Sahih Bukhari — Hadith 3170
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْکَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلَی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّی تَنْظُرُوا إِلَيْهِ کُلُّکُمْ فَذَکَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا عِفْرِيتٌ مُتَمَرِّدٌ مِنْ إِنْسٍ أَوْ جَانٍّ مِثْلُ زِبْنِيَةٍ جَمَاعَتُهَا الزَّبَانِيَةُ
محمد بن بشار محمد بن جعفر شعبہ محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک سرکش جن یکایک رات میرے پاس آیا تاکہ میری نماز توڑ ڈالے پس اللہ نے مجھے اس پر قدرت دی میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب لوگ اسے دیکھو پس مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آئی کہ اے میرے پروردگار مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے تو میں نے اسے نامراد و ناکام واپس کر دیا عفریت کے معنی سرکش چاہے انسان ہو یا جن (بعض قراءتوں میں عفریتہ ہے) اس کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں کہ اگر یہ عفریتہ ہو تو زبنیتہ کی طرح ہوگا جس کی جمع زبانیہ آتی ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "A strong demon from the Jinns came to me yesterday suddenly, so as to spoil my prayer, but Allah enabled me to overpower him, and so I caught him and intended to tie him to one of the pillars of the Mosque so that all of you might see him, but I remembered the invocation of my brother Solomon: 'And grant me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) so I let him go cursed."