TrueHadith

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 10562

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَعَرَضَ لِإِنْسَانٍ مِنْهُمْ فِي عَقْلِهِ أَوْ لُدِغَ قَالَ فَقَالُوا لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعَمْ فَأَتَى صَاحِبَهُمْ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ فَضَحِكَ وَقَالَ مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ خُذُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اتفاقاً ان میں سے ایک آدمی کی عقل زائل ہوگئی یا اسے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ ان میں سے ایک نے " ہاں " کہہ دیا۔ اور اس آدمی کے پاس جا کر اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا۔ وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا، اور عرض کر دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے تو صرف سورت فاتحہ پڑھ کر ہی دم کیا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10563

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ أَوْ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ فَحَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ قَالَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ الْأُولَيَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نماز ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، چنانچہ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کی تلاوت کے بقدر قیام فرماتے ہیں ، " جو سورت سجدہ کی مقدار بنتی ہے" اور آخری دو رکعتوں میں اس کا نصف قیام فرماتے ہیں ، جب کہ نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف اور آخری دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف قیام فرماتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10564

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا قیامت کے دن جس کی زمین (قبر) سب سے پہلے کھلے گی اور یہ بات بھی بطور فخر کے نہیں ، اور میں ہی قیامت کے دن سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور یہ بات بھی میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10565

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَتَى فَاحِشَةً فَرَدَّهُ مِرَارًا قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَرَجَمْنَاهُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ ثُمَّ وَلَّيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْعَشِيِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ سَقَطَتْ عَلَى أَبِي كَلِمَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے سے گناہ سرزد ہوجانے کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ انہیں لوٹانے کے بعد آخر میں انہیں رجم کردینے کا حکم دے دیا۔ ہم نے انہیں لے جا کر سنگسار کردیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آکر انہیں اس کی خبر بھی کردی، جب شام ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا؟ (امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میرے والد صاحب سے حدیث کے آخری الفاظ چھوٹ گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10566

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَتْ بِهِ حَاجَةٌ فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَأَتَاهُ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا فَوَجَدْنَا لَهُ أَعْطَيْنَاهُ قَالَ فَذَهَبَ وَلَمْ يَسْأَلْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کو ضرورت مندی نے آگھیرا، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرمادیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے ، اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10567

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ قَالَ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْفُوَيْسِقَةَ وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْحِدَأَةَ وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ محرم کن چیزوں کو مار سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سانپ، بچھو، چوہا اور کوے کو پتھر مار سکتا ہے، قتل نہ کرے، باؤلا کتا، چیل اور دشمن درندہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10568

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ وَعَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10569

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فَأَنْكَرَهَا قَالَ أَنَّى لَكَ هَذَا فَقَالَ اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سامعاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10570

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے قریب المرگ لوگوں کو " لا الہ الا اللہ" پڑھنے کی تلقین کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10571

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِنَّ خَيْرَ الصُّفُوفِ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس سے اللہ گناہوں کو معاف فرمادے اور نیکیوں میں اضافہ فرمادے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو شخص بھی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرے، پھر مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرے تو فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے۔ جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو صفیں سیدھی کرلیا کرو ، خالی جگہ کو پر کر لیا کرو، کیوں کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ، کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین پہلی صف ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو، اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10572

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنْ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُوبِقَاتِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پرکاہ سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِباسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10573

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ قَالَ نَعَمْ اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا قَالَ فَضَرَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّيحِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے غزوہ خندق کے دن بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے دل تو اچھل کر حلق میں آگئے ہیں ، کوئی دعاء پڑھنے کے لئے ہو تو بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ دعاء پڑھو کہ اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل فرما، اس کے بعد اللہ نے دشمنوں پر آندھی کو مسلط کردیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10574

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَسَنٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ نَسِيتُ اسْمَهُ وَلَكِنْ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ أَوْ ابْنُ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ وَمَنْ يُغَسِّلُهُ وَمَنْ يُدَلِّيهِ فِي قَبْرِهِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت اپنے اٹھانے والوں ،غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10575

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور " جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں " کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10576

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانُبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10577

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ صَدَقْتَ ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ اسْكُنْ وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولَ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هُبِلَ عِنْدَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک جنازے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اس امت کی آزمائش قبروں میں بھی ہوگی، چنانچہ جب انسان کو دفن کرکے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں ، تو ایک فرشتہ " جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے " آکر اسے بٹھا دیتا ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں ، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہار اٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور سے ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ فرشتہ تو جس کے سامنے بھی ہاتھ میں گرز لے کر کھڑا ہوگا، اس پر گھبراہٹ طاری ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ایمان والوں کو کلمہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10578

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَتْرُ بِلَيْلٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر رات ہی کو پڑھے جائیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10579

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10580

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور منبر کا درمیانی فاصلہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر لگایا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10581

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّ وَاللَّهِ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَاكَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ يَعْنِي نَارًا قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ قَالَ فَمَا أَصْنَعُ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے اور یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں ، وہ کیا کہتا ہے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کرکے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں ؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10582

حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَغَنَّى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ تَعَفَّفَ أَعَفَّهُ اللَّهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غناء حاصل کرتا ہے اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو شخص عفت حاصل کرتا ہے اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10583

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ الرِّبَا قَالَ فَحَدَّثَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَمَّ مَقَالَتَهُ حَتَّى دَخَلَ بِهِ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي عَنْكَ حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَسَمِعْتَهُ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو، کیوں کہ مجھے تم پر سود میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہے، راوی حدیث نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی آگئے، میں وہیں پر موجود تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10584

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وَصَبٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا حَزَنٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف،غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں ، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10585

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ شَكَّ عُمَارَةُ فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَالْأَنْصَارُ وَغَيْرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَأْتَمِنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأْتِينِي خَبَرٌ مِنْ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ وَيْحَكَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ أَنَا ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ خَالِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي فَقَالَ إِنَّهُ رُبَّ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ هَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ میں تو آسمان والے کا امین ہوں ، میرے پاس صبح شام آسمانی خبریں آتی ہیں ، اتنی دیر میں گہری آنکھوں ، سرخ رخساروں ، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہوا اور سرمنڈایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا بدنصیب! کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہی نہیں ہوں ۔ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ بہت سے نمازی ایسے بھی ہیں جو اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کرتا پھروں یا ان کے پیٹ چاک کرتا پھروں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھا جو پیٹھ پھیر کر جارہا تھا اور فرمایا یاد رکھو! اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10586

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے، چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گاتب وہ خوش ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ سے بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10587

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ سُئِلَ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ لَا جُنَاحَ أَوْ لَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا، اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10588

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَتَتَرَّبُ رَأْسُهُ قَالَ فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعمیر مسجد کا حکم دیا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، اور ان کا سر مٹی میں رچ بس گیا تھا، میرے ساتھیوں نے مجھ سے بیان کیا، اگرچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات خود نہیں سنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ! افسوس، کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10589

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُعْطِي الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10590

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ مَا تُفْتِينَا قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ وَإِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کر دیا گیا تھا، (کہیں یہ وہی نہ ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اللہ اس سے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور یہ عام طور پر چرواہوں کی غذاء ہے، اگر یہ میرے پاس ہو تو میں بھی اسے کھالوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے صرف احتیاط فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10591

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَ فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور بھی ہو، چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیا، پھر جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10592

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ قَالَ فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نمازِ عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، انتظار کرتے کرتے رات کا ایک تہائی حصہ بیت گیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا اپنی اپنی جگہ پر ہی بیٹھو، لوگ اپنے اپنے بستروں میں جاچکے، لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو، تم برابر نماز میں ہی شمار ہوئے، اگر ضعفاء کی کمزوری، بیماروں کی بیماری اور ضرورت مندوں کی ضرورت کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں یہ نماز رات کے ایک حصہ تک مؤخر کر دیتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10593

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللَّهُ بِهِمْ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمْ الشُّفَعَاءُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ أَنْصَارَهُ فَيَبُثُّهُمْ أَوْ قَالَ فَيَنْبُتُونَ عَلَى نَهَرِ الْحَيَاءِ أَوْ قَالَ الْحَيَوَانِ أَوْ قَالَ الْحَيَاةِ أَوْ قَالَ نَهَرِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ أَوْ قَالَ تَكُونُ صَفْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاءَ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَادِيَةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں کو نکال کرلے جائے گا، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد ہوتا ہے، یا اس کا عکس فرمایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں بھی رہے ہیں (کہ وہاں کے حالات خوب معلوم ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10594

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ فِي حَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ أَوْ سَمِعَهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کاش! میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10595

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا تذکرہ کیا جو آپ کی امت میں ہوگی اور لوگوں میں ایک فرقہ کے طور پر اس کا خروج ہوگا، ان لوگوں کا شعار ٹنڈ کروانا ہوگا، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے، انہیں دو میں سے ایک گروہ " جو حق کے زیادہ قریب ہوگا " قتل کرے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جیسے ایک آدمی تیر پھینکے، پھر اس کے پھل کو دیکھے تو وہاں کچھ نظر نہ آئے، پھر دھار کو دیکھے تو وہاں بھی کچھ نظر نہ آئے، پھر دستے کو دیکھے تو وہاں بھی کچھ نظر نہ آئے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے اہل عراق! ان لوگوں کو تم نے ہی قتل کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10596

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا أَوْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ قَالَ فَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر کون تجارت کرے گا؟ یا کون اس پر صدقہ دے کر کے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10597

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ وَمُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10598

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ كَرْيُ الْأَرْضِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کوئی کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10599

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ أَمَّا الْبَيْعَتَانِ الْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ وَاللِّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، خرید و فروخت سے مراد تو ملامسہ اور منابدہ ہے اور لباس سے مراد صرف ایک چادر میں لپٹنا ہے، یا ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنا ہے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10600

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ و حَدَّثَنَاه حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ الْحَدِيثِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10601

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ مسجد میں تھوک یا ناپاک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10602

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کرکے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10603

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً وَقَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10604

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ تَعَلَّمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ وَمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ هُوَ فِي النَّارِ يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا کہ آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں ! یاد رکھو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10605

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ حِلَقِ الْأَنْصَارِ فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ إِنَّ عُمَرَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُهُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ لَتَجِيئَنَّ بِبَيِّنَةٍ عَلَى الَّذِي تَقُولُ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى مَذْعُورًا أَوْ قَالَ فَزِعًا فَقَالَ أَسْتَشْهِدُكُمْ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ فَقُمْتُ مَعَهُ وَشَهِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ انصار کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے پاس حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا، میں نے ان کے پاس جا کر تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی اور میں واپس آگیا، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے، اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ یا تو اس پر کوئی گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا، میں آپ میں سے کسی کو گواہ بنانے کے لئے آیا ہوں ، اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس معاملے میں تو آپ کے ساتھ ہم میں سے سب سے چھوٹی عمر کا لڑکا بھی جاسکتا ہے، میں ان لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا اس لئے میں ان کے ساتھ چلا گیا اور جا کر اس بات کی شہادت دے دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی یہ فرمایا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10606

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً فَذَكَرَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10607

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ وَكَانَ فِي حُجْرَةٍ فَقَالَ لِي يَا بُنَيَّ إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ و قَالَ مَرَّةً يَا بُنَيَّ إِذَا كُنْتَ فِي الْبَرَارِيِّ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَا شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ قَالَ أَبِي وَسُفْيَانُ مُخْطِئٌ فِي اسْمِهِ وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ

ابن ابی صعصعہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے " جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے" نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا بیٹا! جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو چیز بھی " خواہ وہ جن و انس ہو، یاپتھر" اذان کی آواز سنتی ہے وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10608

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ شَيْخٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10609

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ضَمْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبِي قُلْتُ سُفْيَانُ سَمِعَهُ قَالَ زَعَمَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10610

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَابْنُ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مَرَّ بِنَا وَنَحْنُ نَنْقُلُ مَتَاعَنَا فَقَالَ مَنْ كَانَ مُعْتَكِفًا فَلْيَكُنْ فِي مُعْتَكَفِهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَنُسِّيتُهَا وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ وَعَرِيشُ الْمَسْجِدِ جَرِيدٌ فَهَاجَتْ السَّمَاءُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10611

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ قَالَ وَغَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَقَالَ هَا أَنَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَكَانَ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے، اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھالیتا ہے ، اسی طرح جو شخص مال حاصل کرے اس کے حق کے ساتھ، تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق اسے پالیتا ہے ، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10612

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ قَالَ سُفْيَانُ أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ قَالَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے، پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10613

قَالَ سَمِعْت سُفْيَانَ قَالَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے، اب وہ دیکھے گا کہ تم کس قسم کے اعمال سر انجام دیتے ہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10614

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدْ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْظُرُ مَتَى يُؤْمَرُ قَالَ الْمُسْلِمُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے، مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علیٰ اللہ توکلنا "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10615

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10616

وَنَهَى عَنْ صِيَامِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10617

وَنَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

اور نمازِعصرکے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10618

وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10619

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيَقُولُونَ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کیا تم میں صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائےگی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی اور کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں صحابی کے صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کوفتح نصیب ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10620

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ عَمْرًا عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي مَنْ عَتَّابٌ لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ بِهِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روکے رکھے، توجب وہ بارش برسائے گا، اس وقت بھی لوگوں کا ایک گروہ ناشکری کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ مجدح کے ستارے کی تاثیر سے ہم پر بارش ہوئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10621

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10622

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف(لپٹ کر سوال کرنا) کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10623

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کربلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھا لے، اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گذرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اورضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعدجو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10624

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ وَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَسْجِدِي

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، ایک آدمی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور دوسرے آدمی کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10625

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا حَدَّثَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نُهُوا عَنْ الصَّرْفِ وَرَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10626

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ قَالَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا حَدَّثَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نُهُوا عَنْ الصَّرْفِ رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10627

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ اثْنَيْنِ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّرْفِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10628

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان دنیا میں تین حصوں پر منقسم ہیں ۔ (١) وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے، پھر اس میں انہیں شک نہ ہوا، اور وہ اپنی جان و مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے۔ (٢) وہ لوگ جن کی طرف سے لوگوں کی جان مال محفوظ ہوں ۔ (٣) وہ لوگ جنہیں کسی چیز کی طمع پیدا ہو اور پھر وہ اسے اللہ کی رضاء کے لئے چھوڑ دیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10629

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ وَقَالَ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے جو قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10630

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعَيَّ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10631

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الضَّحَّاكِ الْمَشْرِقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَهِيَ ثُلُثُ الْقُرْآنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10632

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنْ اللَّهِ فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا فَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا هِيَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرُهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو سمجھ لے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اسے بیان کردے اور اگر کوئی براخواب دیکھے تو سمجھ لے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ کی پناہ پکڑے اور کسی سے ذکر نہ کرے۔ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10633

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُوَاصِلُوا فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہے تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10634

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عِزَّةٍ وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لغزش اور ٹھوکریں کھانے والا ہی بردبار بنتا ہے اور تجربہ کار آدمی ہی عقلمند ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10635

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جارہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک شاعر اشعار پڑھتا ہوا آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو روکو، کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا، اشعار سے بھرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10636

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَبَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَهُ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10637

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ الْخَيَّاطِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْفِطْرَ بِالْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَسَأَلَهُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ فَصَلَّى يَوْمَئِذٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ

ابویعقوب الخیاط رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عیدالفطر کے موقع پر مدینہ منورہ میں مصعب بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھا، انہوں نے حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے قاصد کے ذریعے یہ معلوم کروایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عید کے دن کیا معمول تھا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے قبل نماز پڑھا کرتے تھے، چنانچہ مصعب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس دن خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10638

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُ قَالَ فَاسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ مَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ قَالَ فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ نَحْوَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ مجھے میری والدہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے ، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ سے کفایت طلب کرتا ہے، اللہ اسے کفایت دے دیتا ہے۔ اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ اور جو شخص اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف(لپٹ کرسوال کرنا) کرتا ہے، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میری اونٹنی " یاقوتہ " تو ایک اوقیہ سے بھی زیادہ کی ہے، لہٰذا میں واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10639

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقَارِئَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوناسونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، اس میں کمی بیشی نہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10640

و قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ

اور فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیوںکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10641

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی مسلمان کو جنت میں بچے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل، وضع حمل اور عمر تمام مراحل ایک لمحے میں اس کی خواہش کے مطابق ہوجائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10642

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ يُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ٹہنی کو بہت پسند فرماتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس چھڑی سے صاف کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10643

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ وَعَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا وَعَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10644

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ فَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ فَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ قَالَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا، وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا، پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں ! یہ موت ہے، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو، اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے، اس میں کبھی موت نہ آئے گی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی" انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دیجئے جب معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا اور وہ غفلت میں رہے " یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، محمد بن عبید اپنی حدیث میں کہتے کہ اہل دنیا اپنی دنیا کی غفلتوں میں رہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10645

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا إِلَّا لَبِنَةً وَاحِدَةً فَجِئْتُ أَنَا فَأَتْمَمْتُ تِلْكَ اللَّبِنَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا، اسے مکمل کرلیا، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ بھی مکمل کردی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10646

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا قَالَ عَدْلًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " امۃوسطاً " کی تفسیر امت معتدلہ سے فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10647

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمْ السَّلَام

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے (اسرافیل علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی دائیں جانب حضرت جبرائیل علیہ السلام اور بائیں جانب حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10648

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا قَالَ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا قَالَ فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ قَالَ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ فَبَرَأَ قَالَ فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا قَالَ فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیس سواروں کے ایک دستے میں بھیجا، دوران سفر ہمارا گزر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا صحابہ رضی اللہ عنھم نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، اتفاقاً ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے ؟ میں نے " ہاں " کہہ دیا ، لیکن یہ شرط لگادی کہ میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں کچھ نہ دوگے ، انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو تیس بکریاں دیں گے ، چنانچہ میں نے سات مرتبہ اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا ، وہ تندرست ہوگیا، جب ہم نے بکریوں پر قبضہ کرلیا تو ہمارے دل میں کچھ خیال آیا اور ہم نے اس سے ہاتھ روک لیا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا وقعہ ذکر کیا ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے ، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10649

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10650

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلّو دونوں کندھوں پر ڈال کر بھی نماز پڑھی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10651

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٍ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ وَقَالَ مَرَّةً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان ! تم نے سنت کی مخالفت کی ، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا ، اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، اس مجلس میں خضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے ، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے ، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے ، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " وھم فی غفلۃ " کا تعلق دنیا سے بیان کیا ہے۔ (کہ وہ لوگ دنیا میں غفلت کے شکار رہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10652

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ رَمْلٍ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ وَرَقِ الشَّجَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر کے پاس آکر تین مرتبہ یہ کہے" استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھوالحی القیوم واتوب الیہ" اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ، ریت کے ذرات اور درختوں کے پتوں کے برابر ہی ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10653

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ قَالَ سَأُخْبِرُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ جَاءَهُ صَاحِبُ تَمْرِهِ بِتَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ اللَّوْنُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ الطَّيِّبُ قَالَ ذَهَبْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَاشْتَرَيْتُ بِهِ صَاعًا مِنْ هَذَا قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتَ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَرْبَى أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ

ابونضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی سونے کے بدلے اور چاندی کی چاندی کے بدلے بیع کے بارے میں کچھ سناہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے تمہیں بتائے دیتا ہوں ایک مرتبہ کجھور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عمدہ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں کا نام " لون " تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کجھور کے معاملے میں سود کا پہلو زیادہ ہوگا یا سونا اور چاندی کے معاملے میں ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10654

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا تَقَضَّيْنَ أَمَرَ بِبُنْيَانِهِ فَنُقِضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحِيفَانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا قَالَ أَنَا أَحَقُّ بِذَاكَ مِنْكُمْ فَمَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ تَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کی تلاش میں تھے، اور اس وقت تک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح نہیں ہوئی تھی، جب وہ عشرہ ختم ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کا خیمہ ہٹا دیا گیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہوگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کا خیمہ دوبارہ لگا دیا گیا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کا بھی اعتکاف فرمایا، پھر لوگوں کے پاس نکل کر فرمایا لوگو! مجھے لیلۃ القدرکے بارے میں بتادیا گیا تھا، میں تمہیں بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی جھگڑتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، چنانچہ مجھے اس کی تعیین بھلادی گئی، اب تم اسے نویں ، ساتویں اور پانچویں میں تلاش کیا کرو، میں نے عرض کیا اے ابوسعید! آپ تو ہم سے زیادہ گنتی جانتے ہیں ، انہوں نے فرمایا میں تم سے اس کا زیادہ حقدارہوں ۔ میں نے ساتویں ، نویں اور پانچویں کا مطلب پوچھا تو فرمایا اکیسویں اور اس کے ساتھ والی رات نویں ہے،٢٣ویں اور اس کے ساتھ والی رات ساتویں ہے اور٢٥ویں اور اس کے ساتھ والی رات پانچویں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10655

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَاسٌ أَوْ كَمَا قَالَ تُصِيبُهُمْ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ فَيُمِيتُهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَنَبَتُوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ حِينَئِذٍ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے دے گا۔ پھر جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے توسفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں کو نکال کرلے جائے گا، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یاحیوان یاحیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں بھی رہے ہیں (کہ وہاں کے حالات خوب معلوم ہیں )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10656

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ قَالَ ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمَا ذَاكُمْ قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ایک آدمی کی بیوی اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے اور اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، اسی طرح کسی شخص کی اگر باندی ہو اور وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے لیکن اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کام کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ یہ چیز تقدیر کا حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10657

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10658

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ لَهُمْ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ وَالْآخَرُ بِالْكِسْرَةِ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطْعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا مِنْ الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهَا عَبْدٌ غَيْرُ شَاكٍّ فَتُحْجَبَ عَنْهُ الْجَنَّةُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے، وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تو سواریاں کم پڑ جائیں گی، آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں ، وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعا فرما لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جو توشے میں موجود تھیں ، منگوالیں ۔ چنانچہ کوئی شخص ایک مٹھی بھر جو لایا، کوئی مٹھی بھر ٹکڑے، جب دسترخوان پر کچھ چیزیں جمع ہوگئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ، سب کے برتن بھر گئے اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10659

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ أَحَدُ بَنِي لَيْثٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ الَّذِي يَرْوِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ عَلَيْهِ حَسَكٌ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَجْدُوحٌ بِهِ ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبِسٌ بِهِ مَنْكُوسٌ فِيهَا فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ يَفْقِدُ الْمُؤْمِنُونَ رِجَالًا كَانُوا مَعَهُمْ فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِمْ وَيُزَكُّونَ بِزَكَاتِهِمْ وَيَصُومُونَ صِيَامَهُمْ وَيَحُجُّونَ حَجَّهُمْ وَيَغْزُونَ غَزْوَهُمْ فَيَقُولُونَ أَيْ رَبَّنَا عِبَادٌ مِنْ عِبَادِكَ كَانُوا مَعَنَا فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ صَلَاتَنَا وَيُزَكُّونَ زَكَاتَنَا وَيَصُومُونَ صِيَامَنَا وَيَحُجُّونَ حَجَّنَا وَيَغْزُونَ غَزْوَنَا لَا نَرَاهُمْ فَيَقُولُ اذْهَبُوا إِلَى النَّارِ فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْهُمْ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيَجِدُونَهُمْ قَدْ أَخَذَتْهُمْ النَّارُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى قَدَمَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَزِرَتْهُ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى ثَدْيَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى عُنُقِهِ وَلَمْ تَغْشَ الْوُجُوهَ فَيَسْتَخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا فَيُطْرَحُونَ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا مَاءُ الْحَيَاةِ قَالَ غُسْلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الزَّرْعَةِ وَقَالَ مَرَّةً فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الزَّرْعَةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ ثُمَّ يَشْفَعُ الْأَنْبِيَاءُ فِي كُلِّ مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا فَيُخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا قَالَ ثُمَّ يَتَحَنَّنُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ عَلَى مَنْ فِيهَا فَمَا يَتْرُكُ فِيهَا عَبْدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا أَخْرَجَهُ مِنْهَا

سلیمان بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ جو یتیمی کی حالت میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کے اوپر پل صراط قائم کیا جائے گا، جس پر " سعدان " جیسے کانٹے ہوں گے، پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گذارا جائے گا مسلمان اس سے نجات پاجائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گر پڑیں گے۔ جب اللہ اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو مسلمانوں کو کچھ لوگ نظر نہ آئیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے، ان ہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزہ رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، چنانچہ وہ بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے کہ پروردگار! آپ کے کچھ بندے دنیا میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے، ہماری طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزہ رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آرہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جہنم کی طرف جاؤ اور ان میں سے جتنے لوگ جہنم میں ملیں ، انہیں اس میں سے نکال لو، چنانچہ وہ جائیں گے تو دیکھیں گے کہ انہیں جہنم کی آگ نے ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کسی کو قدموں تک، کسی کو نصف پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک، کسی کو تہبند تک، کسی کو چھاتیوں تک اور کسی کو گردنوں تک، لیکن چہروں پر اس کی لپٹ نہیں پہنچی ہوگی، وہ مسلمان انہیں اس میں سے نکالیں گے، پھر انہیں " ماءِ حیات " میں ڈال دیا جائے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماءِ حیات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : اہلِ جنت کے غسل کرنے کی نہر، وہ اس میں غسل کرنے سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پر خود رو گھاس اگ آتی ہے، اس کے بعد انبیاء کرام ہر اس شخص کے حق میں سفارش کریں گے جو " لا الہ الا اللہ " کی گواہی خلوصِ قلب سے دیتے ہوں گے اور انہیں بھی جہنم میں سے نکال لیا جائے گا، پھر اللہ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے گا اور اس میں کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہ چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10660

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عِيَاضٌ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے، اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ اس کی ناک میں بدبو آجائے اس کے کان اس کی آواز سن لیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10661

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ يَرَوْنَ أَنَّهُ يَعْنِي مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ وَيَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا ، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ روزہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10662

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا وَنَاسٌ جِيَاعٌ ثُمَّ رَحَلْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ فتح خیبر کے بعد ہم لوگ اس سبزی (لہسن) پر جھپٹ پڑے اور ہم نے اسے خوب کھایا، کچھ لوگ ویسے ہی خالی پیٹ تھے، جب ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہو، مجھے اسے حرام قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ، البتہ مجھے اس درخت کی بو پسند نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10663

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ وَمَنْ كَتَبَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10664

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جُرْعَةً مِنْ مَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیوں کہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10665

حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے ( قرآن کریم کے علاوہ) کچھ نہ لکھا کرو، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10666

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ جَابِرٌ كُنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ

ابواثیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10667

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ ذَاكَ وَزَجَرَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاءِ حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10668

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ

زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی کھڑکی کھولی، تو وہاں سے ایک سانپ نکل آیا، اس وقت وہاں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سانپ کو مارنے کا حکم دیا، اس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ انہیں مارنے سے پہلے مطلع کر دیا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10669

حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَا أَجِدُ لَكُمْ رِزْقًا أَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے، جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے ، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اور میں تمہارے حق میں صبر سے زیادہ وسیع رزق نہیں پاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10670

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ مَا هَذَا تَكْتُبُونَ فَقُلْنَا مَا نَسْمَعُ مِنْكَ فَقَالَ أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ فَقُلْنَا مَا نَسْمَعُ فَقَالَ اكْتُبُوا كِتَابَ اللَّهِ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ أَكِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِ اللَّهِ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ أَوْ خَلِّصُوهُ قَالَ فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ قُلْنَا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَحَدَّثُ عَنْكَ قَالَ نَعَمْ تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ فَإِنَّكُمْ لَا تَحَدَّثُوا عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلنے والے الفاظ کو لکھ رہے تھے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھنے لگے یہ تم لوگ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اللہ کی موجودگی میں ایک اور کتاب؟ کتاب اللہ کو خالص رکھو (دوسری چیزیں اس میں خلط ملط نہ کرو) چنانچہ ہم نے اس وقت تک جتنا لکھا تھا، اس تمام کو ایک ٹیلے پر جمع کرکے اسے آگ لگادی، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میری احادیث بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ، پھر ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بنی اسرائیل کے واقعات بھی ذکر کرسکتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! وہ بھی بیان کرسکتے ہو، اس میں بھی کوئی حرج نہیں ، کیوں کہ تم ان کے متعلق جو بات بھی بیان کروگے، ان میں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز چیزیں ہوں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10671

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ ثَنْدُوَتَيْهِ وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10672

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10673

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک دیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص پورا لیا جائے گا، اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10674

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ مَا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لِأَهْلِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُوا نِصْفِي فِي الْبَحْرِ وَنِصْفِي فِي الْبَرِّ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ وَالْبَحْرَ فَجَمَعَاهُ ثُمَّ قَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ قَالَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا آدمی بھی داخل ہوگا جس نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا ہوگا، یہ وہ آدمی ہوگا جس نے اپنے مرض الموت میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا اور اس کا آدھاحصہ سمندر میں بہا دینا اور آدھاحصہ خشکی میں اڑا دینا، اللہ نے بر و بحر کو حکم دیا اور انہوں نے اس کے سارے اجزاء اکٹھے کر دئیے ، اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اسی پر اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10675

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَوْفِيِّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10676

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ افْتَخَرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ النَّارُ يَا رَبِّ يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا فَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ قَالَ وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى فَتَقُولُ قَدْنِي قَدْنِي وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا أَهْلُهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالاجاتا رہے گا، جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے، اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس، بس، بس اور جنت کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10677

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ قَدْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ قَالَ عَفَّانُ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدْ اغْتُمِرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں اس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا ، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ٹخنوں تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ناک کے بانسے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ سینے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے آگ میں دھنسے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10678

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقَى مُؤْمِنًا شَرْبَةً عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ كَسَا مُؤْمِنًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی پیاس پانی کے ایک گھونٹ سے بجھائے، قیامت کے دن اللہ اسے رحیق مختوم سے پلائے گا، جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائیں گے اور جو مسلمان کسی مسلمان کو برہنگی کی حالت میں کپڑے پہنائے، اللہ اسے جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10679

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ثَلَاثَةٌ مَنْ قَالَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ وَالرَّابِعَةُ لَهَا مِنْ الْفَضْلِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ابوسعید! تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو انہیں کہہ لیا کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا چیزیں ہیں ؟ فرمایا جو اللہ کو اپنا رب بنا کر، اسلام کو اپنا دین مان کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنا رسول بنا کر خوش اور راضی ہو، پھر فرمایا ابوسعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے جس کی فضیلت زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10680

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10681

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُلَائِيَّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ الْآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر آپہنچیں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10682

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10683

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے تین بچے آگے بھیج دے، وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10684

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا مَنَّانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پانچ سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10685

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَلَسْتَ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا قَالَ بَلَى قَالَ أَلَسْتَ تَمْنَحُ مِنْهَا قَالَ بَلَى قَالَ أَلَسْتَ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ بَلَى قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ مَا شِئْتَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10686

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ ذَهَبٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَلْقَى خَاتَمَهُ وَجُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أُذِنَ لَهُ وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْرَضْتَ عَنِّي قَبْلُ حِينَ جِئْتُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا إِلَّا مَا أَغْنَتْ حِجَارَةُ الْحَرَّةِ وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقَالَ الرَّجُلُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَذَرَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ الذَّهَبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نجران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا اور اس سے کچھ بھی نہ پوچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس واپس چلا گیا اور اسے سارا واقعہ بتایا، اس نے کہا کہ ضرور تمہارا کوئی معاملہ ہے، تم دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جاتے ہوئے اپنی انگوٹھی اور اپنا جبہ " جو اس نے زیب تن کیا ہوا تھا " اتاردیا، اس مرتبہ جب اس نے اجازت چاہی تو اسے اجازت مل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب بھی دیا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب پہلے آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کی ایک چنگاری تھی، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو میں بہت سی چنگاریاں لے کر آیا ہوں ، دراصل وہ بحرین سے بہت سا زیور لے کر آیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم وہ چیز لے کر آئے جس کا ہمیں صرف اتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے جتنا پتھریلے علاقے کے پتھروں سے، البتہ یہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے صحابہ کے سامنے میری طرف سے عذر داری کردیجئے تاکہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس کی طرف سے عذر داری کرلی، اور لوگوں کو دیا کہ اس کے ساتھ اعراض ان کی سونے کی انگوٹھی کی وجہ سے تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10687

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10688

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَبِي لَيْسَ مَرْفُوعًا قَالَ لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ حَتَّى يُمَجِّجَ وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم، جو اور بغیر چھلکے کے جو میں بیع سلم اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ چھل نہ جائیں ، انگور اور زیتون وغیرہ میں اس وقت تک نہ کی جائے جب تک ان میں مٹھاس نہ آجائے، اسی طرح نقد سونے کی ادھار چاندی کے عوض یا ادھار چاندی کی نقد سونے کے عوض بیع نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10689

