TrueHadith

جن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ان کا بیان

Muwatta Imam MalikHadith 1320

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ فَاسْتَعْدَی عَلَی الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَی رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ وَالْکَثَرُ الْجُمَّارُ فَقَالَ الرَّجُلُ فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ أَخَذَ غُلَامًا لِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَهُ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِيَ إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَی مَعَهُ رَافِعٌ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَقَالَ أَخَذْتَ غُلَامًا لِهَذَا فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ قَالَ أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا کَثَرٍ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ

محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک شخص کے باغ میں سے کھجور کا پودا چرا کر اپنے مولی کے باغ میں لگادیا پودے والا اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا اس نے پالیا اور مروان بن حکم کے پاس غلام کی شکایت کی مروان نے غلام کو بلا کر قید کیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا اس غلام کا مولی رافع بن خدیج کے پاس گیا اور ان سے یہ حال کہا رافع نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ نہیں کاٹا جائے گا ہاتھ پھل میں نہ پودے میں وہ شخص بولا مروان نے میرے غلام کو پکڑا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیے اور مروان سے اس حدیث کو بیان کر دیجیے، رافع اس شخص کے ساتھ مران کے پاس گئے اور پوچھا کیا تو نے اس شخص کے غلام کو پکڑا ہے مروان نے کہا ہاں رافع نے پوچھا اس غلام کے ساتھ کیا کرے گا مروان نے کہا ہاتھ کاٹوں گا رافع نے کہا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے تھے کہ پھل اور پودے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مروان نے یہ سن کر حکم دیا کہ اس غلام کو چھوڑ دو ۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Yahya ibn Habban that a slave stole a small palm from a man's garden and planted it in the garden of his master. The owner of the palm went out looking for the palm and found it. He asked for help against the slave from Marwan ibn al-Hakam. Marwan jailed the slave and wanted to cut off his hand. The master of the slave rushed off to Rafi ibn Khadij and asked him about it. Rafi informed him that he heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "The hand is not cut off for fruit or palm pith." The man said, "Marwan ibn al-Hakam has taken a slave of mine and wants to cut off his hand. I would like you to go with me to him so you can tell him what you heard from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace." So, Rafi went with him to Marwan ibn al-Hakam. He said, "Did you arrest a slave for this?" He said, "Yes." He said, "What will you do with him?" He said, "I want to cut off his hand." Rafi said to him, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, 'The hand is not cut off for dates or palm pith.' Marwan therefore ordered the slave to be released."

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1321

عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِيِّ جَائَ بِغُلَامٍ لَهُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ اقْطَعْ يَدَ غُلَامِي هَذَا فَإِنَّهُ سَرَقَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَاذَا سَرَقَ فَقَالَ سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا فَقَالَ عُمَرُ أَرْسِلْهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ خَادِمُکُمْ سَرَقَ مَتَاعَکُمْ

سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے اپنے ایک غلام کو لے کر آیا اور کہا میرے اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے اس نے چوری کی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا چرایا؟ وہ بولا میری بیوی کا آئینہ چرایا جس کی قیمت ساٹھ درہم تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا چھوڑ دو اس کا ہاتھ نہ کا ٹا جائے گا تمہارا خادم تھا تمہارا مال چرایا ۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from as-Sa'ib ibn Yazid that Abdullah ibn Amr ibn al-Hadrami brought a slave of his to Umar ibn al-Khattab and said to him, "Cut off the hand of this slave of mine. He has stolen." Umar said to him, "What did he steal?" He said, "He stole a mirror belonging to my wife. Its value was sixty dirhams." Umar said, "Let him go. His hand is not to be cut off. He is your servant who has stolen your belongings."

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1322

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ أُتِيَ بِإِنْسَانٍ قَدْ اخْتَلَسَ مَتَاعًا فَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَأَرْسَلَ إِلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس ایک شخص آیا جو کسی کا مال اچک لے گیا تھا مروان نے اسکا ہاتھ کاٹنا چاہا پھر زید بن ثابت کے پاس ایک شخص کو بھیجا یہ مسئلہ پوچھنے کو انہوں نے کہا اچکے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا ۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Marwan ibn al-Hakam was brought a man who had snatched some goods and he wanted to cut off his hand. He sent to Zayd ibn Thabit to ask him about it. Zayd ibn Thabit said to him, "The hand is not cut off for what is stolen by chance, openly, in haste."

