TrueHadith

فرمان الٰہی (یاد کرو) حنین کے دن کو جب تم اپنی کثرت پر پھول گئے تھے تو اس نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم نے پشت پھیر لی پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری تسکین (کی صورت) نازل فرمائی۔ غفور رحیم تک کا بیان

Sahih BukhariHadith 3972

Narrated by Ismail

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَی ضَرْبَةً قَالَ ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قُلْتُ شَهِدْتَ حُنَيْنًا قَالَ قَبْلَ ذَلِکَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، یزید بن ہارون، اسماعیل سے مروی ہے کہ میں نے ابن ابی اوفی کے ہاتھ میں چوٹ کا نشان دیکھا انہوں نے کہا میرے یہ چوٹ حنین کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ لگی تھی میں نے کہا کیا آپ (معرکہ) حنین میں شریک تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس سے پہلی (جنگوں میں) بھی شریک ہوتا تھا۔

Narrated Ismail: I saw (a healed scar of) blow over the hand of Ibn Abi Aufa who said, "I received that blow in the battle of Hunain in the company of the Prophet." I said, "Did you take part in the battle of Hunain?" He replied, "Yes (and in other battles) before it."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3973

Narrated by Abu Ishaq

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَتَوَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ وَلَکِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

محمد بن کثیر، سفیان، ابواسحاق سے مروی ہے کہ براء بن عازب نے اس شخص سے جس نے آکر ان سے پوچھا تھا کہ اے ابوعمارہ! کیا آپ نے حنین کے دن پشت دکھا دی تھی؟ فرمایا کہ دیکھو میں گواہ ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پشت نہیں پھیری لیکن قوم میں سے جلد بازوں نے جلدی کی، تو قوم ہوازن نے ان پر تیر اندازی شروع کردی اور بازوں نے جلدی کی تو قوم ہوازن نے ان پر تیر اندازی شروع کردی اور ابوسفیان بن حارث آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کا سر پکڑے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے کہ میں سچا نبی ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

Narrated Abu Ishaq: I heard Al-Bara' narrating when a man came and said to him, "O Abu 'Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" Al-Bara' replied, "I testify that the Prophet did not flee, but the hasty people hurried away and the people of Hawazin threw arrows at them. At that time, Abu Sufyan bin Al-Harith was holding the white mule of the Prophet by the head, and the Prophet was saying, "I am the Prophet undoubtedly: I am the son of 'Abdul-Muttalib."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3974

Narrated by Abu Ishaq

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قِيلَ لِلْبَرَائِ وَأَنَا أَسْمَعُ أَوَلَّيْتُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا کَانُوا رُمَاةً فَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

ابوولید، شعبہ، ابواسحاق سے مروی ہے کہ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اور میں سن رہا تھا کہ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن بھاگ گئے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نہیں بھاگے وہ لوگ تیر انداز تھے تو آپ یہ فرما رہے تھے کہ میں سچا نبی ہوں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

Narrated Abu Ishaq: Al-Bara' was asked while I was listening, "Did you flee (before the enemy) along with the Prophet on the day of (the battle of) Hunain?" He replied, "As for the Prophet, he did not (flee). The enemy were good archers and the Prophet was saying, "I am the Prophet undoubtedly; I am the son of 'Abdul Muttalib."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3975

Narrated by Abu Ishaq

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ الْبَرَائَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَکِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ کَانَتْ هَوَازِنُ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْکَشَفُوا فَأَکْبَبْنَا عَلَی الْغَنَائِمِ فَاسْتُقْبِلْنَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِزِمَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ قَالَ إِسْرَائِيلُ وَزُهَيْرٌ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَغْلَتِهِ

محمد بن بشار، غندر، شعبہ، ابواسحاق سے مروی ہے کہ انہوں نے براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا جب ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حنین کے دن چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، تو انہوں نے فرمایا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نہیں بھاگے (ہوا یہ کہ) قوم ہوازن بہت زیادہ تیر انداز تھے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے ہم مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہو گئے تو ہمارے سامنے سے تیر آنے لگے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے سفید خچر پر دیکھا جس کی لگام ابوسفیان پکڑے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے کہ میں سچا نبی ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، اسرائیل اور زہیر نے یہ روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر سے اتر آئے تھے۔