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے، اور اپنے گھر لوٹ آئے تو وہاں بھی دو رکعتیں پڑھ لے اور اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیوں کہ نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10690

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10691

حَدَّثَنَاه مُوسَى هُوَ ابْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10692

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ أَوْ ثُلُثَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورت اخلاص ہی پر ساری رات گذار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، سورت اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10693

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَهُ عَلَى عَاتِقَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10694

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَهُ عَنْ ذَلِكَ وَزَجَرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ وَهَذَا يَتْلُو حَدِيثَ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ فَقَالَ كُنَّا نَكْرَهُ ذَاكَ ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاءِ حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ ابوالزبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے پھر انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10695

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو رُؤْبَةَ شَدَّادُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَيْسِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِي كَذَا وَكَذَا فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ يُصَلِّي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَذَهَبَ عُمَرُ فَرَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَكَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ قَالَ فَرَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ قَالَ فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يُرَهْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فُوقِهِ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں جگہ سے گذر ہوا وہاں ایک آدمی بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ عمدہ کیفیت میں نماز پڑھ رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے قتل کر دو، حضرت صدیق اکبر چلے گئے لیکن جب اسے سابقہ حالت پر دیکھا تو اسے قتل کرنا ان پر بوجھ بن گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم جا کر اسے قتل کر دو، وہ گئے تو انہوں نے بھی اسے اسی حالت پر دیکھا جس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا، چنانچہ ان پر بھی اسے قتل کرنا بوجھ بن گیا اور وہ بھی واپس آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اسے اتنے خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اسے قتل کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہیں وہ آدمی کہیں نظر نہ آیا، انہوں نے واپس آکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ آدمی نہیں ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، اور پھر اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر اپنے ترکش میں واپس آجائے، تم اس بدترین مخلوق کو قتل کر دینا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10696

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ عَنِ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُلْقَى فِيهَا مَا يُلْقَى مِنْ النَّتْنِ فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس میں تو اتنی گندگی ڈالی جاتی ہے، پھر بھی آپ اس سے وضو فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کر سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10697

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَى رَبَّنَا قَالَ فَقَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نِصْفَ النَّهَارِ قَالُوا لَا قَالَ فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ قَالَ الْأَعْمَشُ لَا تُضَارُّونَ يَقُولُ لَا تُمَارُونَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے رب کی زیارت ضرور کرو گے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا واقعی ہم اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نصف النہار کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں ، فرمایا کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں ، فرمایا اسی طرح پروردگار کو دیکھنے میں بھی تمہیں کوئی دشواری نہ ہوگی، الاّیہ کہ تم چاند سورج کو دیکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10698

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ وَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ إِذَا سَجَدْتُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو ، اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10699

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ثُمَّ قَالَ مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا فَجَاءَ فُلَانٌ فَقَالَ أَنَا قَالَ أَمِطْ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ أَمِطْ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ هَاكَ يَا عَلِيُّ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا قَالَ مُصْعَبٌ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ایک دن اپنے دست مبارک میں جھنڈا پکڑا اسے ہلایا اور فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے کون اسے پکڑے گا؟ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، پھر دوسرا آیا، اسے بھی واپس کر دیا، اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذات کو معزز کیا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو کبھی راہِ فرار اختیار نہیں کرے گا، علی! آگے آؤ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ جھنڈا لے کر روانہ ہوئے، حتیٰ کہ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا اور وہاں کی عجوہ کھجور اور قدید لے کر آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10700

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُ فُلَانًا يَقُولُ خَيْرًا ذَكَرَ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ قَالَ لَكِنْ فُلَانٌ لَا يَقُولُ ذَلِكَ وَلَا يُثْنِي بِهِ لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِائَةِ أَوْ قَالَ إِلَى الْمِائَتَيْنِ وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَسْأَلُنِي الْمَسْأَلَةَ فَأُعْطِيهَا إِيَّاهُ فَيَخْرُجُ بِهَا مُتَأَبِّطُهَا وَمَا هِيَ لَهُمْ إِلَّا نَارٌ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَ تُعْطِيهِمْ قَالَ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلُونِي وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں ، وہ یہ کہتا ہے اور نہ تعریف کرتا ہے، یاد رکھو! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کر کے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں ؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10701

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مؤمن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مؤمن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتاہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10702

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُورَةُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى لَوْنٍ أَحْسَنَ مِنْ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ لُحُومِهَا وَدَمِهَا وَحُلَلِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے دن جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہووں والا ہوگا، اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا، ان میں ہر ایک کی دو دو بیویاں ہونگی ، ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے ہوں گے جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت خون اور جوڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10703

حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالَ قُلْنَا لَا قَالَ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالَ قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ قَالَ فَيُقَالُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتْبَعْهُ قَالَ فَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الشَّمْسَ الشَّمْسَ فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ وَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْقَمَرَ الْقَمَرَ فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ وَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ الْأَوْثَانَ وَالَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَصْنَامَ الْأَصْنَامَ فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ قَالَ وَكُلُّ مَنْ كَانَ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَتَّى يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُوهُمْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِمْ وَبَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَلَّلَهُمْ بِيَدِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ أَلَا تَتَّبِعُونَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالَ فَيَقُولُونَ كُنَّا نَعْبُدُ اللَّهَ وَلَمْ نَرَ اللَّهَ فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ إِلَّا وَقَعَ سَاجِدًا وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ رِيَاءً وَسُمْعَةً إِلَّا وَقَعَ عَلَى قَفَاهُ قَالَ ثُمَّ يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ وَالْأَنْبِيَاءُ بِنَاحِيتَيْهِ قَوْلُهُمْ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَإِنَّهُ لَدَحْضُ مَزَلَّةٍ وَإِنَّهُ لَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ قَالَ تَخْطَفُ النَّاسَ وَحَسَكَةٌ تَنْبُتُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ قَالَ وَنَعَتَهَا لَهُمْ قَالَ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي لَأَوَّلَ مَنْ مَرَّ أَوْ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ قَالَ فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ الْبَرْقِ وَمِثْلَ الرِّيحِ وَمِثْلَ أَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُكَلَّمٌ وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ فَإِذَا قَطَعُوهُ أَوْ فَإِذَا جَاوَزُوهُ فَمَا أَحَدُكُمْ فِي حَقٍّ يَعْلَمُ أَنَّهُ حَقٌّ لَهُ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْهُمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ سَقَطُوا فِي النَّارِ يَقُولُونَ أَيْ رَبِّ كُنَّا نَغْزُو جَمِيعًا وَنَحُجُّ جَمِيعًا وَنَعْتَمِرُ جَمِيعًا فَبِمَ نَجَوْنَا الْيَوْمَ وَهَلَكُوا قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيُخْرَجُونَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيُخْرَجُونَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيُخْرَجُونَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو سَعِيدٍ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَظُنُّهُ يَعْنِي قَوْلَهُ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ قَالَ فَيُخْرَجُونَ مِنْ النَّارِ فَيُطْرَحُونَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَوَانِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبُّ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَ مَا يَكُونُ مِنْ النَّبْتِ إِلَى الشَّمْسِ يَكُونُ أَخْضَرَ وَمَا يَكُونُ إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَصْفَرَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ كُنْتَ قَدْ رَعَيْتَ الْغَنَمَ قَالَ أَجَلْ قَدْ رَعَيْتُ الْغَنَمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگا کو دیکھیں گے ؟ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جس وقت بادل نہ ہوں کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح ابنے رب کا دیدار کرو گے ۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک ٹیلے پر جمع کرکے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے ۔ جو سورج کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جاگریں گے ۔ جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے ، جو بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے حتیٰ کے اللہ کے علاوہ وہ جس کی بھی عبادت کرتے تھے ، اس کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جاگریں گے اور مسلمان باقی رہ جائیں گے اور اس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے اور کچھ اہل کتاب بھی ہوں گے ، جن کی قلت طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آکر کہے گا کہ جن چیزوں کی تم عبادت کرتے تھے ، ان کے پیچھے کیوں نہیں جاتے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اسے ہم اب تک دیکھ نہیں پائے ہیں ، چنانچہ پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ کو سجدہ کرنے والا کوئی آدمی سجدہ کئے بنا نہ رہے گا ، البتہ جو شخص ریاء اور شہرت کی خاطر سجدہ کرتا تھا وہ ابنی گدی کے بل گر پڑے گا ، پھر جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا ، اس کے دونوں کناروں پر انبیاء کرام علیھم السلام یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ! سلامتی ، سلامتی ، وہ پھسلن کی جگہ ہوگی ، اس میں کانٹے اور آنکڑے اور نجد میں پیدا ہونے والی " سعدان " نامی خاردار جھاڑیاں ہوں گی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانی بھی بیان فرمائی ، اور فرمایا کہ میں اور میرے امتی اسے سب سے پہلے عبور کرنے والے ہوں گے ، کچھ لوگ اس پر سے بجلی کی طرح ، کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھڑ سواروں کی طرح گذر جائیں گے ، ان میں سے کچھ تو صحیح سلامت گذر کر نجات پاجائیں گے ، کچھ زخمی ہوجائیں گے ، اور کچھ جہنم میں گر پڑیں گے ، جب وہ اسے عبور کرچکیں گے تو انتہائی آہ و زاری سے اپنے ان بھائیوں کے متعلق جو جہنم میں گر گئے ہوں گے ، اللہ سے عرض کریں گے کہ پروردگار ! ہم اکٹھے ہی جہاد ، حج اور عمرہ کرتے تھے آج ہم بچ گئے تو وہ کیونکر ہلاک ہوگئے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو جس شخص کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان پایا جاتا ہو اسے جہنم سے نکال لو ، چنانچہ وہ انہیں نکا لیں گے پھر اللہ فرمائے گا کہ جس کے دل میں ایک قیراط کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لو ، چنانچہ وہ انہیں بھی نکالیں گے ، پھر اللہ فرمائے گا کہ جن کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکالو، چنانچہ وہ انہیں بھی نکال لیں گے ، پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے (راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہ آیت ہے " اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی ہوئی تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ) پھر انہیں جہنم سے نکال کر " نہر حیوان " میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے ، پھر زرد ہوتا ہے ، یا اس کا عکس فرمایا ، اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں بھی چرائی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں نے بکریاں چرائیں ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10704

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ مَا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لِأَهْلِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُوا نِصْفِي فِي الْبَحْرِ وَنِصْفِي فِي الْبَرِّ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ وَالْبَحْرَ فَجَمَعَاهُ ثُمَّ قَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ قَالَ فَغُفِرَ لَهُ لِذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا آدمی بھی داخل ہوگا جس نے کبھی کوئی نیک عمل نہ کیا ہوگا ، یہ وہ آدمی ہوگا جس نے اپنے مرض الموت میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ پیس لینا ، اور اس کا آدھا حصہ سمندر میں بہا دینا اور آدھی حصہ خشکی میں اڑا دینا ، اللہ نے بر وبحر کو حکم دیا اور انہوں نے اس کے سارے اجزاء اکٹھے کردیئے ، اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے ، اسی پر اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10705

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَى غِلَافِهِ وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقُرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دل چار طرح کے ہوتے ہیں ، قلب اجرد یعنی خالی دل جس میں چراغ روشن ہوسکے ، قلب اغلف یعنی جس پر پردے پڑے ہوئے ہوں ، قلب منکوس یعنی الٹا دل ، اور قلب مصفح یعنی چٹیل میدان ، قلب اجرد تو مسلمان کا دل ہوتا ہے جس کا چراغ اس کا نور ہوتا ہے قلب اغلف کافر کا دل ہوتا ہے قلب منکوس منافق کا دل ہوتا ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اس سے منکر ہوجاتا ہے اور قلب مصفح وہ دل ہوتا ہے جس میں ایمان بھی ہو اور نفاق بھی ، اس میں ایمان کی مثال تو سبزی کی سی ہوتی ہے جو اچھے اور صاف پانی سے بڑھتی جاتی ہے اور نفاق کی مثال اس زخم کی سی ہوتی ہے جس میں پیپ اور خو ن بڑھتا جاتا ہے ، اب دونوں میں سے جو چیز غالب آجائے ، اسی کا اثر اس پر غالب آجاتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10706

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ عَنْ مَطَرِ بْنِ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَجْلَى أَقْنَى يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ قَبْلَهُ ظُلْمًا يَكُونُ سَبْعَ سِنِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک کشادہ پیشانی اور ستواں ناک والا آدمی خلیفہ نہ بن جائے ، وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی ، اور وہ سات سال تک رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10707

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِتْرَتِي كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُونِي بِمَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرا بلاوا آجائے گا اور میں اس پر لبیک کہوں گا ، میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگی ، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی ، اب تم دیکھ لو کہ ان دونوں میں میری نیابت کس طرح کرتے ہو؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10708

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ وَهَذَا أَمَلُهُ يَتَعَاطَى الْأَمَلَ وَالْأَجَلُ يَخْتَلِجُهُ دُونَ ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑی ، دوسری اس کے قریب اور تیسری اس سے دور گاڑی ، پھر صحابہ رضی اللہ عنھم سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ انسان ہے ، اور یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امیدیں ہیں ، جو درمیان سے نکل نکل کر اس تک پہنچتی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10709

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنْ السُّوءِ مِثْلَهَا قَالُوا إِذًا نُكْثِرُ قَالَ اللَّهُ أَكْثَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی ایسی دعاء کرے جس میں گناہ یا قطع رحمی کا کوئی پہلو نہ ہو ، اللہ اسے تین میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطاء فرماتے ہیں ، یا تو فوراً ہی اس کی دعاء قبول کرلی جاتی ہے ، یا آخرت کے لئے ذخیرہ کرلی جاتی ہے ، یا اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کردی جاتی ہے ، صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا اس طرح تو پھر ہم بہت کثرت کریں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس سے بھی زیادہ کثرت والا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10710

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ قَالَ فَاخْتَارَ ذَلِكَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ أَنْ خَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خُيِّرَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا ، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی ، یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے ، ہمیں ان کے رونے پر بڑا تعجب ہو اکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو محض ایک آدمی کے متعلق خبر دی ہے ، اس میں رونے کی کیا بات ہے ، لیکن بعد میں پتہ چلاکہ " بندے " سے مراد نبی علیہ السلام تھے اور واضح ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی رفاقت اور مالی تعاون کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ احسانات مجھ پر ابوبکر کے ہیں ، اگر میں اپنے رب کے علاوہ انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ، البتہ ان کے ساتھ اسلامی اخوت ومودت ہی بہت ہے اور ابوبکر کے دروازے کے علاوہ مسجد کھلنے والے دوسرے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10711

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجِنَازَةٍ فَعَادَ تَخَلَّفَ حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ

حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی ، جب وہ آئے تو لوگ اپنی اپنی جگہوں پر جم چکے تھے ، انہیں دیکھ کر لوگوں نے اپنی جگہ سے ہٹنا شروع کر دیا اور کچھ لوگ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تاکہ وہ ان کی جگہ پر بیٹھ جائیں ، لیکن انہوں نے فرمایا نہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین مجلس وہ ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ ہو ، پھر دوسرے کونے میں کشادہ جگہ پر جا کر بیٹھ گئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10712

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَقَالَ أَخُوهُ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ لَهُمْ أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمْ الْقَهْقَرَى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچاسکے گی ، اللہ کی قسم ! میری قرابت داری دنیا و آخرت دونوں میں جڑی رہے گی ، اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا ، جب تم وہاں پہنچوں گے تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، میں انہیں جواب دوں گا کہ تہمارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10713

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ قَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي

سعید بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پرھائی ، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت رکوع میں جاتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہی سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی ، سجدہ سے سر اٹھا کر سجدہ میں جاتے وقت اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے وقت بھی بلند آواز سے تکبیر کہی اور اس طرح اپنی نماز مکمل کرلی ، نماز کے بعد کسی شخص نے ان سے کہا کہ لوگوں میں آپ کی نماز پر اختلاف ہو گیا ہے ، اس پر وہ منبر کے قریب کھڑے ہوئے اور فرمایا بخدا مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نمازیں اس سے مختلف ہوتی ہیں یا نہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10714

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا غَمٍّ وَلَا أَذًى حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی ، تکلیف ،غم ، بیماری ، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے ، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10715

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ائْتَمُّوا بِي يَأْتَمُّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری اقتداء کیا کرو بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے ، کیونکہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں کے یہاں تک کہ اللہ انہیں پیچھے کردے گا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10716

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَهَا مِنَّا مَنْ حَفِظَهَا وَنَسِيَهَا مِنَّا مَنْ نَسِيَهَا فَحَمِدَ اللَّهَ قَالَ عَفَّانُ وَقَالَ حَمَّادٌ وَأَكْثَرُ حِفْظِي أَنَّهُ قَالَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تُوقَدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ أَلَا إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الرِّضَا وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الرِّضَا فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ وَسَرِيعَ الْغَضَبِ وَسَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ أَوْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ أَلَا وَأَكْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ قَالَ أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِيَ مِنْ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل خطبہ ارشاد فرمایا ، جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا ، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اما بعد ! دنیا سر سبز وشاداب اور شریں ہے ، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو ؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو ، اور یاد رکھو! کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مؤمن ہو کر زندہ رہتے ہیں او رمؤمن ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں ، کافر ہو کر زندگی گذار تے ہیں اور کافر ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور مؤمن ہو کر مرجاتے ہیں ۔ یاد رکھو! غصہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے ، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور رگوں کا پھول جانا ہی دیکھ لو ، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ زمین پر لیٹ جائے یاد رکھو! بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور وہ جلدی راضی ہو جائے، اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور وہ دیر سے راضی ہو ، اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر ہی سے جائے یاجلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے ۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض اداء کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے ، اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اسی انداز میں مطالبہ کرے ، اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے ۔ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈ ا ہوگا ، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو ، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جبکہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو ، یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ، پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! دنیا کی جتنی عمر گزر گئی ہے ، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت سے جو آج اسے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10717

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فَمَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے ، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کر دیا گیا تھا، (کہیں یہ وہی نہ ہو) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10718

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ عُمَرُ فَرَجَعَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ قَالَ لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقُلْتُ أَنَا مَعَكَ فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ فَخَلَّا سَبِيلَهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا ، انہوں نے ان کے پاس جا کر تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن انہیں اجازت نہیں ملی اور وہ واپس آگئے، بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیا بات ہے تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو اس پر کوئی گواہ پیش کرو، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنی قوم کی ایک مجلس میں آئے اور انہیں اللہ کا واسطہ دیا تو میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں ، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور جا کر اس بات کی شہادت دے دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10719

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّابِعَةِ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے جا کر شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟چوتھی مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جا کر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھائی نے جھوٹ بولا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10720

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ وَحَدَّثَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ عَرِبَ بَطْنُهُ فَقَالَ اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا قَالَ فَسَقَاهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَقَ وَكَذَبَ بَطْنُ ابْنِ أَخِيكَ قَالَ فَسَقَاهُ فَعَافَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھتیجے کو دست لگ گئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھتیجے کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10721

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَعْطَى اللَّهُ كُلَّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنْ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلثَّلَاثَةِ وَلِلرَّجُلَيْنِ وَلِلرَّجُلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو ایک عطیہ کی پیشکش ہوئی اور ہر نبی نے اسے دنیا ہی میں وصول کرلیا، میں نے اپنا عطیہ اپنی امت کی سفارش کے لئے چھوڑ دیا ہے، اور میری امت میں سے بھی ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10722

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ وَأَصْحَابُهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ وَأَبِي قَتَادَةَ فَاسْتَغْفَرَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور" سوائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے" احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ مغفرت کی دعاء فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10723

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ خَطَبَ مَرْوَانُ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَتْ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ تَرَى ذَلِكَ يَا أَبَا فُلَانٍ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تودل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10724

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ لَا يُرِيدُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِخْرَاجَهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ يُرِيدُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِخْرَاجَهُمْ يُمِيتُهُمْ فِيهَا إِمَاتَةً حَتَّى يَصِيرُوا فَحْمًا ثُمَّ يُخْرَجُونَ ضَبَائِرَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ أَوْ يُرَشُّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے دے گا، یہاں تک کہ وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے یہاں تک وہ گروہ در گروہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور انہیں جنت کی نہروں میں غوطہ دیا جائے گا تو ویسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10725

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَشَيَّعَهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَلَمْ يُشَيِّعْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑکے برابر ہوگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10726

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ فَلْيَنْظُرْ فِيهَا فَإِنْ رَأَى بِهَا خَبَثًا فَلْيُمِسَّهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو جوتیاں اتار دیں ، لوگوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں ، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اپنی جوتیاں کیوں اتار دیں ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو جوتی اتارتے ہوئے دیکھا اس لئے ہم نے بھی اتار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تو جبریل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری جوتی میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے تو وہ پلٹ کر اپنی جوتیوں کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی لگی ہوئی نظر آئے تو انہیں زمین پر رگڑ دے، پھر ان ہی میں نماز پڑھ لے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10727

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي أَنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ نَفْسًا قَالَ فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ بِهِ فَأَكْمَلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ اخْرُجْ مِنْ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا فَاعْبُدْ رَبَّكَ فِيهَا قَالَ فَخَرَجَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي الطَّرِيقِ قَالَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ قَالَ فَقَالَ إِبْلِيسُ أَنَا أَوْلَى بِهِ إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ قَالَ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا قَالَ هَمَّامٌ فَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَلَكًا فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ قَالَ فَقَالَ انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا قَالَ قَتَادَةُ فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ لَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ فَقَرَّبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ وَبَاعَدَ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوتا ہے، یہ بات بھی میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے محفوظ کی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس کے بعد (توبہ کرنے کے ارادہ سے) یہ دریافت کرنے نکلا کہ (روئے زمین پر) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص بڑا عالم ہے، یہ شخص اس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ عالم نے کہا نہیں ، اس نے عالم کو بھی قتل کردیا اس طرح سو کی تعداد پوری ہوگئی اور پھر لوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ اب سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک آدمی کا پتہ دیا یہ اس کے پاس گیا اور اس سے اپنا مدعا کہا عالم نے کہا ہاں اس میں کون سی رکاوٹ ہے، اس گندے علاقے سے نکل کر فلاں گاؤں میں جاؤ (وہاں تمہاری توبہ قبول ہوگی) اور وہاں اپنے رب کی عبادت کرو، یہ شخص اس گاؤں کی طرف چل دیا لیکن راستہ میں ہی موت کا وقت آگیا۔ مجبوراً یہ شخص سینہ کے بل اس گاؤں کی طرف گھسٹتا رہا اب رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اس شخص کی نجات اور عذاب کے متعلق باہم اختلاف کیا، شیطان نے آکر کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی میری نافرمانی نہیں کی تھی، اور رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کرکے نکلا تھا ، (اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا اور) اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں میں سے یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہوا اسے اس میں ہی شمار کرلو، راوی کہتے ہیں کہ قبل ازیں وہ اپنی موت کا وقت قریب دیکھ کر نیک گاؤں کے قریب ہوگیا تھا لہٰذا فرشتوں نے اسے ان ہی میں شمار کرلیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10728

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات چاشت کی نماز اس تسلسل سے پڑھتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے چھوڑتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھیں گے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10729

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقُلْتُ لِفُضَيْلٍ رَفَعَهُ قَالَ أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ وَبِحَقِّ مَمْشَايَ فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنْ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جو شخص نماز کے لئے نکلتے وقت یہ کلمات کہہ لے" اے اللہ! میں آپ سے اس حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جو سائلین کا آپ پر بنتا ہے اور میرے چلنے کا حق ہے، کہ میں غرور و فخر اور دکھاوے اور ریاکاری کے لئے نہیں نکلا، میں آپ کی ناراضگی سے ڈر کر اور آپ کی رضامندی کی طلب کے لئے نکلا ہوں ، میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے بچا لیجئے، اور میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، کیوں کہ آپ کے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا " تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتوں کو مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اللہ اس کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے، تا آنکہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہوجائے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10730

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ حَبَطًا أَلَمْ تَرَ إِلَى آكِلَةِ الْخَضِرَةِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الَّذِي أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ فَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ ہم سے فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیاکی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم سمجھ گئے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے چنانچہ ہم نے اس آدمی سے کہا کیا بات ہے؟ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہے ہو اور وہ تم سے بات نہیں کر رہے؟ پھر جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پسینہ پونچھنے لگے، اور فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں ، اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھا لیتا ہے، چنانچہ مسلمان آدمی تو مسکین، یتیم اور مسافر کے حق میں بہت اچھا ہوتا ہے اور جو شخص ناحق اسے پالیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو اور وہ اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10731

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو ، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10732

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعِي إِبِلٍ فَنَادِ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَاحْلُبْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَكُلْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گذرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو تین مرتبہ آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھالے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10733

و قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَصَدَقَةٌ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہمانی تین دن ہے پس جو (تین دن سے) زائد ہو وہ صدقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10734

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرَرْنَا بِنَهَرٍ فِيهِ مَاءٌ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ وَالْقَوْمُ صِيَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْرَبُوا فَلَمْ يَشْرَبْ أَحَدٌ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرِبَ الْقَوْمُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10735

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10736

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَقَالَ لَهُ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ عَلَيْكَ الْوُضُوءُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک انصاری صحابی کی طرف سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی فراغت پانے پر مجبور کردیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس طرح کی کیفیت میں جلدی ہو تو صرف وضو کرلیا کرو ،غسل نہ کیا کرو۔ (بلکہ بعد میں اطمینان سے وضو کرو)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10737

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدًا أَبَا الْحَوَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا زَيْدٌ الشَّاكُّ قَالَ قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ سِنِينَ ثُمَّ قَالَ يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا قَالَ يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عجیب و غریب واقعات نہ پیش آنے لگیں ، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی آئے گا جو پانچ سات یا نو سال رہے گا، اس زمانے میں اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش برسائے گا، زمین کوئی نباتات اپنے اندر ذخیرہ کرکے نہیں رکھے گی، اور مالی فراوانی ہوجائے گی، حتیٰ کہ ایک آدمی مہدی کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی! مجھے دو، مجھے کچھ عطاء کرو، تو وہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا ڈال دیں گے جتنا وہ اٹھاسکے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10738

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ام ولد (لونڈی) کو بیچ دیا کرتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10739

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّوْبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک کپڑا بھی متعہ نکاح میں دے دیتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10740

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10741

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ النَّاسُ حَيْزُ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيْزُ وَقَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عِرَافَةِ قَوْمِهِ وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالُوا صَدَقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ صحابہ کرام کو مکمل سنائی، اور فرمایا کہ تمام لوگ ایک طرف ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک پلڑے میں ہیں ۔ اور فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت کا ثواب باقی ہے۔ یہ حدیث سن کر مروان نے ان کی تکذیب کی، اس وقت وہاں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو مروان کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر یہ دونوں چاہیں تو تم سے یہ حدیث بیان کرسکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے ان کی قوم کی چوہدراہٹ چھین لوگے اور دوسرے کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے صدقات روک لو گے، اس پر دونوں حضرات خاموش رہے اور مروان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے کوڑا اٹھا لیا، یہ دیکھ کر ان دونوں حضرات نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں ۔ فائدہ : اس روایت کی صحت پر راقم الحروف کو شرح صدر نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10742

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ قَالَ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں ، انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیں ، اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10743

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ فِي حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ فَقَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ أَوْ الْمَلَكِ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنَاهُ عَفَّانُ قَالَ الْمَلِكُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ وَقَالَ قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سرانجام دیتے ہو؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، کیوں کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلی آزمائش عورت ہی کے ذریعے سے ہوئی تھی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردارکا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں ) انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروادیں ، اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10744

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الْعَزْلِ أَوْ قَالَ فِي الْعَزْلِ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل(مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10745

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سب سے پسندیدہ اور مجلس کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب شخص منصف حکمران ہوگا اور اس دن سب سے زیادہ مبغوض اور سخت عذاب کا مستحق ظالم حکمران ہوگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10746

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَأْمُرُ بِهِ أَوْ نَدْعُو مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَهَذَا لَيْسَ مِنْ الْأَرْبَعِ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا مِنْ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالُوا وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ قَالَ جِذْعٌ يُنْقَرُ ثُمَّ يُلْقُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَاءِ أَوْ الثَّمَرِ وَالْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ مِنْ ذَلِكَ فَجَعَلْتُ أُخَبِّئُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ قَالَ فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا قَالُوا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ كَثِيرَةُ الْجُرْذَانِ لَا تَبْقَى فِيهَا أَسْقِيَةُ الْأُدُمِ قَالَ وَإِنْ أَكَلَتْهُ الْجُرْذَانُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَقَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيكَ خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتادیجئے جس پر عمل کرکے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتائیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چار باتوں کا حکم اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ، اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا، اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع کرتا ہوں ، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " نقیر " کا مطلب پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکڑی کا وہ کانٹا جسے کھوکھلا کرکے اس میں ٹکڑے، کھجوریں یا پانی ڈال کر جب اس کا جوش ختم ہوجائے تو اسے پی لیا جائے، پھر تم میں سے کوئی شخص اپنے چچا زاد ہی کو تلوار مارنے لگے، اتفاق سے اس وقت لوگوں میں ایک آدمی موجود تھا، جسے اسی وجہ سے زخم لگا تھا ، میں شرم کے مارے اسے چھپانے لگا۔ پھر ان لوگوں نے پوچھا کہ مشروبات کے حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان مشکیزوں میں پیا کرو جن کا منہ بندھا ہوا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں چوہوں کی بہتات ہے، اس میں چمڑے کے مشکیزے باقی رہ نہیں سکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا اگرچہ چوہے انہیں کتر لیا کریں اور وفد کے سردار سے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہیں ، بردباری اور وقار

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10747

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ عَنْ أَبِي سِعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ فَقَرَّبُوا إِلَيْهِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى فَقَالَ كَأَنَّ هَذَا مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى قَالُوا نَعَمْ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَوَقَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَهَى أَنْ نَحْبِسَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَ وَنَدَّخِرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا ہے، ایک مرتبہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے ماں شریک بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، انہوں نے ان کے سامنے قربانی کا گوشت لا کر رکھا، جسے خشک کرلیا گیا تھا، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا لگتا ہے کہ یہ قربانی کا گوشت ہے، انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع نہیں فرمایا؟ اس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس کے متعلق نیا حکم نہیں آیا تھا ، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرمایا تھا، بعد میں اسے کھانے اور ذخیرہ کرکے رکھنے کی اجازت دے دی تھی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10748

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ أَنْ يُعْضَدَ شَجَرُهَا أَوْ يُخْبَطَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کنارے کے درمیان درخت کاٹنے سے یا ان کے پتے چھاڑنے سے منع کرتے ہوئے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10749

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ اخْتَلَفَ رَجُلَانِ أَوْ امْتَرَيَا رَجُلٌ مَنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مَنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ الْخُدْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْعَمْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ هُوَ هَذَا الْمَسْجِدُ لِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِي ذَاكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو خدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ، جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، عمری کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور خدری کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا اس سے مراد میری مسجد ہے اور مسجد قباء میں خیر کثیر ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10750

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ دَاوُدَ السَّرَّاجِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10751

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْمُثَنَّي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُودُوا الْمَرِيضَ وَامْشُوا مَعَ الْجَنَائِزِ تُذَكِّرْكُمْ الْآخِرَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو ، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10752

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ أَوْ تُعْدَلُ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10753

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ لَمْ تَزَلْ تُخْرَجُ زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو ، پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دی جاتی تھی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10754

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَا لَنَا بِهَا قَالَ كَفَّارَاتٌ قَالَ أَبِي وَإِنْ قَلَّتْ قَالَ وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا قَالَ فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهُ حَتَّى مَاتَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہمیں جو بیماریاں لگتی ہیں ، یہ بتائیے کہ ان پر ہمارے لئے کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بیماریاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اگرچہ بیماری چھوٹی ہی ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ ایک کانٹا ہی چبھ جائے یا اس سے بھی کم، یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق یہ دعاء کی کہ موت تک ان سے کبھی بھی بخار جدا نہ ہو، لیکن وہ ایسا ہو کہ حج و عمرہ، جہاد فی سبیل اللہ اور فرض نماز باجماعت میں رکاوٹ نہ بنے، چنانچہ اس کے بعد انہیں جو شخص بھی ہاتھ لگاتا، اسے ان کا جسم تپتا ہوا ہی محسوس ہوتا، حتی کہ ان کا انتقال ہوگیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10755

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد بن معاذ رضی اللہ کی موت پر اللہ کا عرش ہلنے لگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10756

