Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْکَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلَی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّی تَنْظُرُوا إِلَيْهِ کُلُّکُمْ فَذَکَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا عِفْرِيتٌ مُتَمَرِّدٌ مِنْ إِنْسٍ أَوْ جَانٍّ مِثْلُ زِبْنِيَةٍ جَمَاعَتُهَا الزَّبَانِيَةُ
محمد بن بشار محمد بن جعفر شعبہ محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک سرکش جن یکایک رات میرے پاس آیا تاکہ میری نماز توڑ ڈالے پس اللہ نے مجھے اس پر قدرت دی میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب لوگ اسے دیکھو پس مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آئی کہ اے میرے پروردگار مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے تو میں نے اسے نامراد و ناکام واپس کر دیا عفریت کے معنی سرکش چاہے انسان ہو یا جن (بعض قراءتوں میں عفریتہ ہے) اس کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں کہ اگر یہ عفریتہ ہو تو زبنیتہ کی طرح ہوگا جس کی جمع زبانیہ آتی ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "A strong demon from the Jinns came to me yesterday suddenly, so as to spoil my prayer, but Allah enabled me to overpower him, and so I caught him and intended to tie him to one of the pillars of the Mosque so that all of you might see him, but I remembered the invocation of my brother Solomon: 'And grant me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) so I let him go cursed."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی سَبْعِينَ امْرَأَةً تَحْمِلُ کُلُّ امْرَأَةٍ فَارِسًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ وَلَمْ تَحْمِلْ شَيْئًا إِلَّا وَاحِدًا سَاقِطًا أَحَدُ شِقَّيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَالَهَا لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ شُعَيْبٌ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ تِسْعِينَ وَهُوَ أَصَحُّ
خالد بن مخلد مغیرہ بن عبدالرحمن ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن سلیمان علیہ السلام نے قسم کھائی کہ میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو ایک شہسوار اور مجاہد فی سبیل اللہ کا حمل رہ جائے گا ان کے ایک مصاحب نے کہا کہ ان شاء اللہ کہئے مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا سو کوئی عورت حاملہ نہیں ہوئی سوائے ایک کے مگر اس کے بھی بچہ ایسا پیدا ہوا جس کی ایک جانب گری ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو سب بچے پیدا ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے شعیب اور ابن ابوالزناد نے نوے عورتوں کی روایت کی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Solomon (the son of) David said, 'Tonight I will sleep with seventy ladies each of whom will conceive a child who will be a knight fighting for "Allah's Cause.' His companion said, 'If Allah will.' But Solomon did not say so; therefore none of those women got pregnant except one who gave birth to a half child." The Prophet further said, "If the Prophet Solomon had said it (i.e. 'If Allah will') he would have begotten children who would have fought in Allah's Cause." Shuaib and Ibn Abi Az-Zinad said, "Ninety (women) is more correct (than seventy)."
Narrated by Abu Dhaar
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَی قُلْتُ کَمْ کَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ ثُمَّ قَالَ حَيْثُمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ وَالْأَرْضُ لَکَ مَسْجِدٌ
عمر بن حفص ان کے والد اعمش ابراہیم تیمی ان کے والد ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ نے فرمایا کہ مسجد حرام میں نے کہا پھر کون سی مسجد بنائی گئی آپ نے فرمایا مسجد اقصی میں نے کہا ان دونوں میں کتنی مدت ہے؟ آپ نے فرمایا چالیس سال پھر فرمایا جہاں بھی کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لو کیونکہ تمام زمین تمہارے لئے سجدہ گاہ (بنا دی گئی) ہے۔
Narrated Abu Dhaar: I said, "O Allah's Apostle! Which mosque was built first?" He replied, "Al-Masjid-ul-Haram." I asked, "Which (was built) next?" He replied, "Al-Masjid-ul-Aqs-a (i.e. Jerusalem)." I asked, "What was the period in between them?" He replied, "Forty (years)." He then added, "Wherever the time for the prayer comes upon you, perform the prayer, for all the earth is a place of worshipping for you."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ تَقَعُ فِي النَّارِ وَقَالَ کَانَتْ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَائَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِکِ وَقَالَتْ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِکِ فَتَحَاکَمَتَا إِلَی دَاوُدَ فَقَضَی بِهِ لِلْکُبْرَی فَخَرَجَتَا عَلَی سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّکِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا فَقَالَتْ الصُّغْرَی لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُکَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَی بِهِ لِلصُّغْرَی قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّکِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا کُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةُ
ابوالیمان شعیب ابوالزناد عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص آگ روشن کرے پس پروانے اور یہ کیڑے اس آگ میں گرنے لگیں آپ نے (تذکرۃ پھر یہ) فرمایا کہ دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ دونوں کے بچے تھے کہ ایک بھیڑیا آیا اور ایک کے بچہ کو لے گیا۔ ایک عورت نے کہا بھیڑیا تیرے بیٹے کو لے گیا ہے دوسری نے کہا نہیں تیرے کو لے گیا ہے ان دونوں نے داؤد کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے بڑی عورت کے حق میں اس بچہ کا فیصلہ کر دیا پھر دونوں وہاں سے نکل کر سلیمان بن داؤد کے پاس آئیں اور یہ واقعہ انہیں بتایا تو سلیمان نے کہا کہ ایک چھری لاؤ میں اس بچہ کے دو ٹکرے کر کے دونوں میں تقسیم کر دوں گا چھوٹی عورت نے کہا کہ ایسا نہ کیجئے خدا آپ کا بھلا کرے یہ اسی کا بیٹا سہی پس سلیمان نے بچہ چھوٹی کو دلوا دیا۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے سکین کا لفظ اسی دن سنا ورنہ ہم تو (چھری) کو مدیہ کہتے تھے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "My example and the example o the people is like that of a person who lit a fire and let the moths, butterflies and these insects fall in it." He also said, "There were two women, each of whom had a child with her. A wolf came and took away the child of one of them, whereupon the other said, 'It has taken your child.' The first said, 'But it has taken your child.' So they both carried the case before David who judged that the living child be given to the elder lady. So both of them went to Solomon bin David and informed him (of the case). He said, 'Bring me a knife so as to cut the child into two pieces and distribute it between them.' The younger lady said, 'May Allah be merciful to you! Don't do that, for it is her (i.e. the other lady's) child.' So he gave the child to the younger lady."