Narrated Abu Ishaq: That he heard Al-Bara narrating when a man from Qais (tribe) asked him "Did you flee leaving Allah's Apostle on the day (of the battle) of Hunain?" Al-Bara' replied, "But Allah's Apostle did not flee. The people of Hawazin were good archers, and when we attacked them, they fled. But rushing towards the booty, we were confronted by the arrows (of the enemy). I saw the Prophet riding his white mule while Abu Sufyan was holding its reins, and the Prophet was saying "I am the Prophet undoubtedly." (Israil and Zuhair said, "The Prophet dismounted from his Mule.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 3976

Narrated by Marwan and Al-Miswar bin Makhrama

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَائَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدْ کُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِکُمْ وَکَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ جَائُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِکَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يَکُونَ عَلَی حَظِّهِ حَتَّی نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ فِي ذَلِکَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُکُمْ أَمْرَکُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ

سعید بن عفیر، لیث، عقیل، ابن شہاب (دوسری سند) اسحاق، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب کے بھتیجے محمد بن شہاب عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مردان اور مسور بن مخرمہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے قیدی اور مال انہیں واپس کردیئے جائیں تو آپ نے ان سے فرمایا : میرے پاس جنہیں تم دیکھ رہے ہو وہ (میرے صحابہ) ہیں اور مجھے سب سے زیادہ سچی بات پسند ہے لہذا تم دو میں سے ایک چیز پسند کرلو یا قیدی یا مال اور میں نے تو تمہاری وجہ سے (تقسیم غنیمت میں) تاخیر بھی کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے واپس تشریف لاتے وقت دس سے زیادہ دن تک (قوم ہوازن کا) انتظار کیا تھا جب ان پر یہ روشن ہوگیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کو خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ کی شایان شان تعریف کرکے فرمایا اما بعد! تمہارے بھائی (کفر سے) توبہ کرکے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردیئے جائیں لہذا تم میں سے جو شخص احسان کے طور پر چھوڑنا چاہے وہ ایسا کرے اور جو اپنے حصہ کو نہ چھوڑنا چاہے بلکہ وہ یہ چاہے کہ ہم اس کے عوض میں اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ اول فے میں ہمیں عطا فرمائے اسے دیں تو ایسا کرے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم احسان کرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کس نے پسند کرکے اجازت دی ہے کس نے نہیں؟ لہذا تم واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار آکر ہمارے پاس یہ معاملہ پیش کریں لوگ واپس چلے گئے اور ان سے ان کے سرداروں نے گفتگو کی پھر وہ سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کو بتایا کہ سب لوگ خوشی سے اس کی اجازت دیتے ہیں یہ وہ حدیث ہے جو مجھے ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں معلوم ہوئی ہے۔

Narrated Marwan and Al-Miswar bin Makhrama: When the delegate of Hawazin came to Allah's Apostle declaring their conversion to Islam and asked him to return their properties and captives, Allah's Apostle got up and said to them, "There Is involved in this matter, the people whom you see with me, and the most beloved talk to me, is the true one. So choose one of two alternatives: Either the captives or the properties. I have been waiting for you (i.e. have not distributed the booty)." Allah's Apostle had delayed the distribution of their booty over ten nights after his return from Ta'if. So when they came to know that Allah's Apostle was not going to return to them but one of the two, they said, "We prefer to have our captives." So Allah's Apostle got up amongst the Muslims, and praising Allah as He deserved, said, "To proceed! Your brothers have come to you with repentance and I see (it logical) to return their captives. So, whoever of you likes to do that as a favor then he can do it. And whoever of you likes to stick to his share till we give him from the very first booty which Allah will give us, then he can do so." The people said, "We do that (i.e. return the captives) willingly as a favor, 'O Allah's Apostle!" Allah's Apostle said, "We do not know which of you have agreed to it and which have not; so go back and let your chiefs forward us your decision." They went back and their chief's spoke to them, and they (i.e. the chiefs) returned to Allah's Apostle and informed him that all of them had agreed (to give up their captives) with pleasure, and had given their permission (i.e. that the captives be returned to their people). (The sub-narrator said, "That is what has reached me about the captives of Hawazin tribe.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 3977

