TrueHadith

منیٰ کے دنوں میں تکبیر کہنے کا بیان، اور جب عرفہ کے دن صبح کے وقت مقام عرفات کو جائے، اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خیمہ ہی میں تکبیر کہتے جب اس کو مسجد والے سنتے تو تکبیر کہتے، یہاں تک کہ منیٰ کی زمین تکبیر سے گونج جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ میں ان دنوں میں تکبیر کہتے اور تمام نمازوں کے بعد اپنے بستر پر اپنے خیمہ میں، اپنی مجلس میں اور راستہ چلنے میں، ان تمام دنوں میں ۔ اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یوم نحر میں تکبیر کہتی تھیں، اور عورتیں ابان بن عثمان اور عبدالعزیز کے پیچھے تشریق کے زمانہ میں مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیر کہتی تھیں ۔

Sahih BukhariHadith 917

Narrated by Muhammad bin Abi Bakr Al-Thaqafi

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ عَنْ التَّلْبِيَةِ کَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي لَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ وَيُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ

ابونعیم، مالک بن انس، محمد بن ابی بکر ثقفی روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ صبح کے وقت منیٰ سے عرفات کو جا رہے تھے تو میں نے انس بن مالک سے تلبیہ کے متعلق پوچھا کہ آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کس طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ لبیک کہنے والا لبیک کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اسے بھی کوئی برا نہیں سمجھتا تھا۔

Narrated Muhammad bin Abi Bakr Al-Thaqafi: While we were going from Mina to 'Arafat, I asked Anas bin Malik, about Talbiya, "How did you use to say Talbiya in the company of the Prophet?" Anas said: "People used to say Talbiya and their saying was not objected to and they used to say Takbir and that was not objected to either. "

Permalink

Sahih BukhariHadith 918

Narrated by Um 'Atiya

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ کُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ حَتَّی نُخْرِجَ الْبِکْرَ مِنْ خِدْرِهَا حَتَّی نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَکُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُکَبِّرْنَ بِتَکْبِيرِهِمْ وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ يَرْجُونَ بَرَکَةَ ذَلِکَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتَهُ

عمرو بن حفص، حفص، عاصم، حفصہ، ام عطیہ سے روایت کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن گھر سے نکلیں، یہاں تک کہ کنواری عورتیں بھی اپنے پردہ سے باہر ہوتیں اور حائضہ عورتیں بھی گھر سے باہر نکلتیں، پس وہ مردوں کے پیچھے رہتیں اور مردوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں اور ان کی دعاؤں کے ساتھ دعا کہتیں، اس دن کی برکت اور اس کی پاکی کی امید رکھتیں۔

Narrated Um 'Atiya: We used to be ordered to come out on the Day of 'Id and even bring out the virgin girls from their houses and menstruating women so that they might stand behind the men and say Takbir along with them and invoke Allah along with them and hope for the blessings of that day and for purification from sins.

Permalink