمرے کا احرام باندھ کر آئے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی حدیث کی بناء پرام حکیم نے بیت المقدس جا کر عمرے کا احرام باندھا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25348

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو اپنی ازواج مطہرات سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر جو شخص مہربانی کرے گا وہ یقینا سچا اور نیک آدمی ہوگا، اے اللہ عبدا لرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل کے پانی سے سیراب فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25349

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ أَجْمَعَ أَبِي عَلَى الْعُمْرَةِ فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُ قَالَ أَيْ بُنَيَّ لَوْ دَخَلْنَا عَلَى الْأَمِيرِ فَوَدَّعْنَاهُ قُلْتُ مَا شِئْتَ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَذَكَرُوا الرَّكْعَتَيْنِ الَّتِي يُصَلِّيهِمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مِمَّنْ أَخَذْتَهُمَا يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِمَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى عَائِشَةَ مَا رَكْعَتَانِ يَذْكُرُهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ عَنْكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَتْ عَائِشَةُ أَنَّكِ أَخْبَرْتِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ لَقَدْ وَضَعَتْ أَمْرِي عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَقَدْ أُتِيَ بِمَالٍ فَقَعَدَ يَقْسِمُهُ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَكَانَ يَوْمِي فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمِرْتَ بِهِمَا قَالَ لَا وَلَكِنَّهُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَشَغَلَنِي قَسْمُ هَذَا الْمَالِ حَتَّى جَاءَنِي الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَدَعَهُمَا فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ اللَّهُ أَكْبَرُ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً وَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهُمَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا

ابوبکربن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرے والد نے عمرے کا ارادہ کیا جب روانگی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا بیٹا آؤ امیر کے پاس چل کر ان سے رخصت لیتے ہیں ، میں نے کہا جیسے آپ کی مرضی چنانچہ ہم مروان کے پاس پہنچے اس کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے جن میں حضرت عبداللہ بن زیر بھی موجود تھے اور ان دو رکعتوں کا تذکرہ ہو رہا تھا جو حضرت عبداللہ بن زیبر نماز عصرکے بعد پڑھا کرتے تھے مروان نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت ابوہریرہ نے حضرت عائشہ کے حوالے سے بتایا ہے۔مروان نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کرپوچھا کہ ابن زیبر حضرت ابوہریرہ سے آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے یہ کیسی دو رکعتیں ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا کہ حضرت عائشہ کے مطابق آپ نے انہیں بتایا ہے کہ نبی علیہ السلام نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی رکعتیں ہیں؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عائشہ کی مغفرت فرمائے، انہوں نے میری بات کو اس کے صحیح محمل پر محمول نہیں کیا، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی علیہ السلام اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی علیہ السلام نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو مختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی علیہ السلام نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ بخدا میں نہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اس واقعے سے پہلے میں نے نبی علیہ السلام کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کے بعد۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25350

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ يَعْنِي زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ مُسَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً شَكَّ أَبُو خَيْثَمَةَ وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنْ الْكَلَفِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملاکرتی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25351

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو دوماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی علیہ السلام شعبان کو رمضان کے روزے سے ملا دیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25352

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ أَوْ أَيُّوبَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّنَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ا یک باغی گروہ قتل کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25353

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ قَالَتْ مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ قَدْ كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا قِرَاءَةٌ مُفَسَّرَةٌ حَرْفًا حَرْفًا

یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کی رات کی نماز اور قرات کے متعلق حضرت ام سلمہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی علیہ السلام کی نماز اور قرأت کہاں ؟ نبی علیہ السلام جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی علیہ السلام کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25354

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أُمِّ مُوسَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ يَقُولُ جَاءَ عَلِيٌّ مِرَارًا قَالَتْ وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ قَالَتْ فَجَاءَ بَعْدُ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً فَخَرَجْنَا مِنْ الْبَيْتِ فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ فَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ جس ذات کی قسم کھائی جاسکتی ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ دوسرے لوگوں کی نسبت حضرت علی کا نبی علیہ السلام کے آخری وقت میں زیادہ قرب رہا ہے، ہم لوگ روزانہ نبی علیہ السلام کی عیادت کے لئے حاضر ہوتے تو نبی علیہ السلام بارباریہی پوچھتے کہ علی آ گئے؟غالبا نبی علیہ السلام نے انہیں کسی کام سے بھیج دیا تھا تھوڑی دیر بعد حضرت علی آگئے، میں سمجھ گئی کہ نبی علیہ السلام ان سے خلوت میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم لوگ گھر سے باہر آکر دروازے میں بیٹھ گئے، اور ان میں سے دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں ہی تھی، حضرت علی نبی علیہ السلام کی طرف جھک گئے نبی علیہ السلام نے انہیں اپنی بائیں جانب بٹھالیا اور ان سے سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اور اسی دن نبی علیہ السلام کا وصال ہوگیا، اس اعتبار سے آخری لمحات میں حضرت علی کو نبی علیہ السلام کا سب سے زیادہ قرب حاصل رہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25355

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْنَا مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمِّي قَالَتْ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ فَحِضْتُ فَانْسَلَلْتُ مِنْ الْخَمِيلَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنُفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ فَلَبِسْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ قَالَتْ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ قَالَتْ وَكَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بِنَحْوِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھا پھر آکر نبی علیہ السلام کے لحاف میں گھس گئی اور میں نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25356

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25357

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نِسْوَةً دَخَلْنَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ فَسَأَلَتْهُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ قُلْنَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا خَرَقَ اللَّهُ عَنْهَا سِتْرًا

سائب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص کی کچھ عورتیں حضرت ام سلمہ کے پاس آئیں انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں سے آئی ہو انہوں نے بتایا کہ شہرحمص سے حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھرکے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارتی ہے اللہ اس کا پردہ چاک کردیتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25358

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي قَعْرِ بُيُوتِهِنَّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین نماز ان کے گھرکے آخری کمرے میں ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25359

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدُعِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ كَذَا قَالَ أَبِي فِي الْحَدِيثِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارًا وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں ) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25360

حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ ابْنَ أَخِي لَا تَنْفُخْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ وَنَفَخَ تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ

ابوصالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اسی دوارن وہاں ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا اور اس نے ان کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں ، دوران نماز جب وہ سجدہ میں جانے لگا تو اس نے مٹی اڑانے کے لئے پھونک ماری تو حضرت ام سلمہ نے اس سے فرمایا بھیتجے پھونکیں نہ مارو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلا کو بھی ایک مرتبہ اپنے غلام جس کا نام یسار تھا اور اس نے بھی پھونک ماری تھی سے فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اپنے چہرے کو اللہ کے لئے خاک آلود ہونے دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25361

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ أَكْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِيَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَالِ بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میری معلومات کے مطابق نبی علیہ السلا کے پاس کسی تھیلی میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم آئے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25362

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام میرے گھر میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ اتنے مال پر کتنی زکوۃ واجب ہوتی ہے؟ نبی علیہ السلام نے اس کی مقداربتا دی اس نے کہا کہ فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی ہے، دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک صاع کے برابر زیادتی ہوئی ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تمہارا کیا بنے گا جب کہ تم پر اس سے زیادہ زیادتی کی جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25363