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قَفَلْنَا مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ کَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِکَافٍ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَفَائِهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو النعمان، حماد بن زید، ایوب، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ (دوسری سند) محمد بن مقاتلم عبداللہ، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ حنین سے واپس ہو رہے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے اعتکاف کی نذر کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس نذر کے پورا کرنے کا حکم دیا اور بعض نے اس طرح سند بیان کی حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر اور جریر بن حازم، حماد بن سلمہ، ایوب، نافع، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ روایت بیان کی ہے۔

Narrated Ibn 'Umar: When we returned from (the battle of) Hunain, 'Umar asked the Prophet about a vow which he had made during the Pre-lslamic period of Ignorance that he would perform Itikaf. The Prophet ordered him to fulfill his vow.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3978

Narrated by Abu Qatada

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا کَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِکِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَی حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقَالَ مَا لَکَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَجُلٌ صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُعْطِيَکَ سَلَبَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطِهِ فَأَعْطَانِيهِ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَظَرْتُ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَآخَرُ مِنْ الْمُشْرِکِينَ يَخْتِلُهُ مِنْ وَرَائِهِ لِيَقْتُلَهُ فَأَسْرَعْتُ إِلَی الَّذِي يَخْتِلُهُ فَرَفَعَ يَدَهُ لِيَضْرِبَنِي وَأَضْرِبُ يَدَهُ فَقَطَعْتُهَا ثُمَّ أَخَذَنِي فَضَمَّنِي ضَمًّا شَدِيدًا حَتَّی تَخَوَّفْتُ ثُمَّ تَرَکَ فَتَحَلَّلَ وَدَفَعْتُهُ ثُمَّ قَتَلْتُهُ وَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ وَانْهَزَمْتُ مَعَهُمْ فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ لَهُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَی قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَی قَتِيلِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي فَذَکَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْکُرُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ کَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا فَکَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ

