Sahih Bukhari — Hadith 2490
Narrated by Um Al-Ala
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ أُمَّ الْعَلَائِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّکْنَی حِينَ أَقْرَعَتْ الْأَنْصَارُ سُکْنَی الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَائِ فَسَکَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَاشْتَکَی فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّی إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْکَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّهُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيکِ أَنَّ اللَّهَ أَکْرَمَهُ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَائَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِهِ قَالَتْ فَوَاللَّهِ لَا أُزَکِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا وَأَحْزَنَنِي ذَلِکَ قَالَتْ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ذَاکِ عَمَلُهُ
ابو الیمان شعیب زہری خارجہ بن زید انصاری بیان کرتے ہں کہ ام علماء نے جو ان کی رشتہ دار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور انہوں نے بیان کیا جب انصار نے مہاجرین کے رہنے کے واسطے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن معظون ہمارے حصہ میں آئے وہ ہمارے پاس رہنے لگے ایک دفعہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی خوب خدمت کی یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی اور ہم نے ان کو کفن پہنایا تو ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے کہا اے ابوالسائب تم پر اللہ کی رحمت ہو میں تیرے متعلق گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو معزز بنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے معزز بنایا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں میں نہیں جانتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے عثمان کو تو خدا کی قسم موت آگئی میں اس کے لیے بھلائی کا امیدوار ہوں میں حالانکہ خدا کا رسول ہوں لیکن بخدا میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ام علاء نے کہا کہ بخدا میں اس کے بعد کبھی کسی کا تزکیہ نہ کروں گی اور میں اس کے سبب سے غمگین ہوگئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان کے لیے ایک چشمہ بہہ رہا ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور آپ سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپ نے فرمایا یہ اس کا عمل ہے۔
Narrated Um Al-Ala: That when the Ansar drew lots as to which of the emigrants should dwell with which of the Ansar, the name of Uthman bin Mazun came out (to be in their lot). Um Al-Ala further said, "Uthman stayed with us, and we nursed him when he got sick, but he died. We shrouded him in his clothes, and Allah's Apostle came to our house and I said, (addressing the dead 'Uthman), 'O Abu As-Sa'ib! May Allah be merciful to you. I testify that Allah has blessed you.' The Prophet said to me, "How do you know that Allah has blessed him?" I replied, 'I do not know O Allah's Apostle! May my parents be sacrificed for you.' Allah's Apostle said, 'As regards Uthman, by Allah he has died and I really wish him every good, yet, by Allah, although I am Allah's Apostle, I do not know what will be done to him.' Um Al-Ala added, 'By Allah I shall never attest the piety of anybody after him. And what Allah's Apostles said made me sad." Um Al-Ala further said, "Once I slept and saw in a dream, a flowing stream for Uthman. So I went to Allah's Apostle and told him about it, he said, 'That is (the symbol of) his deeds."