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ وَاحِدٌ مِنْهَا فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهُنَّ بِهِ حَتَّى أَنْقَاهُنَّ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ عَنْ يَسَارِهِ فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ وَتَفَلَ يَحْيَى فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ٹہنی کو بہت پسند فرماتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس چھڑی سے صاف کر دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی سامنے سے آکر اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کے سامنے ہوتا ہے اور اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے، لہٰذا سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ بائیں پاؤں کے نیچے یا بائیں جانب تھوکے۔ اور اگر بہت جلدی ہو تو اس طرح کر کے مل لے، راوی نے اپنے کپڑے پر تھوک کر اسے مل کر دکھایا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10757

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِنَّهَا تَدُورُ مِنْ السَّنَةِ فَمَشَيْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ نَعَمْ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ وَرَجَعْنَا مَعَهُ وَأُرِيَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيَهَا فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَأُرَانِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ مِنْهَا وَهَاجَتْ عَلَيْنَا السَّمَاءُ آخِرَ تِلْكَ الْعَشِيَّةِ وَكَانَ نِصْفُ الْمَسْجِدِ عَرِيشًا مِنْ جَرِيدٍ فَوَكَفَ فَوَالَّذِي هُوَ أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَرَأَيْتُهُ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَإِنَّ جَبْهَتَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور اس ذات کی قسم جس نے انہیں عزت بخشی اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اکیسویں شب کو نماز مغرب پڑھائی تو ان کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10758

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقُلْتُ لَهُ كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ قَالَ أَبِي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ قَالَ هُوَ هَذَا مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَتَشْهَدُ لَسَمِعْتَ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ

ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمن بن ابی سعد رضی اللہ عنہ کا میرے پاس سے گذر ہوا ، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے اس مسجد کے متعلق کیا سنا ہے؟ جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب نے فرمایا تھا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں سے مٹھی بھری اور انہیں زمین پر مار کر فرمایا وہ مدینہ منورہ کی یہ مسجد نبوی ہے، میں نے یہ حدیث سن کر عبدالرحمن سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی آپ کے والد صاحب کو اسی طرح ذکر کرتے ہوئے سنا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10759

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ مَرَضٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّى الْهَمَّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف،غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں ، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیتے ہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10760

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10761

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَشُعْبَةُ قَالَا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10762

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ صَائِمُونَ وَأَفْطَرَ آخَرُونَ وَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پریا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا ، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10763

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَكُونُ أُمَرَاءُ تَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنْ النَّاسِ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن پر ایسے حاشیہ بردار افراد چھا جائیں گے جو ظلم و ستم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر تعاون کرے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے کہ ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ان کے ظلم پر تعاون نہ کرنا پڑے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10764

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10765

رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10766

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10767

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ فَيَتَمَرَّقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10768

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنَا عِيَاضٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقُوا فَفَعَلُوا فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقُوا فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا فَإِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَدَعَوْتُهُ فَرَجَوْتُ أَنْ تُعْطُوا لَهُ فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَتَكْسُوهُ فَلَمْ تَفْعَلُوا فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ثُمَّ قُلْتُ تَصَدَّقُوا فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ خُذْ ثَوْبَكَ وَانْتَهَرَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں داخل ہوا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، پھر یکے بعد دیگرے دو آدمی اور آئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی یہی حکم دیا، پھر لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی، لوگ صدقات دینے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صدقات میں سے دو کپڑے لے کر اس آنے والے کو دے دئیے ، اور فرمایا کہ لوگو! صدقہ دو، اس پر اس آدمی نے ایک کپڑا صدقات میں ڈال دیا، اس کی اس حرکت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ حرکت ناگوار گذری، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، یہ مسجد میں پراگندہ حالت میں آیا تھا ، میں نے اسے بلایا، مجھے امید تھی کہ تم اسے کچھ دے کر اس پر صدقہ کرو گے اور اسے صاف کپڑے پہناؤ دوگے، لیکن تم نے ایسا نہ کیا، پھر میں نے تم سے صراحۃً صدقہ کرنے کے لئے کہا، تم نے صدقہ کیا اور میں نے اس میں سے دو کپڑے اسے دے دئیے ، پھر دوبارہ صدقہ کی ترغیب دی تو اس نے ان میں سے ایک کپڑا اس میں ڈال دیا، یہ اپنا کپڑالے لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ کر فرمایا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10769

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، اس وقت تک میدانِ قتال میں نمازِ خوف کا وہ طریقہ نازل نہیں ہوا تھا، جو بعد میں نازل ہوا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر نمازِ عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10770

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ يُعْرَضُ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ قَالَ فَيَمُرُّ النَّاسُ مِثْلَ الْبَرْقِ وَآخَرُونَ مِثْلَ الرِّيحِ وَآخَرُونَ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجِدِّ وَآخَرُونَ يَسْعَوْنَ سَعْيًا وَآخَرُونَ يَمْشُونَ مَشْيًا وَآخَرُونَ يَحْبُونَ حَبْوًا وَآخَرُونَ يَزْحَفُونَ زَحْفًا فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَلَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا نَاسٌ فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ فَيَكُونُونَ فَحْمًا ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي الشَّفَاعَةِ فَيُوجَدُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ فَيُقْذَفُونَ عَلَى نَهَرٍ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ فَقَالَ وَعَلَى النَّارِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ فَتَخْرُجُ أَوْ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ النَّارِ فَيَكُونُ عَلَى شَفَتِهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْهَا قَالَ فَيَقُولُ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى شَجَرَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا قَالَ فَيَقُولُ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى شَجَرَةً أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا فَيَقُولُ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى الثَّالِثَةَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا قَالَ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ أَصْوَاتَهُمْ فَيَقُولُ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا وَقَالَ الْآخَرُ يُدْخَلُ الْجَنَّةَ فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَذَكَرَهُ قَالَ بِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةٌ تَنْبُتُ فِي الْغُثَاءِ وَقَالَ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفَاعَةَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ يَخْطَفُ النَّاسَ وَبِجَنْبَتَيْهِ الْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے پل پر لایا جائے گا جہاں آنکڑے، کانٹے اور اچکنے والی چیزیں ہوں گی، کچھ لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، کچھ گھسیٹتے ہوئے اور کچھ اپنی سرین کے بل چلتے ہوئے گذریں گے، باقی جہنمی تو وہ اس میں زندہ ہوں گے نہ مردہ، البتہ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا جائے گا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے اور انہیں گروہ در گروہ جہنم سے نکال لیا جائےگا۔ پھر انہیں ایک نہر میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کیچڑ میں دانہ اگ آتا ہے، اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " صبغاء" سے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے، جہنم سے ایک آدمی نکل کر ان کے کنارے پہنچے گا اور کہے گا کہ پروردگار! میرا رخ جہنم سے پھیر دے، اللہ تعالیٰ اس سے یہ عہد و پیمان لے گا کہ تو اس کے بعد مجھ سے مزید کچھ نہ مانگے گا، اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنامزید دیا جائے گا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10771

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ قَالَ فَأَهْرِقْهَا

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10772

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ قَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَإِنْ قَدَّرَ اللَّهُ شَيْئًا كَانَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کے متعلق فرمایا تم جو مرضی کرتے رہو، اللہ نے تقدیر میں جو کچھ لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10773

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ إِنَّ عِنْدَنَا خَمْرًا لِيَتِيمٍ لَنَا فَأَمَرَنَا فَأَهْرَقْنَاهَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شراب حرام ہوگئی تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب پڑی ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے بہانے کا حکم دیا، چنانچہ ہم نے اسے بہا دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10774

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَوْنَ مَنْ فَوْقَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10775

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَنْزِلَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ قَالَ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ قَالَ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ غُسْلٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کی طرف گئے، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی فراغت پانے پر مجبور کر دیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایسی کیفیت میں جلدی ہو تو صرف وضو کرلیا کرو ،غسل نہ کیا کرو۔ (بلکہ بعد میں اطمینان سے غسل کیا کرو)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10776

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَاكَ قَالَ أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے دن صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا رات کو آگ نہ جلانا، اس کے کچھ عرصے بعد فرمایا اب آگ جلالیا کرو اور کھانا پکالیا کرو ، کیوں کہ اب کوئی قوم تمہارے بعد تمہارے صاع اور مد کو نہیں پہنچ سکتی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10777

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَقِيَنِي ابْنُ صَائِدٍ فَقَالَ عُدَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَوْ أَحْسِبُ النَّاسَ يَقُولُونَ وَأَنْتُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَهُودِيٌّ وَأَنَا مُسْلِمٌ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَا صَحِيحٌ وَلَا يَأْتِي مَكَّةَ وَلَا الْمَدِينَةَ وَقَدْ حَجَجْتُ وَأَنَا مَعَكَ الْآنَ بِالْمَدِينَةِ وَلَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي ثُمَّ قَالَ مَعَ ذَاكَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيْنَ وُلِدَ وَمَتَى يَخْرُجُ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فَلَبَّسَ عَلَيَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ابن صائد ملا، اور کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں ، اور اے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال یہودی ہوگا جب کہ میں تو مسلمان ہوں ، وہ کانا ہوگا اور میں تندرست ہوں ، وہ مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا جب کہ میں تو حج کر کے آرہا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مدینہ منورہ جارہا ہوں ، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، جب کہ میرے یہاں تو اولاد بھی ہے، پھر آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں پیدا ہوگا ؟ کب نکلے گا؟ اور اب کہاں ہے؟ یہ سن کر مجھ پر اس کا معاملہ پھر مشکوک ہوگیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10778

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُمَيٍّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت دور کردے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10779

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ الْآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي أَلَا إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10780

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي الْجُهَنِيَّ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ مِنْ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ فَإِنْ طَالَ عُمْرُهُ أَوْ قَصُرَ عُمْرُهُ عَاشَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا وَتُمْطِرُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی آئے گا جو سات، آٹھ یا نوسال رہے گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، اس زمانے میں اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش برسائے گا، اور زمین اپنی تمام پیداوار اگائے گی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10781

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدٍ بِبَابِ هَذَا الْمَسْجِدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10782

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ نَهَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذْ رَأَيْتَهُ قَالَ فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے ہر چیز کا حساب ہوگا، حتی کہ یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10783

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ وَجَدَ رَجُلٌ فِي مَنْزِلِهِ حَيَّةً فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَكَّهَا فِيهِ فَلَمْ تَمُتْ الْحَيَّةُ حَتَّى مَاتَ الرَّجُلُ فَأُخْبِرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ مَعَكُمْ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَحَرِّجُوا عَلَيْهِ ثَلَاثًا فَإِنْ رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو اپنے گھر میں ایک سانپ نظر آیا، اس نے اپنا نیزہ اٹھایا اور سانپ کو مارا جس سے وہ زخمی ہوگیا لیکن مر انہیں ، بلکہ حملہ کرکے اس آدمی کو مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو فرمایا کہ تمہارے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بھی رہتی ہیں جو آباد کرنے والی ہوتی ہیں ، جب تم انہیں دیکھا کرو تو پہلے تین مرتبہ انہیں بچنے کی تلقین کیا کرو، اس کے بعد بھی اگر وہ نظر آئیں تب انہیں مارا کرو

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10784

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي الْعَيَّاشِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَكُونَ فِي ظِلِّهَا فَقَالَ اللَّهُ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا قَالَ لَا وَعِزَّتِكَ فَقَدَّمَهُ اللَّهُ إِلَيْهَا وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ وَثَمَرٍ فَقَالَ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا فَقَالَ اللَّهُ لَهُ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ فَيُقَدِّمُهُ اللَّهُ إِلَيْهَا فَتُمَثَّلُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى ذَاتُ ظِلٍّ وَثَمَرٍ وَمَاءٍ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ لَهُ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ فَيُقَدِّمُهُ اللَّهُ إِلَيْهَا فَيَبْرُزُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَأَكُونَ تَحْتَ نِجَافِ الْجَنَّةِ وَأَنْظُرَ إِلَى أَهْلِهَا فَيُقَدِّمُهُ اللَّهُ إِلَيْهَا فَيَرَى أَهْلَ الْجَنَّةِ وَمَا فِيهَا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ فَإِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ هَذَا لِي قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ سَلْ مِنْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُولَانِ لَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ فَيَقُولُ مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ قَالَ وَأَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يُنْعَلُ مَنْ نَارٍ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سب سے کم ترین درجے کا آدمی وہ ہوگا جس کا چہرہ اللہ تعالیٰ جہنم سے جنت کی طرف پھیر دے گا اور اس کے سامنے ایک سایہ دار درخت کی شکل پیش کرے گا، وہ کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما، اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر وہ جنت میں داخل ہوگا تو حور عین میں سے اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور اس سے کہیں گی اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو ہمارے لئے اور ہمیں آپ کے لئے زندہ رکھا، یہ دیکھ کر وہ کہے گا کہ جو نعمتیں مجھے ملی ہیں ، ایسی کسی کو نہ ملی ہوں گی، اور فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے جن کی حرارت کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10785

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ما جوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10786

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ وَأَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ إِلَى جَنَازَةٍ فَمَشَى مَعَهَا مِنْ أَهْلِهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى تُدْفَنَ أَوْ يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِثْلُ أُحُدٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نمازِ جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10787

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10788

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَقِيلَ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ قَالَ فَأَقُولُ بُعْدًا بُعْدًا أَوْ قَالَ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (حوضِ کوثر پر کچھ لوگوں کو پانی پینے سے روک دیا جائے گا) میں کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں ، مجھے بتایا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں ، میں کہوں گا کہ وہ لوگ دور ہوجائیں جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10789

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي هِشَامٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10790

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی احسان جتلانے والا، والدین کا نافرمان اور عادی شراب خور جنت میں نہیں جائے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10791

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَطَرٌ وَالْمُعَلَّى عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُمْلَأُ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي يَمْلِكُ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، اور وہ سات یا نو سال تک رہے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10792

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمْ الْقُلُوبُ وَتَلِينُ لَهُمْ الْجُلُودُ ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمْ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمْ الْجُلُودُ فَقَالَ رَجُلٌ أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جن سے دل مطمئن ہوں گے اور جسم ان کے لئے نرم ہوں گے، اس کے بعد ایسے لوگ حکمران بنیں گے جن سے دل گھبرائیں گے اور جسم کانپیں گے، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے قتال کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10793

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر حضرت جبریل نے کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، اور ہر نفس کے شر سے اور نظر بد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے، میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10794

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھالیا کرتے تھے اور نمازِ عید سے پہلے نوافل نہیں پڑھتے تھے، جب نمازِ عید پڑھ لیتے تب دو رکعتیں پڑھتے تھے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10795

حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا غَشِيَ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے، پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10796

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ وَأَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ لَا يَقَعُ عَلَى حَامِلٍ حَتَّى تَضَعَ وَغَيْرِ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کا ایک دور گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10797

حَدَّثَنَا هَارُونُ و سَمِعْت أَنَا مِنْ هَارُونَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے، ایک آدمی سامنے سے آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھک کر کھڑا ہوگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود چھڑی اسے چبھا دی، اس سے اس کے چہرے پر زخم لگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا آگے بڑھ کر مجھ سے قصاص لے لو، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے معاف کر دیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10798

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ لَهَا بَابٌ وَلَا كُوَّةٌ لَخَرَجَ عَمَلُهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں کوئی شخص کسی ایسی بند چٹان میں چھپ کر عمل کرے جس کا نہ کوئی دہانہ ہو اور نہ ہی کوئی روشندان، تب بھی اس کا وہ عمل لوگوں کے سامنے آکر رہے گا۔ خواہ کوئی بھی عمل ہو (اچھا یا برا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10799

عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر " غساق " (جہنم کے پانی) کا ایک ڈول زمین پر بہا دیا جائے تو ساری دنیا میں بدبو پھیل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10800

وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ قِيلَ وَمِثْلُ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِثْلُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْهُ تَنْبُتُونَ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مٹی انسان کی ہر چیز کھا جاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ریڑھ کی یہ ہڈی کس چیز کے برابر باقی رہتی ہے؟ فرما یا رائی کے ایک دانے کے برابر، اور اسی سے تم دوبارہ اگ آؤ گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10801

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ أُمَرَاءُ تَلِينُ لَهُمْ الْجُلُودُ وَتَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمْ الْقُلُوبُ وَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمْ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمْ الْجُلُودُ قَالُوا أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جن سے دل مطمئن ہوں اور جسم ان کے لئے نرم ہوں گے، اس کے بعد ایسے لوگ حکمران بنیں گے جن سے دل گھبرائیں گے اور جسم کانپیں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے قتال نہ کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10802

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَقْعَدُ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَكُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں کافر کے صرف بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت پر پھیلی ہوگی، ہر ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر، رانیں ورقان پہاڑ کے برابر اور گوشت اور ہڈیوں کو نکال کر صرف کھال چالیس گز کی ہوگی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10803

وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنْ الْأَرْضِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوہے کا ایک گرز جہنم سے نکال کر زمین پر رکھ دیا جائے اور سارے انس و جن اکٹھے ہوجائیں تب بھی وہ اسے زمین سے ہلا تک نہیں سکتے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10804

وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعُ جُدُرٍ كَثُفَ كُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی قناتیں چار چار دیواروں کے برابر ہوں گی جن میں سے ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10805

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّيَاعُ حَرَامٌ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ يَعْنِي بِهِ الَّذِي يَفْتَخِرُ بِالْجِمَاعِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی خاتون سے مباشرت کرنے پر فخر کرنا اور اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10806

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں ، اگر سارے جہان والے اس کے ایک درجے میں آجائیں تو وہ بھی ان کے لئے کافی ہوجائے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10807

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالَ الرَّبُّ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے میں ان کو معاف کرتا رہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10808

وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيَخْتَصِمُ حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَا

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن لوگ جھگڑیں گے، حتیٰ کہ دو بکریاں بھی جنہوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10809

وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے دروازے کے دونوں پٹوں (کواڑوں ) کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10810

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10811

وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّأْذِينِ لَتَضَارَبُوا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو اذان دینے کا ثواب معلوم ہوجائے تو اذانیں دینے کے لئے آپس میں تلواروں سے لڑنے لگیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10812

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَّ الظَّهْرَانِ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مرالظہران پہنچ کر دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی ہمیں اطلاع دی اور ہمیں روزہ ختم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ ہم سب نے روزہ ختم کرلیا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10813

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل آبِ حیات کے خروج پر ہوتا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10814

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ فَقَالَ اللَّهُ فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10815

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ تُنْكِرُهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنْ النَّاسِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا، وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10816

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عِيَالًا وَلِي عِيَالٌ وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا قَالَ وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابوسعید رحمۃ اللہ علیہ جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میرے بھائی کا انتقال ہو تو میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوسعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اس نے بچے بھی چھوڑے ہیں ۔ خود میرے اپنے بچے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ ہمارے پاس نہیں ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اپنے اور بھائی کے بچوں کو لے کر کسی شہر میں منتقل ہوجاؤں تاکہ ہماری معیشت مستحکم ہوجائے؟ انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے۔ یہاں سے مت جانا، کیوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10817

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ

بشر بن حرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ایک امیر پر اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی، پھر اہل شام آکر مجھے ابن دلحہ کے لشکر کے پاس کھینچ کرلے گئے چنانچہ میں نے مجبوراً اس سے بھی بیعت کرلی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے بھی اسی کا خطرہ ہے (دو مرتبہ فرمایا) پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عبدالرحمن! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کوئی نیند ایسی نہ سوئے، کوئی صبح اور شام ایسی نہ کرے جس میں اس پر کوئی حکمران نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! سنا تو ہے لیکن میں اس چیز کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10818

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصٌ أَوْ عِمَامَةٌ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10819

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَامَةً وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدُ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالظِّلُّ قَامَتَانِ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتْ الشَّمْسُ تَطْلُعُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نماز میں میری امامت کی، چنانچہ انہوں نے ظہر کی نماز زوالِ آفتاب کے وقت پڑھائی، عصر کی نماز اس قات پڑھائی جب سایہ ایک مثل کے برابر تھا، مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھائی، نمازِ عشاء غروبِ شفق کے بعد پڑھائی اور فجر طلوعِ فجر کے بعد پڑھائی، پھر اگلے دن دوبارہ آئے اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا ، عصر کی نماز دو مثل میں پڑھائی، مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے وقت اور عشاء کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج نکلنے کے قریب ہوگیا تھا اور فرمایا کہ نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10820

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكُ وَإِنَّمَا يَمَسُّ مِنْ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا، مسواک کرنا، اور اپنی گنجائش کے مطابق خوشبو لگانا خواہ اپنے گھر کی ہو، واجب ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10821

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا لَكَ أَنْ تَفْعَلَهُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلاتا پلا دیتا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10822

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنْ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا هَذِهِ النَّجْوَى أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ النَّجْوَى قَالَ قُلْنَا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كُنَّا فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْمَسِيحِ عِنْدِي قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ باری باری رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکتے تھے، تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت کوئی ضرورت یا کام پیش آجائے تو وہ ہمیں بھیج سکیں ، بعض اوقات یہ ثواب کمانے والے اور باری والے افراد کافی تعداد میں اکٹھے ہوجاتے تھے، اس صورت میں ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ کیسی سرگوشیاں ہیں ؟ کیا میں تمہیں سرگوشیاں کرنے سے منع نہیں کرتا؟ ہم نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم توبہ کرتے ہیں ، دراصل ہم لوگ دجال کا تذکرہ کررہے تھے، ہمیں اس سے ڈر لگ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شرکِ خفی ہے کہ انسان کسی عمل کے لئے کسی دوسرے انسان کی وجہ سے کھڑا ہو

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10823

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10824

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کروہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلاجائے اور فتنوں سے اپنے دین کا بچالے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10825

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالًا ثُمَّ لَا يَقُولُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ فَيَقُولُ رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ فَيَقُولُ وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ يُخْشَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے، کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10826

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمَنِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ وَمَا كَانَ تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10827

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَالنَّتْنُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ قَالَ الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل کنویں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبودار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10828

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلَ عَلَى تَنْزِيلِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10829

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ فَقَالَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے ہم ڈر گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھربھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں گے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10830

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَنِينِ يَكُونُ فِي بَطْنِ النَّاقَةِ أَوْ الْبَقَرَةِ أَوْ الشَّاةِ فَقَالَ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی، گائے یا بکری کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھاسکتے ہو کیوں کہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10831

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ حَتَّى يَرْبُطُوا خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کی آنکھیں چھوٹی، اور چہرے چپٹے ہوں گے، ان کی آنکھیں ٹڈیوں کے حلقہ چشم کی طرح ہوں گی اور چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے، وہ لوگ بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں استعمال کرتے ہوں گے اور اپنے گھوڑے درختوں کے ساتھ باندھتے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10832

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ فِي فِيهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آجائے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے ورنہ شیطان اس کے منہ میں داخل ہوجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10833

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10834

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ الْوَتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُوتِرْ إِذَا ذَكَرَهُ أَوْ اسْتَيْقَظَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو گیا یا بھول گیا، اسے چاہئے کہ جب یاد آجائے یا بیدار ہوجائے، تب پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10835

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح اور فوقیت نہ دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10836

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا قَالَ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یوم یأتی بعض آیت ربک " سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10837

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةً عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ الْجَعْفَرِيَّ وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيَّ وَزَيْدَ الْخَيْلِ الطَّائِيَّ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ الْفَزَارِيَّ قَالَ فَقَدِمَ عَلِيٌّ بِذَهَبَةٍ مِنْ الْيَمَنِ بِتُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مؤلفۃ القلوب چار آدمی تھے، علقمہ بن علاثہ عامری، اقرع بن حابس، زیدالخیل اور عیینہ بن بدر، ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ چاروں آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10838

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لَهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوۃ حلال نہیں ، سوائے تین مواقع کے، جہاد فی سبیل اللہ میں ، حالت سفر میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے پڑوسی کو کسی صدقہ کی کوئی چیز بھیجی اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیہ بھیج دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10839

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10840

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودُوا الْمَرِيضَ وَاتَّبِعُوا الْجَنَازَةَ تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو ، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10841

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " امۃ وسطاً " کی تفسیر امت معتدلہ سے فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10842

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10843

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْحَيَّةَ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ محرم سانپ کو مار سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10844

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَرَيْتُ كَبْشًا أُضَحِّي بِهِ فَعَدَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ الْأَلْيَةَ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10845

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فِرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور) ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دوفرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10846

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10847

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب کے نشے میں مدہوش ایک آدمی کو لایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس جوتے مارے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10848

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10849

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى بِنَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ فَإِنْ رَأَيْتُ قَذَاءً قَالَ فَأَهْرِقْهُ

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لے لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10850

حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10851

حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو ، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10852

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَأَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا خود زیادہ حقدار ہوتا ہے، اور مجلس سے جا کر واپس آنے پر اپنی نشست کا بھی وہی زیادہ حقدار ہوتا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10853

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَام يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پیغام توحید پہنچا دیا گیا تھا؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ آپ کے حق میں کون گواہی دے گا؟ وہ جواب دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، یہی مطلب ہے اس آیت کا " کذلک جعلناکم امۃ وسطاً " کہ اس میں وسط سے مراد معتدل ہے، چنانچہ اس امت کو بلایا جائے گا اور وہ حضرت نوح علیہ السلام کے حق میں پیغامِ تو حید پہنچانے کی گواہی دے گی، پھر تم پر میں گواہ بن کر گواہی دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10854

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالَ فَيَقُولُونَ فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرَ النَّاسُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم! کھڑے ہوجاؤ اور جہنم کی فوج نکالو وہ لبیک کہہ کر عرض کریں گے کہ پروردگار! جہنم کی فوج سے کیا مراد ہے؟ ارشاد ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ وہ وقت ہوگا جب نو مولود بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت کا وضع حمل ہو جائے گا، اور تم دیکھو گے کہ لوگ مدہوش ہو رہے ہیں ، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نو سونناوے آدمی یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا، یہ سن کر صحابہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوجاؤ، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہوگے، اس پر صحابہ نے پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس دن کالے بیل میں سفید بال کی طرح یا سفید بیل میں کالے بال کی طرح ہو گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10855

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قَالُوا فَهَلْ مِنْ عَلَامَةٍ يُعْرَفُونَ بِهَا قَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ ذُو يُدَيَّةٍ أَوْ ثُدَيَّةٍ مُحَلِّقِي رُءُوسِهِمْ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَدَّثَنِي عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَلِيَ قَتْلَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ بَعْدَمَا كَبِرَ وَيَدَاهُ تَرْتَعِشُ يَقُولُ قِتَالُهُمْ أَحَلُّ عِنْدِي مِنْ قِتَالِ عِدَّتِهِمْ مِنْ التُّرْكِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر بڑی پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ" ایک مرتبہ یہی قسم کھا کر فرمایا میری امت میں ایک ایسی قوم ضرور ظاہر ہوگی جن کے اعمال کے سامنے تم اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، صحابہ پوچھا کہ ان کی کوئی علامت بھی ہے جس سے انہیں پہچانا جاسکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں ایک آدمی ہوگا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کا نشان ہوگا، اور ان لوگوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے بھی زیادہ صحابہ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تہہ تیغ کیا تھا ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑھاپے میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا تھا جب ان کے ہاتھوں پر بھی رعشہ طاری تھا، وہ فرما رہے تھے کہ میرے نزدیک اتنی تعداد میں ترکوں کو قتل کرنے سے ان لوگوں کو قتل کرنا زیادہ حلال تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10856

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُتَعَلِّقًا بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَجُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ أَوْ أَفَاقَ قَبْلِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیا کرو ، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور مجھے افاقہ ہوگا، تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرشِ الہٰی کے پائے پکڑے کھڑے ہیں ، اب مجھے معلوم نہیں کہ طور پر پہاڑ کی بے ہوشی کو ان کا بدلہ قرار دیا دے دیا گیا یا انہیں مجھ سے پہلے ہوش آگیا ہوگا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10857

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10858

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَتْ الْيَهُودُ الْعَزْلُ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ أَبِي وَكَانَ فِي كِتَابِنَا أَبُو رِفَاعَةَ بْنُ مُطِيعٍ فَغَيَّرَهُ وَكِيعٌ وَقَالَ عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10859

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ قَالَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں ، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10860

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَقَالَ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ وَكَانَ فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَا تُخْلِفْنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ قَالَ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا، میں بھی ایک انسان ہوں ، اے اللہ! میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں ) کوئی ایذاء پہنچائی ہویا کوڑا مارا ہو یا گالی اور لعنت ملامت کی ہو، اسے اس شخص کے لئے باعثِ تزکیہ و رحمت بنادے اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنادے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10861

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا

ابوسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقہ حروریہ کا بھی کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے جو دین میں تعمق کی راہ اختیار کرلیں گے، ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10862

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیوں کہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10863

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی سواری کو لوگوں کے آگے پیچھے چکر لگوا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس ایک بھی سواری نہ ہو، اور جس شخص کے پاس زائد ہو توشہ ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس بالکل ہی نہ ہو، حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے کہ کسی زائد چیز میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10864

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْنَنِي وَأَيْنَقْنَنِي قَالَ عَفَّانُ وَآنَقْنَنِي نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار چیزیں سنی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اپنے محرم ، شوہر کے بغیر کرے،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10865

وَنَهَى عَنْ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ

اور نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک دووقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10866

وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ النَّحْرِ وَيَوْمِ الْفِطْرِ

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10867

وَقَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ

اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے تیاری نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10868

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے؟ کون ہے جو توبہ کرے؟ ایک آدمی نے پوچھا یہ اعلان طلوعِ فجر تک ہوتا رہتا ہے؟ تو فرمایا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10869

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأْتِيكَ فِيهِ فَوَاعَدَهُنَّ مِيعَادًا فَأَمَرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَقَالَ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوْ اثْنَانِ فَإِنَّهُ مَاتَ لِي اثْنَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ اثْنَانِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں ، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کے پاس آسکیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مقررہ وقت کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ نصیحت فرمائی، اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں ، وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دوہوں تو کیا حکم ہے؟ کہ میرے دوبچے فوت ہوئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے.

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10870

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْوَدَّاكِ وَقَالَ حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ يَقُولُ لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَشْرَبْ خَمْرًا إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَنَهَى عَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ يَعْنِي أَنْ يُخْلَطَا

ابن وداک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمادیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10871

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَسُئِلَ عَنْ الثَّلَاثَةِ يَجْتَمِعُونَ فَتَحْضُرُهُمْ الصَّلَاةُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10872

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10873

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10874

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى لَحْيَانَ بْنِ هُذَيْلٍ قَالَ لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں کو ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10875

ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا وَاجْعَلْ الْبَرَكَةَ بَرَكَتَيْنِ

پھر فرمایا اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دوگ نافرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10876

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10877

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ عِنْدَ اسْتِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا جس سے اس کی شناخت ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10878

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ الْكَلَامِ أَرْبَعًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً وَمَنْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَ أَوْ كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں ، سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر " جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ، جو شخص اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہے، اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العالمین کہے، اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10879

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن ابی صعصعہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو اس لئے تم اپنی بکریوں یا جنگل میں جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیوں کہ جو چیز بھی خواہ وہ جن و انس ہو یا پتھر اذان کی آواز سنتی ہے۔ وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10880

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا مِنْ السَّحَرِ فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے دوسرے کو ساری رات سورت اخلاص کو بار بار پڑھتے ہوئے سنا تو صبح کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی، اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بہت تھوڑی چیز ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10881

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ قُلْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الزَّكَاةِ فَقَالَ لَا أَدْرِي أَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا فِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَفِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ فَقَالَ إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا فَكَانَتْ عَزِيمَةً فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ

قزعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے، جب لوگ چھٹ گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ لوگ آپ سے جو سوالات کررہے تھے، میں آپ سے وہ سوال نہیں کروں گا، میں آپ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں ہے، بالآخر حیل و حجت اور تکرار کے بعد انہوں نے فرمایا کہ جس وقت ظہر کی نماز کھڑی ہوتی، ہم میں سے کوئی شخص بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، گھر آکر وضو کرتا اور پھر مسجد واپس آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے تھے۔ پھر میں نے ان سے زکوۃ کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے یا نسبت کیے بغیر) فرمایا کہ دو سو درہم پر پانچ درہم واجب ہیں اور چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری واجب ہے، جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک اس میں دو بکریاں واجب ہوں گی، پھر اگر ایک بھی زیادہ ہوجائے تو تین سو تک تین بکریاں ہوں گی، پھر ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی، اسی طرح پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہوگی، دس میں دو، پندرہ میں تین ، بیس میں چار اور پچیس سے پینتیس تک ایک بنت مخاض ٣٦ سے ٤٥ تک ایک بنت لبون،٤٦ سے ٦٠ تک ایک حقہ، ٦١ سے ٧٥ تک ایک جذعہ، ٧٦ سے ٩٠ تک دوبنت لبون،٩١ سے ١٢٠ تک دو حقے ہوں واجب ہوں گے، اس کے بعد ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون واجب ہوگی۔ پھر میں نے ان سے روزے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے کی حالت میں مکہ مکرمہ کا سفر کیا، ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کر دینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا، یہ رخصت تھی، جس پر ہم میں سے بعض نے اپنا روزہ برقرار رکھا اور بعض نے ختم کرلیا، پھر جب ہم نے اگلا پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم دشمن کے سامنے آگئے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کر دینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا اس لئے روزہ ختم کر دو، یہ عزیمت تھی، اس لئے ہم نے روزہ ختم کر دیا، پھر فرمایا کہ اس کے بعد ایک مرتبہ سفر میں ہم نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ حالت روزہ میں بھی دیکھا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10882

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل آب حیات کے خروج پر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10883

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَأَمَّا إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10884

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْرُجْ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَانِ عَوْرَتَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دو آدمی آپس میں اس طرح باتیں کرتے ہوئے نہ نکلیں کہ وہ استنجاء کر رہے ہوں اور ان کی شرمگاہیں نظر آرہی ہوں ، کیوں کہ اللہ اس طرح کرنے سے ناراض ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10885

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10886

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَتْرُكُهَا وَيَتْرُكُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات چاشت کی نماز اس تسلسل سے پڑھتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے چھوڑتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10887

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَمْتَلِئَ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا قَالَ ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک وہ ظلم و جور سے بھر نہ جائے، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10888

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10889

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْفِطْرِ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَيَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَتَصَدَّقُ مِنْ النَّاسِ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْبَعْثِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ انْصَرَفَ حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ فَذَكَرَهُ قَالَ وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ وَإِلَّا انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عیدگاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں ، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10890

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ قَالَ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے، لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، لوگوں نے اسے صدقات دے دئیے ، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہوسکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10891

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا قَالَ يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُولُونَ لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يَحْيَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الْآنَ قَالَ فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک طویل حدیث بیان فرمائی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن اس پر مدینہ منورہ کی کسی نقب سے بھی اندر داخل ہونا ممنوع ہوگا، اس دن اس کی طرف ایک آدمی نکل کر جائے گا جو تمام لوگوں میں سب سے بہترین ہوگا اور وہ کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کروں تو کیا تمہیں اس معاملے میں کوئی شک رہے گا؟ لوگ کہیں گے کہ نہیں ، چنانچہ وہ اسے قتل کرکے دوبارہ زندہ کردے گا، وہ آدمی کہے گا بخدا! مجھے تیرے معاملے میں اب سے پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی، دجال غضب ناک ہو کر اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے یہ قدرت نہیں دی جائے گی.

