TrueHadith

اندھے کی شہادت کا بیان اور اس کا حکم دینا اور اس کا اپنا نکاح یا کسی دوسرے کا نکاح کرنا اور خرید و فروخت اور اذان وغیرہ کا اور ان چیزوں کا جو آواز سے معلوم ہو سکتی ہیں قبول کرنا اور قاسم اور حسن اور ابن سیرین اور زہری نے عطا نے اس کی شہادت کو جائز رکھا ہے اور شعبی نے کہا کہ اس کی شہادت کا جائز ہے جب کہ عاقل ہو حکم نے کہا کہ بعض باتوں میں اندھے کی گواہی جائز ہوگی زہری نے کہا بتاؤ اگر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی معاملہ میں گواہی دیں تو کیا تم اسے قبول نہ کرو گے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی شخص کو بھیج دیتے جب وہ کہتا کہ آفتاب غروب ہو گیا تو افطار کرتے اور فجر کے متعلق پوچھتے جب ان سے کہا جاتا کہ صبح ہوگئی تو دو رکعت نماز پڑھتے سلیمان بن یسار نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا سلیمان اندر آؤ تم میرے غلام ہو جب تک تم پر کچھ بھی باقی ہے سمرہ بن جندب نے نقاب والی عورت کی گواہی کو جائز کہا ہے۔

Sahih BukhariHadith 2461

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْکَرَنِي کَذَا وَکَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهُنَّ مِنْ سُورَةِ کَذَا وَکَذَا وَزَادَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ تَهَجَّدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَسَمِعَ صَوْتَ عَبَّادٍ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَصَوْتُ عَبَّادٍ هَذَا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْ عَبَّادًا

محمد بن عبید بن میمون عیسیٰ بن یونس ہشام عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے ہوئے سنا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں آیت کی یاد دلائی جس کو میں فلاں سورت میں بھول گیا تھا۔ عباد بن عبداللہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تہجد پڑھ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عباد کی آواز سنی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے تو فرمایا عائشہ! کیا عباد کی آواز ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ عباد پر رحم کر۔

Narrated 'Aisha: The Prophet heard a man (reciting Quran) in the Mosque, and he said, "May Allah bestow His Mercy upon him. No doubt, he made me remember such-and such Verses of such-and-such Sura which I dropped (from my memory). Narrated Aisha: The Prophet performed the Tahajjud prayer in my house, and then he heard the voice of 'Abbas who was praying in the Mosque, and said, "O 'Aisha! Is this 'Abbad's voice?" I said, "Yes." He said, "O Allah! Be merciful to 'Abbas!"

Permalink

Sahih BukhariHadith 2462

Narrated by Abdullah bin Umar

حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يُؤَذِّنَ أَوْ قَالَ حَتَّی تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَی لَا يُؤَذِّنُ حَتَّی يَقُولَ لَهُ النَّاسُ أَصْبَحْتَ

مالک بن اسماعیل عبدالعزیز بن ابی سلمہ ابن شہاب سالم بن عبداللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رات ہوتے ہیں اذا دے دیتا ہے اس کے بعد کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے یا فرمایا کہ ابن ام مکتوم کی اذان کی آواز سنی جائے اور ابن مکتوم اندھے تھے وہ اذان ہی نہ دیتے جب تک کہ لوگ ان سے نہ کہتے کہ صبح ہو گئی۔

Narrated Abdullah bin Umar: The Prophet said, "Bilal pronounces the Adhan when it is still night (before dawn), so eat and drink till the next Adhan is pronounced (or till you hear Ibn Um Maktum's Adhan)." Ibn Um Maktum was a blind man who would not pronounce the Adhan till he was told that it was dawn.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2463

Narrated by Al-Miswar bin Makhrama

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَی أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا فَقَامَ أَبِي عَلَی الْبَابِ فَتَکَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَائٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ

زیاد بن یحیی حاتم بن وردان ایوب عبداللہ بن ابی ملیکہ مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے والد نے کہا کہ میرے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل شاید وہ اس میں سے مجیی بھی دے دیں میرے والد دروازے پر کھڑے ہوئے اور بات کرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبا لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی خوبیاں دکھلا کر کہتے جاتے کہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔

Narrated Al-Miswar bin Makhrama: Some outer garments were received the Prophet and my father (Makhrama) said to me, "Let us go to the Prophet so that he may give us something from the garments." So, my father stood at the door and spoke. The Prophet recognized his voice and came out carrying a garment and telling Makhrama the good qualities of that garment, adding, "I have kept this for you, I have sent this for you."

Permalink