TrueHadith

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 1625

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ السَّلُولِيِّ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے کلمات سکھا دیئے ہیں جو میں وتروں کی دعاء قنوت میں پڑھتا ہوں اور وہ یہ ہیں، اے اللہ، اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں مجھے بھی ہدایت عطاء فرما، اپنی بارگاہ سے عافیت ملنے والوں میں مجھے بھی عافیت عطاء فرما، جن لوگوں کی تو سرپرستی فرماتا ہے ان ہی میں میری سرپرستی بھی فرما اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لیے مبارک فرما، اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، کیونکہ تو فیصلہ کر سکتا ہے تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس کا تو دوست ہو جائے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا، تو بڑا بابرکت ہے اے ہمارے رب! اور بڑا برتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1626

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ بِالْأَمْسِ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُهُ بِالرَّايَةِ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ

ہبیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہوگیا ہے کہ پہلے لوگ علم میں ان پر سبقت نہ لے جاسکے اور بعد والے ان کی گرد بھی نہ پاسکیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپناجھنڈا دے کر بھیجا کرتے تھے، جبرئیل علیہ السلام ان کی دائیں جانب اور میکائیل علیہ السلام ان کی بائیں جانب ہوتے تھے اور وہ فتح حاصل کیے بغیر واپس نہ آتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1627

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُبْشِيٍّ قَالَ خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ قَتْلِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ بِالْأَمْسِ مَا سَبَقَهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ وَلَا أَدْرَكَهُ الْآخِرُونَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَبْعَثُهُ وَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ وَمَا تَرَكَ مِنْ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ مِنْ عَطَائِهِ كَانَ يَرْصُدُهَا لِخَادِمٍ لِأَهْلِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ أَنْ يَقُولَ فِي الْوَتْرِ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ

ہبیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہوگیا ہے کہ پہلے لوگ علم میں ان پر سبقت نہ لے جاسکے اور بعد والے ان کی گرد بھی نہ پاسکیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنا جھنڈا دے کر بھیجا کرتے تھے اور وہ فتح حاصل کیے بغیر واپس نہ آتے تھے اور انہوں نے اپنے ترکے میں کوئی سونا چاندی نہیں چھوڑا، سوائے اپنے وظیفے کے سات سو درہم کے جو انہوں نے اپنے گھر کے خادم کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ حدیث (١٧١٨) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1628

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ فَقَالَ الْحَسَنُ مَا صَنَعْتُمْ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّ

محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک جنازہ گذرا، لوگ کھڑے ہوگئے لیکن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اس لیے کھڑے ہوتے تھے کہ اس یہودی کی بدبو سے جس کا جنازہ گذر رہا تھا تنگ آگئے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1629

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا فَأَلْقَاهَا فِي التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَا عَلَيْكَ لَوْ أَكَلَ هَذِهِ التَّمْرَةَ قَالَ إِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ

ابو الحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آپ انہیں کھالینے دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1630

قَالَ وَكَانَ يَقُولُ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شک والی چیز کو چھوڑ کر بے شبہ چیزوں کو اختیار کیا کرو ، سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1631

قَالَ وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَرُبَّمَا قَالَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعاء بھی سکھایا کرتے تھے کہ اے اللہ، جن لوگوں کو آپ نے ہدایت عطاء فرمائی ان میں مجھے بھی شامل فرما، جنہیں عافیت عطاء فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، جن کی سرپرستی فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لیے مبارک فرما، اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما اور اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما، جس کا تو دوست ہوجائے اسے کوئی ذلیل نہیں کرسکتا اور اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1632

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ أَنَّهُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَدْخَلَنِي غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ مِنْهَا تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقِهَا فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ربیعہ بن شیبان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا تو یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پھینک دو کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کے لئے حلال نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1633

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِيَّ فَأَخْرَجَهَا بِلُعَابِي فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا قَالَ إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ قَالَ وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ

ابو الحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھالیتے تو کیا ہوجاتا؟ آپ انہیں کھالینے دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے صدقہ کا مال حلال نہیں ہے، نیز میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ نمازیں یاد رکھی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1634