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10892

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے، اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10893

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَبَّهَ عَلَى أَحَدِكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَقَالَ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ كَذَبْتَ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنَيْهِ أَوْ يَجِدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِيَاضٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے، اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان میں اس کی آواز سن لیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10894

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مَعْمَرٌ شَكَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مومن جو کسی بھی محلے میں الگ تھلگ رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10895

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے، شیطان اس کے منہ میں داخل ہوجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10896

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10897

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثٌ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10898

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَا صِحَاحًا قَالَ بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِنًى وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ فَمَا يَقُومُ مِنْ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ فَيَقُولُ ائْتِ السَّدَّانَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَيَقُولُ لَهُ احْثِ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَأَبْرَزَهُ نَدِمَ فَيَقُولُ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ نَفْسًا أَوَعَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ قَالَ فَيَرُدُّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ فَيُقَالُ لَهُ إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ أَوْ قَالَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی خوشخبری سناتا ہوں ، جو میری امت میں اس وقت ظاہر ہوگا جب اختلافات اور زلزلے بکثرت ہوں گے، اور وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی، وہ مال کو صحیح صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے پوچھا صحیح صحیح تقسیم کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا لوگوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کرے گا، اور اس کے زمانے میں اللہ امت محمدیہ کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا، اور اس کے عدل سے انہیں کشادگی عطاء فرمائے گا، حتیٰ کہ وہ ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ نداء لگاتا پھرے گا کہ جسے مال کی ضرورت ہو، وہ ہمارے پاس آجائے، تو صرف ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے، وہ اس سے کہے گا کہ تم خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مجھے مال عطاء کرو، خزانچی حسب حکم اس سے کہے گا کہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اٹھالو، جب وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ لے گا تو اسے شرم آئے گی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ میں توامت محمدیہ میں سب سے زیادہ بھوکا نکلا، کیا میرے پاس اتنا نہیں تھا جو لوگوں کے پاس تھا۔ یہ سوچ کر وہ سارا مال واپس لوٹا دے گا، لیکن وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ ہم لوگ دے کر واپس نہیں لیتے، سات، یا آٹھ، یا نو سال تک یہی صورتِ حال رہے گی، اس کے بعد زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10899

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ الْكَلَامِ أَرْبَعًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً وَمَنْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ بِهَا ثَلَاثُونَ حَسَنَةً أَوْ حُطَّ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، جو شخص اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العالمین کہے، اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10900

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعْتُمْ جَنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازے کے ساتھ جاؤ تو جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10901

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ فَاشْرَبُوا وَلَا أُحِلُّ مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، لیکن اب چلے جایا کرو کیوںکہ اس میں سامانِ عبرت موجود ہے، اور میں نے تمہیں نبیذ پینے سے منع کیا تھا لیکن اب پی سکتے ہو، تاہم میں کسی نشہ آور مشروب کی اجازت نہیں دیتا، اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھاسکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10902

حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَمَى أَوْ ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبْ وَجْهَ أَخِيهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10903

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ فَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ السَّمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات منہ سے نکالتا ہے، اس کا مقصد صرف لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے، لیکن وہ کلمہ اسے آسمان سے بھی دور لے جا کر پھینکتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10904

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيُنَادَى مَعَ ذَلِكَ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا قَالَ يُنَادَوْنَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے، کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کرکے سنائیں جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10905

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا أَنْبَأَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ التُّجِيبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا دَرَّاجٍ أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُعْدَلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا قرض بھی کفر کے برابر ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10906

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضْرَاءَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر پر اس کی قبر میں نناوے اژد ہے مسلط کئے جاتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہیں گے، اگر ان میں سے ایک اژدہا بھی زمین پر پھونک مار دے تو زمین پر کبھی گھاس نہ اگ سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10907

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلَى آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے پر بندھا ہوا ہو، کہ گھوڑا گھوم پھر کر اپنے کھونٹے ہی کی طرف واپس آتا ہے اور مومن بھی گھوم پھر کر ایمان ہی کی طرف واپس آجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10908

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا وَصَبٌ وَلَا أَذًى إِلَّا كُفِّرَ عَنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف،غم، بیماری اور دکھ پہنچتے ہیں ، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10909

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف مومن ہی کو اپنا ہمنشین بناؤ اور تمہارا کھانا کوئی متقی ہی کھائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10910

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنْ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنْ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنْ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف خیر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے، اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے، جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10911

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10912

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ خَلْفٌ بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ قَالَ بَشِيرٌ فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ فَقَالَ الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ساٹھ سال بعد حکمرانوں کے جانشین ایسے ہوں گے جو نماز کو ضائع کردیں گے، اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے اور جہنم کے گڑھے میں جاپڑیں گے، ان کے بعد ایسے لوگ جانشین ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور قرآن کریم کی تلاوت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں مومن، منافق اور فاجر، راوی حدیث بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا کہ یہ تین لوگ کیسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ منافق تو اس کا منکر ہوتا ہے، فاجر آدمی اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10913

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتِيلًا بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُرِعَ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَاهُ عَلَى أَقْرَبِهِمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبستیوں کے درمیان ایک آدمی کو مقتول پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر دونوں بستیوں کی مسافت کی پیمائش کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بالشت اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے قریب کی بستی میں اسے بھجوا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10914

حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا یا جس شخص کو بھی خلافت عطاء فرمائی، اس کے قریب دو گروہ رہے ہیں ، ایک گروہ اسے خیر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے، اور دوسرا گروہ اسے شر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے، اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10915

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیٹ کے بچے ذبح ہونے کے لئے اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی کافی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10916

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے اور فرمایا میرے حوالے سے حدیث بیان کرسکتے ہو،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10917

وَقَالَ حَدِّثُوا عَنِّي وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10918

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ تَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ قَوْمِي وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِي قَوْمٌ يُؤْمَرُ بِهِمْ ذَاتَ الْيَسَارِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ يَا مُحَمَّدُ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَيَقُولُ الْآخَرُ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَأَقُولُ أَمَّا النَّسَبُ قَدْ عَرَفْتُ وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ الْقَهْقَرَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم! میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں جڑی رہے گی، اور قیامت کے دن میرے سامنے کچھ لوگوں کو پیش کیا جائے گا جن کے متعلق بائیں جانب کا حکم ہوچکا ہوگا، تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں بن فلاں ہوں ، اور دوسرا کہے گا میں فلاں بن فلاں ہوں ، میں انہیں جواب دوں گا کہ تمہارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10919

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10920

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَالْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کے لئے آئے اور کوئی لغو کام کرے اور نہ ہی جہالت کا کوئی کام کرے، یہاں تک کہ امام واپس چلا جائے تو یہ اگلے جمعے تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ضرور آتی ہے جو اگر کسی مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو سوال کرے، اللہ اسے ضرور عطاء فرمائے گا اور فرض نمازوں کے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10921

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صِيَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10922

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ يُتَوَخَّى قَالَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا أَعْلَمُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہم کے بارے میں مروی ہے کہ اس کا قصد کیا جاتا ہے، ایک آدمی نے راوی سے پوچھا کہ کیا یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے؟ تو راوی نے کہا کہ میرے علم کے مطابق تو ایسا ہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10923

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ لَهُ بَيْتًا فِي النَّارِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اس کے لئے جہنم میں ایک گھر تیار کر دیا گیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10924

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُرْفَعُ لِلْغَادِرِ لِوَاءٌ بِغَدْرِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ هَذَا لِوَاءُ غَدْرَةِ فُلَانٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں آدمی کا دھوکہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10925

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا ابْنُ عُمَرَ أَيْضًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10926

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي بَيْنَ بُرْدَيْنِ مُخْتَالًا خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی دو نفیس چادروں میں تکبر کی چال چلتا ہوا جارہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسایا دیا ۔ اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا ہی رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10927

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنْ النَّارِ يَتَكَلَّمُ يَقُولُ وُكِّلْتُ الْيَوْمَ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ وَبِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ فَيَقْذِفُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے ایک گردن نکلے گی جو کہے گی مجھے آج کے دن تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے ، ہر ظالم پر، اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے والوں پر ، اور ناحق کسی کو قتل کرنے والے پر ، چنانچہ وہ ان سب کو لپیٹ کر جہنم کی گہرائی میں پھینک دے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10928

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھالیا کرتے تھے اور نماز عید سے پہلے نوافل نہیں پڑھتے تھے ، جب نماز عید پڑھ لیتے تب دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10929

حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْقَاصُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَ فِي بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ يَخْتَالُ فِيهِمَا أَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ وَإِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی دو نفیس چادروں میں تکبر کی چال چلتا ہوا جارہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسایا دیا ۔ اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا ہی رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10930

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دکھاوے کے لئے کوئی عمل کرتا ہے ، اللہ اسے اس عمل کے حوالے کر دیتا ہے ، اور جو شہرت حاصل کرنے کے لئے کوئی عمل کرتا ہے ، اللہ اسے شہرت کے حوالے کر دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10931

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ جَارٌ فَقِيرٌ فَيَدْعُوَهُ فَيَأْكُلَ مَعَهُ أَوْ يَكُونَ ابْنَ سَبِيلٍ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوۃ حلال نہیں ، الاّ یہ کہ اس کا کوئی ہمسایہ فقیر ہو اور وہ اس کی دعوت کرے اور وہ اس کے یہاں کھانا کھالے ، یا جہاد فی سبیل اللہ میں یاحالت سفر میں ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10932

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ فَيْحِ الْمِسْكِ قَالَ صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي وَتَرَكَ شَهْوَتَهُ عَنْ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِنْ أَجْلِي فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے میری خاطر روزہ رکھا ، میری خاطر اپنے کھانے پینے کی خواہش کو ترک کیا ، گویا روزہ میری خاطر ہوا اس لئے اس کا بدلہ میں خود ہی دونگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10933

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن حامل قرآن سے " جب وہ جنت میں داخل ہوجائے گا " کہا جائے گا کہ پڑھتاجا اور درجاتِ جنت چڑھتا جا، چنانچہ وہ ہر آیت پر ایک ایک درجہ چڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنے حافظے میں موجود آخری آیت پڑھ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10934

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ شِبْرًا تَقَرَّبَ اللَّهُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَاهُ يَمْشِي أَتَاهُ اللَّهُ هَرْوَلَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے، اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10935

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10936

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّمْحِ دَرَّاجًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنْ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهَا وَإِذَا سَخِطَ عَلَيْهِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنْ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوجاتا ہے تو اس کی طرف خیر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے، جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے، اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات ایسے کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10937

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ فَصَنَعَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ فَكَانَتْ تَسِيرُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ قَصِيرَتَيْنِ وَاتَّخَذَتْ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَحَشَتْ تَحْتَ فَصِّهِ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ فَكَانَتْ إِذَا مَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ حَرَّكَتْهُ فَنَفَخَ رِيحَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک ٹھنگے قد کی عورت تھی، اس نے (اپنا قد اونچا کرنے کے لئے ) لکڑی کی دو مصنوعی ٹانگیں بنوالیں ، اب جب وہ چلتی تو اس کے دائیں بائیں کی عورتیں چھوٹی لگتیں ، پھر اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے بہترین خوشبو مشک بھر دی، اب جب بھی وہ کسی مجلس سے گزرتی تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتی اور وہاں اس کی خوشبو پھیل جاتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10938

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ضُرِبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ ضَرَبَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَّلَ مُوسَى عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُفَضِّلُوا بَعْضَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَى بَعْضٍ فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ التُّرَابِ فَأَجِدُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْعَرْشِ لَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صُعِقَ أَمْ لَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے چہرے پر ضرب کے آثار تھے، اور اس نے آکر کہا مجھے آپ کے ایک صحابی نے مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بے ہوشی طاری ہوجائے گی، اور سب سے پہلے مٹی سے سر اٹھانے والا میں ہوں گا، میں اس وقت حضرت موسیٰ کو عرش کے پاس دیکھوں گا، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بے ہوش ہونے والوں میں ہوں گے یا نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10939

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہو جایا کرو، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10940

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10941

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک شاعر اشعار پڑھتا ہوا آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو روکو، کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اشعار سے بھرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10942

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ هَاهُنَا فَقَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا فَقُلْتُ أُرِيدُ قَتْلَهَا فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ قَالَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعُ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوْ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا قَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ

ابوسائب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ چارپائی کے نیچے سے کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی، میں نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا، میں فوراً کھڑا ہوگیا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انہوں نے پوچھا اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اسے مار دوں گا، انہوں نے اپنے گھر کے ایک کمرے کی طرف " جو ان کے کمرے کے سامنے ہی تھا " اشارہ کرکے فرمایا کہ میرا ایک چچا زاد بھائی یہاں رہا کرتا تھا،غزوہ خندق کے دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آنے کی اجازت مانگی، کیونکہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور اسلحہ ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ وہ اپنے گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے، اس نے اپنی بیوی کی طرف نیزے سے اشارہ کیا تو اس نے کہا کہ مجھے مارنے کی جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ مجھے گھر سے باہر نکلنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے؟ وہ گھر میں داخل ہوا تو وہاں ایک عجیب و غریب سانپ نظر آیا، اس نے اسے اپنا نیزہ دے مارا، اور نیزے کے ساتھ اسے گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا، مجھے نہیں خبر کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا، وہ نوجوان یا سانپ؟ اس کی قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ سے دعاء فرمائیے کہ وہ ہمارے ساتھی کو ہمارے پاس لوٹا دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اپنے ساتھی کے لئے استغفار کرو، پھر فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین مرتبہ ڈرائے پھر بھی اگر اسے مارنا مناسب سمجھے تو تیسری مرتبہ کے بعد مارے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10943

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10944

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10945

قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَتْ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ قَالَ حَجَّاجٌ لَصُعِقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھالیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو، اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس! مجھے کہاں لے جاتے ہو؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بے ہوش ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10946

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ فَقَلَّبَهُ بِعُودٍ كَانَ فِي يَدِهِ ظَهْرَهُ لِبَطْنِهِ فَقَالَ تَاهَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُنْ فَهُوَ هَذَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں جو لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10947

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے، اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو، لیکن اس سے کوئی اثر قبول نہ کرتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10948

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِعَةِ فَأَوْجَعَهُ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِعَةٌ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ

ابونضر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں درد ہو رہا تھا ، انہوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری پر رکھی ہوئی تھی کہ ان کے ایک بھائی صاحب آئے اور اپنا ہاتھ اسی ٹانگ پر مارا جس میں درد ہو رہا تھا، اس سے ان کے درد میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ میرے پاؤں میں درد ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ کہنے لگا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے سے لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10949

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَقَالَ اقْلِبُوهُ لِظَهْرِهِ فَقُلِبَ لِظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ اقْلِبُوهُ لِبَطْنِهِ فَقُلِبَ لِبَطْنِهِ فَقَالَ تَاهَ سِبْطٌ مِمَّنْ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے الٹا کرو ، لوگوں نے اسے الٹا کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اسے پیٹ کی جانب پلٹو، چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10950

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضع حمل سے پہلے جانوروں کے پیٹ میں موجود بچے خریدنے اور ماپے بغیر ان کے تھنوں میں موجود دودھ خریدنے سے، بھگوڑا غلام اور تقسیم سے قبل مالِ غنیمت اور قبضہ سے پہلے صدقات خریدنے سے منع فرمایا ہے، نیز غوطہ خور کی ایک چھلانگ پر جو ہاتھ میں آنے کی بنیاد پر معاملہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10951

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ أَوْ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتا یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10952

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ أَبَا سَعِيدٍ فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ أَسْرَعُ مِنْ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگدستی کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوسعید! صبر کرو، کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر وفاقہ اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جو اوپر کی جانب سے نیچے آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10953

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10954

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ يَوْمَ الْفِطْرِ صَلَّى بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَبِالْخَاتَمِ وَبِالشَّيْءِ فَإِنْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ لَهُمْ وَإِلَّا انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر سلام پھیر کر کھڑے ہوجاتے اور آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کر دیا کرتی تھیں ، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمادیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10955

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ دَلَكَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے میں تھوکا اور اسے مل لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10956

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَوْهَمَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے زیادہ رکعتیں پڑھ لی ہیں یا کم کر دی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10957

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ابْنَتَانِ أَوْ أُخْتَانِ فَيَتَّقِي اللَّهَ فِيهِنَّ وَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10958

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا مُشَبِّكٌ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفْطِنْ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنْ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی معیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سمجھ نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ہو تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے، مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10959

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ هَبَطَ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے کہ میں اسے قبول کر لوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں ؟۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10960

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا فَقَالَ اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع سے قبل رکوع اور ان کے سر اٹھانے سے پہلے اپنا سر اٹھالیا، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ایسا کس نے کیا ہے؟ اس شخص نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسا کیا ہے، دراصل میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو نامکمل کرنے سے بچو، جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10961

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَقَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الذِّئْبَ قَطَعَ ذَنَبَ شَاةٍ لِي فَأُضَحِّي بِهَا قَالَ نَعَمْ وَقَالَ عَفَّانُ عَنْ ذَنَبِ شَاةٍ لَهُ فَقَطَعَهَا الذِّئْبُ فَقَالَ أُضَحِّي بِهَا قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یا کسی اور نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک بھیڑیا میری بکری کی دم کاٹ کر بھاگ گیا ہے، کیا میں اس کی قربانی کرسکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کرسکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10962

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10963

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ حَجَجْنَا فَنَزَلْنَا تَحْتَ شَجَرَةٍ وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ فَنَزَلَ فِي نَاحِيَتِهَا فَقُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ مَا صَبَّ هَذَا عَلَيَّ قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا أَلْقَى مِنْ النَّاسِ وَمَا يَقُولُونَ لِي يَقُولُونَ إِنِّي الدَّجَّالُ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الدَّجَّالُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ قَالَ قُلْتُ بَلَى وَقَالَ قَدْ وُلِدَ لِي وَقَدْ خَرَجْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَكَأَنِّي رَقَقْتُ لَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ لَأَنَا قَالَ قُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حج کیا، ہم ایک درخت کے نیچے اترے، ابن صائد آیا اور اس نے بھی اس کے ایک کونے میں پڑاؤ ڈال لیا، میں نے " اناللہ " پڑھ کر سوچا کہ یہ کیا مصیبت میرے گلے پڑ گئی ہے؟ اسی دوران وہ کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں ، اور مجھے دجال کہتے ہیں کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، میں نے کہا کیوں نہیں ، اس نے کہا کہ پھر میرے یہاں تو اولاد بھی ہے اور میں مدینہ منورہ سے نکلا ہوں اور مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے، میرے دل میں اس کے لئے نرمی پیدا ہوگئی، لیکن وہ آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اب کہاں ہے؟ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ کم بخت! تو برباد ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10964

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10965

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارًا يَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَقْرَأُ إِلَّا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ایک پڑوسی ہے، وہ ساری رات قیام کرتا ہے لیکن سورت اخلاص کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتا، اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بہت تھوڑی چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10966

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَالْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ

ابن ابی صعصعہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو اس لئے تم اپنی بکریوں یا جنگل میں جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیونکہ جو چیز بھی " خواہ جن و انس ہو، یا پتھر" اذان کی آواز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10967

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَليُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے، اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10968

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ الْوَتْرَ أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا أَوْ إِذَا أَصْبَحَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو گیا یا بھول گیا، اسے چاہئے کہ جب یاد آجائے یا بیدار ہوجائے، تب پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10969

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیوںکہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10970

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَلَا حَرَجَ أَوْ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ۔ پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا، اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10971

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى أَحْسِبُهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان اور عادی شراب خور جنت میں نہیں جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10972

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ وَقَالَ مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم (ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان) کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، اتفاقاً ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں کوئی جھاڑ پھونک جانتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ چونکہ تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی لہٰذا ہم یہ کام اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک تم اس کی اجرت مقرر نہیں کرتے، انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ مقرر کر دیا، تو ایک آدمی نے اس آدمی کے پاس جا کر سورت فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، تا آنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں ، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی شامل کر دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10973

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا شَيْئًا فَوَجَدْنَاهُ أَعْطَيْنَاهُ إِيَّاهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے، اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10974

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ هِلَالِ بْنِ حِصْنٍ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ قَالَ فَحَدَّثَ أَنَّهُ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنْ الْجُوعِ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَوْ أُمُّهُ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ فَقَالَ قُلْتُ حَتَّى أَلْتَمِسَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَمَسْتُ فَأَتَيْتُهُ قَالَ حَجَّاجٌ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ اسْتَعَفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَغْنَى يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ أَبُو حَمْزَةَ الشَّاكُّ وَمَنْ يَسْتَعِفُّ عَنَّا أَوْ يَسْتَغْنِي أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّنْ يَسْأَلُنَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَمَا سَأَلْتُهُ شَيْئًا فَمَا زَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْزُقُنَا حَتَّى مَا أَعْلَمُ فِي الْأَنْصَارِ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ حِصْنٍ أَخَا بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ دَارَ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

بلال بن حصن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، ایک موقع پر ہم دونوں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن جب صبح ہوئی تو انہوں نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا، ان کی بیوی یا والدہ نے ان سے کہا کہ فلاں فلاں آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر امداد کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دیا لہٰذا تم بھی جا کر ان سے درخواست کرو، میں نے کہا کہ میں پہلے تلاش کرلوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے تو نہیں ، تلاش کے بعد جب مجھے کچھ نہ ملا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے، اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یا پھر اس سے غمخواری کریں گے، یہ سن کر آدمی واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا اس کے بعد اللہ نے ہمیں اتنا رزق عطاء فرمایا کہ اب میرے علم کے مطابق انصار میں ہم سے زیادہ مالدار گھرانہ کوئی نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10975

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خواہ اسے دیکھ لے یا مشاہدہ کرلے یا سن لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10976

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10977

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ وَلَا خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10978

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ عَامًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کردے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10979

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10980

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَصَلَّى مَعَهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون اس پر صدقہ کرکے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10981

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ إِبْرَاهِيمَ وَمَسْجِدِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10982

قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10983

وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10984

وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فِي حَدِيثِهِ قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَزَعَةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ وَلَمْ يَشُكَّ ثَلَاثَ لَيَالٍ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10985

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي عِيسَى الْحَارِثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10986

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ فَقَالَ أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ فَقَالُوا هَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10987

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً بَقِيَتْ مِنْ رَمَضَانَ مَخْرَجَهُ إِلَى حُنَيْنٍ فَصَامَ طَوَائِفُ مِنْ النَّاسِ وَأَفْطَرَ آخَرُونَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10988

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْجَنِينِ ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیٹ کے بچے کے ذبح ہونے کے لئے اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی کافی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10989

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10990

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ يَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10991

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10992

وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ

اور کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10993

وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10994

وَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10995

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا إِنَّهُ نَشْوَانُ فَقَالَ إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ قَالَ فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا

ابن دواک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے حضرت ابوسعید خدری سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا ہے کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10996

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحِلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمْ الْوَطْبَ أَوْ الرَّاوِيَةَ أَوْ السِّقَاءَ مِنْ اللَّبَنِ فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی اونٹنی کے تھنوں پر بندھا ہوا دھاگا اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھولے، کیوںکہ وہ ان کی مہر ہے، جب تم کسی جنگل میں ہو اور وہاں تمہیں دودھ کا کوئی مٹکا یا مشکیزہ نظر آئے تو تین مرتبہ اونٹ کے مالکان کو آواز دو، اگر وہ تمہیں پلا دیں تو پی لو، ورنہ مت پیو، اور اگر تم ضرورت مند ہو اور تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو تو اسے تم میں سے دو آدمی روک لیں ، پھر اسے پی لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10997

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ يُتَوَخَّى فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا أَعْلَمُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہم کے بارے میں مروی ہے کہ اس کا قصد کیا جاتا ہے، ایک آدمی نے راوی سے پوچھا کیا یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے؟ تو راوی نے کہا کہ میرے علم کے مطابق تو ایسا ہی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10998

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 10999

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11000

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالنَّاسُ صِيَامٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاةً وَنَبِيُّ اللَّهِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ فَقَالَ اشْرَبُوا أَيُّهَا النَّاسُ قَالَ فَأَبَوْا قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَيْسَرُكُمْ إِنِّي رَاكِبٌ فَأَبَوْا قَالَ فَثَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ فَنَزَلَ فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ وَمَا كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَشْرَبَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11001

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا زَيْدٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے تم حدیث بیان کر سکتے ہو، لیکن میری طرف جھوٹی نسبت نہ کرنا کیوں کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے اور بنی اسرائیل کے حوالے سے بھی بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11002

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلَّ سِبْطَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الضِّبَابَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں دو قبیلے گم ہوگئے تھے، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ گوہ ہی نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11003

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الْإِيَادِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لَا تُعْرَفُ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوْ بِالْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا دنیا بڑی سر سبز و شاداب اور شیریں ہے، لہٰذا اس سے اور عورتوں سے بچو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی تین عورتوں کا ذکر کیا جن میں سے دو کا قد اتنا لمبا تھا کہ دور سے ہی پہچان لی جاتی تھیں اور ایک ٹھگنے قد کی تھی، اس نے (اپنا قد اونچا کرنے کے لئے ) لکڑی کی دو مصنوعی ٹانگیں بنوا لیں ، اب جب وہ چلتی تو اس کے دائیں بائیں کی عورتیں چھوٹی لگتیں، پھر اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے سب سے بہترین خوشبو مشک بھر دی، اب جب بھی وہ کسی مجلس سے گذرتی تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتی اور وہاں اس کی خوشبو پھیل جاتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11004

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ أَمِيرِ عَامَّةٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا اور حکمران کے دھوکے سے بڑھ کر کسی کا دھوکہ نہ ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11005

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَوْ بَشَرٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ أَوْ رَآهُ أَوْ سَمِعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کر لے یا سن لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11006

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر نہ بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11007

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ وَلَا تُفَضِّلُوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر نہ بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11008

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! ہمارے مد میں برکت عطاء فرما، اے اللہ! ہمارے صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دوگ نافرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11009

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے، آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو، اے اللہ! اپنے بندے اور پیغمبر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اسی طرح درود نازل فرما جیسے ابراہیم علیہ السلام پر نازل کیا تھا اور محمد و آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر برکتوں کا نزول فرما جیسے ابراہیم و آل ابراہیم علیہ السلام پر کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11010

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ ابْنِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَةً وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا مَاذَا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے، ہمارا گذر بنو سالم پر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن عتان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور ان کا نام لے کر انہیں آواز دی، اس وقت ابن عتان اپنی بیوی سے اپنی خواہش کی تکمیل کر رہے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھ کر فرمایا شاید ہم نے انہیں جلدی فراغت پر مجبور کر دیا، ابن عتان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل منی کے خروج پر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11011

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ طَعَامًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَا رُزِقَ الْعَبْدُ رِزْقًا أَوْسَعَ لَهُ مِنْ الصَّبْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے اہلِ خانہ نے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے اور انسان کو صبر سے زیادہ وسیع رزق کوئی نہیں دیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11012

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کر لیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کر سکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11013

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ مُرَّ عَلَى مَرْوَانَ بِجَنَازَةٍ فَلَمْ يَقُمْ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ قَالَ فَقَامَ مَرْوَانُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان کے سامنے سے کسی جنازے کا گذر ہوا لیکن وہ کھڑا نہیں ہوا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جنازہ گذرا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، اس پر مروان کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11014

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کر لو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11015

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11016

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ إِذَا رَأَى أَمْرًا لِلَّهِ فِيهِ مَقَالٌ أَنْ يَقُولَ فِيهِ فَيُقَالُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ فَيَقُولُ رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ أَنْ تَخْشَى وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ يَعْنِي فِي الْحَدِيثِ وَإِنِّي كُنْتُ أَحَقُّ أَنْ تَخَافَنِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے۔ کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا، اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11017

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ النَّارِ بَعْدَمَا احْتَرَقُوا وَصَارُوا فَحْمًا فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَنْبُتُونَ فِيهَا كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلَيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ السَّعْدَانَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ لوگ جہنم سے اس وقت نکلیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے تو غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11018

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11019

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ"

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11020

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ وَوَكِيعٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودُوا الْمَرْضَى وَاتَّبِعُوا الْجَنَائِزَ تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ الْمَرِيضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11021

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْجَوْزَاءِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي فِي الصَّرْفِ قَالَ فَأَفْتَيْتُ بِهِ زَمَانًا قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ فَرَجَعَ عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَلِمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ

ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے معاملے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک فتویٰ سنا اور ایک عرصہ تک لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا، جب دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا ، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ صرف میری رائے تھی جو میں نے قائم کر لی تھی، بعد میں مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11022

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فِرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11023

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَادَّخِرُوا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کا گوشت کھا بھی سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11024

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11025

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہو جایا کرو، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11026

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11027

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنْ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنْ السُّمِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " کا ایک جزو ہے، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے اور عجوہ جنت کی کھجور ہے اور وہ زہر سے بھی شفاء دے دیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11028

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11029

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ جوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج جاری رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11030

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ بَعْدِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11031

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ قَالَ يَزِيدُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ قَالَ يَزِيدُ لَا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَا حِنْطَةٍ بِصَاعٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں ، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11032

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11033

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَتْرُكْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے، اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11034

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ قَالَ تُرِكَ مَا هُنَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے خلافِ سنت کام کیا ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کر سکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11035

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْدِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں ہی کو ثواب ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11036

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَجَعَلْنَا نَعْزِلُ عَنْهُمْ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْفِدَاءَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11037

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلیٰ میں کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11038

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11039

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَصَلَّاهَا وَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا وَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ قَالَ وَذَلِكُمْ قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ اللَّهُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نمازیں پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد کچھ وقت بیت گیا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی، یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا، اور اللہ طاقتور اور غالب ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب عمدہ کر کے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں پڑھاتے تھے، پھر اقامت کہلوا کر نمازِ عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت میں پڑھائی، اس وقت تک نماز خوف کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11040

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11041

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ عِلِّيِّينَ لَيَرَاهُمْ مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُمْ كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11042

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَنَسِيَ كَمْ صَلَّى أَوْ قَالَ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا سَمِعَهُ بِأُذُنِهِ أَوْ وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11043

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں ، اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11044

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11045

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں سفر پر جاتے تھے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کر لیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11046