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ قَالَتْ فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمًا إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَالَتْ وَأَنَا أُسَرِّحُ رَأْسِي فَلَفَفْتُ شَعْرِي ثُمَّ دَنَوْتُ مِنْ الْبَابِ فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ هَذِهِ الْآيَةَ قَالَ عَفَّانُ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ جس طرح مردوں کا ذکر قرآن میں ہوتا ہے ہم عورتوں کا ذکر کیوں نہیں ہوتا ابھی اس بات کو ایک ہی دن گزرا تھا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو منبر پر اے لوگو کا اعلان کرتے ہوئے سنا میں اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے اپنے بال لپیٹے اور دروازے کے قریب ہو کر سننے لگی، میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان المسلمون والمسلمات والمؤمنین و المؤمنات ہذہ الآیۃ قال عفان اعد اللہ لہم مغفرۃ واجراعظیما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25364

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ قَالَ نَعَمْ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَهُ وَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَزَاغَهُ فَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي قَالَ بَلَى قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام اکثریہ دعاء فرمایا کرتے تھے، اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ میرے دل کو اپنے دین پرثابت قدمی عطاء فرما میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا دلوں کو بھی پھیراجاتاہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں ، اللہ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا اس کا دل اللہ کی دوانگلیوں کے درمیان ہوتا ہے پھر اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو وہ اسے سیدھا رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے اس لئے ہم اللہ سے دعاء کرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کیجئے گا اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ اپنی جان سے ہمیں رحمت عطاء فرمائیے، بیشک وہ رحمت عطا فرمانیوالا ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ مجھے کوئی ایسی دعا نہیں سکھائیں گے جو میں اپنے لئے مانگ لیا کروں نبی علیہ السلام نے فرمایا کیوں نہیں تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ اے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہوں کو معاف فرما میرے دل کے غصے کو دور فرما اور جب تک زندگی عطاء فرما ہرگمراہ کن فتنے سے حفاظت فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25365

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالُوا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ قَالَ عَفَّانُ وَبَهْزٌ الْعَنَزِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَمَنْ كَرِهَ بَرِئَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ فَقَالَ أَلَا نَقْتُلُهُمْ فَقَالَ لَا مَا صَلَّوْا وَقَالَ بَهْزٌ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَقَالَ بَهْزٌ أَلَا نَقْتُلُهُمْ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ عَفَّانُ وَبَهْزٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عنقریب کچھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کرو گے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائے گا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہو جائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25366

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ بَعْضِ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25367

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ نَعَمْ إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائیے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25368

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ مِنْ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو اپنی ازواج مطہرات سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر جو شخص مہربانی کرے گا وہ یقینا سچا اور نیک آدمی ہوگا اے اللہ عبدا لرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل کے پانی سے سیراب فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25369

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَةَ مِنْ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے وہ عصفریا گہرا رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے نہ ہی کوئی زیور پہنے، خضاب لگائے اور نہ ہی سرمہ لگائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25370

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي السَّرَّاجَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اسے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25371

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ سے نبی علیہ السلام کی قرأت کے متعلق کسی نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام ایک ایک آیت کو توڑ توڑ کر پڑھتے تھے، پھر انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑتوڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پروقف کر کے) دکھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25372

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنْ الْكَلَفِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کے دورباسعات میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملاکرتی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25373

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25374

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ لَقَدْ ذَكَرْتَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ أُنَاسًا يُصَلُّونَهَا وَلَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا وَلَا أَمَرَ بِهِمَا قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَاكَ مَا يَقْضِي النَّاسَ بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مَا رَكْعَتَانِ قَضَى بِهِمَا النَّاسُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَجُلَيْنِ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ وَيَقُولُ مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّكِ أَمَرْتِيهِ بِهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ مَا أَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرْنَاهَا مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ يَرْحَمُهَا اللَّهُ أَوَلَمْ أُخْبِرْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُمَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ وَعَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَوَلَا يَشُدُّ لَكَ هَذَا الْأَثَرُ إِفَاضَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ خَالِدٍ مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت ابن عباس حضرت امیر معاویہ کے یہاں گئے تو وہ کہنے لگے اے ا بن عباس! آپ نے عصرکے بعد کی دو رکعتوں کا ذکر کیا تھا مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ یہ دو رکعتیں پڑھتے ہیں حالانکہ ہم نے نبی علیہ السلام کو یہ پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ اس کا حکم دیتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کو یہ فتوی حضرت ابن زبیر دیتے ہیں ، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابن زبیر بھی آگئے انہوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے حضرت عائشہ نے نبی علیہ السلام کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے، حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کے پاس دو قاصد بھیج کرپوچھا کہ ابن زبیر آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام عصرکے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی دو رکعتیں ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا کہ حضرت عائشہ کے مطابق آپ نے انہیں بتایا ہے کہ نبی علیہ السلام نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی رکعتیں ہیں ؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عائشہ پر رحم فرمائے کیا میں نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ بعد میں نبی علیہ السلام نے ان دو رکعتوں کی ممانعت فرمادی تھی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25375

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہو جائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25376

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ فَزَعَمَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهِيَ شَاكِيَةٌ فَقَالَ أَلَا تَخْرُجِينَ مَعَنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا وَهُوَ يُرِيدُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَاكِيَةٌ وَأَخْشَى أَنْ تَحْبِسَنِي شَكْوَايَ قَالَ فَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں نبی علیہ السلا م نے ان سے پوچھا کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ نبی علیہ السلام کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بیمار ہوں مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کرلو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہو گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25377

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي لِلطَّرِيقِ الْأَقْوَمِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25378

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنْ الْكَلَفِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25379

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحَيْضِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ لِتَقْعُدْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ وَلْتُصَلِّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتاہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کرکے بیٹھ جایا کرو پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25380

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی علیہ السلام روزہ رکھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25381

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25382

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ظَهَرَتْ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا فِيهِمْ يَوْمَئِذٍ أُنَاسٌ صَالِحُونَ قَالَ بَلَى قَالَتْ فَكَيْفَ يَصْنَعُ أُولَئِكَ قَالَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکا نہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئیگی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25383

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَّلَ عَلَى عَلِيٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفَاطِمَةَ كِسَاءً ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے حضرت علی حضرات حسنین اور حضرت فاطمہ کو ایک چادر میں ڈھانپ کر فرمایا اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں اے اللہ ان سے گندگی کو دور فرما اور انہیں خوب پاک کردے حضرت ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں بھی ان میں شامل ہوں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25384

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَإِنَّهُ جَاءَ وَفْدٌ فَشَغَلُوهُ فَلَمْ يُصَلِّهِمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ظہر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک مرتبہ بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں نبی علیہ السلام پڑھتے تھے وہ رہ گئی تھیں اور انہیں نبی علیہ السلام نے عصرکے بعد پڑھ لیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25385

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَالَّذِي تَوَفَّى نَفْسَهُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تُوُفِّيَ حَتَّى كَانَتْ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَعْجَبُ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25386

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ قَالَ قُومِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي قَالَتْ فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ قَرِيبًا فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمْ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَقَبَّلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ ثُمَّ أَغْدَفَ عَلَيْهِمَا بِبُرْدَةٍ لَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا فَقَالَ وَأَنْتِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیرکے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی، اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی علیہ السلام نے انہیں پکڑ کر اپنی گود یں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرک ے دونوں کو بوسہ دیا۔اس کے بعد نبی علیہ السلام نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم بھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25387

