TrueHadith

کتنے آدمیوں کی نیک چلنی کی شہادت کافی ہے۔

Sahih BukhariHadith 2448

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُرَّ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَی فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا أَوْ قَالَ غَيْرَ ذَلِکَ فَقَالَ وَجَبَتْ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا وَجَبَتْ قَالَ شَهَادَةُ الْقَوْمِ الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَائُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

سلیمان بن حرب حماد بن زید ثابت انس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کا ذکر خیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی یا اس کے علاوہ کوئی اور لفظ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ واجب ہوگئی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق بھی فرمایا کہ واجب ہوگئی اور دوسرے کے متعلق بھی فرمایا کہ واجب ہوگئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمان زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔

Narrated Anas: A funeral procession passed in front of the Prophet and the people praised the deceased. The Prophet said, "It has been affirmed (Paradise)." Then another funeral procession passed by and the people talked badly of the deceased. The Prophet said, "It has been affirmed (Hell)." Allah's Apostle was asked, "O Allah's Apostle! You said it has been affirmed for both?" The Prophet said, "The testimony of the people (is accepted), (for) the believer are Allah's witnesses on the earth."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2449

Narrated by Abu Al-Aswad

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ وَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا فَجَلَسْتُ إِلَی عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَی فَأُثْنِيَ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقُلْتُ وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قُلْتُ کَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قُلْنَا وَثَلَاثَةٌ قَالَ وَثَلَاثَةٌ قُلْتُ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنْ الْوَاحِدِ

موسی بن اسماعیل داؤد بن ابی الفرات عبداللہ بن بریدہ ابوالاسود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ آیا اور وہاں ایک بیماری پھیلی ہوئی تھی جس سے لوگ جلد مر جاتے تھے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف بیان کیا حضرت عمر نے فرمایا فرمایا واجب ہوگئی پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا اور لوگوں نے اس کی بھی تعریف بیان کیا تو انہوں نے فرمایا واجب ہوگئی پھر تیسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا واجب ہوگئی میں نے پوچھا! اے امیرالمومنین کیا واجب ہوگئی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اسی طرح کہا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نیکی کی چار آدمی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دیتا ہے میں نے پوچھا اور تین میں بھی انہوں نے کہا تین میں بھی میں نے پوچھا کیا دو میں بھی؟ انہوں نے کہا اور دو میں بھی پھر ہم نے ان سے ایک کے متعلق نہیں پوچھا۔

Narrated Abu Al-Aswad: Once I went to Medina where there was an outbreak of disease and the people were dying rapidly. I was sitting with 'Umar and a funeral procession passed by. The people praised the deceased. 'Umar said, "It has been affirmed" (Paradise). Then another funeral procession passed by. The people praised the deceased. 'Umar said, "It has been affirmed." (Paradise). Then another funeral procession passed by. The people praised the deceased. 'Umar said, "It has been affirmed (Paradise)." Then a third funeral procession passed by and the people talked badly of the deceased. 'Umar said, "It has been affirmed (Hell)." I asked Umar, "O chief of the believers! What has been affirmed?" He said, "I have said what the Prophet said. He said, 'Allah will admit into paradise any Muslim whose good character is attested by four persons.' We asked the Prophet, 'If there were three witnesses only?' He said, 'Even three.' We asked, 'If there were two only?' He said, 'Even two.' But we did not ask him about one witness."

Permalink