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ بِالْكُوفَةِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَنَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ فَاسْتَطْعَمْنَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا شَيْئًا فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ فِيكُمْ رَجُلٌ يَرْقِي فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ مَلِكُ الْقَرْيَةِ يَمُوتُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَرَدَّدْتُهَا عَلَيْهِ مِرَارًا فَعُوفِيَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِطَعَامٍ وَبِغَنَمٍ تُسَاقُ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُقْنَا الْغَنَمَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْنَاهُ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ روانہ فرمایا، میں بھی جس میں شامل تھا، ہم ایک بستی میں پہنچے اور اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے گروہِ عرب! کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ ہماری بستی کا سردار مر جائے گا، ہم اس کے ساتھ چلے گئے اور میں نے کئی مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر اسے دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا، انہوں نے ہمارے پاس کھانا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لئے بکریاں بھیجیں ، میرے ساتھیوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی، لہٰذا ہم اسے اس وقت تک نہیں لیں گے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ پہنچ جائیں ، چنانچہ ہم نے بکریاں ہانکتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو، میں نے عرض کر دیا کہ میرے دل میں یوں ہی آگیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11047

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتْشٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے تو سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک ا سمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک کہہ کر تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے، پھر یوں کہتے اعوذبا اللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر دوبارہ یوں کہتے اعوذبا اللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11048

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنِ الْمُعَلَّى الْقُرْدُوسِيِّ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، کیوں کہ حق بات کہنے سے یا اہم بات ذکر کرنے سے موت قریب نہیں آجاتی اور رزق دور نہیں ہو جاتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11049

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ وَقَالَ يَزِيدُ تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں ، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں ، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11050

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11051

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي وَلِيدَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَأَنَا أُرِيدُ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعُمُ أَنَّ الْمَوْءُودَةَ الصُّغْرَى الْعَزْلُ فَقَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک باندی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ، میں وہی چاہتا ہوں جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11052

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا عِيَاضٌ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ إِنَّ أَحَدَنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فِي صَلَاتِكَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے، اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11053

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ قَالَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کمی بیشی کے ساتھ لیکن نقد سونے چاندی کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دو کے بدلے میں ایک یا کمی بیشی کے ساتھ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ، کچھ عرصے کے بعد مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت تک حیات تھے، میں نے ان سے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نقد کے ساتھ دونوں کا وزن بھی برابر ہو، میں نے ان سے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے مجھے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی جائز ہے اور میں تو اس وقت سے لوگوں کو بھی یہی مسئلہ بتارہا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ یہ میری رائے تھی، بعد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی تو میں نے حدیث کے سامنے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11054

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ بِحَدِيثٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الصَّرْفِ قَالَ فَقَدِمَ أَبُو سَعِيدٍ فَنَزَلَ هَذِهِ الدَّارَ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ بِيَدِي وَيَدِ الرَّجُلِ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا سَعِيدٍ فَقَامَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُنِي هَذَا عَنْكَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ فَمَا نَسِيتُ قَوْلَهُ بِإِصْبَعَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَلَا لَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ

نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11055

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11056

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رُبَيْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ قَالَ فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَعْرَابِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ أَيَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً وَلَدْتِ غُلَامًا فَأَعْطَتْهُ شَاةً وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ قَالَ فَذَبَحَ الشَّاةَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ قَالَ رَجُلٌ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ فَأَخْبَرَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّيًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَيِّئًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے اور جب پڑاؤ کیا تو مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے، میں اس ٹولی میں چلا گیا جہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی آدمی بھی تھا، ہم لوگ دیہاتیوں کے جس گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں ایک عورت " امید " سے تھی، اس دیہاتی نے اس خاتون سے کہا کہ کیا تمہاری خواہش ہے کہ تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہو؟ اگر تم مجھے ایک بکری دو تو تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہوگا، اس عورت نے اسے ایک بکری دے دی، اور اس دیہاتی نے ایک وزن کے کئی ہم قافیہ الفاظ اس کے سامنے (منتر کے طور پر) پڑھے اور پھر بکری ذبح کرلی۔ جب لوگ کھانے کے لئے دستر خوان پر بیٹھے تو ایک آدمی نے لوگوں سے کہا کیا آپ کو معلوم بھی ہے کہ یہ بکری کیسی ہے؟ پھر اس نے لوگوں نے سارا واقعہ سنایا تو میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے حلق میں انگلیاں ڈال کر قے کر رہے ہیں اور اسے باہر نکال رہے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11057

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَعْجَبَنِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ وَكَانَ فِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا قَالَ فَأُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْهُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

قزعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو وہ مجھے اچھی لگی، میں نے ان کے قریب جا کر ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اس پر وہ شدید ناراض ہوئے اور کہنے لگے کیا میں کوئی ایسی حدیث بیان کروں گا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہو؟ ہاں ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11058

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ زَوْجِهَا أَوْ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11059

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صِيَامَ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو دن یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ نہ رکھا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11060

وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو نمازوں یعنی نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل نہ پڑھے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11061

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْمِعْوَلِيُّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِىِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِىِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا وَيَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ غِنًى فَلَا يَحْتَاجُ أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ فَيُنَادِي مُنَادٍ مَنْ لَهُ فِي الْمَالِ حَاجَةٌ قَالَ فَيَقُومُ رَجُلٌ فَيَقُولُ أَنَا فَيُقَالُ لَهُ ائْتِ السَّادِنَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ قَالَ لَكَ الْمَهْدِيُّ أَعْطِنِي قَالَ فَيَأْتِي السَّادِنَ فَيَقُولُ لَهُ فَيُقَالُ لَهُ احْتَثِي فَيَحْتَثِي فَإِذَا أَحْرَزَهُ قَالَ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ نَفْسًا أَوَعَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ قَالَ فَيَمْكُثُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ أَوْ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ فَيَنْدَمُ فَيَأْتِي بِهِ السَّادِنَ فَيَقُولُ لَهُ لَا نَقْبَلُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی خوشخبری سناتا ہوں جو میری امت میں اس وقت تک ظاہر نہ ہوگا جب اختلافات اور زلزلے بکثرت ہوں گے، اور وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہوگی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی، اور اس کے زمانے میں اللہ امت محمدیہ کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا، اور کوئی کسی کا محتاج نہ رہے گا، حتیٰ کہ وہ ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ نداء لگاتا پھرے گا کہ جسے مال کی ضرورت ہو وہ ہمارے پاس آجائے، تو صرف ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے، وہ اس سے کہے گا کہ تم خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مجھے مال عطاء کرو، خزانچی حسبِ حکم اس سے کہے گا کہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اٹھالو، جب وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ لے گا تو اسے شرم آئے گی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ میں تو امت محمدیہ میں سب سے زیادہ بھوکا نکلا، کیا میرے پاس اتنا نہیں تھا جو لوگوں کے پاس تھا۔ (یہ سوچ کر وہ سارا مال واپس لوٹا دے گا، لیکن وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ ہم لوگ دے کر واپس نہیں لیتے) سات، یا آٹھ، یا نو سال تک یہی صورتِ حال رہے گی، اس کے بعد زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11062

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ مَوْلَى بَنِي عَنْزٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اللہ کی مہربانی کے بغیر جنت میں نہیں جاسکے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی نہیں ؟ فرمایا میں بھی نہیں ، الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11063

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ وَمَا تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11064

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَجِيحٍ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِنَّ مِنَّا رِجَالًا هُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ وَأَكْثَرُنَا صَلَاةً وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ وَأَكْثَرُنَا صَوْمًا خَرَجُوا عَلَيْنَا بِأَسْيَافِهِمْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

یزید الفقیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہم میں کچھ آدمی تھے جو ہم سب سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرتے، سب سے زیادہ نماز پڑھتے، صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے، لیکن اب وہ ہمارے سامنے تلواریں سونت کر آگئے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11065

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی اور اس پر سجدہ کیا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11066

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فِي الْحَرِّ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ هَكَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نماز ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11067

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ قَالَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ

حضرت ابوسیعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے، ہم ڈر گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11068

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَخْرَجَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ وَأَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَكُ يُخْرَجُ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکتھا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11069

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مُتَوَشِّحًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلّو دونوں کندھوں پر ڈال کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11070

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ حَدِيثًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّرْفِ فَأَخَذَ يَدِي فَذَهَبْتُ أَنَا وَهُوَ وَالرَّجُلُ فَقَالَ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ تَأْثُرُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّرْفِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُفَضِّلُوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ

نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11071

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَنِينِ النَّاقَةِ وَالْبَقَرَةِ فَقَالَ إِنْ شِئْتُمْ فَكُلُوهُ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی یا گائے کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مر جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھا سکتے ہو کیونکہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11072

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا اثر ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11073

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نمازِ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11074

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ أَوْ سَمِعَهُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ و قَالَ أَبُو نَضْرَةَ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب ودبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کر لے یا سن لے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کاش! میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11075

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِيَاضٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ أَحَدُنَا يُصَلِّي لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنْ أَتَاهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں ۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11076

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک باندی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں ، میں وہی چاہتا ہوں کہ جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11077

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْقَدَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے؟ کیا تم اسے رزق دو گے؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11078

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11079

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُوا يَوْمَيْنِ وَلَا تُصَلُّوا صَلَاتَيْنِ وَلَا تَصُومُوا يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دن کا روزہ اور دو موقع پر نماز نہ پڑھو، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کا روزہ نہ رکھو، نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نمازِ عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نوافل نہ پڑھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11080

وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ

کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11081

وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ

اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11082

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ مَرْوَانُ اجْلِسْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَامَ مَرْوَانُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ

عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے کسی جنازے کا گذر ہوا، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے لیکن مروان کہنے لگا کہ بیٹھ جائیے ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جنازہ گذرا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، اس پر مروان کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11083

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ يُصَلِّي تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11084

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِيَاضٌ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ قَالَ يَحْيَى لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ فَيَقُومُ قَائِمًا فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَيَقُولُ تَصَدَّقُوا فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِالْخَاتَمِ وَالْقُرْطِ وَالشَّيْءِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَضَعَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرما لیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں ، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ چلے جاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11085

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَفَّانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالُوا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11086

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں ؟ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11087

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11088

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَمِّهِ عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَدَخَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا جَالِسًا وَسَطَ الْمَسْجِدِ مُشَبِّكًا بَيْنَ أَصَابِعِهِ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفْطِنْ قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی معیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں اور اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ نہ سمجھ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے آئے تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے مسجد سے نکلنے تک اس کاشمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11089

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ مَا لَمْ يَجِدْ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ يَسْمَعْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11090

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ عِيدٍ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ مَرْوَانُ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کر سکتا تودل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11091

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا مَعَ أَبِيهَا أَوْ أَخِيهَا أَوْ ابْنِهَا أَوْ زَوْجِهَا أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین یا زیادہ دن کا سفر اپنے باپ، بھائی، بیٹے، شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11092

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ مِثْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11093

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پہلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11094

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَيْوَةُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ تَنْفَعَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11095

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَيْوَةُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11096

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَكَوَّنُ بِي

اورگذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے سچا خواب دیکھا کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار نہیں کر سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11097

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر رات کو وہ" ناپاک " ہو جائیں تو پھر سونا چاہیں تو کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر کے سو جایا کریں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11098

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْطٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُودَهُ وَتَحَفَّظَ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ كَفَّرَ مَا كَانَ قَبْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کو پہچانے اور جن چیزوں سے بچنا چاہیے ان سے بچے تو وہ اس کے گذشتہ سارے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11099

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سب سے پسندیدہ اور مجلس کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب شخص منصف حکمران ہوگا اور اس دن سب سے زیادہ مبغوض اور سخت عذاب کا مستحق ظالم حکمران ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11100

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمْ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمْ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَهَذَا أَتَمُّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے پر بندھا ہوا ہو، کہ گھوڑا گھوم پھر کر اپنے کھونٹے ہی کی طرف واپس آتا ہے اور مؤمن بھی گھوم پھر کی ایمان ہی کی طرف واپس آجاتا ہے، سو تم اپنا کھانا پرہیز گاروں اور نیکوکار مسلمانوں کو کھلایا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11101

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ قَالَ يَعْنِي لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ وَقَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمَا خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11102

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَأَعْجَبَهُ جَوْدَتُهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَخَذْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ لِنَطْعَمَهُ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں پیش کی گئیں ، جن کی عمدگی آپ کو بہت اچھی لگی، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہم نے آپ کے تناول فرمانے کے لئے دو صاع کے بدلے ایک صاع لی ہیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس سے منع فرما دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11103

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11104

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ فَقَسَمَ مِنْهَا جُزْءًا وَاحِدًا بَيْنَ الْخَلْقِ فَبِهِ يَتَرَاحَمُ النَّاسُ وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں ، جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں ، اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11105

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ عِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَجَعَلَ عِنْدَكُمْ وَاحِدَةً تَرَاحَمُونَ بِهَا بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَبَيْنَ الْخَلْقِ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّهَا إِلَيْهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں ، اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں اور قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی ان ننانوے کے ساتھ ملا دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11106

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُهَا قَالَ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز میں چوری کیسے ہو سکتی ہے؟ فرمایا اس طرح کہ رکوع و سجود کو مکمل ادا نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11107

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيُخْرَجُونَ قَدْ امْتَحَشُوا وَعَادُوا فَحْمًا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَوْ قَالَ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَنْبُتُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان پایا جاتا ہو اسے جہنم سے نکال لو، جب انہیں وہاں سے نکالا جائے گا تو وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، پھر وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں جس کا نام نہر حیات ہوگا، غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11108

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ عَيْنٍ وَنَفْسٍ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہیں ؟ فرمایا جی ہاں ! تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، نظر بد کے شر سے اور نفس کے شر سے، اللہ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11109

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ قَالَ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ قَالَ مُؤْمِنٌ اعْتَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ أَوْ الشُّعْبَةِ كَفَى النَّاسَ شَرَّهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مؤمن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11110

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹا دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11111

وَقَالَ حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا قَالَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

اور فرمایا بنی اسرائیل کے حوالے سے بیان کر سکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ، میرے حوالے سے بھی حدیث بیان کر سکتے ہو، البتہ میری طرف جھوٹی نسبت نہ کرنا، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11112

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قِسْمًا إِذْ جَاءَهُ ابْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْتَقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَيُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيَّتِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنْ النَّاسِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ الْآيَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کا خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا، اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی" ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11113

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوۃ حلال نہیں سوائے پانچ مواقع کے، زکوۃ وصول کرنے والے کے لئے ، اپنے مال سے اسے خریدنے والے کے لئے ، مقروض کے لئے ، جہاد فی سبیل اللہ میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے غریب پڑوسی کو کسی نے صدقہ کی کوئی چیز بھیجی ہو اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیۃً بھیج دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11114

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَكُونُ فِي خُطْبَتِهِ الْأَمْرُ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِيَّةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدا لاضحی کے دن خطبے سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے اور اس خطبے کے حوالے سے احکام بیان فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11115

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ سُتْرَتِكَ أَحَدٌ فَارْدُدْهُ فَإِنْ أَبَى فَادْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے، اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11116

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى يَقُولُ سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ إِنِّي أَرَى الْقَذَى فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهُ

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو۔ اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11117

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات کے گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچا لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11118

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ كِلَاهُمَا يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي كُنْتُ حَرَّمْتُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ وَقَالَ الْآخَرُ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11119

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ قَالَا ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا فِي الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ أَوَتَدْرِ مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَإِ قَالَ رَوْحٌ بِالْمُوكَإِ مَرَّتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کے وفد میں کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان ہوں ، مشروبات کے حوالے سے ہمارے لئے کیا مناسب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نقیر " میں کوئی چیز نہ پیا کرو، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ" نقیر " کے بارے جانتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! وہ لکڑی جو درمیان سے کھوکھلی کر لی جائے، اسی طرح کدو اور مٹکے میں بھی نہ پیا کرو بلکہ سر بند مشکیزے میں پیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11120

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْضِ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس نفس کو وجود عطاء فرمانے کا فیصلہ کر لیا ہو وہ وجود میں آکر رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11121

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہو تو وہ سحری تک ایسا کر لے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11122

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُجِيبُونَنِي أَلَا تَقُولُونَ أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً سَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شُعْبَتَكُمْ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ جمع ہو کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہِ انصار! کیا تم ذلت کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں عزت عطاء فرمائی؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ کیا تم میرے متعلق یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا ، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ؟ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اور تم لوگ میرے بعد بھی ترجیحات دیکھو گے، اس موقع پر صبر کرنا تاآنکہ تم مجھ سے حوضِ کوثر پر آملو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11123

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ قَالَ ثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11124

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے، اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11125

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کر دیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11126

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ قَالَ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا، اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اسے صدقات دے دیے ، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہو سکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11127

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَصَعِقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو، اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس! مجھے کہاں لے جاتے ہو؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بے ہوش ہوجائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11128

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ وثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا فَيَمُوتُ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا

ابوسعید رحمۃ اللہ علیہ " جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ (میرے بھائی کا انتقال ہوا تو میں ) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدینہ منورہ سے ترک وطن کے بارے ان سے مشورہ کیا، اہل و عیال کی کثرت اور سفر کی مشکلات کا ذکر کیا، اور یہ کہ اب مدینہ منورہ کی مشقت پر صبر نہیں ہو رہا، انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے، میں تو تمہیں یہاں سے جانے کا مشورہ نہیں دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا جب کہ وہ مسلمان بھی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11129

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فَأَنْكَرَهَا فَقَالَ أَنَّى لَكَ هَذَا قَالَ اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11130

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى قَالَ شُرَحْبِيلُ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ فَأَدْخَلَنِي اللَّهُ النَّارَ

شرجیل کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے بعینہ برابر برابر بیچا جائے، جو شخص اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے اس نے سودی معاملہ کیا، شرجیل کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ حدیث اپنے کانوں سے نہ سنی ہوتی تو اللہ مجھے جہنم میں داخل فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11131

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ فَرَقَاهُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَحَاسِدٍ يَشْفِيكَ أَوْ قَالَ اللَّهُ يَشْفِيكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، اور ہر نفس کے شر سے اور نظر بد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے، میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11132

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ هَذَا فَيَقُولُونَ لَا فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَيُدْعَى مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَ هَذَا قَوْمَهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُقَالُ وَمَا عِلْمُكُمْ فَيَقُولُونَ جَاءَنَا نَبِيُّنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا قَالَ يَقُولُ عَدْلًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ایک نبی آئیں گے، ان کے ساتھ صرف ایک آدمی ہوگا، ایک نبی کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے، ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پیغامِ توحید پہنچا دیا تھا؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ جواب دیں گے نہیں ، پیغمبر سے کہا جائے گا کہ آپ کے حق میں کون گواہی دے گا؟ وہ جواب دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، چنانچہ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی قوم کو پیغامِ توحید پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کیسے پتہ چلا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی آئے تھے اور انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ تمام پیغمبروں نے پیغامِ توحید پہنچا دیا تھا، یہی مطلب ہے اس آیت کا " کذالک جعلناکم امۃ وسطاً " کہ اس میں وسط سے مراد معتدل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11133

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11134

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنِ سُمَيٍّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11135

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ الْآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي أَلَا وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرا اہل بیت ہیں ، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر آپہنچیں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11136

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلو کندھوں پر ڈال کر بھی نماز پڑھ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11137

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11138

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم میں زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11139

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ وَعَنْ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت واضح نہ کر دی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11140

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11141

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ إِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیونکہ نماز کی برکت سے اللہ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11142

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیونکہ نماز کی برکت سے اللہ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11143

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ وَهَذِهِ أُخْتِي تُوَاصِلُ وَأَنَا أَنْهَاهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صومِ وصال سے منع فرمایا ہے، میری یہ بہن اس طرح روزے رکھتی ہے اور میں اسے منع بھی کرتا ہوں (لیکن یہ باز نہیں آتی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11144

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ ثَمَرٍ و قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ تَمْرٍ وَقَالَ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11145

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11146

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11147

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلَا خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ وَمَالِكٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11148

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11149

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي الْخُزَاعِيَّ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غُسْلُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11150

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ وَأَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ثُمَّ يَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا يَرَى شَيْئًا وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلَا يَرَى شَيْئًا وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا بِهِ مَالِكٌ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں ایک قوم نکلے گی ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11151

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَكَانَ صَدِيقًا لِي فَقُلْتُ اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقُلْتُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَقَالَ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11152

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُلَفَائِكُمْ خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11153

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ يَدٌ بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَقِيتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ لَا بَأْسَ فَقَالَ أَوَقَالَ ذَاكَ أَمَّا إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلَنْ يُفْتِيَكُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا فَقَالَ كَانَ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْءِ وَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ فَقَالَ أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَيْءٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنْ الثَّمَرِ

ابو نضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کی فروخت کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا جب کہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ، انہوں نے فرمایا کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم انہیں خط لکھیں گے کہ وہ یہ فتویٰ نہ دیا کریں ، بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے فرمایا کہ یہ ہمارے علاقے کی کھجور نہیں لگتی، اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا، اس کے قریب بھی نہ جانا، جب تمہیں اپنی کوئی کھجور اچھی نہ لگے تو اسے بیچو پھر اپنی مرضی کی خرید لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11154

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ وَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِيكَ الْبَقْلَةِ فِي الثُّومِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا وَنَاسٌ جِيَاعٌ ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ نَاسٌ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے بعد ہم لوگ اس سبزی (لہسن) پر جھپٹ پڑے اور ہم نے اسے خوب کھایا، کچھ لوگ ویسے ہی خالی پیٹ تھے، جب ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا، حرام ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے، مجھے اسے حرام قرار دینے کا اختیار نہیں ہے، البتہ مجھے اس درخت کی بو پسند نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11155

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ نَصَبٌ وَلَا وَصَبٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا حَزَنٌ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا اللَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف،غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں ، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11156

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَسَمِعْتَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ

نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس کے گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11157

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطَّرِيقِ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَلَى الصُّعُدَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا قَالَ فَأَدُّوا حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّهَا قَالَ رُدُّوا السَّلَامَ وَغُضُّوا الْبَصَرَ وَأَرْشِدُوا السَّائِلَ وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کر لیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11158

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ذَاتَ يَوْمٍ بِنَهَارٍ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُنَا إِلَى أَنْ غَابَتْ الشَّمْسُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا مِمَّا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثَنَاهُ حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَ وَنَسِيَ ذَلِكَ مَنْ نَسِيَ وَكَانَ فِيمَا قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ يُجْزَى بِهِ وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْأَخْلَاقَ فَقَالَ يَكُونُ الرَّجُلُ سَرِيعَ الْغَضَبِ قَرِيبَ الْفَيْئَةِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ وَيَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْئَةِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ فَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْئَةِ وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْئَةِ قَالَ وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ تَتَوَقَّدُ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَجْلِسْ أَوْ قَالَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ الْمُطَالَبَةَ فَقَالَ يَكُونُ الرَّجُلُ حَسَنَ الطَّلَبِ سَيِّئَ الْقَضَاءِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ وَيَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ فَخَيْرُهُمْ الْحَسَنُ الطَّلَبِ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ وَشَرُّهُمْ السَّيِّئُ الطَّلَبِ السَّيِّئُ الْقَضَاءِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ النَّاسَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ فَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ثُمَّ قَالَ فِي حَدِيثِهِ وَمَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ اتِّقَاءُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ مَنَعَنَا ذَلِكَ قَالَ وَإِنَّكُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ ثُمَّ دَنَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ فَقَالَ وَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنْ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ عصر پڑھائی اور اس کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل قیامت تک پیش آنے والے حالات بیان کرتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایا، جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدو ثناء کرنے کے بعد منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی فرمایا لوگو! دنیا سرسبز وشاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہوگا، بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور جلدی راضی ہوجائے، اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے راضی ہو، اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر سے ہی جائے، یا جلدی آئے اور جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر اخلاق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غصہ ایک چنگاری ہے، جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور اس کی رگوں کا پھول جاناہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے وہ زمین پر لیٹ جائے۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض ادا کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے، اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اس انداز میں مطالبہ کرے، اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے، چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مومن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں ، کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہی ہو کر مرجاتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں مومن ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہو کر مرجاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پید ا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور مومن ہو کر مرجاتے ہیں ۔ یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جب کہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو۔ پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! دنیا کی جتنی عمر گذر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو آج اسے گذرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11159

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَالِدًا يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي الْوَدَّاكِ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَرَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ مُجَالِدٍ عَلَى الطِّنْفِسَةِ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11160

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَكَى فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کر طرف نکل گئے ، بخدا ہم نے ان کے لئے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا ، وہ خود ہی کھڑے رہے ، ہم نے انہیں ہڈیاں اور ٹھیکریاں ماریں ، انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے ، اور عرض حرہ میں جا کر کھڑے ہوگئے ، ہم نے انہیں چٹانوں کے بڑے پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11161

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11162

حَدَّثَنَا زَكَرِيِّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا بَالُ أَقْوَامٍ تَقُولُ إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي لَمَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی ، اللہ کی قسم میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں بڑی رہے گی ، اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11163

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11164

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ أَبِي كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ فَوْقَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فِي مَوَاضِعَ أُخَرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عروت دو دن سے زیادہ کا سفر اپنے شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11165

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11166

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11167

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا فَقَالَ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُهُ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا فَلَا تَقْرَبَنَّهُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مَا بَدَا لَكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا ، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو صاع رومی کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوہ! یہ تو عین سود ہے ، اس کے قریب بھی مت جاؤ البتہ پہلے اپنی کھجوروں کو بیج لو ، پھر اس قیمت کے ذریعے جو مرضی خریدو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11168

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا أَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ لَا تُوطَأُ حَامِلٌ قَالَ أَسْوَدُ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً قَالَ يَحْيَى أَوْ تَسْتَبْرِئَ بِحَيْضَةٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے ، تاآنکہ وضع حمل ہو جائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کا ایک دور گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11169

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وِصَالَ يَعْنِي فِي الصَّوْمِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11170

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَمُعَاوِيَةُ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور ، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11171

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ قَالَ ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمُسِخُوا دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں کھانے کے لئے اکثر گوہ ہوتی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ، تھوڑی دیر بعد اس نے پھر یہی سوال کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی اسے جواب نہ دیا ، تین مرتبہ اسی طرح ہوا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر اللہ کی لعنت یا غضب نازل ہوا ، اور ان کی شکلوں کو مسخ کر دیا گیا تھا ، کہیں یہ وہی نہ ہو اس لئے میں اسے کھانے کا حکم دیتا ہوں نہ ہی منع کرتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11172

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْأَحْوَلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَوْ مُعَاوِيَةُ بْنُ فُلَانٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ الْمَيِّتُ يَعْرِفُ مَنْ يُغَسِّلُهُ وَيَحْمِلُهُ وَيُدَلِّيهِ قَالَ فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَمَرَّ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میت اپنے اٹھانے والوں ،غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے ، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس سے اٹھ کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، اتفاقاً حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گذرے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11173

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرْ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرْ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ وَلَا تُفْضِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی دوسرے آدمی کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے، کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے اور کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11174

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر قیدی ملے، یہ وہی غزوہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ملی تھیں ، ہم میں سے بعض لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ ان باندیوں کو اپنے گھروں میں رکھیں اور بعض کا ارادہ یہ تھا کہ ان سے فائدہ اٹھا کر انہیں بیچ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم عزل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ہے، اللہ نے جو فیصلہ فرمالیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11175

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُحْتَبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11176

حَدَّثَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنْ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ فَكَفَّ الْقَارِئُ فَقَالَ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَحَلَّقَ بِهَا يُومِئُ إِلَيْهِمْ أَنْ تَحَلَّقُوا فَاسْتَدَارَتْ الْحَلْقَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي قَالَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ہم لوگ ایک دوسرے سے اپنی شرمگاہیں چھپا رہے تھے، اور ایک قاری صاحب ہمارے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے اور ہم اسے سن رہے تے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ شمار کر سکیں ، قاری صاحب ایک دم رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے قاری صاحب ہمیں قرآن کریم کی تلاوت سنا رہے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنانے کا اشارہ کیا، وہ لوگ حلقے کی شکل میں گھوم گئے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا اور فرمایا اے غریبوں کے گروہ! خوش ہو جاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا" پہلے جنت میں داخل ہوگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11177

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنْ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ مِنْ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلرَّجُلِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11178

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ وَسُرَيْجٌ قَالَ ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّ بِي ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ أَصْبَحْتَ غَادِيًا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ وَادِّخَارِهِ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ وَالْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کر دی ہے نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبیذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بے ہودہ بات نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11179

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ بَهْزٌ السَّمَّانُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ قَالَ بَهْزٌ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے، اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11180

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11181

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ صَلَاةٌ فِي الطُّورِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِلْمَطِيِّ أَنْ تُشَدَّ رِحَالُهُ إِلَى مَسْجِدٍ يُبْتَغَى فِيهِ الصَّلَاةُ غَيْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11182

وَلَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ دَخَلَتْ الْإِسْلَامَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا مُسَافِرَةً إِلَّا مَعَ بَعْلٍ أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا

کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11183

وَلَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ فِي سَاعَتَيْنِ مِنْ النَّهَارِ مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَرْحَلَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11184

وَلَا يَنْبَغِي الصَّوْمُ فِي يَوْمَيْنِ مِنْ الدَّهْرِ يَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَوْمِ النَّحْرِ

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11185

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ : إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ حَدَّثَنَا عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر گھر اور منبر کا درمیانی حصہ جنت کا ایک باغ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11186

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ يَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11187

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی آدمی جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11188

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ قِيلَ مَا سِيمَاهُمْ قَالَ سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ وَالتَّسْبِيتُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرق کی جانب سے ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر سے شکار نکل جاتا ہے اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، کسی نے ان کی نشانی پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی نشانی ٹنڈ کرانا اور لیس دار چیزوں سے بالوں کو جمانا ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11189

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11190

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11191

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11192

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11193

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِبِلًا وَإِنِّي أُرِيدُ الْهِجْرَةَ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتُؤَدِّي زَكَاتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ انْطَلِقْ وَاعْمَلْ وَرَاءَ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا وَإِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11194

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَيَقُولَ مَنْ صَعِقَ تِلْكُمْ الْغَدَاةَ فَيَقُولُونَ صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب لوگوں پر بے ہوشی کے دورے بڑی بکثرت سے پڑنے لگیں گے، حتیٰ کہ ایک آدمی لوگوں سے آکر پوچھے گا کہ صبح تم سے پہلے کون بے ہوش ہوا تھا اور وہ جواب دیں گے کہ فلاں اور فلاں شخص۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11195

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَقْسِمُ مَالًا إِذْ أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ فَوَاللَّهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ لَا إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ صَاحِبُهُ إِلَى فُوقِهِ فَلَا يَرَى شَيْئًا آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ كَالْبَضْعَةِ أَوْ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ يَخْرُجُونَ عَلَى فِرْقَتَيْنِ مِنْ النَّاسِ يَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِاللَّهِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنِّي شَهِدْتُ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُمْ فَالْتَمَسَ فِي الْقَتْلَى فَوَجَدَ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کو خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا، اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی" ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا گیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11196

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور کان لگا کر لوگوں کی باتیں سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11197

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَكَ وَخَيْبَرَ قَالَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي بَقْلَةٍ لَهُمْ هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ قَالَ فَرَاحُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رِيحَهَا فَتَأَذَّى بِهِ ثُمَّ عَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَلَا لَا تَأْكُلُوهُ فَمَنْ أَكَلَ مِنْهَا شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَجْلِسَنَا قَالَ وَوَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَنَصَبُوا الْقُدُورَ وَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ فَكَفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ كَفَأَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فدک اور خیبر کے غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، اللہ نے اپنے پیغمبر کو دونوں موقعوں پر فتح عطاء فرمائی، تو لوگوں نے یہ لہسن اور پیاز خوب کثرت کے ساتھ کھایا، جب نماز کے وقت وہ مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو سے اذیت محسوس ہوئی، لوگوں نے جب دوبارہ اسے کھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت کھایا کرو ، جو شخص اس میں سے کچھ کھائے تو وہ ہماری مجلس کے قریب نہ آئے۔ اسی طرح غزوہ خیبر کے موقع پر لوگوں نے پالتو گدھوں کا گوشت بھی حاصل کیا، اور ہنڈیاں چڑھا دیں ، ان میں میری ہنڈی بھی شامل تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ، اس پر ساری ہانڈیاں الٹا دی گئیں، ان میں میری ہنڈیا بھی شامل تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11198

