Narrated by 'Ubada bin As-Samit
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَهِ وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
اسماعیل، مالک، یحیی بن سعید، عبادہ بن ولید، ولید، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم سنیں گے، (اور ہر حال میں) خوشی اور ناراضی میں آپ کی اطاعت کریں گے، اور یہ کہ حاکموں سے حکومت کے لئے نہ لڑیں گے اور یہ کہ حق پر قائم رہیں گے یا یہ کہا کہ ہم حق بات کہیں گے جہاں بھی ہوں گے اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کریں گے۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit: We gave the oath of allegiance to Allah's Apostle that we would listen to and obey him both at the time when we were active and at the time when we were tired and that we would not fight against the ruler or disobey him, and would stand firm for the truth or say the truth wherever we might be, and in the Way of Allah we would not be afraid of the blame of the blamers. (See Hadith No. 178 and 320)
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأَجَابُوا نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَی الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا
عمرو بن علی، خالد بن حارث، حمید، حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے موسم میں صبح کے وقت باہر نکلے اس وقت مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے اللہ بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے اس لئے انصار اور مہاجرین کو بخش دے ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر ہمیشہ کے لئے بیعت کی ہے جب تک کہ ہم زندہ رہیں۔
Narrated Anas: The Prophet went out on a cold morning while the Muhajirin (emigrants) and the Ansar were digging the trench. The Prophet then said, "O Allah! The real goodness is the goodness of the Here after, so please forgive the Ansar and the Muhajirin." They replied, "We are those who have given the Pledge of allegiance to Muhammad for to observe Jihad as long as we remain alive."
Narrated by 'Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ
عبداللہ بن یوسف، مالک، عبدالرحمن بن دینار، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کرتے تو آپ (یہ بھی) فرماتے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: Whenever we gave the Pledge of allegiance to Allah's Apostle for to listen to and obey, he used to say to us, for as much as you can"
Narrated by 'Abdullah bin Dinar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ حَيْثُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ کَتَبَ إِنِّي أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ مَا اسْتَطَعْتُ وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِمِثْلِ ذَلِکَ
مسدد، یحیی ، سفیان، عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر کے پاس تھا جب کہ لوگ عبدالملک کے پاس اکٹھے ہوئے تھے ابن عمر نے اس کو لکھ بھیجا کہ میں اللہ کے بندے امیرالمومنین کے لئے جس قدر ہو سکے گا اللہ اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق اس کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں اور میرے لڑکوں نے بھی اس کا اقرار کیا ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Dinar: I witnessed Ibn 'Umar when the people gathered around 'Abdul Malik. Ibn 'Umar wrote: I gave the Pledge of allegiance that I will listen to and obey Allah's Slave, 'Abdul Malik, Chief of the believers according to Allah's Laws and the Traditions of His Apostle as much as I can; and my sons too, give the same pledge.'
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنَنِي فِيمَا اسْتَطَعْتُ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ
یعقوب بن ابراہیم، ہشیم، سیار، شعبی، جریر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تو آپ نے مجھے تلقین کی کہ (یہ بھی کہہ کہ جس قدر مجھ سے ہو سکے گا)
Narrated Jabir bin 'Abdullah: I gave the Pledge of allegiance to the Prophet that I would listen and obey, and he told me to add: 'As much as I can, and will give good advice to every Muslim.'
Narrated by 'Abdullah bin Dinar
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ لَمَّا بَايَعَ النَّاسُ عَبْدَ الْمَلِکِ کَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِذَلِکَ
عمرو بن علی، یحیی ، سفیان، عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ جب لوگوں نے عبدالمالک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ بھیجا کہ اللہ کے بندے امیرالمومنین عبدالملک کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کا اللہ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق اقرار کرتا ہوں جس قدر مجھ سے ہو سکے گا اور میرے بیٹوں نے بھی اسکا اقرار کیا ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Dinar: When the people took the oath of allegiance to 'Abdul Malik, 'Abdullah bin 'Umar wrote to him: "To Allah's Slave, 'Abdul Malik, Chief of the believers, I give the Pledge of allegiance that I will listen to and obey Allah's Slave, 'Abdul Malik, Chief of the believers, according to Allah's Laws and the Traditions of His Apostle in whatever is within my ability; and my sons too, give the same pledge."
Narrated by Yazid
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ بَايَعْتُمْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَی الْمَوْتِ
عبداللہ بن مسلمہ، حاتم، یزید سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیبیہ کے دن کس چیز پر بیعت کی تھی انہوں نے کہا کہ موت پر۔
Narrated Yazid: I said to Salama, "For what did you give the Pledge of allegiance to the Prophet on the Day of Hudaibiya?" He replied, "For death."
