TrueHadith

مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب وہ اپنے اپنے قلم ڈالنے لگے کہ کون مریم کی کفالت کرے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ جب لوگوں نے اپنا اپنا قلم ڈالا تو سب کے قلم پانی کے بہاؤ میں بہہ نکلے لیکن حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم رک گیا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت مریم کی کفالت کی اور اللہ کے قول فساھم کے معنی ہیں قرعہ اندازی کی اور فکان من المدحضین کے معنی ہیں کہ قرعہ انہی کے نام نکلا اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو قسم کھانے کے لیے کہا تو ان میں سے ہر ایک جلدی کرنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے کہ کون قسم کھائے۔

Sahih BukhariHadith 2489

Narrated by An-Nu'man bin Bashir

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا فَکَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَائِ عَلَی الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا مَا لَکَ قَالَ تَأَذَّيْتُمْ بِي وَلَا بُدَّ لِي مِنْ الْمَائِ فَإِنْ أَخَذُوا عَلَی يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَکُوهُ أَهْلَکُوهُ وَأَهْلَکُوا أَنْفُسَهُمْ

عمر بن حفص بن غیاث حفص بن غیاث اعمش شعبی بواسطہ نعمان بن بشیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے حدود میں نرمی برتنے والے اور اس میں مبتلا ہونے والے کی مثال اس قوم کی ہے جس نے ایک کشتی میں قرعہ اندازی کی بعض کے حاصہ میں بالائی حصہ اور بعض کے حصہ میں نچلا حصہ آیا اور جو لوگ نیچے تھے وہ پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس آمدورفت کرنے لگے جس سے ان لوگوں کو تکلیف ہوئی ایک شخص نے بسولہ لیا اور نچلے حصہ میں سوراخ کرنے لگا تاکہ اس سے پانی لے اور اوپر والوں کو زحمت نہ ہو اوپر والے لوگ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا تجھے کیا ہوگیا ہے اس نے کہا تم لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی اور میرے واسطے پانی ضروری چیز ہے اگر ان لوگوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اس کو بھی بچاتے ہیں اور اپنے آپ کو بھی بچاتے ہیں اور اگر کو چھوڑ دیتے ہیں تو خود بھی تباہ ہوں گے اور اس کو بھی تباہ کریں گے۔

Narrated An-Nu'man bin Bashir: The Prophet said, "The example of the person abiding by Allah's orders and limits (or the one who abides by the limits and regulations prescribed by Allah) in comparison to the one who do wrong and violate Allah's limits and orders is like the example of people drawing lots for seats in a boat. Some of them got seats in the upper part while the others in the lower part ; those in the, lower part have to pass by those in the upper one to get water, and that troubled the latter. One of them (i.e. the people in the lower part) took an axe and started making a hole in the bottom of the boat. The people of the upper part came and asked him, (saying), 'What is wrong with you?' He replied, "You have been troubled much by my (coming up to you), and I have to get water.' Now if they prevent him from doing that they will save him and themselves, but if they leave him (to do what he wants), they will destroy him and themselves."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2490

Narrated by Um Al-Ala

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ أُمَّ الْعَلَائِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّکْنَی حِينَ أَقْرَعَتْ الْأَنْصَارُ سُکْنَی الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَائِ فَسَکَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَاشْتَکَی فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّی إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْکَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّهُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيکِ أَنَّ اللَّهَ أَکْرَمَهُ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَائَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِهِ قَالَتْ فَوَاللَّهِ لَا أُزَکِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا وَأَحْزَنَنِي ذَلِکَ قَالَتْ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ذَاکِ عَمَلُهُ

ابو الیمان شعیب زہری خارجہ بن زید انصاری بیان کرتے ہں کہ ام علماء نے جو ان کی رشتہ دار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور انہوں نے بیان کیا جب انصار نے مہاجرین کے رہنے کے واسطے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن معظون ہمارے حصہ میں آئے وہ ہمارے پاس رہنے لگے ایک دفعہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی خوب خدمت کی یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی اور ہم نے ان کو کفن پہنایا تو ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے کہا اے ابوالسائب تم پر اللہ کی رحمت ہو میں تیرے متعلق گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو معزز بنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے معزز بنایا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں میں نہیں جانتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے عثمان کو تو خدا کی قسم موت آگئی میں اس کے لیے بھلائی کا امیدوار ہوں میں حالانکہ خدا کا رسول ہوں لیکن بخدا میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ام علاء نے کہا کہ بخدا میں اس کے بعد کبھی کسی کا تزکیہ نہ کروں گی اور میں اس کے سبب سے غمگین ہوگئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان کے لیے ایک چشمہ بہہ رہا ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور آپ سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپ نے فرمایا یہ اس کا عمل ہے۔

Narrated Um Al-Ala: That when the Ansar drew lots as to which of the emigrants should dwell with which of the Ansar, the name of Uthman bin Mazun came out (to be in their lot). Um Al-Ala further said, "Uthman stayed with us, and we nursed him when he got sick, but he died. We shrouded him in his clothes, and Allah's Apostle came to our house and I said, (addressing the dead 'Uthman), 'O Abu As-Sa'ib! May Allah be merciful to you. I testify that Allah has blessed you.' The Prophet said to me, "How do you know that Allah has blessed him?" I replied, 'I do not know O Allah's Apostle! May my parents be sacrificed for you.' Allah's Apostle said, 'As regards Uthman, by Allah he has died and I really wish him every good, yet, by Allah, although I am Allah's Apostle, I do not know what will be done to him.' Um Al-Ala added, 'By Allah I shall never attest the piety of anybody after him. And what Allah's Apostles said made me sad." Um Al-Ala further said, "Once I slept and saw in a dream, a flowing stream for Uthman. So I went to Allah's Apostle and told him about it, he said, 'That is (the symbol of) his deeds."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2491

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَکَانَ يَقْسِمُ لِکُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِکَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مقاتل، عبداللہ ، یونس، زہری، عروہ حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو ان میں سے جس کا نام نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے اور اپنی ہر بیوی کے پاس آپ ایک دن رات رہتے تھے سوائے سودہ بنت زمعہ کے جنہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدی تھی جس سے ان کی غرض صرف یہ تھی کہ رسول اللہ راضی ہوجائیں۔

Narrated Aisha: Whenever Allah's Apostle intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot fell. He also used to fix for everyone of his wives a day and a night, but Sauda bint Zam'a gave her day and night to 'Aisha, the wife of the Prophet intending thereby to please Allah's Apostle.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2492

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَائِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا

اسماعیل مالک سمی ابوبکر بن عبدالرحمن کے غلام ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ جانتے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے پھر اس کو بغیر قرعہ اندازی کے نہ پاتے۔ تو بلا شبہ قرعہ اندازی کرتے اور اگر جانتے کہ نماز کو سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو سبقت کرتے اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عشاء اور فجر کی جماعت میں کیا ثواب ہے تو ضرور اس میں شریک ہوتے اگرچہ گھٹنوں کے بل آنا پڑتا۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "If the people knew what is the reward of making the call (for the prayer) and (of being in) the first row (in the prayer), and if they found no other way to get this privilege except by casting lots, they would certainly cast lots for it. If they knew the reward of the noon prayer, they would race for it, and if they knew the reward of the morning (i.e. Fajr) and Isha prayers, they would present themselves for the prayer even if they had to crawl to reach there.

Permalink