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ إِنِّي سَائِلُكِ عَنْ أَمْرٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ فَقَالَتْ لَا تَسْتَحْيِي يَا ابْنَ أَخِي قَالَ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا لَا يُجِبُّونَ النِّسَاءَ وَكَانَتْ الْيَهُودُ تَقُولُ إِنَّهُ مَنْ جَبَّى امْرَأَتَهُ كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ نَكَحُوا فِي نِسَاءِ الْأَنْصَارِ فَجَبُّوهُنَّ فَأَبَتْ امْرَأَةٌ أَنْ تُطِيعَ زَوْجَهَا فَقَالَتْ لِزَوْجِهَا لَنْ تَفْعَلَ ذَلِكَ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ أَنْ تَسْأَلَهُ فَخَرَجَتْ فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعِي الْأَنْصَارِيَّةَ فَدُعِيَتْ فَتَلَا عَلَيْهَا هَذِهِ الْآيَةَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ صِمَامًا وَاحِدًا

عبد الرحمن بن سابط کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے یہاں حفصہ بنت عبدالرحمن آئی ہوئی تھیں میں نے ان سے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن پوچھتے ہوئے شرم آرہی ہے، انہوں نے کہا بھتیجے شرم نہ کرو میں نے کہا کہ عورتوں کے پاس پچھلے حصے میں آنے کا کیا حکم ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا ہے کہ انصار کے مرد اپنی عورتوں کے پاس پچھلے حصے سے نہیں آتے تھے، کیونکہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے آتا ہے اس کی اولاد بھینگی ہوتی ہے، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے بھی نکاح کیا اور پچھلی جانب سے ان کے پاس آتے ، لیکن ایک عورت نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بات ماننے سے انکار کردیا، اور کہنے لگی کہ جب تک میں نبی علیہ السلام سے اسکا حکم نہ پوچھ لوں اس وقت تک تم یہ کام نہیں کرسکتے۔چنانچہ وہ عورت حضرت ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نبی علیہ السلام آتے ہی ہوں گے، جب نبی علیہ السلام تشریف لائے تو اس عورت کو یہ سوال پوچھتے ہوئے شرم آئی لہذا وہ یوں ہی واپس چلی گئی، بعد میں حضرت ام سلمہ نے نبی علیہ السلام کو یہ بات بتائی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اس انصاریہ کو بلاؤ! چنانچہ اسے بلایا گیا اور نبی علیہ السلام نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو، آسکتے ہو " اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25388

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ سَمِعْتُ مَوْلًى لِأَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ سَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع ، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25389

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ قَالَتْ فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَتْ وَأَنَا أُسَرِّحُ شَعْرِي فَلَفَفْتُ شَعْرِي ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ بَيْتِي فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! جس طرح مردوں کا ذکر قرآن میں ہوتا ہے ہم عورتوں کا ذکر کیوں نہیں ہوتا؟ ابھی اس بات کو ایک ہی دن گزرا تھا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو منبر پر اے لوگو! کا اعلان کرتے ہوئے سنا میں اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے اپنے بال لپیٹے اور دروازے کے قریب ہو کر سننے لگی میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان المسلمین والمسلمت والمؤمنین والمؤمنت الی آخر الآیۃ اعد اللہ لہم مغفرۃ واجراعظیما۔گذشتہ حدیث اس دوسری روایت سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25390

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قُلْتُ وَالَّذِي تَوَفَّى نَفْسَهُ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَتْ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25391

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَغِبَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا الصَّلَاةَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھوگے اور بعض پر نکیر کرو گے سوجونکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25392

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَرِيضَ أَوْ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ صَالِحَةً قَالَتْ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کا نعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی علیہ السلام کی صورت میں عطاء فرمادیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25393

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرٍ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ قَالَ فَرَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ فُتْيَاهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی علیہ السلام روزہ رکھ لیتے تھے، یہ حدیث سن کر حضرت ابوہریرہ نے اپنے فتوی سے رجوع کرلیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25394

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ أَهْلَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی علیہ السلام روزہ رکھ لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25395

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25396

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ قَالَ فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ نَهَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي كَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً و قَالَ أَبِي لَمْ يَسْمَعْ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي عَوْنٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25397

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ قُلْتُ فَضَحْتِ النِّسَاءَ وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتاہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25398

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى سَمِعْتُهُ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ شُغِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکے تھے، سو نبی علیہ السلام نے وہ عصرکے بعد پڑھ لی تھیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے، نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25400

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25401

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں ( تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25402

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَحْتَكِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو ، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت وبلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لوکہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں لہذا اسے چاہئے کہ اسے نہ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25403

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو وَالْقَاسِمَ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُخْبِرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّها لَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا وَيَقُولُونَ مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ إِلَى الْحَجِّ فَقَالُوا مَا تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ يُصَدِّقُونَهَا فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً قَالَتْ فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ مَا مِثْلِي نُكِحَ أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ فِيَّ وَأَنَا غَيُورٌ وَذَاتُ عِيَالٍ فَقَالَ أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَتَزَوَّجَهَا فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ أَيْنَ زُنَابُ حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَوْمًا فَاخْتَلَجَهَا وَقَالَ هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زُنَابُ فَقَالَتْ قَرِيبَةُ ابْنَةِ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي آتِيكُمْ اللَّيْلَةَ قَالَتْ فَقُمْتُ فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ لَهُ قَالَتْ فَبَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ فَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَالَتْ فَوَضَعْتُ ثِفَالِي فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ الشَّعِيرِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ جب وہ مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں لیکن لوگوں نے ان کی بات تسلیم نہ کی اور کہنے لگے کہ یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے پھر کچھ لوگ حج کے لئے روانہ ہونے لگے تو ان سے کہا کہ تم اپنے گھر والوں کو کچھ لکھنا چاہتی ہو؟ انہوں نے ایک خط لکھ کر ان کے ذریعے بھجوادیا وہ لوگ جب مدینہ واپس آئے تو حضرت ام سلمہ کی تصدیق کرنے لگے اور ان کی عزت میں اضافہ ہوگیا وہ کہتی ہیں کہ جب میرے یہاں زینب پیدا ہوچکی تو نبی علیہ السلام میرے یہاں آئے اور مجھے پیغام نکاح دیا، میں نے عرض کیا کہ میری جیسی عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے ؟ میری عمر زیادہ ہوگئی ہے میں غیور بہت ہوں اور صاحب عیال بھی ہوں نبی علیہ السلام نے فرمایا میں تم سے عمر میں بڑا ہوں رہی غیرت تو اللہ اسے دور کردے گا اور رہے بچے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں چنانچہ نبی علیہ السلام نے ان سے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25404

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَنِي قَالَ فَأَتَى عُمَرَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَأَتَاهَا عُمَرُ فَقَالَ أُذَكِّرُكِ اللَّهَ أَمِنْهُمْ أَنَا قَالَتْ اللَّهُمَّ لَا وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25405

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَرَّبَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25406

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے جب ان سے نکاح کیا تو فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25407

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فَيَصُومُ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ زَوْجَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25408

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ

یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کی رات کی نماز اور قرات کے متعلق حضرت ام سلمہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی علیہ السلام نماز عشاء اور اس کے بعد نوافل پڑھ کر سو جاتے تھے نبی علیہ السلام جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی علیہ السلام کی نماز کا اختتام صبح کے وقت ہوتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25409

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَبَةَ خَصْمٍ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَعْلَمَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ بِمَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَأَظُنُّهُ صَادِقًا فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّهَا قِطْعَةٌ مِنْ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَدَعْهَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، اب اس کی مرضی ہے کہ لے لےیا چھوڑ دے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25410