Narrated by Al-Miswar bin Makhrama
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا فَتَشَاوَرُوا فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُکُمْ عَلَی هَذَا الْأَمْرِ وَلَکِنَّکُمْ إِنْ شِئْتُمْ اخْتَرْتُ لَکُمْ مِنْکُمْ فَجَعَلُوا ذَلِکَ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ فَمَالَ النَّاسُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّی مَا أَرَی أَحَدًا مِنْ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِکَ الرَّهْطَ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ وَمَالَ النَّاسُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْکَ اللَّيَالِي حَتَّی إِذَا کَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ قَالَ الْمِسْوَرُ طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنْ اللَّيْلِ فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّی اسْتَيْقَظْتُ فَقَالَ أَرَاکَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اکْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِکَبِيرِ نَوْمٍ انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ ادْعُ لِي عَلِيًّا فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّی ابْهَارَّ اللَّيْلُ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ عَلَی طَمَعٍ وَقَدْ کَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَی مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي عُثْمَانَ فَدَعَوْتُهُ فَنَاجَاهُ حَتَّی فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا صَلَّی لِلنَّاسِ الصُّبْحَ وَاجْتَمَعَ أُولَئِکَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَأَرْسَلَ إِلَی مَنْ کَانَ حَاضِرًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَرْسَلَ إِلَی أُمَرَائِ الْأَجْنَادِ وَکَانُوا وَافَوْا تِلْکَ الْحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَی نَفْسِکَ سَبِيلًا فَقَالَ أُبَايِعُکَ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَائُ الْأَجْنَادِ وَالْمُسْلِمُونَ
عبداللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ، مالک، زہری، حمید بن عبدالرحمن، مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں وہ لوگ جنہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت کا اختیار دیا تھا جمع ہوئے اور مشورہ کیا کہ ان لوگوں سے عبدالرحمن نے کہا کہ میں تم سے اس معاملہ میں جھگڑنے والا نہیں ہوں، لیکن اگر تم چاہو تو تم ہی میں سے کسی کو تمہارے لئے منتخب کر دوں، چنانچہ ان لوگوں نے یہ معاملہ عبدالرحمن پر چھوڑ دیا جب ان لوگوں نے عبدالرحمن کے پیچھے ہوئے یہاں تک کہ ان بقیہ لوگوں میں سے کسی کے پاس ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا لوگوں عبدالرحمن سے ان راتوں میں مشورہ کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس کی صبح میں ہم لوگوں نے حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، مسور کا بیان ہے کہ تھوڑی رات گزر جانے کے بعد عبدالرحمن نے میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا کہ میری آنکھ کھل گئی انہوں نے کہا کہ میں تمہیں سوتا ہوا دیکھتا ہوں حالانکہ خدا کی قسم، ان راتوں میں میری آنکھ بھی نہیں لگی، تم چلو اور زبیر کو میرے پاس بلاؤ میں ان دونوں کو بلا لاؤ، چنانچہ میں نے انہیں بھی بلا لیا، ان سے بہت رات گئے تک سرگوشی کرتے رہے، پھر حضرت علی کے پاس سے اٹھے تو ان کے دل میں خلافت کی خواہش تھی، اور عبدالرحمن کو ان کی خلافت سے اختلاف امت کا اندیشہ تھا، پھر عبدالرحمن نے کہا حضرت عثمان کو بلا لاؤ تو ان سے سرگوشی کرتے رہے، یہاں تک کہ صبح کی اذان نے ان کو جدا کیا، جب لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور یہ لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ موجود تھے ان کو بلا بھیجا، اور سردار لشکر کو بلا بھیجا، یہ سب لوگ حج میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیساتھ شریک ہوئے تھے، جب سب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت عبدالرحمن نے خطبہ پڑھا پھر کہا کہ اما بعد اے علی میں نے لوگوں کی حالت پر نظر کی ہے تو دیکھا کہ وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں اس لئے تم اپنے دل میں میری طرف سے کچھ خیال نہ کرنا، تو حضرت علی نے (حضرت عثمان سے کہا) میں اللہ اور اس کے رسول اور آپ دونوں خلیفہ کی سنت پر تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں عبدالرحمن نے بھی بیعت کی اور تمام لوگوں نے مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور مسلمانوں نے بیعت کی۔
Narrated Al-Miswar bin Makhrama: The group of people whom 'Umar had selected as candidates for the Caliphate gathered and consulted each other. Abdur-Rahman said to them, "I am not going to compete with you in this matter, but if you wish, I would select for you a caliph from among you." So all of them agreed to let 'Abdur-Rahman decide the case. So when the candidates placed the case in the hands of 'Abdur-Rahman, the people went towards him and nobody followed the rest of the group nor obeyed any after him. So the people followed 'Abdur-Rahman and consulted him all those nights till there came the night we gave the oath of allegiance to 'Uthman. Al-Miswar (bin Makhrama) added: 'Abdur-Rahman called on me after a portion of the night had passed and knocked on my door till I got up, and he said to me, "I see you have been sleeping! By Allah, during the last three nights I have not slept enough. Go and call Az-Zubair and Sa'd.' So I called them for him and he consulted them and then called me saying, 'Call 'Ali for me." I called 'Ali and he held a private talk with him till very late at night, and then 'Al, got up to leave having had much hope (to be chosen as a Caliph) but 'Abdur-Rahman was afraid of something concerning 'Ali. 'Abdur-Rahman then said to me, "Call 'Uthman for me." I called him and he kept on speaking to him privately till the Mu'adhdhin put an end to their talk by announcing the Adhan for the Fajr prayer. When the people finished their morning prayer and that (six men) group gathered near the pulpit, 'Abdur-Rahman sent for all the Muhajirin (emigrants) and the Ansar present there and sent for the army chief who had performed the Hajj with 'Umar that year. When all of them had gathered, 'Abdur-Rahman said, "None has the right to be worshipped but Allah," and added, "Now then, O 'Ali, I have looked at the people's tendencies and noticed that they do not consider anybody equal to 'Uthman, so you should not incur blame (by disagreeing)." Then 'Abdur-Rahman said (to 'Uthman), "I gave the oath of allegiance to you on condition that you will follow Allah's Laws and the traditions of Allah's Apostle and the traditions of the two Caliphs after him." So 'Abdur-Rahman gave the oath of allegiance to him, and so did the people including the Muhajirin (emigrants) and the Ansar and the chiefs of the army staff and all the Muslims.