Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا الْحَکَمُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّکِ فَقُلْتُ وَکَيْفَ ذَلِکَ قَالَ أَرْضَعَتْکِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي فَقَالَتْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقَ أَفْلَحُ ائْذَنِي لَهُ
آدم شعبہ حکم عراک بن مالک عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے افلح نے اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اجازت نہیں دی انہوں نے کہا کہ کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں میں نے کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے انہوں نے کہا تم کو میرے بھائی کی بیوی نے میرے بھائی کے دودھ سے پلایا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا افلح سچا ہے اس کو آنے دو۔
Narrated Aisha: Aflah asked the permission to visit me but I did not allow him. He said, "Do you veil yourself before me although I am your uncle?" 'Aisha said, "How is that?" Aflah replied, "You were suckled by my brother's wife with my brother's milk." I asked Allah's Apostle about it, and he said, "Allah is right, so permit him to visit you."
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ لَا تَحِلُّ لِي يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
مسلم بن ابراہیم ہمام قتادہ جابر بن زید حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے متعلق فرمایا کہ میرے لیے حلال نہیں تھے نسب سے جو رشتے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet said about Hamza's daughter, "I am not legally permitted to marry her, as foster relations are treated like blood relations (in marital affairs). She is the daughter of my foster brother."
Narrated by Amra bint 'Abdur-Rahman
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ کَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ
عبداللہ بن یوسف مالک عبداللہ بن ابی بکر عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے کہ انہوں نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کون آدمی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے جو حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رضاعی چچا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ اگر فلاں شخص جو میرا رضاعی چچا تھا زندہ ہوتا تو کیا میرے پاس آتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
Narrated Amra bint 'Abdur-Rahman: That 'Aisha the wife of the Prophet told her uncle that once, while the Prophet was in her house, she heard a man asking Hafsa's permission to enter her house. 'Aisha said, "I said, 'O Allah's Apostle! I think the man is Hafsa's foster uncle.' " 'Aisha added, "O Allah's Apostle! There is a man asking the permission to enter your house." Allah's Apostle replied, "I think the man is Hafsa's foster uncle." 'Aisha said, "If so-and-so were living (i.e. her foster uncle) would he be allowed to visit me?" Allah's Apostle said, "Yes, he would, as the foster relations are treated like blood relations (in marital affairs)."
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَالَ يَا عَائِشَةُ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ قَالَ يَا عَائِشَةُ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُکُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ تَابَعَهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ
محمد بن کثیر سفیان اشعث بن ابی الشعثاء مسروق عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت میرے پاس ایک مرد بیٹھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ کون آدمی ہے؟ میں نے عرض کیا یہ میرا رضاعی بھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دیکھ لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں رضاعت تو وہی معتبر ہے جو بھوک کی حالت میں پیا جائے (یعنی کم سنی میں) ابن مہدی نے سفیان سے اس کے متابع حدیث روایت کی ہے۔
Narrated Aisha: Once the Prophet came to me while a man was in my house. He said, "O 'Aisha! Who is this (man)?" I replied, "My foster brothers" He said, "O 'Aisha! Be sure about your foster brothers, as fostership is only valid if it takes place in the suckling period (before two years of age)."