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ جِنَازَةً مَرَّتْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَامَ الْحَسَنُ وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَلَمْ تَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلَى وَقَدْ جَلَسَ فَلَمْ يُنْكِرْ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

محمد کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے، اس پر امام حسن رضی اللہ عنہ نے کوئی نکیر نہ فرمائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1635

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ قَالَ فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ قَالَ وَإِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ

ابو الحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں بھی یاد ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوک سمیت اسے باہر نکال لیا اور اسے دوسری کھجوروں میں ڈال دیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر یہ ایک کھجور کھالیتے تو کیا ہو جاتا؟ آپ انہیں کھا لینے دیتے؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1636

قَالَ وَكَانَ يَقُولُ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شک والی چیز کو چھوڑ کر بے شبہ چیزوں کو اختیار کیا کرو ، سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1637

قَالَ وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ هَذِهِ أَيْضًا تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ هَذَا مِنْهُ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَخْرَجَهُ إِلَى الْمَهْدِيِّ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ فَلَمْ يَشُكَّ فِي تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ إِنَّكَ تَشُكُّ فِيهِ فَقَالَ لَيْسَ فِيهِ شَكٌّ

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعاء بھی سکھایا کرتے تھے کہ اے اللہ، جن لوگوں کو آپ نے ہدایت عطاء فرمائی ان میں مجھ بھی شامل فرما، جنہیں عافیت عطاء فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما، جن کی سرپرستی فرمائی، ان میں مجھے بھی شامل فرما اور اپنی عطاء کردہ نعمتوں کو میرے لیے مبارک فرما، اپنے فیصلوں کے شر سے میری حفاظت فرما اور جس کا تو دوست ہوجائے اسے کوئی ذلیل نہیں کرسکتا اور اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1638

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَجَلَسَ الْآخَرُ فَقَالَ الَّذِي قَامَ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ قَالَ بَلَى وَقَعَدَ

محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 1639

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَأَيَا جَنَازَةً فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الْآخَرُ فَقَالَ الَّذِي قَامَ أَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الَّذِي قَعَدَ بَلَى وَقَعَدَ

محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25756

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَطْعَمْ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ

حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی علیہ السلام پر پیشاب کردیا، نبی علیہ السلام نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25757

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ الطَّعَامَ فَبَالَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ وَدَخَلْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً عَلَيْهِ مِنْ الْعُذْرَةِ فَقَالَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُسْطِ وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ بِهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنْ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ

حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی علیہ السلام پر پیشاب کردیا، نبی علیہ السلام نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25758

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ أَبُو الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ دَمُ الْحَيْضِ قَالَ حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالنَّدِّ وَسِدْرٍ

حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے ساتھ دھولو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25759

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ أَنَّها قَالَتْ تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ لَا تَغْسِلْ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا قَالَ فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ

حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میرا ایک بیٹا فوت ہو گیا، جس کی وجہ سے میں بہت بے قرار تھی میں نے بے خبری کے عالم میں اسے غسل دینے والے سے کہہ دیا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو ورنہ یہ مر جائے گا، حضرت عکاشہ (جوان کے بھائی تھے) نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی بات سنائی، نبی علیہ السلام نے مسکرا کر فرمایا جس نے یہ جملہ کہا ہے اس کی عمر لمبی ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ عمر رسیدہ عورت کوئی نہیں دیکھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25760

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ قَالَتْ جِئْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ قَالَ يَعْنِي الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَكُنْ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَمَضَتْ السُّنَّةُ بِأَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَيُسْتَسْعَطُ لِلْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ لِذَاتِ الْجَنْبِ

حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی علیہ السلام پر پیشاب کردیا، نبی علیہ السلام نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25761

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلُ عَنْ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ حُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ

حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25762

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ

حضرت ام قیس سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دواور بیری کے ساتھ دھولو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25763

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ إِحْدَى بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ وَكَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّائِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَقَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنْ الْعُذْرَةِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعُلُقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ثُمَّ أَخَذَ الصَّبِيَّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ مَضَتْ السُّنَّةُ بِذَلِكَ

حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا پھرراوی نے پوری حدیث ذکر کی۔حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی علیہ السلام پر پیشاب کردیا، نبی علیہ السلام نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔

-

Permalink