عبدالله بن یوسف، مالک، یحیی بن سعید، عمر بن کثیر بن افلح، ابومحمد، ابوقتاده سے روایت کرتے ہیں وه فرماتے ہیں که ہم نبی صلی الله علیه وسلم کیساتھ حنین کے سال نکلے، جب ہم مقابل ہوئے تو مسلمانوں میں انتشار سا ہوا، میں نے ایک مشرک کو ایک مسلمان پر غالب دیکھا، میں نے اس کے عقب سے اسکی گردن پر تلوار ماری، تو اسکی زره کاٹ دی، وه پلٹ کر مجھ پر آیا اور مجھے اتنے زور سے دبوچا که مجھے موت نظر آنے لگی، پھر وه مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا، پھر میں حضرت عمر سے ملا، تو میں نے ان سے کہا، لوگوں کو کیا ہوگیا (که منتشر ہو رہے ہیں) انهوں نے جواب دیا که حکم خدا ہی ایسا ہے، پھر مسلمان پلٹے اور حمله آور ہوئے، اب نبی صلی الله علیه وسلم (جو میدان میں جوهر شجاعت دکھا رهے تھے) بیٹھ گئے اور فرمایا جس نے کسی (کافر) کو قتل کیا اور اس کے پاس گواه بھی ہو تو اسے مقتول کا تمام سامان ملے گا، تو میں نے کہا که میری گواهی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا، پھر نبی نے اسی طرح فرمایا، میں پھر کھڑا ہوا اور میں نے کہا، میری گواهی کون دے گا؟ اور میں بیٹھ گیا، پھر نبی نے اسی طرح فرمایا، پھر میں کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا، ابوقتاده کیا ہوا؟ تو میں نے آپ کو واقعه بتا دیا، ایک آدمی نے کہا که یه سچ کہتا ہے اور اس کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے، لیکن آپ میری طرف سے (اس مال کے میرے پاس رهنے پر) اسے راضی کرلیجئے، تو ابوبکر نے کہا بخدا! رسول الله یه اراده نہیں کرینگے که الله کے ایک شیر سے جو الله و رسول کی جانب سے لڑتا ہے اسباب لے کر تجھے دیدیں، تو نبی نے فرمایا، یه بات بالکل صحیح ہے، لهذا یه اسباب ابوقتاده کودے دو، اس نے وه اسباب مجھے دیدیا، میں نے اس سے بنو سلمه میں ایک باغ خریدا، اسلام میں یه پہلا مال ہے جسے میں نے جمع کیا، لیث، یحیی بن سعید، عمربن کثیر بن افلح، ابوقتاده کے آزاد کرده غلام، ابومحمد، ابوقتاده سے روایت کرتے ہیں که حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو ایک مشرک سے مارتے ہوئے دیکھا ایک دوسرا مشرک مسلمان کو قتل کرنے کیلئے اس کے پیچھے سے تاک لگا رها تھا جو تاک لگا رها تھا میں اس کے پیچھے دوڑا، اس نے مجھے مارنے کیلئے اپناهاتھ اٹھایا میں نے اس کے ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیا پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے اتنے زور سے دبوچا که مجھے (موت کا) خوف ہوگیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا، اور ڈھیلا پڑگیا، میں نے اسے ہٹا کر اسے قتل کر دیا مسلمان بھاگے، میں بھی انکے ساتھ بھاگا، تو مجھے لوگوں میں عمربن خطاب ملے، میں نے ان سے کہا، لوگوں کو کیا ہوگیا؟ انهوں نے جواب دیا الله کا حکم، پھر لوگ نبی صلی الله علیه وسلم کے پاس پلٹے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے قتل کئے ہوئے (کافر) پر گواه پیش کرے، تو اسے مقتول کا تمام اسباب ملے گا، میں اپنے مقتول پر گواه کی تلاش میں اٹھ کھڑا ہوا، لیکن مجھے کوئی گواه نہیں ملا پھر میری سمجھ میں آیا، تو میں نے اپنا واقعه رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا تو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا که جس مقتول کا ذکر یه کر رهے ہیں اس کا اسباب میرے پاس ہے، لیکن انهیں میری طرف سے راضی کر دیجئے (که وه اسباب میرے پاس رهنے دیں) تو ابوبکر نے کہا، ہرگز نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یه اسباب الله کے اس شیر کو چھوڑ کر جو الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے لڑتا ہے، ایک قریشی بزدل کو نہیں دیں گے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وه مال مجھے دلوادیا، میں نے اس سے ایک باغ خریدا، اسلام میں یه سب سے پھلا مال ہے جسے میں نے جمع کیا۔

Narrated Abu Qatada: We set out along with the Prophet during the year of (the battle of) Hunain, and when we faced the enemy, the Muslims (with the exception of the Prophet and some of his companions) retreated (before the enemy). I saw one of the pagans over-powering one of the Muslims, so I struck the pagan from behind his neck causing his armor to be cut off. The pagan headed towards me and pressed me so forcibly that I felt as if I was dying. Then death took him over and he released me. Afterwards I followed 'Umar and said to him, "What is wrong with the people?" He said, "It is the Order of Allah." Then the Muslims returned (to the battle after the flight) and (after overcoming the enemy) the Prophet sat and said, "Whoever had killed an Infidel and has an evidence to this issue, will have the Salb (i.e. the belonging of the deceased e.g. clothes, arms, horse, etc)." I (stood up) and said, "Who will be my witness?" and then sat down. Then the Prophet repeated his question. Then the Prophet said the same (for the third time). I got up and said, "Who will be my witness?" and then sat down. The Prophet asked his former question again. So I got up. The Prophet said, What is the matter, O Abu Qatada?" So I narrated the whole story; A man said, "Abu Qatada has spoken the truth, and the Salb of the deceased is with me, so please compensate Abu Qatada on my behalf." Abu Bakr said, "No! By Allah, it will never happen that the Prophet will leave a Lion of Allah who fights for the Sake of Allah and His Apostle and give his spoils to you." The Prophet said, "Abu Bakr has spoken the truth. Give it (the spoils) back to him (O man)!" So he gave it to me and I bought a garden in (the land of) Banu Salama with it (i.e. the spoils) and that was the first property I got after embracing Islam.

Permalink