Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي کَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ وَقَالَ فِي کَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ
ابو نعیم، سفیان، ابن ابی نجیح، عبداللہ ، ابن کثیر، ابوالمنہال، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور لوگ پھلوں میں دو یا تین سال کی سلم کرتے تھے تو آپ نے فرمایا پھلوں میں معین ناپ میں مدت معینہ کے وعدے پر سلم کیا کرو اور عبداللہ بن ولید نے کہا کہ ہم سے سفیان نے ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا اور کہا کہ معین پیمانہ اور معین وزن میں ہو۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet came to Medina and the people used to pay in advance the prices of fruits to be delivered within two to three years. The Prophet said (to them), "Buy fruits by paying their prices in advance on condition that the fruits are to be delivered to you according to a fixed specified measure within a fixed specified period." Ibn Najih said, " ... by specified measure and specified weight." ________________________________________
Narrated by Muhammad bin Abi Al-Mujalid
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی فَسَأَلْتُهُمَا عَنْ السَّلَفِ فَقَالَا کُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَی أَجَلٍ مُسَمَّی قَالَ قُلْتُ أَکَانَ لَهُمْ زَرْعٌ أَوْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ زَرْعٌ قَالَا مَا کُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِکَ
محمد بن مقاتل، عبداللہ ، سفیان، سلیمان، شیبانی، محمد بن ابی مجالد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے عبدالرحمن بن ابزی اور عبداللہ بن ابی اوفی کے پاس بھیجا میں نے ان دونوں سے سلم کے متعلق پوچھا تو دونوں نے کہا کہ ہم کو غنیمت کا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملتا تھا اور شام کے کاشتکار ہمارے پاس آتے تھے، تو ہم ان سے گیہوں جو اور منقی میں ایک مدت کے وعدے پر سلم کیا کرتے تھے میں نے پوچھا ان کے پاس کھیتی ہوتی تھی یا نہیں ان دونوں نے کہا کہ ہم ان سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے تھے۔
Narrated Muhammad bin Abi Al-Mujalid: Abu Burda and 'Abdullah bin Shaddad sent me to 'Abdur Rahman bin Abza and 'Abdullah bin Abi Aufa to ask them about the Salaf (Salam). They said, "We used to get war booty while we were with Allah's Apostle and when the peasants of Sham came to us we used to pay them in advance for wheat, barley, and oil to be delivered within a fixed period." I asked them, "Did the peasants own standing crops or not?" They replied, "We never asked them about it." ________________________________________