TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2463 · Statement on Testimonies

Sahih BukhariHadith 2463

Narrated by Al-Miswar bin Makhrama

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَی أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا فَقَامَ أَبِي عَلَی الْبَابِ فَتَکَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَائٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ

زیاد بن یحیی حاتم بن وردان ایوب عبداللہ بن ابی ملیکہ مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے والد نے کہا کہ میرے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل شاید وہ اس میں سے مجیی بھی دے دیں میرے والد دروازے پر کھڑے ہوئے اور بات کرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبا لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی خوبیاں دکھلا کر کہتے جاتے کہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔

Narrated Al-Miswar bin Makhrama: Some outer garments were received the Prophet and my father (Makhrama) said to me, "Let us go to the Prophet so that he may give us something from the garments." So, my father stood at the door and spoke. The Prophet recognized his voice and came out carrying a garment and telling Makhrama the good qualities of that garment, adding, "I have kept this for you, I have sent this for you."

Permalink

See the full chapter: اندھے کی شہادت کا بیان اور اس کا حکم دینا اور اس کا اپنا نکاح یا کسی دوسرے کا نکاح کرنا اور خرید و فروخت اور اذان وغیرہ کا اور ان چیزوں کا جو آواز سے معلوم ہو سکتی ہیں قبول کرنا اور قاسم اور حسن اور ابن سیرین اور زہری نے عطا نے اس کی شہادت کو جائز رکھا ہے اور شعبی نے کہا کہ اس کی شہادت کا جائز ہے جب کہ عاقل ہو حکم نے کہا کہ بعض باتوں میں اندھے کی گواہی جائز ہوگی زہری نے کہا بتاؤ اگر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی معاملہ میں گواہی دیں تو کیا تم اسے قبول نہ کرو گے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی شخص کو بھیج دیتے جب وہ کہتا کہ آفتاب غروب ہو گیا تو افطار کرتے اور فجر کے متعلق پوچھتے جب ان سے کہا جاتا کہ صبح ہوگئی تو دو رکعت نماز پڑھتے سلیمان بن یسار نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا سلیمان اندر آؤ تم میرے غلام ہو جب تک تم پر کچھ بھی باقی ہے سمرہ بن جندب نے نقاب والی عورت کی گواہی کو جائز کہا ہے۔