TrueHadith

لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان اور ابوالدرداء سے منقول ہے کہ ہم لوگ بعض لوگوں سے اچھی طرح پیش آتے تھے لیکن ہمارے دل ان پر لعنت کرتے تھے۔

Sahih BukhariHadith 5666

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْکَلَامَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فِي الْقَوْلِ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَکَهُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَائَ فُحْشِهِ

قتیبہ بن سعید سفیان ابن منکدر عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے دو وہ قبیلہ کا برا بیٹا ہے یا قبیلہ کا برا بھائی ہے جب وہ اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے نرمی سے گفتگو کی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کے متعلق فرمایا تھا جو آپ نے فرمایا پھر جب وہ اندر آیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی آپ نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ کے نزدیک سب سے برا آدمی درجہ کے لحاظ سے وہ ہے جس کو لوگوں نے اس کی فحش باتوں سے بچنے کے لئے چھوڑ دیا ہو۔

Narrated Aisha: A man asked permission to see the Prophet. He said, "Let Him come in; What an evil man of the tribe he is! (Or, What an evil brother of the tribe he is)." But when he entered, the Prophet spoke to him gently in a polite manner. I said to him, "O Allah's Apostle! You have said what you have said, then you spoke to him in a very gentle and polite manner? The Prophet said, "The worse people, in the sight of Allah are those whom the people leave (undisturbed) to save themselves from their dirty language."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5667

Narrated by 'Abdullah bin Abu Mulaika

حَدَّثَنَي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ فَلَمَّا جَائَ قَالَ قَدْ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ قَالَ أَيُّوبُ بِثَوْبِهِ وَأَنَّهُ يُرِيهِ إِيَّاهُ وَکَانَ فِي خُلُقِهِ شَيْئٌ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ

عبداللہ بن عبدالوہاب ابن علیہ ایوب عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند قبائیں ہدیہ میں بھیجی گئیں جو دیباج کی تھیں اور اس میں سونے کے بٹن تھے ان کو صحابہ میں تقسیم کردیا اور ایک مخرمہ کے واسطے علیحدہ رکھ لی جب مخرمہ آئے تو آپ نے فرمایا میں نے یہ تمہارے واسطے رکھ لی تھی ایوب کا بیان ہے کہ اپنے کپڑے میں لپیٹ دیا تھا تاکہ وہ اس کو دکھلائیں اور آپ کے خلق میں خوش طبعی تھی اس کو حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بواسطہ ابن ابی ملیکہ مسور نے قبائیں لفظ نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند قبائیں آئیں۔

Narrated 'Abdullah bin Abu Mulaika: The Prophet was given a gift of a few silken cloaks with gold buttons. He distributed them amongst some of his companions and put aside one of them for Makhrama. When Makhrama came, the Prophet said, "I kept this for you." (Aiyub, the sub-narrator held his garment to show how the Prophet showed the cloak to Makhrama who had something unfavorable about his temper.)

Permalink