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي صَلَاةٍ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ قَالَ وَقَلَّلَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ فَأَتَيْتُهُ فَأَجِدُهُ يُقَوِّمُ عَرَاجِينَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا هَذِهِ الْعَرَاجِينُ الَّتِي أَرَاكَ تُقَوِّمُ قَالَ هَذِهِ عَرَاجِينُ جَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِيهَا بَرَكَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهَا وَيَتَخَصَّرُ بِهَا فَكُنَّا نُقَوِّمُهَا وَنَأْتِيهِ بِهَا فَرَأَى بُصَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَفِي يَدِهِ عُرْجُونٌ مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ فَحَكَّهُ وَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّ رَبَّهُ أَمَامَهُ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ لَمْ قَالَ سُرَيْجٌ لَمْ يَجِدْ مَبْصَقًا فَفِي ثَوْبِهِ أَوْ نَعْلِهِ قَالَ ثُمَّ هَاجَتْ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَقَالَ مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ قَالَ عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ وَقَالَ خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ قَالَ فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنْ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ فَقَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر حال بیان فرمایا۔ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا! اگر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان سے اس گھڑی کے متعلق ضرور پوچھوں گا، ہوسکتا ہے انہیں اس کا علم ہو، چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ چھڑیاں سیدھی کر رہے ہیں ، میں نے ان سے پوچھا اے ابوسعید! یہ کیسی چھڑیاں ہیں جو میں آپ کو سیدھی کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ چھڑیاں ہیں جن میں اللہ نے ہمارے لئے برکت رکھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پسند فرماتے تھے اور انہیں چھپایا کرتے تھے۔ ہم انہیں سیدھا کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ان میں سے ہی ایک چھڑی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھڑی سے اسے صاف کر دیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے مت تھوکے کیونکہ سامنے اس کا رب ہوتا ہے، بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ پھر اسی رات خوب زوردار بارش ہوئی، جب نمازِ عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک دم بجلی چمکی، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ پر پڑی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا قتادہ! رات کے اس وقت میں (اس بارش میں ) آنے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے معلوم تھا کہ آج نماز کے لئے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے تو میں نے سوچا کہ میں نماز میں شریک ہو جاؤں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پڑھ چکو تو رک جانا، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس سے گذرنے لگوں ۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو ایک چھڑی دی اور فرمایا یہ لے لو، یہ تمہارے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی دے گی، پھر جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور وہاں کسی کونے میں کسی انسان کا سایہ نظر آئے تو اس کے بولنے سے پہلے اسے اس چھڑی سے مار دینا کہ وہ شیطان ہوگا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس وجہ سے ہم ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ اے ابوسعید! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ساعت جمعہ کے حوالے سے ایک حدیث سنائی تھی، کیا آپ کو اس ساعت کا علم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ساعت کے متعلق دریافت کیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پہلے تو وہ گھڑی بتائی گئی تھی لیکن پھر شب قدر کی طرح بھلا دی گئی، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکل کر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11199

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ وَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ مَسَّ مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ اس دن عمدہ کپڑے پہنے اور اگر موجود ہو تو خوشبو بھی لگائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11200

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرَةَ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَتْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُفْتِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ لَهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11201

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ فَقَالَ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا

عمرو بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گذرے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جارہا ہوں ، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ اے ابوسعید! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا گوشت کھانے، کچھ مشروبات اور قبرستان جانے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا اور ذخیرہ کرسکتے ہو کیونکہ اللہ نے وسعت پید ا کر دی ہے، نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبیذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو، لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بے ہودہ بات نہ کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11202

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْنَا أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ قَالَ فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ انْتَظَرَ شُهُودَهُ وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ قَالَ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى قَالَ فَقُلْنَا أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ قَالَ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكَانَ الْأَمْرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم قریب المرگ لوگوں کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لاتے، اس کے لئے استغفار فرماتے اور اس کے مرنے تک ویہیں بیٹھے رہتے جس میں بعض اوقات بہت زیادہ دیر بھی ہوجاتی تھی، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت ہوتی، بالآخر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانی اسی میں ہے کہ کسی کے مرنے سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ کریں ، چنانچہ اس کے بعد ہم نے یہ معمول اپنالیا کہ جب ہم میں سے کوئی شخص فوت ہوجاتا تب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اہل خانہ کے پاس آکر اس کے لئے استغفار کرتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، پھر اگر رکنا مناسب سمجھتے تو رک جاتے ورنہ واپس چلے جاتے۔ کچھ عرصے تک ہم اس دوسرے معمول پر عمل کرتے رہے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانی اس میں ہے کہ ہم جنازے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس لے جائیں اور اس کی تشخیص و تعیین نہ کریں ، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور اب تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11203

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ و حَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11204

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْعِيدَيْنِ وَعَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ شَيْءٌ وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11205

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور چھو کر یا کنکری پھینک کر خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11206

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْعَلَانِيَةِ مُسْلِمٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ قُلْتُ فَالْجُفُّ قَالَ ذَاكَ أَشَرُّ وَأَشَرُّ

ابوالعلانیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے پوچھا کہ کھوکھلی لکڑی کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ تو اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11207

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مُضِبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ قَالَ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کر دیا گیا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11208

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11209

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ فِي وَادٍ أَوْ شِعْبٍ وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11210

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ نِكَاحَيْنِ سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے اور عورت اور اس کی خالہ یا عورت اور اس کی پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11211

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، (بیع مزابنہ سے مراد درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11212

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَرِّزٍ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنْ الْجَيْشِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مُزَاحًا وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ أَوْ يَصْطَلُونَ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِنْ صَنَعْتُمُوهُ قَالُوا بَلَى قَالَ أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ قَالَ احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر جس میں میں بھی شامل تھا، علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا، جب ہم اپنی منزل پر پہنچے یا راستے ہی میں تھے تو حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جو بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں حس مزاح بہت تھی، ان کا امیر مقرر کر دیا، ان کے ساتھ واپس آنے والوں میں میں بھی تھا۔ راستے میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا پکانے کے لئے یا سردی دور کرنے کے لئے آگ جلائی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہنے لگے کہ کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے کہا کہ میں تمہیں جو حکم دوں گا وہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں اپنے حق اور اطاعت کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کے لئے کمر کسنے لگے، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں چھلانگ لگا دیں گے تو انہوں نے کہا رک جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، لوگوں نے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم کو کسی گناہ کے کام کا حکم دے اس کی اطاعت مت کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11213

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ غُلَامًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ذَاتَ يَوْمٍ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّى لَكَ هَذَا التَّمْرُ فَقَالَ هَذَا صَاعٌ اشْتَرَيْنَاهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ أَيِّ تَمْرٍ شِئْتَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11214

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جُلِدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ كُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں شراب نوشی کی سزا میں چالیس جوتے مارے جاتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جوتے کی جگہ کوڑے مقرر کر دیئے گئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11215

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11216

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ فَأُسْقِطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ فَجَعَلَ أَبُو سَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ فَقُلْتُ يَا خَالُ مَا تَصْنَعُ فَقَالَ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْ الذُّبَابِ سُمٌّ وَالْآخَرَ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ

سعید بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، وہ ہمارے لئے مکھن اور کھجوروں کا گچھا لے کر آئے، اچانک کھانے میں ایک مکھی گر پڑی، انہوں نے اپنی انگلی سے اسے ڈبو دیا، میں نے ان سے کہا کہ ماموں ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے کہ مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے، اس لئے کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دو کیونکہ وہ زہر والے پر کو پہلے ڈالتی ہے اور شفاء والے پر کو پیچھے کر لیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11217

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَحَجَّاجٌ قَالَا أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَأَحْسَنَ كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر اقامت کہلوا کر نمازِ عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی۔ اس وقت تک نماز خوف کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11218

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا فَقَالَ نَعَمْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ وَمَا هُوَ قُلْنَا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ الْمُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا وَتَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهَا فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا فَقَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

معبد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیا ہوتا ہے؟ ہم نے بتایا کہ ایک آدمی کی بیوی بچے کو دودھ پلا رہی ہوتی ہے، اسی زمانے میں وہ اس کے قریب جاتا ہے لیکن وہ اس کے دوبارہ امید سے ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا لہٰذا آبِ حیات کو باہر ہی خارج کر دیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کی ایک باندی ہو اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ ہو، وہ اس کے قریب جاتا ہے لیکن اس کے امید سے ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا، لہٰذا وہ عزل کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اولاد کا ہونا تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11219

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَالْمُسْتَمِرِّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے مشک بھر دی، اور مشک سب سے بہترین خوشبو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11220

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبَايَا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ وَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمیں قیدی ملے، ہمیں عورتوں کی خواہش تھی اور تنہائی ہم پر بڑی شاق تھی، اور چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، قیامت تک جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11221

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ فَقَالُوا يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ مَحْلُوقٌ قَالَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي قَالَ فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَتْلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا مُرُوقِ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی ہو" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، قرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، بعض قریشی صحابہ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صناد یدِ نجد کو دیئے جاتے ہیں اور ہمیں چھوڑے دیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اتنی دیر میں گہری آنکھوں ، سرخ رخساروں ، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہو اور سر منڈوایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو اس کی اطاعت کون کرے گا؟ کیا اللہ مجھے اہل زمین پر امین بنائے اور تم مجھے اس کا امین نہیں بنا سکتے؟غالباًحضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور جب وہ چلا گیا تو فرمایا کہ اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت برستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پالیا تو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11222

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرُهُ وَعَنْ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت نہ واضح کر دی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11223

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11224

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں آنے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11225

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَيُعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مِنْ أَهْلِ الْكَرَمِ فَقِيلَ وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے عنقریب یہاں جمع ہونے والوں کو معزز لوگوں کا پتہ چل جائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! معزز لوگوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا مسجدوں میں مجلس ذکر والے لوگ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11226

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11227

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَفَّسَ وَهُوَ يَشْرَبُ فِي إِنَائِهِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَإِذَا تَنَفَّسْتَ فَنَحِّ الْمَاءَ عَنْ وَجْهِكَ قَالَ فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فَأَنْفُخُهَا قَالَ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَأَهْرِقْهَا وَلَا تَنْفُخْهَا

ابو المثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11228

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيَّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ الْعُمَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ مَوْلَى آلِ أَبِي سَعِيدٍ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت اس شخص کے پاس ہوگی جو اپنی بیوی سے بے حجاب ہو اور وہ اس سے بے حجاب ہو، پھر وہ شخص اپنی بیوی کو پوشیدہ باتیں پھیلاتا پھرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11229

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى قَالَ أَبِي سَمَّاهُ سُرَيْجٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَيْسَرَةَ الْخُرَاسَانِيَّ عَنْ عَتَّابٍ الْبَكْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُجَالِسُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ هَكَذَا لَحْمٌ نَاشِزٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

غیاث بکری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ منورہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں شریک ہوتے تھے، میں نے ایک مرتبہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت " جو دو کندھوں کے درمیان تھی " کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان گوشت کا اتنا بڑا بھرا ہوا ٹکڑا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11230

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے تو سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک کہتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11231

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكَ وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا، مسواک کرنا، اور اپنی گنجائش کے مطابق خوشبو لگاناخواہ اپنے گھر کی ہو، واجب ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11232

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَبَرَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11233

حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَكَانَ أَحَدَ الصَّالِحِينَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ فَقُلْتُ لَهُ أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ

محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے مرض الوفات میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام کہہ دیجئے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11234

حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لغزشیں اور ٹھوکریں کھانے والا ہی بردبار بنتا ہے اور تجربہ کار آدمی ہی عقلمند ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11235

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ح وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11236

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ مَوْلًى لِآلِ عَلِيٍّ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ كَانَتْ جَنَازَةٌ فِي الْحِجْرِ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ فَوَسَّعُوا لَهُ فَأَبَى أَنْ يَتَقَدَّمَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا

عبدالرحمن بن ابی عمرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی، جب وہ آئے تو انہیں دیکھ کر لوگوں نے اپنی جگہ سے ہٹنا شروع کر دیا، لیکن انہوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین مجلس وہ ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11237

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ خَلَا مِنْ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَدَعَا بَنِيهِ فَقَالَ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مَاتَ فَأَحْرِقُوهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فَحْمًا فَاسْحَقُوهُ ثُمَّ أَذْرُهُ فِي يَوْمٍ يَعْنِي رِيحًا عَاصِفًا قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي فَفَعَلُوا وَرَبِّي لَمَّا مَاتَ أَحْرَقُوهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فَحْمًا سَحَقُوهُ ثُمَّ أَذْرَوْهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ قَالَ رَبُّهُ كُنْ فَإِذَا هُوَ رَجُلُ قَائِمٌ قَالَ لَهُ رَبُّهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ قَالَ رَبِّ خِفْتُ عَذَابَكَ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا أَنْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ الْحَسَنُ مَرَّةً مَا تَلَاقَاهُ غَيْرُهَا أَنْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ قَتَادَةُ رَجُلٌ خَافَ عَذَابَ اللَّهِ فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنْ مَخَافَتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا، جسے اللہ نے مال و اولاد سے خوب نواز رکھا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا لیکن تمہارے باپ نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا، اس لئے جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا، اور تیز آندھی والے دن سمندر میں بہا دینا اس نے ان سے اس پر وعدہ لیا، انہوں نے وعدہ کر لیا اور اس کے مرنے کے بعد وعدے پر عمل کیا، اللہ نے " کن " فرمایا تو وہ جیتا جاگتا کھڑا ہوگیا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اللہ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11238

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُمْلَأُ الْأَرْضُ جَوْرًا وَظُلْمًا فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي يَمْلِكُ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، اور وہ سات یا نو سال تک رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11239

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ أَلَا وَلَا غَدْرَ أَعْظَمُ مِنْ إِمَامِ عَامَّةٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈ ا ہوگا ، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11240

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ رَجُلَانِ يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا أَوْ رَجَوْتَنِي فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ وَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً وَيَقُولُ لِلْآخَرِ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا أَوْ رَجَوْتَنِي فَيَقُولُ نَعَمْ يَا رَبِّ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِذْ أَخْرَجْتَنِي أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا أَبَدًا فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَى وَأَغْدَقُ مَاءً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا أَقِرَّنِي تَحْتَهَا فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَيَيْنِ وَأَغْدَقُ مَاءً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَأَقِرَّنِي تَحْتَهَا فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَا يَتَمَالَكُ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَلْ وَتَمَنَّ وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَسْأَلَ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ ابْنَ آدَمَ لَكَ مَا سَأَلْتَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے سب سے آخر میں دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک سے اللہ فرمائے گا کہ اے بنی آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا نہیں ، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے دوبارہ جہنم میں داخل کر دیا جائے گا اور وہ تمام اہل جہنم میں سب سے زیادہ حسرت کا شکار ہوگا، پھر دوسرے سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا جی پروردگار! مجھے امید تھی کہ اگر تونے مجھے ایک مرتبہ جہنم سے نکالا تو دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے جنت میں داخل کر کے دنیا اور اس سے ایک گناہ مزید دیا جائے گا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتے رہیں اور میں اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتا رہتا ہوں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11241

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَفْلَحَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارِ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11242

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَجَلَسَ الْأَعْرَابِيُّ فِي آخِرِ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَأَمَرَهُ فَأَتَى الرَّحَبَةَ الَّتِي عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک دیہاتی آدمی مسجد نبوی میں داخل ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ پیچھے بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے دو رکعتیں پڑھی ہیں اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، چنانچہ اس نے منبر کے پاس آکر دو رکعتیں پڑھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11243

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَجَدَ رِيحَ ثُومٍ مِنْ رَجُلٍ فَقَالَ لَهُ لَمَّا فَرَغَ يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَأْكُلُ مِنْ هَذَا الْخَبِيثِ ثُمَّ يَأْتِي فَيُؤْذِينَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ حَنَشٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ایک آدمی کے منہ سے لہسن کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی جا کر اس گندی چیز کو کھاتا ہے اور پھر ہمارے پاس آکر ہمیں اذیت دیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11244

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كَالْمُهْلِ قَالَ كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قَرُبَ إِلَيْهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " کالمھل " کی تفسیر میں فرمایا جیسے زیتون کے تیل کا تلچھٹ ہوتا ہے، جب وہ کسی جہنمی کے قریب کیا جائے گا تو اس کے چہرے کی کھال جھلس جائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11245

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ لَهِيعَةَ قَالَ ثَنَا دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ قَالَ طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي قَالَ لَهُ رَجُلٌ وَمَا طُوبَى قَالَ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جنہیں آپ کی زیارت نصیب ہوئی اور وہ آپ پر ایمان لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی طوبی (خوشخبری) ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لائے، اور طوبی پھر طوبی پھر طوبی ہے ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے، اس آدمی نے پوچھا کہ " طوبی " سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کہ یہ جنت کے ایک درخت کا نام ہے جس کی مسافت سو سال کے برابر ہے اور اہل جنت کے کپڑے اسی کی تہہ میں سے نکلیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11246

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11247

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11248

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ وَعَنْ إِلْقَاءِ الْحَجَرِ وَاللَّمْسِ وَالنَّجْشِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت واضح نہ کر دی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11249

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور بھی ہو، (چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیا) پھر جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11250

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُومَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ قَالَ ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ قَالَ قَدْ وَاللَّهِ شَهِدْنَاهُ فَمَا قُمْنَا بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اس کے علم میں آجائے، یہ کہہ کر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا بخدا! ہم نے یہ حالات دیکھے لیکن ہم کھڑے نہ ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11251

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي تِسْعٍ يَبْقَيْنَ وَسَبْعٍ يَبْقَيْنَ وَخَمْسٍ يَبْقَيْنَ وَثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب قدر کو رمضان کے عشرہ اخیر میں تلاش کیا کرو، جب کہ نو راتیں باقی رہ جائیں ، یا سات، یا پانچ یا تین۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11252

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ إِنِّي أَحْكُمُ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضا مندی ظاہر کر دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے، انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیں ، اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11253

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَأَلْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ أَرْبَعٌ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي قَالَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار چیزیں سنی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اپنے محرم شوہر کے بغیر کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11254

وَلَا يَصُومُ يَوْمَيْنِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11255

وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ

اور نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11256

وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا

اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11257

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11258

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11259

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتِسْعَ عَشْرَةَ أَوْ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ صَائِمُونَ وَأَفْطَرَ مُفْطِرُونَ فَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کر لیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11260

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل(مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11261

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَ النِّسَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ غَلَبَ عَلَيْكَ الرِّجَالُ فَعِدْنَا مَوْعِدًا فَوَعَدَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ قَدَّمَتْ ثَلَاثًا مِنْ وَلَدِهَا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ قَالَتْ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ قَالَ وَاثْنَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں ، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک وقت مقررہ کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ ونصیحت فرمائی، اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11262

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَقَدْ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَلَيْسَتْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ مِائَةً ثُمَّ إِنَّهُ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ اخْرُجْ مِنْ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ بِهَا إِلَى قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا فَاعْبُدْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا قَالَ فَخَرَجَ وَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فَاخْتَصَمَ فِيهِ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ قَالَ إِبْلِيسُ إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ قَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا فَزَعَمَ حُمَيْدٌ أَنَّ بَكْرًا حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ فَبَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا فَاخْتَصَمَا إِلَيْهِ رَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ قَالَ انْظُرُوا إِلَى أَيِّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ فَأَلْحِقُوهُ بِهَا قَالَ قَتَادَةُ فَقَرَّبَ اللَّهُ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ وَبَاعَدَ عَنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس کے بعد (توبہ کرنے کے ارادہ سے) یہ دریافت کرنے نکلا کہ (روئے زمین پر) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص بڑا عالم ہے، یہ شخص اس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ عالم نے کہا نہیں ، اس نے عالم کو بھی قتل کر دیا اس طرح سو کی تعداد پوری ہوگئی اور پھر لوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ اب سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک آدمی کا پتہ دیا یہ اس کے پاس گیا اور اس سے اپنا مدعا کہا عالم نے کہا ہاں اس میں کون سی رکاوٹ ہے، اس گندے علاقے سے نکل کر فلاں گاؤں میں جاؤ (وہاں تمہاری توبہ قبول ہوگی) اور وہاں اپنے رب کی عبادت کرو، یہ شخص اس گاؤں کی طرف چل دیا لیکن راستہ میں ہی موت کا وقت آگیا۔ مجبوراً یہ شخص سینہ کے بل اس گاؤں کی طرف گھسٹتا رہا اب رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اس شخص کی نجات اور عذاب کے متعلق باہم اختلاف کیا، شیطان نے آکر کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی میری نافرمانی نہیں کی تھی، اور رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے نکلا تھا ، (اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا اور) اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں میں سے یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہوا اسے اس میں ہی شمار کرلو، راوی کہتے ہیں کہ قبل ازیں وہ اپنی موت کا وقت قریب دیکھ کر نیک گاؤں کے قریب ہوگیا تھا لہٰذا فرشتوں نے اسے ان ہی میں شمار کرلیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11263

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ أَنَّهُمْ أَصَابُوا سَبَايَا فَأَرَادُوا أَنْ يَسْتَمْتِعُوا بِهِنَّ وَلَا يَحْمِلْنَ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمیں قیدی ملے، ہمیں عورتوں کی خواہش تھی اور تنہائی ہم پر بڑی شاق تھی، اور چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، قیامت تک جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11264

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمَّ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنَّهُ إِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ وِتْرًا صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا كَانَ ذَلِكَ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کر لے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11265

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات ولے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11266

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا نِسَاءً مِنْ سَبْيِ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَكَرِهْنَا أَنْ نَقَعَ عَلَيْهِنَّ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ قَالَ فَاسْتَحْلَلْنَا بِهَا فُرُوجَهُنَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ اوطاس کے قیدیوں میں مال غنیمت کے طور پر عورتیں ملی، وہ عورتیں شوہروں والی تھیں ، ہمیں یہ چیز اچھی محسوس نہ ہوئی کہ ان کے شوہروں کی زندگی میں ان سے تعلقات قائم کریں ، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ "شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں ، البتہ جو تمہاری باندیاں ہیں ان سے فائدہ اٹھانا حلال ہے" چنانچہ ہم نے انہیں اپنے لئے حلال سمجھ لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11267

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْغَضَنَّ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11268

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11269

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ فَقَالَ يَكْفِيكَ ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَكُفٍّ ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں ؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11270

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ قَالُوا يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ مَحْلُوقٌ قَالَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ يَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي قَالَ فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَتْلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ میں تو آسمان والے کا امین ہوں ، میرے پاس صبح شام آسمانی خبریں آتی ہیں ، اتنی دیر میں گہری آنکھوں ، سرخ رخساروں ، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہوا اور سر منڈایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا بدنصیب! کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہی نہیں ہوں ۔ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ بہت سے نمازی ایسے بھی ہیں جو اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کرتا پھروں یا ان کے پیٹ چاک کرتا پھروں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھا جو پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا اور فرمایا یاد رکھو! اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پالیا تو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11271

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنِ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدْ الْتَقَمَ الصُّورَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11272

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11273

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُؤَدِّي صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ جَاءَتْ السَّمْرَاءُ فَرَأَى أَنَّ مُدًّا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو ، پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دی جاتی تھی ۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم آگئی اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ اس کا ایک مد دو کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11274

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ مَقَالًا فَلَا يَقُولُ فِيهِ فَيُقَالُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ قُلْتَ فِي كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَخَافَةُ النَّاسِ فَيَقُولُ إِيَّايَ أَحَقُّ أَنْ تَخَافَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے۔ کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا، اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11275

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11276

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ أَوْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ و عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي التَّطَوُّعِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَالصَّوَابُ عَطِيَّةُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی طرف بھی ہوتا اور یہ نماز اشارے سے پڑھتے تھے، اور سجدہ ، رکوع کی نسبت زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11277

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11278

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11279

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ قَالَ فَخَرَجَ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ قَالَ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ قَزَعَةً سَمَّى الْغَيْمَ بِاسْمٍ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقًا لِرُؤْيَاهُ

ابوسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ باغ میں چل کر باتیں نہ کریں ، وہ چل پڑے، میں نے ان سے عرض کیا کہ شب قدر کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ مجھے بھی بتائیے ، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے کا اعتکاف فرمایا، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، حضرت جبریل ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جس چیز کو تلاش کررہے ہیں وہ آگے ہے۔ (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، اور اس میں بھی یہی ہوا) جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں ہی رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس وقت آسمان پر دور دور تک بادل نہیں تھے، اچانک بادل آئے، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی تصدیق تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11280

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَمْ يَعِبْ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا ، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11281

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ لِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَا يُشْبِهُ لَهُمْ إِلَّا أَهْلُ جُمُعَةٍ حِينَ انْصَرَفُوا مِنْ جُمُعَتِهِمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11282

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11283

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ آخِرَ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ النَّارِ يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ رَجَوْتَنِي فَيَقُولُ لَا أَيْ رَبِّ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً وَيَقُولُ لِلْآخَرِ يَا ابْنَ آدَمَ مَاذَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ أَوْ رَجَوْتَنِي فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ قَالَ فَيَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَى وَأَغْدَقُ مَاءً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَقِرَّنِي تَحْتَهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأَوَّلَتَيْنِ وَأَغْدَقُ مَاءً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ أَقِرَّنِي تَحْتَهَا فَيُدْنِيَهُ مِنْهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمْ يَتَمَالَكْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ الْجَنَّةَ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَسْأَلَهُ وَيَتَمَنَّى بِمِقْدَارِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى فَإِذَا فَرَغَ قَالَ لَكَ مَا سَأَلْتَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے سب سے آخر میں دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک سے اللہ فرمائے گا کہ اے بنی آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا نہیں ، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے دوبارہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور وہ تمام اہل جہنم میں سب سے زیادہ حسرت کا شکار ہوگا، پھر دوسرے سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا جی پروردگار! مجھے امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ایک مرتبہ جہنم سے نکالا تو دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا توکہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتے رہیں اور میں اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتا رہتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11284

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، چنانچہ جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11285

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَكَى فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، اور ہر حاسد کے شر سے اور نظربد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11286

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ حَرْفٍ مِنْ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کا ہر وہ حرف جس میں " قنوت'' ذکر کی گئی ہو، وہ طاعت ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11287

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ وَالصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَصْعَدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ویل " جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرنے کے بعد گہرائی تک پہنچنے سے قبل چالیس سال تک لڑھکٹا رہے گا، اور " صعود " آگ کے ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر وہ ستر سال تک چڑھے گا، پھر نیچے گر پڑے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11288

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَكْثِرُوا مِنْ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " باقیات صالحات " کی کثرت کیا کرو، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملت، کسی نے پوچھا اس سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملت، تیسری مرتبہ سوال پوچھنے پر فرمایا کہ اس سے مراد تکبیر و تہلیل اور تسبیح و تحمید اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11289

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّ الْكَافِرَ لَيَرَى جَهَنَّمَ وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کا دن کافر کو پچاس ہزار سال کے برابر محسوس ہوگا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی عمل نہ کیا تھا اور کافر جب چالیس سال کی مسافت سے جہنم کو دیکھے گا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ ابھی جہنم میں گر پڑے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11290

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنْ الْمِرْآةِ وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ فَيَرُدُّ السَّلَامَ وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ وَتَقُولُ أَنَا مِنْ الْمَزِيدِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنْ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی جنت میں ستر سال تک ٹیک لگائے رکھے گا اور پہلو نہ بدلے گا، اس دوران ایک عورت آئے گی اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دے گی، وہ اس کے چہرے پر نظر ڈالے گا تو وہ آئینہ سے زیادہ صاف ہوگا اور اس عورت کے جسم پر ایک ادنیٰ موتی بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ساری جگہ کو روشن کرنے کے لئے کافی ہوگا، وہ آکر اسے سلام کرے گی، وہ شخص اس کا جواب دے کر اس سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں ؟ وہ کہے گی کہ میں زائد انعام کے طور پر آپ کی ہوں ، اس کے جسم پر ستر کپڑے ہوں گے جن میں سب سے کم تر کپڑا بھی انتہائی ملائم ہوگا اور وہ طوبی درخت سے بنے ہوں گے، اس کے باوجود اس جنتی کی نگاہیں چھن کر اس کے جسم پر پڑیں گی اور اس کی پنڈلی کا گودا تک اس کے پیچھے سے اسے نظر آئے گا، اور اس کے سر پر ایسا شاندار تاج ہوگا جس کا ایک ادنیٰ موتی بھی مشرق و مغرب کی درمیانی جگہ کو روشن کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11291

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسم سرما مومن کے لئے موسم بہار ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11292

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِيَّ الدُّنْيَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ قیامت کا دن " جو پچاس ہزار سال کا ہوگا " کتنا لمبا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مسلمان کے لئے وہ دن اس فرض نماز سے بھی ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11293

وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَةٌ سَالِمٌ وَغَانِمٌ وَشَاجِبٌ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجالس تین طرح کی ہوتی ہیں ۔ سالم (گناہوں سے محفوظ) غانم (نیکیوں کا مال غنیمت بننے والی) اور شاجب (بک بک کرنے والی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11294

وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ ارْتِفَاعَهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِنَّ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَمَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " وفرش مرفوعہ " کی تفسیر میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، ان کی بلندی اتنی ہوگی جیسے آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11295

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب بندوں میں سے افضل ترین آدمی کون ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ، پھر میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ان کا درجہ مجاہد سے بھی بڑھ کر ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ کفار اور مشرکین میں اتنی تلوار چلائے کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں لت پت ہو جائے تب بھی ذکر کرنے والوں کا درجہ ان سے افضل ہی ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11296

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَذِنَا لَكَ قَالَ لَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ فَعَلَا وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے شرک سے تو ہجرت کرلی، البتہ جہاد باقی ہے، کیا یمن میں تمہارے والدین موجود ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان کی طرف سے تمہیں جہاد میں شرکت کی اجازت ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ ان سے اجازت لو، اگر وہ اجازت دے دیں تو بہت اچھا، ورنہ تم ان ہی کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11297

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ سَيُعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مِنْ أَهْلِ الْكَرَمِ فَقِيلَ وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَهْلُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے عنقریب یہاں جمع ہونے والوں کو معزز لوگوں کا پتہ چل جائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! معزز لوگوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا مسجدوں میں مجلس ذکر کرنے والے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11298

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ وَاثْنَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً وَيُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَيَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ وَصَنْعَاءَ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے کم درجہ اس آدمی کا ہوگا جس کے اسی ہزار خادم ہوں گے، بہتر بیویاں ہوں گی اور اس کے لئے موتیوں ، یاقوت اور زبرجد کا اتنا بڑا خیمہ لگایا جائے گا جیسے جابیہ اور صنعاء کا درمیانی فاصلہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11299

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي عِلِّيِّينَ وَمَنْ تَكَبَّرَ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً وَضَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے، حتیٰ کہ اس طرح اسے " علیین " میں پہنچا دیتا ہے اور جو شخص ایک درجہ اللہ کے سامنے تکبر کرتا ہے اللہ اسے ایک درجے نیچے گرا دیتا ہے، حتیٰ کہ اسے اسفل السافلین میں پہنچا دیتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11300

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں آنے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11301

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مہمان کا اکرام کب تک ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن تک، اس کے بعد اگر وہ وہاں ٹھہرتا ہے تو وہ صدقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11302

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور بعد میں اسے کسی دوسری چیز میں خیر نظر آئے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے ترک کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11303

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ أَثْنَى عَلَيْهِ مِنْ الْخَيْرِ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ لَمْ يَعْمَلْهَا وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ أَثْنَى عَلَيْهِ مِنْ الشَّرِّ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ لَمْ يَعْمَلْهَا

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف خیر کر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات ایسے کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کیے ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11304

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ إِبْلِيسُ أَيْ رَبِّ لَا أَزَالُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالَ فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11305

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمْ الْقَالَةُ حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ قَدْ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ قَسَمْتَ فِي قَوْمِكَ وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ وَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنْ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ قَالَ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي وَمَا أَنَا قَالَ فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ قَالَ فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسَ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ قَالَ فَجَاءَ رِجَالٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ فَدَخَلُوا وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ فَقَالَ قَدْ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ وَجِدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ قَالُوا بَلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ قَالَ أَلَا تُجِيبُونَنِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَصُدِّقْتُمْ أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَعَائِلًا فَأَغْنَيْنَاكَ أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِي لُعَاعَةٍ مِنْ الدُّنْيَا تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا وَوَكَلْتُكُمْ إِلَى إِسْلَامِكُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِحَالِكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ قَالَ فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ وَقَالُوا رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ قِسْمًا وَحَظًّا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقْنَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور دیگر قبائل عرب میں کچھ چیزیں تقسیم کیں ، انصار کے حصے میں اس میں سے کچھ بھی نہ آیا، یہ چیز ان کے ذہن میں آئی اور کثرت سے یہ باتیں ہونے لگیں حتیٰ کہ ایک آدمی نے یہ بھی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے جا ملے ہیں ، یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصار کا یہ قبیلہ آپ کے متعلق اپنے ذہن میں بوجھ کا شکار ہے کہ آپ نے اس مالِ غنیمت میں کیا طریقہ اختیار فرمایا، آپ نے اسے اپنی قوم میں تقسیم کر دیا اور قبائل عرب کو بڑے بڑے عطیے دیئے اور انصار کا اس میں سے کچھ بھی حصہ نہ ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ سعد! اس معاملے میں تم کس طرف ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری کیا حیثیت ہے، میں تو اپنی قوم کا صرف ایک فرد ہوں ، اور اس کے علاوہ میں کیا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بارے میں اپنی قوم کو جمع کرو۔ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے سب کو جمع کر لیا، کچھ مہاجرین بھی آئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی جانے دیا چنانچہ وہ اندر چلے گئے، کچھ دیگر مہاجرین آئے تو انہوں نے روک دیا، الغرض! جب سب جمع ہوگئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انصار جمع ہوگئے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اے گروہِ انصار! یہ کیا باتیں ہیں جو مجھے تمہارے طرف سے پہنچ رہی ہیں کہ تمہیں کچھ ناراضگی ہے۔ کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا، کیا تم مالی تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ تم ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے کہ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا احسان اور مہربانی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ بخدا! اگر تم چاہو تو یہ کہہ سکتے ہو اور اس میں تم سچے ہوگے، آپ ہمارے پاس اس حال میں آئے تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اے اللہ! انصار پر، ان کے بیٹوں پر اور ان کے پوتوں پر رحم فرما، اس پر وہ سب رونے لگے حتیٰ کہ ان کی ڈاڑھیاں ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئیں ، اور وہ کہنے لگے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے حصے اور تقسیم کے اعتبار سے راضی ہیں ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور وہ لوگ بھی منتشر ہوگئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11306