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَهْدَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِهَا فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَقْبَلَهَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ا نہیں بکری کی ایک ران ہدیہ کے طور پر بھیجی نبی علیہ السلام نے انہیں اسے قبول کر لینے کی اجازت دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25411

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ قَالَ بِالْأَبْوَاءِ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُكَاتَبِ مَا يُؤَدِّي فَاحْتَجِبِي مِنْهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کرسکے، تو اس عورت کو اپنے اس غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25412

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتَانَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَهُ أَبِي فَتَلَوَّنَ وَجْهُ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ

ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے جس شخص کی صبح وجوب غسل کی حالت میں ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، کچھ عرصہ بعد میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے بتایا کہ نبی علیہ لسلام اختیاری طور پر وجوب غسل کی حالت میں صبح کر لیتے اور روزہ رکھ لیتے پھر ہم حضرت ابوہریرہ سے ملے تو میرے والد صاحب نے ان سے یہ حدیث بیان کی ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ مجھے یہ حدیث فضل بن عباس نے بتائی تھی، البتہ ازواج مطہرات اسے زیادہ جانتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25413

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَ حَجَّاجٌ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَى زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا أَعَلَيْهَا غُسْلٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا رَأَتْ بَلَلًا فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَتَفْعَلُ ذَلِكَ فَقَالَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ أَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُؤُولَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكِ أَيُّ النُّطْفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ تَرِبَ جَبِينُكِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتاہے؟ جو نطفہ رحم پر غالب آجاتا ہے مشابہت اسی کی غالب آجاتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25414

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَأَفْعَلُ مَاذَا قَالَتْ تَنْكِحُهَا قَالَ وَذَاكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ قَالَتْ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي قَالَ إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي قُلْتُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي لَمَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں ، نبی علیہ السلام نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے ، نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے ( کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ(ابوسلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25415

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ زَعَمَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ شَيْئًا قَالَتْ أَمَّا عِنْدِي فَلَا وَلَكِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا فَاسْأَلْهَا فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ نَعَمْ دَخَلَ عَلَيَّ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أُنْزِلَ عَلَيْكَ فِي هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَشُغِلْتُ فَاسْتَدْرَكْتُهَا بَعْدَ الْعَصْرِ

حضرت امیر معاویہ نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ کیا نبی علیہ السلام نے عصر کے بعد کوئی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا میرے پاس تو نہیں ، البتہ حضرت ام سلمہ نے مجھے بتایاہے کہ نبی علیہ السلام نے اس طرح کیا ہے اس لئے آپ ان سے دریافت کرلیجئے! چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ سے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہاں ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے یہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25416

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ الْحَكَمِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ہرنشہ آور چیز اور عقل کو فتور میں ڈالنے والی ہر چیز سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25417

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْنِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَخَلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقُلْتُهَا اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ! مجھے اس مصیبت پراجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پراجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالی نے مجھے عزت دی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی چنانچہ میری شادی نبی علیہ السلام سے ہو گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25418

حَدَّثَنَا يَعْلَي قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذُيُولِ النِّسَاءِ فَقَالَ شِبْرًا فَقُلْتُ إِذَنْ تَخْرُجَ أَقْدَامُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذِرَاعٌ لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکاسکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا پھر ایک گز لٹکا لو، اس سے زیادہ نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25419

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالُوا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمْتُ فَقُلْتُ أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ أَحْسَنْتِ

یحی بن جزار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ صحابہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ام المومنین ہمیں نبی علیہ السلام کے کسی اندرونی معاملے کے متعلق بتایئے انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام کا پوشدیہ اور ظاہری معاملہ دونوں برابر ہوتے تھے، پھر انہیں ندامت ہوئی اور سوچا کہ میں نے نبی علیہ السلام کا راز فاش کردیا اور جب نبی علیہ السلام تشریف لائے تو ان سے عرض کیا نبی علیہ السلام نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25420

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ مُسَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً قَالَتْ وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنْ الْكَلَفِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملاکرتی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25421

حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ أَوْ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ قَالَ اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم تھوڑا ساسونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں ، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کر لیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہو جائیگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25422

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هُنَيْدَةُ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ الصِّيَامِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْجُمُعَةُ وَالْخَمِيسُ

ہنیدہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے روزے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام مجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے جن میں سے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا تھا پھر جمعرات اور جمعہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25423

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ وَلَا تَسْلِيمٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25424

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي أَبِي سَلَمَةَ فِي حِجْرِي وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ كَذَا وَلَا كَذَا أَفَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں ۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25425

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبِي وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنْ الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ مُجَبِّيَةً فَسَأَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ صِمَامًا وَاحِدًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ عورتوں کے پاس پچھلے حصے میں آنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے نبی علیہ السلام سے پوچھا تو نبی علیہ السلام نے ا ن کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو آسکتے ہو، اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25426

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنِ هِنْدِ ابْنَةِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًا وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب سلام پھیرتے تو نبی علیہ السلام کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی علیہ السلام کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25427

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً جَاءَهُ نَاسٌ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشَغَلُوهُ فِي شَيْءٍ فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ قَالَتْ فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام عصر کی نماز کے بعد میرے پاس آئے تو دو رکعتیں پڑھیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25428

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَا يَغْتَسِلَانِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی علیہ السلام ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے اور نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25429

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی علیہ السلام تم لوگوں کی نسبت ظہر کی نماز جلدی پڑھ لیا کرتے تھے اور تم لوگ ان کی نسبت عصر کی نماز زیادہ جلدی پڑھ لیتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25430

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرٍ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَهُ قَالَ فَتَرَكَ أَبُو هُرَيْرَةَ فُتْيَاهُ حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ أُمَّ سَلَمَةَ مِثْلَهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام پر اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی علیہ السلام روزہ رکھ لیتے تھے اس پر حضرت ابوہریرہ نے اپنے فتوی سے رجوع کرلیا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25431

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ا یک باغی گروہ قتل کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25432

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَحَدَّثَ عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا فَأَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ وَأَنَا فِيهِمْ فَسَأَلْنَاهَا فَقَالَتْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أُتِيَ بِشَيْءٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا صَلَّاهَا قَالَ هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ كُنْتُ أُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَلَقَدْ حَدَّثْتُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا لَا أَزَالُ أُصَلِّيهِمَا فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ إِنَّكَ لَمُخَالِفٌ لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِيتَ

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حضرت معاویہ کے پاس تھے کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی علیہ السلام عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کے پاس کچھ لوگوں کو بھیج دیا جن میں ، میں بھی شامل تھا، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود تو نبی علیہ السلام سے یہ بات نہیں سنی البتہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا، حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا دراصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی علیہ السلام اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی علیہ السلام نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دومختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی علیہ السلام نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ بخدا میں نہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت کرتے ہیں اور جب تک زندہ رہیں گے مخالفت ہی کو پسند کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25433

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ فَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا تھا کی آنکھوں میں شکایت پیدا ہوگئی انہوں نے نبی علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی آنکھوں کے متعلق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا (زمانہ جاہلیت میں ) تم میں سے ایک عورت ایک سال تک اپنے گھر میں گھٹیا ترین کپڑے پہن کر رہتی تھی پھر اس کے پاس سے ایک کتا گزرا جاتا تھا اور وہ مینگنیاں پھینکتی ہوئی باہر نکلتی تھی تو کیا اب چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25434