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith 1323

عَنْ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ أَخَذَ نَبَطِيًّا قَدْ سَرَقَ خَوَاتِمَ مِنْ حَدِيدٍ فَحَبَسَهُ لِيَقْطَعَ يَدَهُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَاةً لَهَا يُقَالُ لَهَا أُمَيَّةُ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَجَائَتْنِي وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ فَقَالَتْ تَقُولُ لَکَ خَالَتُکَ عَمْرَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي أَخَذْتَ نَبَطِيًّا فِي شَيْئٍ يَسِيرٍ ذُکِرَ لِي فَأَرَدْتَ قَطْعَ يَدِهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّ عَمْرَةَ تَقُولُ لَکَ لَا قَطْعَ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَأَرْسَلْتُ النَّبَطِيَّ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي اعْتِرَافِ الْعَبِيدِ أَنَّهُ مَنْ اعْتَرَفَ مِنْهُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِشَيْءٍ يَقَعُ الْحَدُّ فِيهِ أَوْ الْعُقُوبَةُ فِيهِ فِي جَسَدِهِ فَإِنَّ اعْتِرَافَهُ جَائِزٌ عَلَيْهِ وَلَا يُتَّهَمُ أَنْ يُوقِعَ عَلَى نَفْسِهِ هَذَا قَالَ مَالِك وَأَمَّا مَنْ اعْتَرَفَ مِنْهُمْ بِأَمْرٍ يَكُونُ غُرْمًا عَلَى سَيِّدِهِ فَإِنَّ اعْتِرَافَهُ غَيْرُ جَائِزٍ عَلَى سَيِّدِهِ قَالَ مَالِك لَيْسَ عَلَى الْأَجِيرِ وَلَا عَلَى الرَّجُلِ يَكُونَانِ مَعَ الْقَوْمِ يَخْدُمَانِهِمْ إِنْ سَرَقَاهُمْ قَطْعٌ لِأَنَّ حَالَهُمَا لَيْسَتْ بِحَالِ السَّارِقِ وَإِنَّمَا حَالُهُمَا حَالُ الْخَائِنِ وَلَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَسْتَعِيرُ الْعَارِيَةَ فَيَجْحَدُهَا إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَجَحَدَهُ ذَلِكَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيمَا جَحَدَهُ قَطْعٌ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي السَّارِقِ يُوجَدُ فِي الْبَيْتِ قَدْ جَمَعَ الْمَتَاعَ وَلَمْ يَخْرُجْ بِهِ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ وَضَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ خَمْرًا لِيَشْرَبَهَا فَلَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ وَمَثَلُ ذَلِكَ رَجُلٌ جَلَسَ مِنْ امْرَأَةٍ مَجْلِسًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَهَا حَرَامًا فَلَمْ يَفْعَلْ وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ مِنْهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي ذَلِكَ حَدٌّ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ بَلَغَ ثَمَنُهَا مَا يُقْطَعُ فِيهِ أَوْ لَمْ يَبْلُغْ

ابو بکر بن محمد عمر بن حزم نے ایک نبطی (نبط کا رہنے والا) کو پکڑا جس نے انگوٹھیاں لوہے کی چرائی تھیں اور اس کو قید کیا ہاتھ کا ٹنے کے واسطے عمرہ بنت عبدالرحمن نے اپنی مولاۃ(آزاد لونڈی) کو جس کا نام امیہ تھا ابوبکر کے پاس بھیجا ابوبکر نے کہا وہ مولاۃ میرے پاس چلی آئی اور میں لوگوں میں بٹیھا ہوا تھا، بولی تمہاری خالہ عمرہ نے کہا ہے کہ اے میرے بھانجے تو نے ایک نبطی کو پکڑا ہے تھوڑی چیز کے واسطے اور چاہتا ہے اس کا ہاتھ کاٹنا میں نے کہا ہاں! اس نے کہا عمرہ نے کہا ہے کہ قطع نہیں ہے مگر ربع دینار کی مالیت میں یا زیادہ میں تو میں نے نبطی کو چھوڑ دیا ۔ کہا مالک نے غلام اگر ایسے قصور کا اقرار کرے جس میں اس کے بدن کا نقصان ہو تو درست ہے اس کو تہمت نہ لگائیں گے اس بات کی کہ اس نے مولیٰ کے ضرر کے واسطے جھوٹا اقرار کرلیا۔ کہا مالک نے اگر ایسے قصور کا اقرار کرے جس کا تاوان مولیٰ کو دینار پڑے تو اس کا اقرارصحیح نہ سمجھا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر مزدور یا اور کوئی شخص لوگوں میں رہتا ہو اور آتا ہو پھر وہ ان کی کوئی چیز چرائے تو اس پر قطع نہیں ہے کیونکہ وہ مثل خائن کے ہوا اور خائن پر قطع نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کوئی چیز بطور عاریتا کے لے پھر مکر جائے تو اس پر قطع نہیں ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی کا قرض کسی پر ہو اور وہ مکر جائے تو قطع نہیں ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اچک لینے میں قطع نہیں ہے اگرچہ اس شئے کی قیمت ربع دینار یا زیادہ ہو۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that Abu Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm informed him that he had taken a Nabatean who had stolen some iron rings and jailed him in order to cut off his hand. Amra bint Abd ar-Rahman sent a girl mawla to him called Umayya. Abu Bakr said that she had come to him while he was among the people and said that his aunt Amra sent word to him saying, "Son of my brother! You have taken a Nabatean for something insignificant which was mentioned to me. Do you want to cut off his hand?" He had said, "Yes." She said, ''Amra says to you not to cut off the hand except for a quarter of a dinar and upwards." Abu Bakr added, "So I let the Nabatean go."

Permalink