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الظَّفَرِيُّ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمأْجُوجُ يَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَغْشَوْنَ الْأَرْضَ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسًا حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهَرِ فَيَقُولُ قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنْ النَّاسِ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ قَالَ قَائِلُهُمْ هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسًّا فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ فَيَنْظُرَ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ قَالَ فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ قَدْ أَظَنَّهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيُنَادِي يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أَلَا أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ فَتَشْكَرُ عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا تَشْكَرُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ لوگوں پر اس طرح خروج کریں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ہر بلندی سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے تو وہ روئے زمین پر چھا جائیں گے اور مسلمان اپنے اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ جائیں گے، یاجوج ماجوج ان کے مویشیوں کو پکڑ لیں گے اور زمین کا سارا پانی پی جائیں گے، حتیٰ کہ ان میں سے کچھ لوگ ایک نہر سے گذریں گے تو اس کا سارا پانی پی کر اسے خشک کر دیں گے، پھر ان کے بعد ان ہی کے کچھ لوگ وہاں سے گذریں گے تو کہیں گے کہ کبھی یہاں بھی پانی ہوتا ہوگا۔ الغرض! جب روئے زمین پر کوئی انسان نہ بچے گا سوائے ان لوگوں کے جو قلعوں یا شہروں میں اپنے آپ کو محفوظ کر لیں گے تو ان میں سے ایک بولے گا کہ زمین والوں سے تو ہم نمٹ لئے اب آسمان والے رہ گئے، یہ کہہ کر وہ اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان اور آزمائش کے لئے خون میں لت پت کر کے ان کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گی اسی دوران اللہ ان کی گردنوں پر ٹڈی کی طرح ایک کیڑا مسلط کر دے گا جو ان کی گردنوں کے پاس نکل آئے گا اور بیک وقت وہ سارے مر جائیں گے اور اگلے دن ان کی کوئی آواز نہ سنائی دے گی، مسلمان آپس میں کہیں گے کہ کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنی جان کی بازی لگا کر یہ دیکھ کر آئے کہ اس دشمن کا کیا بنا؟چنانچہ آدمی ثواب کی نیت سے " یہ سمجھ کر وہ قتل ہو جائے گا " قلعے سے نیچے اترے گا تو دیکھے گا کہ وہ سب مرے پڑے ہیں ، اور ایک دوسرے کے اوپر ان کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں ، وہ اس وقت پکار کر کہے گا کہ اے گروہِ مسلمین! تمہارے لئے خوشخبری ہے اللہ نے تمہارے دشمن سے تمہاری کفایت فرمالی، چنانچہ مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں سے نکل آئیں گے، جب ان کے جانور چرنے کے لئے نکلیں گے تو ان کے لئے یاجوج ماجوج کا گوشت ہی چرنے کے لئے ہر طرف پھیلا ہوا ہوگا ، جسے کھا کر وہ اتنے صحت مند اور فربہ ہوجائیں گے کہ کسی گھاس وغیرہ سے کبھی اتنے صحت مند نہ ہوئے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11307

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ قَدْ احْتَرَقُوا وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ فَلَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11308

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَوْمَ يَوْمَ عِيدٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عید کے دن کوئی روزہ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11309

وَلَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ

کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے،

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11310

وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى قَالَ وَوَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَقَالَ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَاةٌ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ يَعْنِي مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ اور مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو رخصت کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ تمہارا کہاں کے سفر کا ارادہ ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا ارادہ بیت المقدس کا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب " مسجد حرام کو نکال کر " باقی تمام مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار درجہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11311

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْأَلُهُ يَقُولُ أَيْ عَبْدِي رَأَيْتَ مُنْكَرًا فَلَمْ تُنْكِرْهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ وَثِقْتُ بِكَ وَخِفْتُ النَّاسَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے ہر چیز کا حساب ہوگا، حتیٰ کہ یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سے رکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11312

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ سَلَفَ أَوْ قَالَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا قَالَ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِيهِ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ قَالَ فَفَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنْ يَقْدِرْ اللَّهُ عَلَيْهِ يُعَذِّبْهُ فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي أَوْ قَالَ فَاسْهَكُونِي ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَرَبِّي فَلَمَّا مَاتَ أَحْرَقُوهُ ثُمَّ سَحَقُوهُ أَوْ سَهَكُوهُ ثُمَّ ذَرُّوهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ لَهُ كُنْ فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ قَائِمٌ قَالَ اللَّهُ أَيْ عَبْدِي مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فَقَالَ يَا رَبِّ مَخَافَتَكَ أَوْ فَرَقًا مِنْكَ قَالَ فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا أَنْ رَحِمَهُ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَا أَبَا عُثْمَانَ فَقَالَ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ سَلْمَانَ غَيْرَ مَرَّةٍ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ ثُمَّ أَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا، جسے اللہ نے مال و اولاد سے خوب نواز رکھا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا لیکن تمہارے باپ نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا، اس لئے جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا، اور تیز آندھی والے دن سمندر میں بہا دینا اس نے ان سے اس پر وعدہ لیا، انہوں نے وعدہ کرلیا اور اس کے مرنے کے بعد وعدے پر عمل کیا، اللہ نے " کن " فرمایا تو وہ جیتا جاگتا کھڑا ہوگیا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اللہ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت فرما دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11313

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَرْبَعَةُ رِجَالٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11314

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ قُسَيْمٍ مَوْلَى عُمَارَةَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11315

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدْ اغْتُمِرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں اس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا ، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ٹخنوں تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ناک کے بانسے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ سینے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے آگ میں دھنسے ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11316

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ افْتَخَرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ النَّارُ أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُلُوكُ وَالْعُظَمَاءُ وَالْأَشْرَافُ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ وَالضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مِنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَيُلْقَى فِيهَا أَهْلُهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى وَتَقُولُ قَدْنِي قَدْنِي وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَتَبْقَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْقَى ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا بِمَا يَشَاءُ و قَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَتَبْقَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْقَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا، جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے، اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس، بس، بس اور جنت کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11317

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ ص فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى سَجْدَتِهَا قَالَ رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورت ص لکھ رہے ہیں جب آیت سجدہ پر پہنچے تو دیکھا کہ دوات، قلم اور ہر وہ چیز جو وہاں موجود تھی، سب سجدے میں گر گئے، بیدار ہو کر انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس میں سجدہ تلاوت کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11318

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11319

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قُلْتُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ مُحَمَّدٌ قَالَ لَا قَالَ اشْتَرَيْتُ أُضْحِيَّةً فَجَاءَ الذِّئْبُ فَأَكَلَ مِنْ ذَنَبِهَا أَوْ أَكَلَ ذَنَبَهَا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کر لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11320

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سُئِلَ عَنْ الْعَزْلِ قَالَ ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ أَوْ مَقَرَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے؟ کیا تم اسے رزق دو گے؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11321

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ قَالَ هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا " پھر جب ہم نے اپنی کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، پھر ان میں سے بعض اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو اور بعض نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں " فرمایا یہ سب ایک ہی مرتبے میں ہیں اور سب جنت میں جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11322

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنَّهَا تُصِيبُ قَوْمًا بِذُنُوبِهِمْ أَوْ خَطَايَاهُمْ حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَيُخْرَجُونَ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ قَالَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور وہ گروہ در گروہ وہاں سے نکلیں گے، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11323

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ أَوْ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11324

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11325

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَقْبَلْنَا فِي جَيْشٍ مِنْ الْمَدِينَةِ قِبَلَ هَذَا الْمَشْرِقِ قَالَ فَكَانَ فِي الْجَيْشِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُهُ وَلَا يُؤَاكِلُهُ وَلَا يُشَارِبُهُ وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ نَازِلٌ فِي مَنْزِلٍ لِي إِذْ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ جَالِسًا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ النَّاسُ لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ وَلَا يُؤَاكِلُنِي أَحَدٌ وَيَدْعُونِي الدَّجَّالَ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَإِنِّي وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ بِي هَؤُلَاءِ النَّاسُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأَخْلُوَ فَأَجْعَلَهُ فِي عُنُقِي فَأَخْتَنِقَ فَأَسْتَرِيحَ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّاسِ وَاللَّهِ مَا أَنَا بِالدَّجَّالِ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ أُمِّهِ وَاسْمِ الْقَرْيَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مشرق کی طرف سے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ منورہ سے واپس آرہے تھے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی شامل تھا، کوئی بھی اس سے بات چیت کرتا تھا اور نہ ہی اس کی رفاقت کے لئے تیار ہوتا تھا اور کوئی بھی اس کے ساتھ کھاتا پیتا نہ تھا، بلکہ سب ہی اسے " دجال " کہتے تھے، ایک دن میں کسی پڑاؤ کے موقع پر اپنے خیمے میں تھا کہ مجھے عبداللہ بن صیاد نے دیکھ لیا، وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا اے ابوسعید! آپ میرے ساتھ لوگوں کا رویہ نہیں دیکھتے؟ میرے ساتھ کوئی بھی بات چیت، رفاقت اور کھانے پینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور سب مجھے دجال کہہ کر پکارتے ہیں ، جب کہ اے ابوسعید! آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا، اور میں تو پیدا ہی مدینہ منورہ میں ہوا ہوں ، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی جب کہ میری تو اولاد بھی ہے، بخدا! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ ایک رسی لوں ، تنہائی میں اسے اپنے گلے میں ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لوں اور ان لوگوں سے نجات پالوں ، بخدا! میں دجال نہیں ہوں ، لیکن اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کا، اس کے ماں باپ کا اور اس بستی کا نام بھی بتاسکتا ہوں جہاں سے وہ خروج کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11326

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ فَتَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ فَيَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11327

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11328

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرُ مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تَدَّاخَنُ

ابوالوداک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا خوارج دجال کے وجود کا اقرار کرتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے بھی زیادہ انبیاء کے آخر میں آیا ہوں ، جو نبی متبوع بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے، اور مجھے اس کے متعلق ایک ایسی چیز بتائی گئی ہے جو کسی کو نہیں بتائی گئی تھی، یاد رکھو! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دائیں آنکھ تو کانی ہوگی اور تم پر یہ بات مخفی نہ رہے کہ وہ کسی چونے کی دیوار میں لگے ہوئے تھوک یا ناک کی ریزش کی طرح ہوگی اور بائیں آنکھ کسی روشن ستارے کی طرح ہوگی اور اس کے پاس ہر زبان بولنے کی صلاحیت ہوگی، نیز اس کے پاس سرسبز و شاداب جنت کا ایک عکس بھی ہوگا جس میں پانی بہتا ہوگا اور ایک نمونہ جہنم کا ہوگا جو کالی سیاہ اور دھوئیں دار ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11329

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابن صیاد کا تذکرہ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاں سے گذر جاتا ہے ہر چیز اس سے بات کرنے لگتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11330

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ النَّارُ فِيَّ الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَمَسَاكِينُهُمْ قَالَ فَقَضَى بَيْنَهُمَا إِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَإِنَّكِ النَّارُ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَلِكِلَاكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11331

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْأَفْعَى وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَاءَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفُوَيْسِقَةَ قُلْتُ مَا الْفُوَيْسِقَةُ قَالَ الْفَأْرَةُ قُلْتُ وَمَا شَأْنُ الْفَأْرَةِ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ أَخَذَتْ الْفَتِيلَةَ فَصَعِدَتْ بِهَا إِلَى السَّقْفِ لِتُحَرِّقَ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم سانپ، بچھو، چوہا، باؤلا کتا مار سکتا ہے (اس حدیث میں چوہے کے لئے " فویسقہ " کا لفظ آیا ہے لہٰذا) راوی کہتے ہیں کہ میں نے فویسقہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا چوہا، میں نے پوچھا کہ چوہے کا کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ایک چوہا چراغ کا فیتہ لے کر چھت پر چڑھ گیا تاکہ اسے آگ لگا دوں (اس وقت سے اسے فویسقہ کہا جانے لگا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11332

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تمام خواتین جنت کی " سوائے حضرت مریم کے" سردار ہوں گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11333

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنْ الزَّمَانِ وَظُهُورٍ مِنْ الْفِتَنِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ فَيَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اختتام زمانہ اور فتنوں کے دور میں ایک آدمی نکلے گا جسے لوگ " سفاح " کہتے ہوں گے وہ بھر بھر کر لوگوں کو مال ودولت دیا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11334

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب فلاں شخص کی نسل میں تیس بیٹے پیدا ہوجائیں گے تو لوگ اللہ کے مال کو اپنی دولت سمجھنے لگیں گے، اللہ کے دین میں دخل اندازی کرنے لگیں گے اور اللہ کے بندوں کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھہ کرنے لگیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11335

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا قَالَ فَقَالَ لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتْ النَّاسَ وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهَا بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوادیتا ہے، اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروادیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے، اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11336

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پانی پینے اور اس میں پھونکیں مارنے (سانس لینے) سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11337

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ مُجَالِدٌ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ الرَّجُلُ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلْقِتَالِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کو دیکھ کر اللہ کو ہنسی آتی ہے، ایک وہ آدمی جو رات کو کھڑا ہو کر نماز پڑھے، دوسرے وہ لوگ جو نماز کے لئے صف بندی کریں اور تیسرے وہ لوگ جو جہاد کے لئے صف بندی کریں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11338

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُورِ شَهْرُكُمْ هَذَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبِلَادِ بَلَدُكُمْ هَذَا أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا یاد رکھو! تمہارا سب سے معزز دن آج کا ہے، سب سے معزز مہینہ آج کا مہینہ ہے، اور سب سے معزز شہر یہ والا ہے، یاد رکھو! تمہاری جان و مال کی حرمت ایک دوسرے پر اسی طرح ہے جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11339

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَرَادَ الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی مسلمان کو جنت میں بچے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل، وضع حمل اور عمر تمام مراحل ایک لمحے میں اس کی خواہش کے مطابق ہو جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11340

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثَةٍ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا فَخُذْ ذَاتَ الدِّينِ وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت سے شادی تین میں سے کسی ایک وجہ سے کی جاتی ہے، یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس کے دین کی وجہ سے تم اس عورت سے شادی کرو جو دین واخلاق والی ہو، تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11341

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ أُسَيْدٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَهُ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا قَالَ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَانْصَرَفْتُ وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآهَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات کے وقت اپنے اونٹوں کے باڑے میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، وہ جوں جوں پڑھتے جاتے، وہ مزید بدکتا جاتا، حضرت اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں وہ میرے بیٹے یحییٰ کو ہی نہ روند ڈالے، چنانچہ میں اس کی طرف گیا، اچانک مجھے اپنے سر کے اوپر ایک سائبان سا محسوس ہوا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں ، وہ آسمان کی طرف بلند ہوا حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اگلے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج رات میں اپنے باڑے میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے، انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا لیکن اس کے بدکنے میں اور اضافہ ہوگیا، تین مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا، آخر میں انہوں نے عرض کیا کہ چونکہ یحییٰ اس کے قریب تھا اس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اسے نہ روند ڈالے، چنانچہ میں اس کے پاس چلا گیا، میں نے اس وقت ایک سائبان دیکھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں، وہ سائبان آسمان کی طرف بلند ہوا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ انہیں دیکھ لیتے اور کوئی چیز ان سے چھپ نہ سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11342

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مُوسَى قَالَ أَيْ رَبِّ عَبْدُكَ الْمُؤْمِنُ مُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَالَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا قَالَ يَا مُوسَى هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ فَقَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَوْ كَانَ أَقْطَعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ يُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ لَمْ يَرَ بُؤْسًا قَطُّ قَالَ ثُمَّ قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَالَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ النَّارِ فَيُقَالُ يَا مُوسَى هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ فَقَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ كَأَنْ لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے بندہ مومن پر دنیا میں بڑی تکالیف آتی ہیں ، اللہ نے انہیں جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا اور فرمایا کہ اے موسیٰ! یہ سب میں نے اسی کے لئے تیار کر رکھا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر کوئی آدمی اپنی پیدائش کے دن سے قیامت تک اپنے چہرے کے بل چلتا رہے اور اس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں لیکن اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو بھی وہ اس میں کچھ تکلیف محسوس نہ کرے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار! آپ کے کافر بندہ پر دنیا میں بڑی وسعت ہوتی ہے؟ اللہ نے انہیں جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا اور فرمایا کہ اے موسیٰ! یہ میں نے اس کے لئے تیار کر رکھا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر اسے اپنی پیدائش سے لے کر قیامت تک کے لئے دنیا دے دی جائے لیکن اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو اسے کوئی اچھائی نہ ملی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11343

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَاكَ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ أَنْ يَرْكَعَ ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةٌ إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے مسواک کرے ، خوشبو لگا ئے ، بشرطیکہ موجود بھی ہو اور اچھے کپڑے پہنے ، پھر نکل کر مسجد میں آئے ، لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے اور حسب منشا نوافل پڑھے ، جب امام نکل آئے تو خاموشی اختیار کرے ، اور نماز سے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کرے تو یہ اس جمعہ اور پچھلے جمعہ کے درمیان کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اگلے تین دن بھی شامل کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا مقرر فرما رکھا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11344

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَيَكْتُبُونَ النَّاسَ مَنْ جَاءَ مِنْ النَّاسِ عَلَى مَنَازِلِهِمْ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُورًا وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَيْضَةً قَالَ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ طُوِيَتْ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور درجہ بدرجہ آنے والوں کا ثواب لکھتے رہتے ہیں ، کسی کا ثواب اونٹ صدقہ کرنے کے برابر ، کسی کا گائے ، کسی کا بکری ، کسی کا مرغی ، کسی کا چڑیا اور کسی کا انڈہ صدقہ کرنے کے برابر ، پھر جب مؤذن اذان دے دیتا ہے اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو نامہ اعمال لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11345

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمِّ يُهِمُّهُ إِلَّا اللَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف،غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں ، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11346

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ طَعَامًا مُخْتَلِفًا بَعْضُهُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ قَالَ فَذَهَبْنَا نَتَزَايَدُ بَيْنَنَا فَمَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَهُ إِلَّا كَيْلًا بِكَيْلٍ لَا زِيَادَةَ فِيهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ کھانے کی چیزیں تقسیم فرمائیں جن میں سے بعض دوسروں سے عمدہ تھیں ، ہم آپس میں ایک دوسرے سے بولی لگانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا کہ صرف ناپ کر ہی بیع کی جائے، اس میں کچھ زیادتی نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11347

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ

ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اسی مضمون کی ایک حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے آئے اور کہنے لگے کہ اے ابوسعید! یہ کیا حدیث ہے جو آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سونا سونے کے بدلے برابر سرابر بیچو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر بیچو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11348

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ محترمہ کے گھر سے تشریف لے آئے، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی ٹوٹ گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک کر جوتی سینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے، ہم بھی چلتے رہے، ایک جگہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے، ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جو قرآن کریم کی تاویل و تفسیر پر اسی طرح قتال کرے گا جیسے میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا ہے، یہ سن کر ہم جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، اس وقت ہمارے درمیان حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جوتی سینے والا ہے، اس پر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے گیئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11349

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ مَرْوَانَ الْكَلَاعِيِّ وَعَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ أَوْصِنِي فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِكَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ لِأُبَشِّرَهُ قَالَ فَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسًا كَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ا دمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے وہی درخواست کی جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی، میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ ہر چیز کی بنیاد ہے، جہاد کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے، اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ وہ ا سمان تمہاری روح اور زمین تمہارا ذکر ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11350

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَيَّادٍ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ دُخٌّ قَالَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ میرے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے اپنے ذہن میں ایک بات سوچی ہے، بتا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا " دخ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو، تو اپنے مقام سے ہر گز آگے نہیں بڑھ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11351

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن و حسین رضی اللہ عنہما نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11352

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَعْزِلُ عَنْهُنَّ نَلْتَمِسُ أَنْ نُفَادِيَهُنَّ مِنْ أَهْلِهِنَّ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ فَأَتَيْنَاهُ أَوْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا كَانَ وَمَرَرْنَا بِالْقُدُورِ وَهِيَ تَغْلِي فَقَالَ لَنَا مَا هَذَا اللَّحْمُ فَقُلْنَا لَحْمُ حُمُرٍ فَقَالَ لَنَا أَهْلِيَّةٍ أَوْ وَحْشِيَّةٍ فَقُلْنَا لَهُ بَلْ أَهْلِيَّةٍ قَالَ فَقَالَ لَنَا فَاكْفِئُوهَا قَالَ فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشْتَهِيهِ قَالَ وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم ان سے عزل کرتے تھے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی تم یہ کام کرتے ہو، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ہمارا گذر کچھ ہنڈیوں پر ہوا جو ابل رہی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیا گوشت ہے؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہور ہی تھی۔ اور ہمیں مشکیزوں کا منہ بند رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11353

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11354

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ صَاحِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ مُرْخٍ طَرَفَهَا مِنْ خَلْفٍ مُصْفَرَّ اللِّحْيَةِ فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ

ابوعبید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عطاء بن یزید لیثی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں ، انہوں نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک کنارہ پیچھے لٹکا ہوا تھا اور ان کی ڈاڑھی زرد ہو رہی تھی۔ میں ان کے آگے سے گذرنے لگا تو انہوں نے مجھے روک دیا، پھر نماز کے بعد کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز فجر پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرأت میں التباس ہوگیا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم دیکھ سکتے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر ابلیس کو پکڑ لیا تھا، اور میں نے اس کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا تھا، حتیٰ کہ اس کے منہ سے نکلنے والے تھوک کی ٹھنڈک مجھے اپنی ان دو انگلیوں ،" انگوٹھا اور ساتھ والی انگلی " کے درمیان محسوس ہونے لگی، اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعاء نہ ہوتی تو وہ اس مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے، اس لئے تم میں سے جس شخص میں اس چیز کی طاقت ہو کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11355

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا مَنَّانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پانچ میں سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہو گا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11356

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحْ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا كَانَتْ شَفْعًا لِصَلَاتِهِ قَالَ مُوسَى مَرَّةً فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامَ أَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوں اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11357

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " وسیلہ " اللہ کے یہاں ایک درجے کا نام ہے جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے، سو تم اللہ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11358

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ الْأَرْضِ مَسْجِدٌ وَطَهُورٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11359

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11360

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِقَمْعٍ مِنْ حَدِيدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ وَلَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر پہاڑوں پر لوہے کا ایک گرز مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں اور اگر " غساق " (جہنم کے پانی) کا ایک ڈول زمین پر بہا دیا جائے تو ساری دنیا میں بدبو پھیل جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11361

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ فَهَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَاقٍ قَالَ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً فَانْطَلَقَ مَعَهَا فَرَقَاهُ فَبَرِئَ فَأَعْطَوْهُ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ وَأَسْقَوْنَا لَبَنًا فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا قُلْنَا لَهُ أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً قَالَ لَا إِنَّمَا رَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ لَا تُحْدِثُوا فِيهَا شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا بِسَهْمِي مَعَكُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہمارے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ ہمارے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ اس کے ساتھ ایک آدمی چل پڑا، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ یہ اچھی طرح جھاڑ پھونک کرسکتا ہے، اس نے اس آدمی کے پاس جا کر اسے دم کر دیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں تیس بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا اور ہمیں دودھ پلایا، جب وہ واپس آیا تو ہم نے ان سے کہا کہ کیا تم جھاڑ پھونک کرنا جانتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ، میں نے تو اسے صرف سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے۔ میں نے اس سے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے کوئی نیا کام نہ کرو، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11362

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ سُفْيَانُ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فَقَالَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِيمَا يَحْسَبُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11363

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11364

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَطَلَبَهَا فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا فَتَسَجَّى لِلْمَوْتِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حِينَ بَرَكَتْ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں ، جنگل میں جس کی سواری گم ہوگئی ہو، وہ اسے تلاش کرتا پھرے لیکن اسے وہ کہیں نہ مل سکے، اور وہ موت کے لئے کپڑا اوڑھ کر لیٹ جائے، اچانک اس کے کان میں اپنی سواری کی آواز پہنچے اور وہ اپنا چہرہ کھول کر دیکھے تو وہ اس کی اپنی سواری ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11365

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ قَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَقَالَ يَا عَجَبِي ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ فَقَالَ الذِّئْبُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ قَالَ فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِي أَخْبِرْهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کر لے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے مجھ سے میرا رزق " جو اللہ نے مجھے دیا تھا " چھین لیا؟ وہ چرواہا کہنے لگا تعجب ہے کہ ایک بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کر رہا ہے؟ وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یثرب میں لوگوں کو ماضی کی خبریں بتا رہے ہیں ، جب وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا مدینہ منورہ واپس پہنچا تو اپنی بکریوں کو ایک کونے میں چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ گوش گذار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کر دی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور چرواہے سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، اس نے لوگوں کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں ، اور انسان سے اس کے کوڑے کا دستہ اور جوتے کا تسمہ باتیں نہ کرنے لگے، اور ان کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11366

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ إِذَا شَهِدَهُ أَوْ عَلِمَهُ قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةَ فَقَالَ مَا هَذَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ إِذَا شَهِدَهُ أَوْ عَلِمَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ أَنِّي رَكِبْتُ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَمَلَأْتُ أُذُنَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَتَادَةُ وَأَبُو مَسْلَمَةَ وَالْجُرَيْرِيُّ وَرَجُلٌ آخَرُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اس کے علم میں آجائے ، یہ کہہ کر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا بخدا! ہم نے یہ حالات دیکھے لیکن ہم کھڑے نہ ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11367

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً قَالَ يَزِيدُ حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَهُمَا يُرْغِمَانِ الشَّيْطَانَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کر لے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہو جائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11368

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ أَبِي وَأَبُو بَدْرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11369

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً وَإِنَّ أَكْثَرَ ذَاكُمْ غَدْرًا أَمِيرُ الْعَامَّةِ فَمَا نَسِيتُ رَفْعَهُ بِهَا صَوْتَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، اور سب سے بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11370

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابُوا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ فَكَانَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفُّوا وَتَأَثَّمُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ نِسَاءً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ اوطاس کے قیدیوں میں مال غنیمت کے طور پر عورتیں ملیں، وہ عورتیں شوہروں والی تھیں ، ہمیں یہ چیز اچھی محسوس نہ ہوئی کہ ان کے شوہروں کی زندگی میں ان سے تعلقات قائم کریں (چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا) تو یہ آیت نازل ہوئی کہ شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں ، البتہ جو تمہاری باندیاں ہیں ، ان سے فائدہ اٹھانا حلال ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11371

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَأَيْتُ رُؤْيَا وَأَنَا أَكْتُبُ سُورَةَ ص قَالَ فَلَمَّا بَلَغْتُ السَّجْدَةَ رَأَيْتُ الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِي انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورت ص لکھ رہے ہیں ، جب آیت سجدہ پر پہنچے تو دیکھا کہ دوات، قلم اور ہر وہ چیز جو وہاں موجود تھی، سب سجدے میں گر گئے، بیدار ہو کر انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس میں سجدہ تلاوت کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11372

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر، اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کون؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11373

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ مُعَطَّلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ صَفْوَانَ يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَيَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَلَا يُصَلِّي الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا تَقُولُ هَذِهِ قَالَ أَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَصُومَ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصُومَ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي أَضْرِبُهَا عَلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ فَتُعَطِّلُنِي قَالَ لَوْ قَرَأَهَا النَّاسُ مَا ضَرَّكَ وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنِّي ثَقِيلُ الرَّأْسِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يُعْرَفُونَ بِذَاكَ بِثِقَلِ الرُّءُوسِ قَالَ فَإِذَا قُمْتَ فَصَلِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے، اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے، اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11374

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَكَانَ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَتَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ہم لوگ نماز ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، چنانچہ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کی تلاوت کے بقدر قیام فرماتے ہیں اور آخری دو رکعتوں میں اس کا نصف قیام فرماتے ہیں ، جب کہ نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف اور آخری دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف قیام فرماتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11375

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِعَرَفَةَ هَكَذَا يَعْنِي بِظَاهِرِ كَفِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11376

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11377

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بِشْرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْكُرَّاثِ وَالْبَصَلِ وَالثُّومِ فَقُلْنَا أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پیاز سے منع فرمایا ہے، ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ چیزیں حرام ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11378

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَجَعَلَ يَدْعُو هَكَذَا وَجَعَلَ ظَهْرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ وَرَفَعَهُمَا فَوْقَ ثَنْدُوَتَيْهِ وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْكِبَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے اور کندھوں سے نیچے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11379

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ مِنْ وَشِيقِ الْحَجِّ حَتَّى يَكَادَ يَحُولُ عَلَيْهِ الْحَوْلُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کے بچے ہوئے سامان زاد کے طور پر استعمال کرتے تھے، اور قریب قریب پورا سال اس پر گذر جاتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11380

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ النَّاجِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ قَالَ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَبَسَكَ يَا فُلَانُ عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ فَذَكَرَ شَيْئًا اعْتَلَّ بِهِ قَالَ فَقَامَ يُصَلِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَصَلَّى مَعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ظہر پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں نماز سے کس چیز نے روکا؟ اس نے کوئی وجہ بیان کی، اور نماز کا ارادہ کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون اس پر صدقہ کر کے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11381

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَهُ لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا قَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُقَوِّمُ أَوْ الْمُسَعِّرُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي مَالٍ وَلَا نَفْسٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہو کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11382

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11383

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا عِيَالًا قَالَ كُلُوا وَادَّخِرُوا وَأَحْسِنُوا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، لوگوں نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے بال بچے بھی تو ہیں ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کھا بھی سکتے ہو، ذخیرہ بھی کر سکتے ہو اور عمدگی کے ساتھ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11384

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُرَاهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطٍ فَنَادِ صَاحِبَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَكُلْ مِنْ غَيْرِ أَنْ عَلَى تُفْسِدَ وَإِنْ أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ فَنَادِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَكُلْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی باغ میں جاؤ اور کھانا کھانے لگو تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلاؤ ، آجائے تو بہت اچھا ، ورنہ اکیلے ہی کھالو لیکن حد سے آگے نہ بڑھو ، اسی طرح جب تم کسی چرواہے کے پاس سے گذرو تو اسے تین مرتبہ آواز دے لو، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے جبکہ حد سے آگے نہ بڑھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11385

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدُ فَصَدَقَةٌ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے ، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے ، وہ صدقہ ہوتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11386

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ وَهُمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ وَكَانَا ثِقَةً عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَهُمَا مِنْ رَهْطِهِمَا وَكَانَا ثِقَةً عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے ، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجور میں بھی زکوۃ نہیں ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11387

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينُ قَالَ يَعْقُوبُ مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَالِحٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں ، لیکن کسی کی قمیص چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے ، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیص پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11388

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ بِئْرِ بَنِي سَاعِدَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا مَحَائِضُ النِّسَاءِ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَعُذَرُ النَّاسِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے ، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11389

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَوْ أَخِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِهِ وَهُوَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ فِي ذِرَاعِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَرِهْتُهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا هَذَيْنِ الْكَذَّابَيْنِ صَاحِبَ الْيَمَنِ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی ، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے ، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن ولا (اسود عنسی ' اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11390

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَشْكُوا عَلِيًّا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأُخَيْشِنٌ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو! علی سے شکوہ نہ کیا کرو ، بخدا ! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11391

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْمَحِيضُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے ، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے، مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو! علی سے شکوہ نہ کیا کرو، بخدا! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے ، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11392

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ وَعَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الْإِبِلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم کھجور میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11393

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ اشْتَرَى كَبْشًا لِيُضَحِّيَ بِهِ فَأَكَلَ الذِّئْبُ مِنْ ذَنَبِهِ أَوْ ذَنَبَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11394