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا يُعْلَمُ إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو دوماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی علیہ السلام ماہ شعبان کو رمضان کے روزے سے ملادیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25435

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَ فِي هِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سر کے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں ) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25436

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ نَبْهَانَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وَجَدَ الْمُكَاتَبُ مَا يُؤَدِّي فَاحْتَجِبْنَ مِنْهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کرکے خود آزادی حاصل کرسکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25437

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُضِرَ جَعَلَ يَقُولُ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا وَمَا يَكَادُ يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی علیہ السلام کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَخَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تُزَوَّجُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَبْعَدَ الْأَجَلَيْنِ قَالَ فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ قَالَ فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا قَالُوا إِنَّكِ لَمْ تَحِلِّي فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے، حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کر سکتی ہے ، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہو گئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا، اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں ، وہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئیں نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہو نکاح کر سکتی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25439

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي لَمَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا قَالَ فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ عِنْدِهَا مَذْعُورًا حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُ اسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّكَ فَقَامَ عُمَرُ حَتَّى أَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَسَأَلَهَا ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ أَمِنْهُمْ أَنَا فَقَالَتْ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ بَعْدَكَ أَحَدًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25440

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی تمام ازواج مطہرات اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ بڑی عمر کے کسی آدمی کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے اور ایسا کوئی آدمی ان کے پاس آ سکتا ہے، ان سب نے حضرت عائشہ سے بھی کہا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رخصت تھی جو نبی علیہ السلام نے صرف سالم کو خصوصیت کے ساتھ دی تھی لہذا اس رضاعت کی بنیاد پر ہمارے پاس کوئی آ سکتا ہے اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25441

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا عِيَاضٍ حَدَّثَ أَنَّ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَوْلَاهَا فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا فَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ قَالَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَبَعَثَ إِلَيْهَا مَوْلَاهَا أَوْ غُلَامَهَا ذَكْوَانَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ حُلُمٍ فَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ لَهُ ائْتِ أَبَا هُرَيْرَةَ فَأَخْبِرْهُ فَانْطَلَقَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَنْ عَائِشَةَ فَقَالَ هُمَا أَعْلَمُ

ابوعیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجا، اس نے حضرت ام سلمہ کے پاس ان کا آزاد کردہ غلام بھیج دیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر نبی علیہ السلام پر اختیاری طور پر وجوب غسل ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے، ناغہ نہیں کرتے تھے غلام نے واپس آکر یہ بات بتادی پھر مروان نے حضرت عائشہ کے پاس اپنا قاصد بھیج دیا، اس نے بھی حضرت عائشہ کے پاس ان کے غلام کو بھیجا، انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تو مروان نے قاصد سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بتادو چنانچہ حضرت ابوہریرہ کے پاس گیا اور انہیں حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25442

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ قَالَ فَلَقِيتُ غُلَامَهَا نَافِعًا فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا فَسَأَلَهَا قَالَ فَرَجَعَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا وَيُصْبِحُ صَائِمًا قَالَ ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى عَائِشَةَ فَلَقِيتُ غُلَامَهَا ذَكْوَانَ فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا فَرَجَعَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا قَالَ فَأَتَيْتُ مَرْوَانَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلَتُخْبِرَنَّهُ بِهِ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ هُنَّ أَعْلَمُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو وَقَالَ لَقِيتُ نَافِعًا غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ

ابوعیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجا، اس نے حضرت ام سلمہ کے پاس ان کا آزاد کردہ غلام بھیج دیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر نبی علیہ السلام پر اختیاری طور پر وجوب غسل ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے، ناغہ نہیں کرتے تھے غلام نے واپس آکر یہ بات بتادی پھر مروان نے حضرت عائشہ کے پاس اپنا قاصد بھیج دیا، اس نے بھی حضرت عائشہ کے پاس ان کے غلام کو بھیجا، انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تو مروان نے قاصد سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بتادو چنانچہ حضرت ابوہریرہ کے پاس گیا اور انہیں حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25443

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ

حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25444

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25445

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ فَلَا يَصُومُ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَيَا مَرْوَانَ فَحَدَّثَاهُ ثُمَّ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُمَاهُ فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرَاهُ قَالَ قَالَتَاهُ لَكُمَا فَقَالَا نَعَمْ قَالَ هُمَا أَعْلَمُ إِنَّمَا أَنَبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ

ترجمہ موجود نہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25446

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے پھر غسل کر لیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25447

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُومُ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَيَا مَرْوَانَ فَحَدَّثَاهُ ثُمَّ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُمَاهُ فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرَاهُ قَالَ هُمَا قَالَتَاهُ لَكُمَا فَقَالَا نَعَمْ قَالَ هُمَا أَعْلَمُ إِنَّمَا أَنَبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ

عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو اس کا روزہ نہیں ہے، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ دونوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا مجھے تو یہ بات فضل بن عباس نے بتائی تھی البتہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25448

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي وَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي أَهْلِي بِخَيْرٍ فَلَمَّا قُبِضَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا قَالَتْ وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا فَقُلْتُ وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَمَا زِلْتُ حَتَّى قُلْتُهَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّتْهُ ثُمَّ خَطَبَهَا عُمَرُ فَرَدَّتْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِرَسُولِهِ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي مُصْبِيَةٌ وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي مُصْبِيَةٌ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَانِي قُلْتُ يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ رَحَيَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا فَإِذَا جَاءَ أَخَذَتْ زَيْنَبَ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا لِتُرْضِعَهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا يَسْتَحْيِي فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِمَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَجَاءَ عَمَّارٌ وَكَانَ أَخَاهَا لِأُمِّهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَانْتَشَطَهَا مِنْ حِجْرِهَا وَقَالَ دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ وَيَقُولُ أَيْنَ زَنَابُ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ قَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلٌ

حضرت ام سلمہ سے بحوالہ ابوسلمہ مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کریوں کہنا چاہئے اے اللہ میں تیرے سامنے اس مصیبت پرثواب کی نیت کرتا ہوں تو مجھے اس پر اجرعطاء فرما اور اس کا نعم البدل عطاء فرمایا جب حضرت ابوسلمہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے دعاء کی کہ اے اللہ میرے شوہر کے ساتھ خیر کا فیصلہ فرما جب وہ فوت ہو گئے تو میں نے مذکورہ دعاء پڑھی اور جب میں نے یہ کہنا چاہا کہ مجھے اس کا نعم البدل عطاء فرما تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتاہے؟ لیکن پھر بھی میں یہ کہتی رہی، جب عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے پے درپے پیغام نکاح بھیجے لیکن انہوں نے اسے رد کردیا پھر نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی والی یہاں موجود نہیں ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی علیہ السلام سے میرا نکاح کرادو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی علیہ السلام کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دوچکیاں ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25449

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ قَالَ نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں ۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25450

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَتْ فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ أَفَمِنْ وَجَعٍ فَقَالَ لَا وَلَكِنَّ الدَّنَانِيرَ السَّبْعَةَ الَّتِي أُتِينَا بِهَا أَمْسِ أَمْسَيْنَا وَلَمْ نُنْفِقْهَا نَسِيتُهَا فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25451

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَتْ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَفَّتِ وَعَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ

ایک خاتون نے حضرت ام سلمہ سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر نشہ آورچیز حرام ہے اور نبی علیہ السلام نے مزفت دباء اور حنتم سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25452

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25453

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَنُفِسَتْ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ فَذَكَرَتْ سُبَيْعَةُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے، انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہو گئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا ، وہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہو نکاح کر سکتی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25454

