TrueHadith

اشعریوں اور یمنیوں کی آمد کا بیان ابوموسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول (اشعریین کے بارے میں) نقل کیا ہے کہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔

Sahih BukhariHadith 4033

Narrated by Abu Musa

حَدَّثَنِا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَکَثْنَا حِينًا مَا نُرَی ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ کَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ

عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر یحیی بن آدم ابن ابی زائدہ ان کے والد ابواسحاق اسود بن یزید حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے اور ایک زمانہ تک (آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) ٹھہرے رہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی ماں کو آنحضرت کے یہاں بکثرت آنے جانے اور اکثر ساتھ رہنے کی وجہ سے ہم اہل بیت ہی سمجھتے رہے۔

Narrated Abu Musa: My brother and I came from Yemen (to Medina) and remained for some time, thinking that Ibn Masud and his mother belonged to the family of the Prophet because of their frequent entrance (upon the Prophet) and their being attached to him.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4034

Narrated by Zahdam

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَی أَکْرَمَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ جَرْمٍ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ وَهُوَ يَتَغَدَّی دَجَاجًا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ فَدَعَاهُ إِلَی الْغَدَائِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْکُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَقَالَ هَلُمَّ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُهُ فَقَالَ إِنِّي حَلَفْتُ لَا آکُلُهُ فَقَالَ هَلُمَّ أُخْبِرْکَ عَنْ يَمِينِکَ إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَأَبَی أَنْ يَحْمِلَنَا فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا قُلْنَا تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا قَالَ أَجَلْ وَلَکِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا

ابو نعیم عبدالسلام ایوب ابوقلابہ زہدم کہتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ آئے تو انہوں نے قبیلہ جرم کا بڑا اعزاز کیا ہم ان کے پاس بیٹھے تھے اور وہ مرغی کھا رہے تھے لوگوں میں ایک اور آدمی بھی تھا جسے ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھانے کے لئے بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے اس مرغی کو کچھ کھاتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے مجھے اس کے کھانے سے کراہت آتی ہے۔ ابوموسیٰ نے کہا آ جا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرغی کھاتے ہوئے دیکھا ہے اس نے کہا کہ میں نے قسم کھالی ہے کہ نہیں کھاؤں گا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا آجا تیری قسم کے بارے میں میں بتاؤں گا کہ ہم اشعرین کی ایک جماعت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواری طلب کرنے آئے آپ نے منع فرما دیا۔ ہم نے پھر سواری طلب کی تو آپ نے سواری نہ دینے کی قسم کھالی تھوڑی دیر کے بعد آپ کے پاس مال غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ نے ہمیں پانچ اونٹ دیئے جانے کا حکم دیا جب ہم نے وہ اونٹ لے لئے تو ہم نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قسم کو بھول گئے ہم کبھی (ایسی حالت میں) کامیاب نہیں ہو سکتے تو میں نے آپ کے پاس آکر عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی اور اب آپ نے سواری دے دی آپ نے فرمایا جی ہاں میں اگر کوئی قسم کھالوں اور اس کے خلاف مجھے بھلائی نظر آئے تو میں اس بھلائی کو اختیار کرلیتا ہوں۔

Narrated Zahdam: When Abu Musa arrived (at Kufa as a governor) he honored this family of Jarm (by paying them a visit). I was sitting near to him, and he was eating chicken as his lunch, and there was a man sitting amongst the people. Abu Musa invited the man to the lunch, but the latter said, "I saw chickens (eating something (dirty) so I consider them unclean." Abu Musa said, "Come on! I saw the Prophet eating it (i.e. chicken)." The man said "I have taken an oath that I will not ea (chicken)" Abu Musa said." Come on! I will tell you about your oath. We, a group of Al-Ash'ariyin people went to the Prophet and asked him to give us something to ride, but the Prophet refused. Then we asked him for the second time to give us something to ride, but the Prophet took an oath that he would not give us anything to ride. After a while, some camels of booty were brought to the Prophet and he ordered that five camels be given to us. When we took those camels we said, "We have made the Prophet forget his oath, and we will not be successful after that." So I went to the Prophet and said, "O Allah' Apostle ! You took an oath that you would not give us anything to ride, but you have given us." He said, "Yes, for if I take an oath and later I see a better solution than that, I act on the later (and gave the expiation of that oaths"

Permalink

Sahih BukhariHadith 4035

Narrated by Imran bin Husain

حَدَّثَنِا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ جَائَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ

عمرو بن علی ابوعاصم سفیان ابوصخرہ جامع بن شداد صفوان بن محرز مازنی حضرت عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا اے بنو تمیم! بشارت حاصل کرو انہوں نے کہا کہ آپ نے بشارت تو دے دی اب کچھ عطا فرمایئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا پھر یمن کے کچھ لوگ آیائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بنو تمیم نے تو بشارت کو قبول نہیں کیا ہے تم قبول کرلو تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم نے قبول کر لی۔

Narrated Imran bin Husain: The people of Banu Tamim came to Allah's Apostle, and he said, "Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim!" They said, "As you have given us good tidings then give us (some material things)." On that the features of Allah's Apostle changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet said (to them) "Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them." They said, "We accept them, O Allah's Apostle!"