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُجَالدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللَّهِ حَتَّى لَا يُعْبَدَ لِلَّهِ اسْمٌ وَلَيَضْرِبَنَّهُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبیلہ مضر کے لوگ اللہ کے بندوں کو مارتے رہیں گے تاکہ اللہ کی عبادت کرنے والا کوئی نام نہ رہے، یا مسلمان انہیں مارتے رہیں گے تاکہ وہ ان سے کسی برتن کا پیندا بھی نہ روک سکیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11395

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ الْوِصَالِ فَلْيُوَاصِلْ مِنْ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہے تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11396

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ لَا تُوطَأُ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہو جائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کے ایک دو روز گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11397

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا رَهْبَةُ النَّاسِ إِنْ عَلِمَ حَقًّا أَنْ يَقُومَ بِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ اسے اس کا یقین ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11398

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ آذَنَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا الْكَدِيدَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ مِنْهُمْ الصَّائِمُ وَمِنْهُمْ الْمُفْطِرُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَدْنَى مَنْزِلٍ تِلْقَاءَ الْعَدُوِّ وَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی دو تاریخ کو ہمیں کوچ کے حوالے سے مطلع کیا، ہم روزہ رکھ کر روانہ ہوگئے، مقامِ کدید میں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کر دینے کا حکم دیا، جب صبح ہوئی تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں رکھا، اور جب دشمن کے سامنے پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کر دینے کا حکم دیا تو ہم سب نے روزہ ختم کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11399

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى بَلَغْنَا الْكَدِيدَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرِحِينَ مِنْهُمْ الصَّائِمُ وَالْمُفْطِرُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی دو تاریخ کو ہمیں کوچ کے حوالے سے مطلع کیا، ہم روزہ رکھ کر روانہ ہوگئے، مقامِ کدید میں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کر دینے کا حکم دیا، جب صبح ہوئی تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں رکھا، اور جب دشمن کے سامنے پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کر دینے کا حکم دیا تو ہم سب نے روزہ ختم کر لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11400

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار! اے اللہ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں ، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں ، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں ، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے، اور ہم سب آپ کے بندے ہیں ، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا، اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11401

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار! اے اللہ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں ، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں ، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں ، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے، اور ہم سب آپ کے بندے ہیں ، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا، اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11402

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ لَتُرَى غُرَفُهُمْ فِي الْجَنَّةِ كَالْكَوْكَبِ الطَّالِعِ الشَّرْقِيِّ أَوْ الْغَرْبِيِّ فَيُقَالُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی رضاء کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے بالاخانے جنت میں اس طرح نظر آئیں گے جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ، پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ کی رضاء کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11403

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ وَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ فَإِنْ كَانَتْ خَمْسًا شَفَعَ بِهِمَا وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11404

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ الْحَقَّ إِذَا رَآهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اسے خود دیکھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11405

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَوَلَيْسَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11406

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11407

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس شخص کو بھی خلافت عطاء فرمائی، اس کے قریب دو گروہ رہے ہیں ، ایک گروہ اسے خیر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا گروہ اسے شر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے، اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11408

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَيَقُولُ أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَبَّنَا فَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ بَعْدَهُ أَبَدًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے اہل جنت! وہ کہیں گے " لبیک و سعدیک" اللہ فرمائے گا کیا تم خوش ہو؟ وہ کہیں گے کہ پروردگار! ہم کیوں خوش نہ ہوں گے جب کہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطاء فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطاء نہیں فرمایا ہوگا اللہ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دوں گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار! اس سے زیادہ افضل چیز اور کیا ہوگی؟ اللہ فرمائے گا کہ آج میں تم پر اپنی خوشنودی نازل کرتا ہوں ، اور آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11409

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ قَالَ تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " وھم فیھا کالحون " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ اسے جھلسا دے جس کی وجہ سے اس کا اوپر والا ہونٹ سوج کر وسط سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک کر ناف تک آجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11410

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کر دیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتے ہوئے تھوکنا چاہے تو سامنے یا دائیں جانب نہ دیکھے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11411

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّهُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَقَالُوا ثُمَّ مَنْ قَالَ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مومن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11412

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْإِثْمَانَ فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكُمْ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَوْزاعِيِّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعَيْبٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں قیدی ملے، ہم چاہتے ہیں کہ انہیں فدیہ دے کر چھوڑ دیں تو عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسے کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اللہ نے جس روح کو وجود عطا کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہے وہ آکر رہے گی۔ (١١٨٤٠) حدیث نمبر ١١٨٦٠ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11413

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنِي شَهْرٌ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَعْرَابِيٌّ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ فِي غَنَمٍ لَهُ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَأَدْرَكَهُ الْأَعْرَابِيُّ فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ وَهَجْهَجَهُ فَعَانَدَهُ الذِّئْبُ يَمْشِي ثُمَّ أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ يُخَاطِبُهُ فَقَالَ أَخَذْتَ رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ قَالَ وَاعَجَبًا مِنْ ذِئْبٍ مُقْعٍ مُسْتَذْفِرٍ بِذَنَبِهِ يُخَاطِبُنِي فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَتْرُكُ أَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ وَمَا أَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّخْلَتَيْنِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَإِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ فَنَعَقَ الْأَعْرَابِيُّ بِغَنَمِهِ حَتَّى أَلْجَأَهَا إِلَى بَعْضِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ضَرَبَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ الْأَعْرَابِيُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِّثْ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَيْتَ فَحَدَّثَ الْأَعْرَابِيُّ النَّاسَ بِمَا رَأَى مِنْ الذِّئْبِ وَسَمِعَ مِنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ صَدَقَ آيَاتٌ تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ أَحَدُكُمْ مِنْ أَهْلِهِ فَتُخْبِرَهُ نَعْلُهُ أَوْ سَوْطُهُ أَوْ عَصَاهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کر لے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے مجھ سے میرا رزق " جو اللہ نے مجھے دیا تھا " چھین لیا؟ وہ چرواہا کہنے لگا تعجب ہے کہ ایک بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کر رہا ہے؟ وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں ؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یثرب میں لوگوں کو ماضی کی خبریں بتا رہے ہیں ، جب وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا مدینہ منورہ واپس پہنچا تو اپنی بکریوں کو ایک کونے میں چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ گوش گذار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کر دی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور چرواہے سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، اس نے لوگوں کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں ، اور انسان سے اس کے کوڑے کا دستہ اور جوتے کا تسمہ باتیں نہ کرنے لگے، اور ان کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11414

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ لَوْ قَدْ اسْتَقَامَتْ الْأُمُورُ قَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ قَالَ فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ قَالَ فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ أَفَلَا تَقُولُونَ قَاتَلَكَ قَوْمُكَ فَنَصَرْنَاكَ وَأَخْرَجَكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ قَالُوا نَحْنُ لَا نَقُولُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ تَقُولُهُ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ كَرِشِي وَأَهْلُ بَيْتِي وَعَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّنَا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا أَمَرَكُمْ قُلْتُ أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ فَاصْبِرُوا إِذًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تم سے خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ معاملات اسی طرح سیدھے سیدھے چلتے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے، انہوں نے اسے اس کا سخت جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اور ان سے کچھ باتیں کیں جو مجھے اب یاد نہیں ہیں ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان سے کچھ فرماتے وہ اس کا یہی جواب دیتے " کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! " جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کی قوم آپ سے لڑی اور ہم نے آپ کی مدد کی اور آپ کی قوم نے آپ کو نکالا اور ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں یہ ہم نے نہیں کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم پیغمبر خدا کو لے جاؤ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر فرمایا اے گروہ انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے کو اختیار کر لوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، انصار میرا پردہ، میرے اہل خانہ اور میرا ٹھکانہ ہیں ، تم ان کے گناہگار سے درگذر کرو اور ان کے نیکوکاروں کو قبول کرو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترجیحات دیکھیں گے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبر کا حکم دیا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ صبر کا دامن تھامے رہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11415

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يَهُشُّ عَلَيْهَا فِي بَيْداءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِذْ عَدَا عَلَيْهِ ذِئْبٌ فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ فَرَمَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ ثُمَّ إِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتَّى أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ فَذَكَرَهُ نَحْوَ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر، اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کون؟ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کر لے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11416

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ إِسْمَاعِيلُ الْمُلَائِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجِدَ قَتِيلٌ بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ أَوْ مَيِّتٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُرِعَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى أَحَدِهِمَا بِشِبْرٍ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى الَّذِي كَانَ أَقْرَبَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک آدمی کو مقتول پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر دونوں بستیوں کی مسافت کی پیمائش کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بالشت اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے قریب کی بستی میں اسے بھجوا دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11417

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَقَالَ أَحَدُهُمَا هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ وَقَالَ الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَسْجِدِي هَذَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، ایک آدمی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور دوسرے آدمی کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11418

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حَلَّقُوا رُءُوسَهُمْ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَبِي قَتَادَةَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى أَنَّ أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور" سوائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے" احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ مغفرت کی دعاء فرمائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11419

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11420

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو، مٹکے، کھوکھلی لکڑی اور لک کے برتن میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11421

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو، مٹکے، کھوکھلی لکڑی اور لک کے برتن میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11422

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ ثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ وَحَدَّثَنِي مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فِيهِمْ الْأَشَجُّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اپنے مشکیزے میں نبیذ بنا لیا کرو اور اس کا منہ بند کر دیا کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11423

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى الْقَصِيرُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمَةِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء، نقیر میں پینے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11424

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ النَّارِ قَدْ احْتَرَقُوا وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ ثُمَّ لَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْغُثَاءِ فِي السَّيْلِ حَدَّثَنَا مُوسَى أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ النَّارِ فَذَكَرَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ کی طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11425

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَخْرُجُ ضُبَارَةٌ مِنْ النَّارِ قَدْ كَانُوا فَحْمًا قَالَ فَيُقَالُ بُثُّوهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَرُشُّوا عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ قَالَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ كَأَنَّكَ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ کی طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11426

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ شَكَّ إِسْحَاقُ لَا يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ

رافع بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کے گھر میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ہم سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں یا مورتیاں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11427

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ أَنَّهُ يَبْلُغُ الْعَرَقُ مِنْ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا إِلَى شَحْمَتِهِ وَقَالَ الْآخَرُ يُلْجِمُهُ فَخَطَّ ابْنُ عُمَرَ وَأَشَارَ أَبُو عَاصِمٍ بِأُصْبُعِهِ مِنْ أَسْفَلِ شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ إِلَى فِيهِ فَقَالَ مَا أَرَى ذَاكَ إِلَّا سَوَاءً

سعید بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو خوب پسینہ آئے گا، ان میں سے ایک نے فرمایا " کان کی لو تک" اور دوسرے نے بتایا کہ " اس کے منہ میں وہ پسینہ لگام کی طرح ہوگا" پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کان کی لو کے نیچے سے منہ تک ایک لکیر کھینچ کر فرمایا میں تو اس حصے کو برابر سمجھتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11428

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ وَقَالَ مَالِكٌ الْمُنَادِيَ فَقُولُوا مِثْلَ يَقُولُ زَادَ مَالِكٌ الْمُؤَذِّنَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11429

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ فَجَاءَنَا فَقَعَدَ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ قَالَ كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَعَمَّارُ بْنُ يَاسرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ وَيَقُولُ يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ وَيَقُولُ وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ قَالَ فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْ الْفِتَنِ

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا کہ تم دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے حدیث کی سماعت کرو، ہم دونوں چلے گئے، اس وقت وہ اپنے ایک باغ میں تھے، ہمیں دیکھ کر انہوں نے اپنی چادر پکڑ لی اور ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور احادیث بیان کرنے لگے، اسی دوران چلتے چلتے تعمیر مسجد کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا عمار! تم اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا کر لاتے؟ انہوں نے کہا کہ میں ثواب کی نیت سے کر رہا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ! افسوس کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا تم انہیں جنت کی طرف اور وہ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے، اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں ہر طرح کے فتنوں سے رحمان کی پناہ میں آتا ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11430

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ الشَّيْءَ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11431

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ قَالَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَقَالَ إِنِّي السَّاعَةَ لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ فَلَمْ يَفْطَنْ لَهَا أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلَادِنَا قَالَ ثُمَّ هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِنْبَرِ فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں سر پر پٹی باندھ کر باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، میں بھی حاضر ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت میں حوضِ کوثر پر کھڑا ہوں ، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی، ساری قوم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا یہ بات کوئی نہ سمجھ سکا اور وہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہم اپنی جان، مال اور اولاد آپ پر نچھاور کر دیں گے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور دوبارہ کبھی اس پر نظر نہ آئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11432

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَرَجُلًا مِنْ بَنِي خُدْرَةَ امْتَرَيَا فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَقَالَ الْعَوْفِيُّ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ وَقَالَ الْخُدْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ هُوَ مَسْجِدِي هَذَا وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو خدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ، جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، عمروی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور خدری کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا اس سے مراد میری مسجد ہے اور مسجد قباء میں خیر کثیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11433

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ قَالَ وَأُرِنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ أَيْنَ هَذَا السَّائِلُ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ إِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةً وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ فَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے، اور موسم بہار میں اگنے والی خودرو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کر کے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھا لیتا ہے ، چنانچہ مسلمان آدمی تو مسکین، یتیم اور مسافر کے حق میں بہت اچھا ہوتا ہے اور جو شخص ناحق اسے پالیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو اور وہ اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11434

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ قَالَ رَوْحٌ مِنْ هُذَيْلٍ قَالَ لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں کو ثواب ملے گا، پھر فرمایا اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دوگ نافرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11435

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ إِذَا رَأَى أَمْرَ اللَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالًا فَلَا يَقُولُ بِهِ فَيَلْقَى اللَّهَ وَقَدْ أَضَاعَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَا مَنَعَكَ فَيَقُولُ خَشِيتُ النَّاسَ فَيَقُولُ أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے، کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11436

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى قَصَّرْنَا وَإِنَّا لَنَبْلُغُ فِي الشَّرِّ و قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کر لے یا سن لے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پر اتنی آزمائشیں آئیں کہ ہم اس میں کوتاہی کرنے لگے، البتہ شر کے کاموں میں ہم پہنچ جاتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11437

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشَرَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ صَائِمُونَ وَأَفْطَرَ مُفْطِرُونَ فَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَةٌ أَحَدُهُمْ قَتَادَةُ وَهَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا ، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کر لیتا)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي انْطَلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِهِ عَسَلًا فَسَقَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ فَسَقَاهُ فَبَرِئَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے جاکر شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟چوتھی مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11439

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سُلَيْمَانَ أَوْ أَبِي سُلَيْمَانَ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنْ النَّاسِ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ مِنِّي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن پر ایسے حاشیہ بردار افراد چھا جائیں گے جو ظلم و ستم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر تعاون کرے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے کہ ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ان کے ظلم پر تعاون نہ کرنا پڑے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11440

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ قَالَ حَجَّاجٌ ابْنُ عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11441

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11442

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَرْوَانَ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ تُرِكَ ذَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُنْكِرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَاكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان ! تم نے سنت کی مخالفت کی ، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا ، اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، اس مجلس میں خضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے ، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے ، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے ، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11443

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ ثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ خَلَعُوا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ مَا بَالُكُمْ أَلْقَيْتُمْ نِعَالَكُمْ قَالُوا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا أَوْ قَالَ أَذًى فَأَلْقَيْتُهُمَا فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ فِي نَعْلَيْهِ فَإِنْ رَأَى فِيهِمَا قَذَرًا أَوْ قَالَ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُمَا وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا قَالَ أَبِي لَمْ يَجِئْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ مَا كَانَ فِي النَّعْلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو جوتیاں اتار دیں ، لوگوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں ، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اپنی جوتیاں کیوں اتار دیں ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو جوتی اتارتے ہوئے دیکھا اس لئے ہم نے بھی اتار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تو جبرئیل امین آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری جوتی میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے تو وہ پلٹ کر اپنی جوتیوں کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی لگی ہوئی نظر آئے تو انہیں زمین پر رگڑ دے، پھر ان ہی میں نماز پڑھ لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11444

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ إِنْ تَفْعَلُوا ذَلِكَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ نَسَمَةٌ قَضَى اللَّهُ أَنْ تَكُونَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل(مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ نے جس جان کے دنیا میں آنے کا فیصلہ فرما لیا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11445

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوارِ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کر دیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11446

حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا صَالِحٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا بِهَا ثُمَّ قَالَ لَا يَتَنَخَّمْ أَحَدٌ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوارِ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کر دیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11447

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچی اور خریدی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11448

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ وَالْأَعْمَشُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صُهْبَانَ وَكَثِيرٌ النَّوَّاءُ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ أَلَا وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11449

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ شَهْرٍ قَالَ لَقِينَا أَبَا سَعِيدٍ وَنَحْنُ نُرِيدُ الطُّورَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11450

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11451

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَهَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَ هَاشِمٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11452

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11453

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَتْرُكَ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ نَدْفَعَهُ أَوْ نَحْوَ هَذَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے، اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11454

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11455

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے۔ کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ اس کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11456

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ قَالَ فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ وَمَا يَكُونُ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا أَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعاون کی درخواست کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ عطاء فرمادیا، اور جو شخص مانگتاجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیتے جاتے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دے چکے تو ہاتھ جھاڑ کر فرمایا ہمارے پاس جو دولت آئے گی ہم اسے تم سے چھپا کر ذخیرہ نہیں کریں گے، البتہ جو بچنا چاہے، اللہ اسے بچا لیتا ہے، اللہ سے جو شخص غناء طلب کرلے، اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کا دامن تھام لے، اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور تمہیں جو چیزیں دی گئی ہیں ، ان میں صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11457

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ نَزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ فَنَادَى هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ يَتُوبُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ هَلْ مِنْ سَائِلٍ إِلَى الْفَجْرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہے کوئی گناہگار جو توبہ کرے؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا؟ ہے کوئی سوال کرنے والا؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11458

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَخُونَهَا وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک مرتبہ اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر پر رکھا تو کہنے لگا کہ آپ کو جس شدت کا بخار ہے، بخدا! آپ پر زیادہ دیر تک ہاتھ رکھنے کی مجھ میں طاقت نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم گروہِ انبیاء کو جس طرح اجروثواب سے دوگنا دیا جاتا ہے، اسی طرح مصیبت بھی دوگنی آتی ہے، کسی نبی کی آزمائش جوؤں سے ہوئی اور وہ انہیں مارا کرتے تھے، کسی نبی کی آزمائش فقر وفاقہ سے ہوئی، یہاں تک کہ وہ ایک عباء لیتے اور اسی میں پورا جسم لپیٹتے تھے، اور وہ لوگ مصائب پر اسی طرح خوش ہوتے تھے جیسے تم لوگ آسانیوں پر خوش ہوتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11459

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَقْحَطَ فَلَا يَغْتَسِلَنَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس طرح (خلوت) کی کیفیت میں جلدی ہو تو غسل نہ کیا کرو (بلکہ بعد میں اطمینان سے غسل کیا کرو)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11460

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ رَأَى الطِّينَ فِي أَنْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ وَكَانُوا مُطِرُوا مِنْ اللَّيْلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں ، کیونکہ رات کو بارش ہوئی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11461

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُوا بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَكَشَفَ وَقَالَ أَلَا كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ أَوْ قَالَ فِي الصَّلَاةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا یاد رکھو! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو، اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11462

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ فِيهِ وَقَالَ مَرَّةً لَتَبِعْتُمُوهُ فِيهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر، اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11463

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ قَالَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ شَفَعَتْ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنْ النَّارِ أَوْ قَالَ قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلَّهِ خَيْرًا قَطُّ قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمْ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللَّهِ قَالَ فَيُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَيَقُولُ رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان قیامت کے دن جہنم سے نجات پاجائیں گے اور مامون ہوجائیں گے تو دنیا میں تم میں سے کسی صاحب حق کا اتنا شدید جھگڑا نہیں ہوگا جتنا وہ اپنے رب کے سامنے اپنے ان بھائیوں کے متعلق اصرار کریں گے جنہیں جہنم میں داخل کر دیا گیا ہوگا، اور وہ کہیں گے کہ پروردگار! یہ ہمارے بھائی تھے، ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور حج کرتے تھے اور تو نے انہیں جہنم میں داخل کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم جاؤ اور جن لوگوں کو جانتے ہو انہیں جہنم سے نکال لو، چنانچہ وہ لوگ آئیں گے اور انہیں ان کی صورت سے پہچان لیں گے کیونکہ آگ نے ان کے چہرے کو نہیں کھایا ہوگا، کسی کو نصف پنڈلی تک آگ نے پکڑ رکھا ہوگا اور کسی کو گھٹنوں تک، انہیں نکال کر وہ کہیں گے کہ پروردگار! ہم نے ان لوگوں کو نکال لیا ہے، جنہیں نکالنے کا تونے حکم دیا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ ان لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان موجود ہو، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر ایمان ہو، اسے بھی نکال لو، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس بات کو سچا نہ سمجھے اسے یہ آیت پڑھ لینی چاہئے " بے شک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو اسے دوگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطاء فرمائے گا " وہ کہیں گے کہ پروردگار! ہم نے ان تما م لوگوں کو نکال لیا ہے جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا اور اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا جس میں کوئی خیر ہو۔ پھر اللہ فرمائے گا کہ فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی اور مسلمانوں نے سفارش کی، اب ارحم الراحمین رہ گیا ہے۔ چنانچہ اللہ جہنم سے ایک یا دو مٹھیوں کے برابر آدمی نکالے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا ہوگا، وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں " ماءِ حیات " نامی نہر پر لایا جائے گا ان پر پانی بہایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے پانی کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے اور ان کے جسم موتیوں کی طرح چمکدار ہو کر نکلیں گے، ان کی گردنوں پر " اللہ کے آزاد کردہ لوگوں " کی مہر ہوگی، اور ان سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ تم جو تمنا کرو گے اس سے بہترین ملے گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار! اس سے افضل اور کیا ہوگا؟ اللہ فرمائے گا میری رضا مندی، آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11464

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ يُمَسُّ الثَّوْبُ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَهُوَ طَرْحُ الثَّوْبِ الرَّجُلُ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑ جائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری کی طرف پھینک دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11465

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11466

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ وَعَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ كِلَاهُمَا يُخْبِرُ عُمَرَ بْنَ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11467

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ ثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُنَابَذَةُ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَابْنِ بَكْرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑ جائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری کی طرف پھینک دے۔ حدیث نمبر (١١٩١٢) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11468

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ أَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعَ طَرَفَيْ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ وَيَتَّزِرَ بِشِقِّهِ الْأَيْمَنِ وَالْأُخْرَى أَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَيُفْضِيَ بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَلْبَسَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی تجارت سے منع فرمایا ہے، لباس کی تفصیل تو یہ ہے کہ ایک کپڑے میں اس طرح لپٹنا کہ کپڑے کا ایک کونا بائیں کندھے پر رکھے اور دائیں کونے سے تہبند بنائے، اور دوسرا یہ کہ ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آرہی ہو، اور دو قسم کی تجارت سے مراد منابدہ اور ملامسہ ہے، منابدہ تو یہ ہے کہ آدمی یوں کہے کہ جب میں یہ کپڑا پھینک دوں تو بیع ہوگی اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی اسے ہاتھ سے چھولے لیکن پہن کر یا پلٹ کر نہ دیکھے، کہ جب چھوئے تو بیع ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11469

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ الْأَغَرَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُنَادِي مُنَادٍ أَنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا وَلَا تَهْرَمُوا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا وَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمْ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کر دی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے، کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی غم نہ دیکھو گے یہی مطلب ہے اس ارشاد باری تعالیٰ کا کہ" انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کی وجہ سے وارث بنادیا گیا ہے۔ "

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11470

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے گروہوں میں جنگ نہ ہو جائے، جن دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11471

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ فَقُلْتُ مَا يُحْدِثُ فَقَالَ كَذَا قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص مسلسل نماز میں ہوتا ہے جو اپنے مصلیٰ پر نماز کا انتظار کر رہا ہو اور فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما دے، یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے یا اسے حدث لاحق ہو جائے، میں نے حدث کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا آواز سے ہوا کا خارج ہونا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11472

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الصَّهْبَاءِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ أَعْضَاءَهُ تُكَفِّرُ لِلِّسَانِ تَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّكَ إِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَأَنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے (غالباً) مرفوعاً مروی ہے کہ جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے سارے اعضاء زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارے معاملے میں خدا کا خوف کرنا، اگر تم سیدھی رہیں تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تم ٹیڑھی ہوگئیں تو (تمہاری برکت سے) ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11473

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ فَأَقْرِرْهُ مَقَرَّهُ فَإِنَّمَا كَانَ قَدَرٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے؟ کیا تم اسے رزق دو گے؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11474

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَعَنْ صَلَاةٍ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11475

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنٌ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِعَرَفَةَ قَالَ حَسَنٌ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ هَكَذَا يَجْعَلُ ظَاهِرَهُمَا فَوْقَ وَبَاطِنَهُمَا أَسْفَلَ وَوَصَفَ حَمَّادٌ وَرَفَعَ حَمَّادٌ يَدَيْهِ وَكَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11476

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيَأْخُذُ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس کی پچھلی شرمگاہ کا ایک بال پکڑ کر اسے کھینچتا ہے، وہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو وہ اپنی نماز نہ توڑے تاآنکہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرنے لگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11477

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيَأْخُذُ بِشَعْرَةٍ مِنْ دُبُرِهِ فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا

ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11478

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيفَةً يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت میں ایک ایسا خلیفہ ضرور مبعوث فرمائے گا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11479

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُزَيْنَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَكَتْنَا فَقَالَ أَلَيْسَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ كَذَا وَكَذَا قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَاصْنَعُوا كَمَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ وَجَلَسَ مَعَنَا ثُمَّ قَالَ أَبْشِرُوا صَعَالِيكَ الْمُهَاجِرِينَ بِالْفَوْزِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةٍ أَحْسَبُهُ قَالَ سَنَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے ، ہم انہیں دیکھ کر خاموش ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس اس طرح نہیں کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی ہاں ! اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح کرتے رہو جیسے تم کر رہے تھے، اور خود بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بعد فرمایا اے غریبوں کے گروہ! خوش ہوجاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا" پہلے جنت میں داخل ہوگے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11480

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے ۔ کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ اس کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11481

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَصْحَابُهُ حَتَّى رَخَّصَ لَهُمْ مِنْ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام مسلسل اصرار کرتے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سحری سے سحری تک کی اجازت دے دی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11482

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس وقت مبعوث کیا گیا اس وقت وہ اپنے اہل خانہ کے لئے بکریاں چراتے تھے، اور مجھے بھی جس وقت مبعوث کیا گیا تو میں بھی ا پنے اہل خانہ کے لئے مقامِ جیاد پر بکریاں چرایا کرتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11483

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغِلَابِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11484

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَاءَ جِنَازَةً فِي أَهْلِهَا فَتَبِعَهَا حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ مَضَى مَعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِثْلُ أُحُدٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11485

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فِرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11486

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11487

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ حَجَجْنَا فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ فَنَزَلَ إِلَى جَنْبِي قَالَ فَقُلْتُ مَا صَبَّ اللَّهُ هَذَا عَلَيَّ فَجَاءَنِي فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَمَا تَرَى مَا أَلْقَى مِنْ النَّاسِ يَقُولُونَ أَنْتَ الدَّجَّالُ أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ وَقَدْ جِئْتُ الْآنَ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا هُوَ ذَا أَذْهَبُ إِلَى مَكَّةَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَقَدْ دَخَلَ مَكَّةَ وَقَدْ وُلِدَ لِي حَتَّى رَقَقْتُ لَهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ السَّاعَةَ أَنَا فَقُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حج کیا، ہم ایک درخت کے نیچے اترے، ابن صائد آیا اور اس نے بھی اس کے ایک کونے میں پڑاؤ ڈال لیا، میں نے " اناللہ " پڑھ کر سوچا کہ یہ کیا مصیبت میرے گلے پڑ گئی ہے؟ اسی دوران وہ کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں ، اور مجھے دجال کہتے ہیں کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، میں نے کہا کیوں نہیں ، اس نے کہا کہ پھر میرے یہاں تو اولاد بھی ہے اور میں مدینہ منورہ سے نکلا ہوں اور مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے، میرے دل میں اس کے لئے نرمی پیدا ہوگئی، لیکن وہ آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اب کہاں ہے؟ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ کم بخت! تو برباد ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11488

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَرَحِمَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ مَاتَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الطَّحَّانَ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَأَبُو الْأَحْوَصِ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ فِي سَنَةِ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا مَاتَ قَبْلَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِقَلِيلٍ قَالَ أَبِي وَفِي تِلْكَ السَّنَةِ طَلَبْتُ الْحَدِيثَ كُنَّا عَلَى بَابِ هُشَيْمٍ وَهُوَ يُمْلِي عَلَيْنَا إِمَّا قَالَ الْجَنَائِزَ أَوْ الْمَنَاسِكَ فَجَاءَ رَجُلٌ بَصْرِيٌّ فَقَالَ مَاتَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں اور وہ انہیں ادب سکھائے، ان پر شفقت کرے اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11489

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَلَا حَرَجَ أَوْ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَمَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ۔ پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا، اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11490

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ عَرْشُ إِبْلِيسَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11491

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ مَرْوَانَ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ فَمَرَّ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ قُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ فَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَبِعَ جِنَازَةً لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ

ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک جنازہ گذرا، اس کے ساتھ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے گورنر صاحب! کھڑے ہو جائیں ، یہ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تھے تو اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے جب تک جنازے کو رکھ نہیں دیا جاتا تھا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11492

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11493

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا ثَلَاثَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ رَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لَهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوۃ حلال نہیں ، سوائے تین مواقع کے، جہاد فی سبیل اللہ میں ، حالت سفر میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے پڑوسی کو کسی صدقہ کی کوئی چیز بھیجی اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیہ بھیج دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11494

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم میں زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11495

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوۃ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11496

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ہم لوگ ایک صاع کھجور یا جو، یا پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دیتے تھے، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم آگئی اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ اس کا ایک مد دو کے برابر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11497

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11498

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَبْنَا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَتْ الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ فَقُلْنَا حُمُرٌ أَصَبْنَاهَا فَقَالَ وَحْشِيَّةٌ أَوْ أَهْلِيَّةٌ قَالَ قُلْنَا لَا بَلْ أَهْلِيَّةٌ قَالَ اكْفِئُوهَا قَالَ فَكَفَأْنَاهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے غزوہ خیبر کے دن ہمیں کچھ گدھے مل گئے، ابھی ہانڈیاں ابل رہی تھیں ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، (حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہو رہی تھی)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11499

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ فِي حَدٍّ قَالَ فَضَرَبْنَا بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ قَالَ مِسْعَرٌ أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب کے نشے میں مدہوش ایک آدمی کو لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس جوتے مارے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11500

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا قَالَ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یوم یأتی بعض ایت ربک " سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11501

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الطَّالِعَ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 11502

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا يَأْتِي عَلَيْنَا أَمِيرٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِي وَلَا عَامٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِي قَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَرَائِكُمْ أَمِيرًا يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا يَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَسْأَلُهُ فَيَقُولُ خُذْ فَيَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَهُ فَيَحْثِي فِيهِ وَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَةً غَلِيظَةً كَانَتْ عَلَيْهِ يَحْكِي صَنِيعَ الرَّجُلِ ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ أَكْنَافَهَا قَالَ فَيَأْخُذُهُ ثُمَّ يَنْطَلِقُ

ابوالوداک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بخدا! ہمارا جو بھی حکمران آتا ہے وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال پچھلے سال سے سے بدتر ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے حکمرانوں میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔ ایک آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا وہ اس سے کہے گا کہ اٹھالو، وہ ایک کپڑا بچھائے گا اور خلیفہ اس میں دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر مال ڈالے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موٹی چادر اتار کی اس کی کیفیت عملی طور پر پیش کر کے دکھائی، پھر اسے اکٹھا کر لیا اور فرمایا کہ وہ آدمی اسے لے کر چلا جائے گا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ میں جنات کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا ہے، اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین مرتبہ ڈرائے، پھر بھی اگر اسے مارنا مناسب سمجھے تو تیسری مرتبہ کے بعد مارے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تو ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو، پنیر یا کشمش ہی صدقہ فطر کے طور پر ادا کروں گا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں داخل ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بلا کر دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، پھر یکے بعد دیگرے دو آدمی اور آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی یہی حکم دیا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے، اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے مال آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ لوگوں میں تقسیم فرما دیا، اسی دوران قریش کا ایک آدمی آیا اور اس نے بھی سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی کپڑے یا چادر کے ایک کونے میں لپیٹ کر دے دیا، لیکن اس نے مزید کا مطالبہ کیا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک باندی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ، میں وہی چاہتا ہوں جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔

-

Permalink