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25455

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ عِنْدَ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ إِنَّمَا يَكْفِيكِ ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ تَصُبِّينَهَا عَلَى رَأْسِكِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال(زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں ؟) نبی علیہ السلام نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25456

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا فَقَالَ قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ فَشَغَلَنِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا قَالَ لَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی علیہ السلام اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی علیہ السلام نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو مختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم بھی ان کی قضاء کرسکتے ہیں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25457

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَعْبٍ صَاحِبُ الْحَرِيرِ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا كَانَ أَكْثَرَ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ دُعَاءَكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ أَقَامَ وَمَا شَاءَ أَزَاغَ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي عَنْ أَبِي كَعْبٍ فَقَالَ ثِقَةٌ وَاسْمُهُ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ عُبَيْدٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام اکثریہ دعاء فرمایا کرتے تھے، اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ میرے دل کو اپنے دین پرثابت قدمی عطاء فرما میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا دلوں کو بھی پھیرا جاتا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں اللہ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا اس کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے پھر اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو وہ اسے سیدھا رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے ٹیڑھا کردیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25458

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا نَسِيتُهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَقَدْ اغْبَرَّ صَدْرُهُ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ وَيْحَكَ ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ عَنْ أُمِّهِ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نبی علیہ السلام کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی علیہ السلام سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی علیہ السلام لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی علیہ السلام نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25459

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِالنِّسَاءِ قَالَ يُرْخِينَ شِبْرًا قُلْتُ إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذِرَاعٌ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25460

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَعَلَتْ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا فَقُلْتُ أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِهَا فَقَالَ عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ قَالَ زَعَمُوا أَنَّهُ قَالَ مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گلے میں سونے کا ہارلٹکالیا، نبی علیہ السلام ان کے یہاں گئے تو ان سے اعراض فرمایا، انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس زیب و زینت کو نہیں دیکھ رہے؟ نبی علیہ السلا م نے فرمایا میں تمہاری زینت ہی سے تو اعراض کر رہا ہوں پھر فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25461

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے یہ قسم کھالی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک مہینے تک نہیں جائیں گے، جب ٢٩دن گزر گئے تو صبح یا شام کے کسی وقت ان کے پاس چلے گئے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہیے تک ان کے پاس نہ جائیں گے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩دن کا بھی ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25462

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَامَّةُ وَصِيَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ وَمَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی علیہ السلام کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25463

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام یہ دعاء کیا کرتے تھے، کہ پروردگا مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25464

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ وَكُنْتُ أَسْحَبُهُ فَسَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ قُلْتُ إِنِّي امْرَأَةٌ ذَيْلِي طَوِيلٌ وَإِنِّي آتِي الْمَسْجِدَ وَإِنِّي أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ ثُمَّ أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ

ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی، اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جوصاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔ (کوئی حرج نہیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25465

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ وَكِلَاهُمَا بَدْرِيٌّ وَكَانَ سُوَيْبِطٌ عَلَى الزَّادِ فَجَاءَهُ نُعَيْمَانُ فَقَالَ أَطْعِمْنِي فَقَالَ لَا حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ نُعَيْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاكًا مَزَّاحًا فَقَالَ لَأَغِيظَنَّكَ فَذَهَبَ إِلَى أُنَاسٍ جَلَبُوا ظَهْرًا فَقَالَ ابْتَاعُوا مِنِّي غُلَامًا عَرَبِيًّا فَارِهًا وَهُوَ ذُو لِسَانٍ وَلَعَلَّهُ يَقُولُ أَنَا حُرٌّ فَإِنْ كُنْتُمْ تَارِكِيهِ لِذَلِكَ فَدَعُونِي لَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ غُلَامِي فَقَالُوا بَلْ نَبْتَاعُهُ مِنْكَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ فَأَقْبَلَ بِهَا يَسُوقُهَا وَأَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّى عَقَلَهَا ثُمَّ قَالَ لِلْقَوْمِ دُونَكُمْ هُوَ هَذَا فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا قَدْ اشْتَرَيْنَاكَ قَالَ سُوَيْبِطٌ هُوَ كَاذِبٌ أَنَا رَجُلٌ حُرٌّ فَقَالُوا قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ وَطَرَحُوا الْحَبْلَ فِي رَقَبَتِهِ فَذَهَبُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأُخْبِرَ فَذَهَبَ هُوَ وَأَصْحَابٌ لَهُ فَرَدُّوا الْقَلَائِصَ وَأَخْذُوهُ فَضَحِكَ مِنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر تجارت کے سلسلے میں بصری کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ دو بدری صحابہ نعیمان اور سویبط بن حرملہ بھی تھے، زادراہ کے نگران سویبط تھے ایک موقع پر ان کے پاس نعیمان آئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ کھانے کے لئے دیدو سویبط نے کہا کہ نہیں جب تک حضرت صدیق اکبر نہ آجائیں نعیمان بہت ہنس مکھ اور بہت حس مزاح رکھنے والے تھے، انہوں نے کہا کہ میں بھی تمہیں غصہ دلا کر چھوڑوں گا۔پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس گئے جو سواریوں پر بیرون ملک سے سامان لاد کر لا رہے تھے اور ان سے کہا کہ مجھ سے غلام خریدو گے جو عربی ہے، خوب ہوشیار ہے، بڑا زبان دان ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں آزاد ہوں اگر اس بنیاد پر تم اسے چھوڑنا چاہو تو مجھے ابھی سے بتادو میرے غلام کو میرے خلاف نہ کردینا، انہوں نے کہا ہم آپ سے دس اونٹوں کے عوض اسے خریدتے ہیں ، وہ ان اونٹوں کو ہانکتے ہوئے لے آئے، اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے، جب اونٹوں کو رسیوں سے باندھ لیا تو نعیمان کہنے لگے یہ رہا وہ غلام لوگوں نے آگے بڑھ کر سویبط سے کہا کہ ہم نے انہیں خرید لیا ہے سویبط نے کہا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، میں تو آزاد ہوں ان لوگوں نے کہا کہ تمہارے آقا نے ہمیں پہلے ہی تمہارے متعلق بتادیا تھا اور یہ کہہ کر ان کی گردن میں رسی ڈال دی اور انہیں لے گئے۔ادھر حضرت ابوبکر واپس آئے تو انہیں اس واقعے کی خبر ہوئی وہ اپنے ساتھ کچھ ساتھیوں کو لے کر ان لوگوں کے پاس گئے اور انکے اونٹ واپس لوٹاکر سویبط کو چھڑا لیا، نبی علیہ السلام کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس واقعے کے یاد آنے پر ایک سال تک ہنستے رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25466

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنْ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب سلام پھیرتے تو نبی علیہ السلام کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں ، اور نبی علیہ السلام کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25467