Permalink

Sahih BukhariHadith 4036

Narrated by Abu Masud

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الْيَمَنِ وَالْجَفَائُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ

عبداللہ بن محمد جعفی وہب بن جریر شعبہ اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان یہاں ہے درشتی اور سخت دلی ربیعہ اور مضر میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے پاس آواز لگاتے ہیں جہاں سے سورج نکلتا ہے۔

Narrated Abu Masud: The Prophet beckoned with his hand towards Yemen and said, "Belief is there." The harshness and mercilessness are the qualities of those farmers etc, who are busy with their camels and pay no attention to the religion (is towards

Permalink

Sahih BukhariHadith 4037

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاکُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّکِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن بشار ابن ابی عدی شعبہ سلیمان ذکوان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو رقیق القلب اور نرم دل ہیں ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے فخر اور تکبر اونٹ والوں میں ہے سکون و وقار بکری والوں میں ہے غندر نے بواسطہ شعبہ سلیمان ذکوان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The people of Yemen have come to you and they are more gentle and soft-hearted. Belief is Yemenite and Wisdom is Yemenite, while pride and haughtiness are the qualities of the owners of camels (i.e. bedouins). Calmness and solemnity are the characters of the owners of sheep."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4038

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ

اسماعیل ان کے بھائی سلیمان ثور بن یزید ابوالغیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمنی ہے اور فتنہ یہاں ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Belief is Yemenite while afflictions appear from there (the east) from where the side of the head of Satan will appear."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4039

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَاکُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ

ابو الیمان شعیب ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس یمنی آئے ہیں جو نرم دل اور رفیق القلب ہیں فقہ یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The people of Yemen have come to you, and they are more soft hearted and gentle hearted people. The capacity for understanding religion is Yemenite and Wisdom is Yemenite."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4040

Narrated by Alqama

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَجَائَ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلَائِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَئُوا کَمَا تَقْرَأُ قَالَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْکَ قَالَ أَجَلْ قَالَ اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا قَالَ أَمَا إِنَّکَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُکَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِکَ وَقَوْمِهِ فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی قَالَ قَدْ أَحْسَنَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا وَهُوَ يَقْرَؤُهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَی قَالَ أَمَا إِنَّکَ لَنْ تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَلْقَاهُ رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ

عبدان ابوحمزہ اعمش ابراہیم علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! کیا یہ جوانوں کا طبقہ آپ کی طرح قرآن پاک پڑھ سکتا ہے؟ عبداللہ نے کہا اگر تم چاہو تو میں ان میں سے کسی کا قرآن تمہیں سنواؤں انہوں نے کہا جی ہاں! سنوایئے تو عبداللہ نے کہا اے علقمہ پڑھو زیاد بن حدیر کے بھائی یزید نے کہا کہ علقمہ تو ہم سے زیادہ اچھا پڑھنے والے نہیں ہیں پھر بھی آپ ان سے پڑھوا رہے ہیں عبداللہ نے جواب دیا اگر تو کہے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ قول جو تیری قوم اور اس کی قوم کے بارے میں ہے تجھے بتا دوں (علقمہ کہتے ہیں) کہ میں نے سورت مریم کی پچاس آیتیں پڑھیں عبداللہ نے پوچھا (اے خباب) کیا رائے ہے انہوں نے کہا کہ اچھا پڑھتا ہے عبداللہ نے کہا جس طرح میں پڑھتا ہوں (علقمہ) بھی اسی طرح پڑھتا ہے پھر عبداللہ نے خباب کی جانب جن کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی متوجہ ہو کر فرمایا کیا ابھی اس کے پھینکنے کا وقت نہیں آیا ہے؟ خباب نے کہا آج کے بعد سے آپ اسے نہ دیکھیں گے اور انگوٹھی پھینک دی اسے غندر نے شعبہ سے روایت کیا۔

Narrated Alqama: We were sitting with Ibn Masud when Khabbab came and said, "O Abu Abdur-Rahman! Can these young fellows recite Qur'an as you do?" Ibn Mas'ud said, "If you wish I can order one of them to recite (Qur'an) for you ." Khabbab replied, "Yes. "Ibn Mas'ud said, "Recite, O 'Alqama!" On that, Zaid bin Hudair, the brother of Ziyad bin Hudair said, (to Ibn Mas'ud), "Why have you ordered 'Alqama to recite though he does not recite better than we?" Ibn Mas'ud said, "If you like, I would tell you what the Prophet said about your nation and his (i.e. 'Alqama's) nation." So I recited fifty Verses from Sura-Maryam. 'Abdullah (bin Mas'ud) said to Khabbab, "What do you think (about 'Alqama's recitation)?" Khabbab said, "He has recited well." 'Abdullah said, "Whatever I recite, 'Alqama recites." Then 'Abdullah turned towards Khabbab and saw that he was wearing a gold ring, whereupon he said, "Hasn't the time for its throwing away come yet?" Khabbab said, "You will not see me wearing it after today," and he throw it away.

Permalink