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَرَمِيٌّ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ هَارِبٌ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِّيُّ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيُعْمِلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ يَمْكُثُ تِسْعَ سِنِينَ قَالَ حَرَمِيٌّ أَوْ سَبْعَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں نئے خلیفہ کے متعلق اختلاف پیدا ہوجائے گا اس موقع پر ایک آدمی مدینہ منورہ سے بھاگ کرمکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اسے اس کی خواہش کے بر خلاف اسے باہر نکال کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کر لیں گے، پھر ان سے لڑنے کے لئے شام سے ایک لشکر روانہ ہوگا جسے مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور اعراض کے عصائب (اولیاء کا ایک درجہ) آ کر ان سے بیعت کر لیں گے۔پھرقریش میں سے ایک آدمی نکل کر سامنے آئے گا جس کے اخوال بنوکلب ہوں گے، وہ مکی اس قریشی کی طرف ایک لشکربھیجے گا جو اس قریشی پر غالب آجائے گا اس لشکر یاجنگ کو بعث کلب کہا جائے گا اور وہ شخص محرم ہوگا جو اس غزوے کے مال غنیمت کی تقسم کے موقع پر موجود نہ ہو گا وہ مالت ودولت تقسم کرے گا اور نبی علیہ السلام کی سنت کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام زمین پر اپنی گردن ڈال دے گا اور وہ آدمی نوسال تک زمین میں رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25468

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُكَ قَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ فَيَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ وَيُخْسَفُ بِهِمْ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَكُونُ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يُكْرَهُ فَيَجِيءُ مُكْرَهًا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہوا نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کے ایک گروہ کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر وہ لوگ ایک لشکر مکہ مکرمہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجیں گے، اللہ اس آدمی کی ان سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں زمین میں دھنسا دے گا، وہ سب ایک ہی جگہ پچھاڑے جائیں گے، لیکن ان کے اٹھائے جانے کی جگہیں مختلف ہوں گی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لشکر میں شامل کیا گیا ہوگا تو اسی حال میں آئیں گے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25469

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ لَا قُلْتُ فَإِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ قُلْتُ لَعَلَّهُ أَنْ كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا أَمَّا أَنَا فَلَا

ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے؟ چنانچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی علیہ السلام ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25470

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ فِي حَجِّهِ أَوْ فِي حَجَّتِهِ شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے جس نے حج کرنا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25471

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَتْ أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25472

حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کے نزدیک قمیص سے زیادہ اچھا کوئی کپڑا نہ تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25473

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ قَالَ مَرْوَانُ كَيْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَشَلَتْ لَهُ كَتِفًا مِنْ قِدْرٍ فَأَكَلَهَا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شانے کا گوشت تناول فرمایا، اسی دوران نبی علیہ السلام پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25474

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ثُمَّ قُلْتُهَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا فَلَمْ تَزَوَّجْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى فَأَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ فَسَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدًا فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ! مجھے اس مصیبت پراجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پراجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی، عدت گزرنے کے بعد حضرات ابوبکر اور عمر نے باری باری پیغام نکاح بھیجا لیکن انہوں نے حامی نہ بھری، پھر نبی علیہ السلام نے حضرت عمر کو ان کے پاس اپنے لئے پیغام نکاح دے کربھیجا انہوں نے عرض کیا کہ نبی علیہ السلام کو بتا دیجئے کہ میں بہت غیور عورت ہوں ، میرے بچے بھی ہیں اور میرا تو کوئی ولی بھی یہاں موجود نہیں ہے، حضرت عمر نے آ کریہ باتیں نبی علیہ السلام کو بتادیں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ میں اللہ سے دعا کردوں گا اور تمہاری غیرت دور ہو جائیگی باقی رہے بچے تو تم ان کی کفایت کرتی رہنا اور باقی رہا ولی تو تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25475

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى الْأَنْصَارِ تَزَوَّجُوا مِنْ نِسَائِهِمْ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يُجَبُّونَ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَتَهُ عَلَى ذَلِكَ فَأَبَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَتَتْهُ فَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ فَسَأَلَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَنَزَلَتْ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَالَ لَا إِلَّا فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ و قَالَ وَكِيعٌ ابْنُ سَابِطٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انصار کے مرد اپنی عورتوں کے پاس پچھلے حصے سے نہیں آتے تھے، کیونکہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے آتا ہے اس کی اولاد بھینگی ہوتی ہے، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے بھی نکاح کیا اور پچھلی جانب سے ان کے پاس آتے ، لیکن ایک عورت نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بات ماننے سے انکار کردیا، اور کہنے لگی کہ جب تک میں نبی علیہ السلام سے اسکا حکم نہ پوچھ لوں اس وقت تک تم یہ کام نہیں کرسکتے۔چنانچہ وہ عورت حضرت ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نبی علیہ السلام آتے ہی ہوں گے، جب نبی علیہ السلام تشریف لائے تو اس عورت کو یہ سوال پوچھتے ہوئے شرم آئی لہذا وہ یوں ہی واپس چلی گئی، بعد میں حضرت ام سلمہ نے نبی علیہ السلام کو یہ بات بتائی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اس انصاریہ کو بلاؤ! چنانچہ اسے بلایا گیا اور نبی علیہ السلام نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سوتم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو، آسکتے ہو " اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25476

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ قَالَ مُخَنَّثٌ لَأَخِيهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْرِجُوا هَؤُلَاءِ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَلَا يَدْخُلُوا عَلَيْكُمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی علیہ السلام نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25477

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ عَمَّنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ إِذَا صَلَّى اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ فَذَكَرَهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے، اے للہ میں تجھ سے علم نافع عمل مقبول اور اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25478

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي يُونُسَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا الْمَكِّيَّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو جَيْشٌ البَيْتَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهَ مِنْهُمْ قَالَ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے اس لشکر کا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی علیہ السلام نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25479

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنُفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنْ الْجَنَابَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه هُدْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ وَمَعْنَاهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آ کر نبی علیہ السلام کے لحاف میں گھس گئی، اور میں نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی علیہ السلام روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25480

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِاسْمِكَ رَبِّي إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25481

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑھے جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25482

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَالَ صِمَامًا وَاحِدًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر میں تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سوتم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو آ سکتے ہو، فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25483

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام روزہ کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25484

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25485

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَوْنٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ أَوْ ذَكَرَ ذَلِكَ لِمَرْوَانَ فَقَالَ مَا أَدْرِي مَنْ نَسْأَلُ كَيْفَ وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَنَاوَلَ عَرْقًا فَانْتَهَسَ عَظْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25486

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ

حضرت سفینہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی کہ تاحیات نبی علیہ السلام کی خدمت کرتا رہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25487

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی علیہ السلام ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25488

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی علیہ السلام کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25489

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ قَالَتْ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ قَالَ أَبِي وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي بِجَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا نبی علیہ السلام نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25490

قَالَ قُرَّأتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ فَقَالَ الْكَهْلُ لَمْ تَحِلَّ وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے، حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے ، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا، اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں ، وہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہونکاح کرسکتی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25491

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنْ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنْ الشَّهْرِ فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے، وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا، تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کر کے بیٹھ جایا کرو، پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25492

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لِأَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِذْ قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دوانصاری میراث کے مسئلے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا جس پر ان کے پاس گواہ بھی نہ تھا، نبی علیہ السلام نے نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو ، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت وبلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لوکہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن اپنے گلے میں لٹکا کر لائے گا، یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا کہ یہ میرے بھائی کا حق ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو جا کر اسے تقسیم کرلو اور حق طریقے سے قرعہ اندازی کرلو اور ہر ایک دوسرے سے اپنے لئے حلال کروالو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25493

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ

حضرت عائشہ اور ام سلمہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25494

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام مجھے روزہ کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25495

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ النَّوْحُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ولا یعصینک فی معروف سے مراد یہ ہے عورتیں اس شرط پریعت کریں کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25496

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ قَالَتْ وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ قَالَ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهِبُ عَنْكِ غَيْرَتَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ قَالَ هُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَأَتَاهَا فَقَالَ حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زُنَابُ يَعْنِي زَيْنَبَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَهَا عَمَّارٌ فَدَخَلَ بِهَا وَقَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلْ اقْسِمْ لِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں ، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی علیہ السلام نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں ، چنانچہ نبی علیہ السلام نے ان سے نکاح فرمالیا۔پھر نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25497

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ قَالَتْ وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ قَالَ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ قَالَ هُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا قَالَ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَأَتَاهَا فَقَالَ حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زُنَابُ يَعْنِي زَيْنَبَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَهَا عَمَّارٌ فَدَخَلَ بِهَا فَقَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلْ اقْسِمْ لِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں ، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی علیہ السلام نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں ، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں ، چنانچہ نبی علیہ السلام نے ان سے نکاح فرمالیا۔پھر نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25498

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ عَلَيَّ بِخَيْرٍ مِنْهَا إِلَّا فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ قَالَتْ فَقُلْتُ هَذَا فَآجَرَنِي اللَّهُ فِي مُصِيبَتِي فَمَنْ يَخْلُفُ عَلَيَّ مَكَانَ أَبِي سَلَمَةَ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ! مجھے اس مصیبت پراجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پراجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی اور عدت گزرنے کے بعد نبی علیہ السلام نے ان کے پاس پیغام نکاح بھیج دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25499

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ وَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ

محمد بن طحلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے کہا کہ آپ کی دائی کا شوہر سلیم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نیا وضو نہیں کرتا، تو انہوں نے سلیم کے سینے پرہاتھ مار کر کہا کہ میں حضرت ام سلمہ جو کہ نبی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ تھیں کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی علیہ السلام کے متعلق آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی شہادت دیتی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25500

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ خَمْسٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ وَلَا تَسْلِيمٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام سات یا پانچ رکعتوں پروتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25501

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کرہوتی تھیں ، اور نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25502

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا وَمَا يَفِيضُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی علیہ السلام کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25503

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُ مَجَارَّهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25504

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَدْ قَالَهَا قَالَ وَقَدْ ذَكَرَهُ سُفْيَانُ عَنْهُ وَلَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25505

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا غَيْرَ الْفَرِيضَةِ وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں ، اور نبی علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25506

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع ، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25507

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی ہے انہ عمل غیرصالح۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25508

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ میرا بستر نبی علیہ السلام کے مصلی کے بالکل سامنے بچھا ہوتا تھا اور میں نبی علیہ السلام کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور نبی علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25509

حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ أَوْ تُرْبَطُ قَالَ اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم تھوڑا سا سونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں ، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25510

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَتْ فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقَالَ مَا يُؤَمِّنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللَّهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ قَالَتْ فَنَزَعْتُهَا

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک ہار پہن لیا جس میں سونے کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں ، نبی علیہ السلام نے اسے دیکھ کرمجھ سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس بات سے کس نے بے خوف کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اس کی جگہ آگ کی دھاریاں پہنائے گا؟چنانچہ میں نے اسے اتاردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25511

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ

مجاہد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ مرد جہاد میں شرکت کرتے ہیں لیکن ہم اس میں شرکت نہیں کرسکتے، پھر ہمیں میراث بھی نصف ملتی ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس چیز کی تمنا مت کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25512

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَتْنِي شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی علیہ السلام کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25513

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ پہلے نبی علیہ السلام تیرہ رکعتوں پروتربناتے تھے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمربڑھ گئی اور کمزوری ہوگئی تو نبی علیہ السلام سات رکعتوں پر وتربنانے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25514

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25515

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافَعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ اسْتُحِيضَتْ وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ لَهَا فَتَخْرُجُ وَهِيَ عَالِيَةُ الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَنْتَظِرُ أَيَّامَ قُرْئِهَا أَوْ أَيَّامَ حَيْضِهَا فَتَدَعُ فِيهِ الصَّلَاةَ وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَثْفِرُ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کا دم استحاضہ جاری رہتا تھا ، وہ اپنے ٹب میں غسل کرکے جب نکلتیں تو اس کی سطح پر زردی اور مٹیالاپن غالب ہوتا تھا حضرت ام سلمہ نے نبی علیہ السلام سے اس کا حکم دریافت کیا تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اتنے دن رات تک انتظار کرے جتنے دن تک اسے پہلے ناپاکی کا سامنا ہوتا تھا اور مہینے میں اتنے دنوں کا اندازہ کرلے، اوراتنے دن تک نماز چھوڑے رکھے اس کے بعد غسل کر کے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25516

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ مَرْوَانُ كَيْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَشَلْتُ لَهُ كَتِفًا مِنْ قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25517

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ فَوَصَفَتْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَرْفًا حَرْفًا قِرَاءَةً بَطِيئَةً قَطَّعَ عَفَّانُ قِرَاءَتَهُ

حضرت ام سلمہ سے نبی علیہ السلام کی قرات کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑتوڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پر وقف کر کے) دکھایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25518

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ فَأَصَابَهَا الْحَيْضُ فَقَالَ قُومِي فَاتَّزِرِي ثُمَّ عُودِي

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جا کر ازارباندھو اور واپس آجاؤ!

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25519

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَأَتْ نَسِيبًا لَهَا يَنْفُخُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ فَقَالَتْ لَا تَنْفُخْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِغُلَامٍ لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ تَرِّبْ وَجْهَكَ يَا رَبَاحُ

ابوصالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اسی دوارن وہاں ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا اور اس نے ان کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں ، دوران نماز جب وہ سجدہ میں جانے لگا تو اس نے مٹی اڑانے کے لئے پھونک ماری تو حضرت ام سلمہ نے اس سے فرمایا بھیتجے پھونکیں نہ مارو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلا کو بھی ایک مرتبہ اپنے غلام جس کا نام یسار تھا اور اس نے بھی پھونک ماری تھی سے فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اپنے چہرے کو اللہ کے لئے خاک آلود ہونے دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25520

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا فَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی علیہ السلام پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی علیہ السلام روزہ رکھ لیتے تھے اور ناغہ نہ کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25521

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ فَجَاءَتْ بِهِمْ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلال اؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے۔ نبی علیہ السلام نے فدک کی چادرلے کر ان سب پر ڈال دی اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں تو محمد و آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25522

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ الْمُهَاجِرِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيُخْسَفَنَّ بِقَوْمٍ يَغْزُونَ هَذَا الْبَيْتَ بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ الْكَارِهُ قَالَ يُبْعَثُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى نِيَّتِهِ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہو سکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی علیہ السلام نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25523

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي

ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کیا تمہاری موجودگی میں نبی علیہ السلام کو برابھلا کہا جارہا ہے؟ میں نے کہا معاذ اللہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو علی کو برا بھلا کہتا ہے وہ مجھے برا بھلا کہتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25524

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ يَقُولُ حَدَّثَنِي نَاعِمٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ فَقَالَتْ نَعَمْ إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهَا ثُمَّ نُفِيضُ عَلَيْنَا الْمَاءَ

حضرت ام سلمہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا عورت مرد کے ساتھ غسل کرسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں جبکہ وہ باشعور ہو (مراد بیوی ہونا ہے) میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ میں اور نبی علیہ السلام ایک ہی ٹب سے غسل کرلیا کرتے تھے، پہلے ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہا کر انہیں اچھی طرح صاف کرتے تھے پھر اپنے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25525

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنْ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ

حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام عام دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کے دن کثرت کے ساتھ روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ مشرکین کی عید کے دن ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف کروں ۔

-

Permalink