TrueHadith

یث، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے روایت کرتے ہیں جن کی پیشانی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے سال ہاتھ پھیرا تھا۔

Sahih BukhariHadith 3963

Narrated by 'Amr bin Salama

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ أَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ کُنَّا بِمَائٍ مَمَرَّ النَّاسِ وَکَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّکْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَی إِلَيْهِ أَوْ أَوْحَی اللَّهُ بِکَذَا فَکُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِکَ الْکَلَامَ وَکَأَنَّمَا يُقَرُّ فِي صَدْرِي وَکَانَتْ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمْ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُکُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا کَانَتْ وَقْعَةُ أَهْلِ الْفَتْحِ بَادَرَ کُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُکُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَقَالَ صَلُّوا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينِ کَذَا وَصَلُّوا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينِ کَذَا فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ وَلْيَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قُرْآنًا فَنَظَرُوا فَلَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لِمَا کُنْتُ أَتَلَقَّی مِنْ الرُّکْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ وَکَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ کُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْحَيِّ أَلَا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِکُمْ فَاشْتَزَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْئٍ فَرَحِي بِذَلِکَ الْقَمِيصِ

سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، عمرو بن سلمہ سے مروی ہے ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا کہ تو عمرو بن سلمہ سے مل کر کیوں نہیں پوچھتا وہ کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایک چشمہ پر جہاں لوگوں کی گزرگاہ تھی رہتے تھے ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان قافلوں سے پوچھتے تھے کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ اور (مدعی نبوت) آدمی کی کیا حالت ہے؟ تو وہ جواب دیتے کہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ جس کی طرف وحی ہوتی ہے یا یہ کہا کہ اللہ اسے یہ وحی بھیجتا ہے، میں وہ کلام یاد کرلیا کرتا، گویا وہ میرے سینہ میں محفوظ ہے اور اہل عرب اپنے اسلام لانے میں فتح مکہ کا انتظار کرتے تھے اور یہ کہتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی قوم (قریش) کو مٹنے دو اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غالب آ گئے تو آپ سچے نبی ہیں چنانچہ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں سبقت کی اور میرے والد بھی اپنی قوم کے مسلمان ہونے میں جلدی کرنے لگے اور مسلمانوں سے جب واپس آئے تو کہا اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس نبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں انہوں نے فرمایا ہے کہ فلاں فلاں وقت ایسے ایسے نماز پڑھو، جب نماز کا وقت آ جائے تو ایک آدمی اذان کہے اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ امام بنے چونکہ میں قافلہ والوں سے قرآن سیکھ کر یاد کرلیتا تھا اس لئے ان میں کسی کو بھی مجھ سے زیادہ قرآن یاد نہ تھا، میں 6 یا7 سال کا تھا کہ انہوں نے مجھے (امامت کے لئے) آگے بڑھا دیا اور میرے جسم پر ایک چادر تھی جب میں سجدہ کرتا تو وہ اوپر چڑھ جاتی (اور جسم ظاہر ہوجاتا) تو قبیلہ کی ایک عورت نے کہا تم اپنے قاری (امام) کی سرین ہم سے کیوں نہیں چھپاتے؟ تو انہوں نے کپڑا خرید کر میرے لئے ایک قمیص بنا دی تو میں اتنا کسی چیز سے خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص سے۔

Narrated 'Amr bin Salama: We were at a place which was a thoroughfare for the people, and the caravans used to pass by us and we would ask them, "What is wrong with the people? What is wrong with the people? Who is that man?. They would say, "That man claims that Allah has sent him (as an Apostle), that he has been divinely inspired, that Allah has revealed to him such-and-such." I used to memorize that (Divine) Talk, and feel as if it was inculcated in my chest (i.e. mind) And the 'Arabs (other than Quraish) delayed their conversion to Islam till the Conquest (of Mecca). They used to say." "Leave him (i.e. Muhammad) and his people Quraish: if he overpowers them then he is a true Prophet. So, when Mecca was conquered, then every tribe rushed to embrace Islam, and my father hurried to embrace Islam before (the other members of) my tribe. When my father returned (from the Prophet) to his tribe, he said, "By Allah, I have come to you from the Prophet for sure!" The Prophet afterwards said to them, 'Offer such-and-such prayer at such-and-such time, and when the time for the prayer becomes due, then one of you should pronounce the Adhan (for the prayer), and let the one amongst you who knows Qur'an most should, lead the prayer." So they looked for such a person and found none who knew more Qur'an than I because of the Quranic material which I used to learn from the caravans. They therefore made me their Imam ((to lead the prayer) and at that time I was a boy of six or seven years, wearing a Burda (i.e. a black square garment) proved to be very short for me (and my body became partly naked). A lady from the tribe said, "Won't you cover the anus of your reciter for us?" So they bought (a piece of cloth) and made a shirt for me. I had never been so happy with anything before as I was with that shirt.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3964

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَی أَخِيهِ سَعْدٍ أَنْ يَقْبِضَ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ وَقَالَ عُتْبَةُ إِنَّهُ ابْنِي فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ فِي الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ قَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَخِي هَذَا ابْنُ زَمْعَةَ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَإِذَا أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَکَ هُوَ أَخُوکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ لِمَا رَأَی مِنْ شَبَهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَصِيحُ بِذَلِکَ

عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (دوسری سند) لیث، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا کہ زمعہ کی باندی کے لڑکے کو لے لینا اور عتبہ نے کہا تھا کہ وہ میرا بیٹا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایام فتح میں مکہ میں تشریف لائے تو سعد بن ابی وقاص، زمعہ کی باندی کے لڑکے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے ساتھ عبد بن زمعہ بھی آیا سعد نے کہا یہ میرا بھتیجا ہے عتبہ نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ اس کا لڑکا ہے عبد بن زمعہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی زمعہ کا بیٹا ہے اس کے فراش پر پیدا ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کی طرف دیکھا تو وہ عتبہ بن ابی وقاص کے زیادہ مشابہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عبد بن زمعہ! اسے لے لو یہ تمہارا بھائی ہے کیونکہ یہ اسی کے فراش پر پیدا ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے سودہ! اس سے پردہ کرو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مشابہت عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ دیکھی تھی ابن شہاب بواسطہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بچہ اس کا ہے جس کے فراش پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو با آواز بلند بیان کرتے تھے۔

Narrated 'Aisha: Utba bin Abi Waqqas authorized his brother Sad to take the son of the slave-girl of Zam'a into his custody. 'Utba said (to him). "He is my son." When Allah's Apostle arrived in Mecca during the Conquest (of Mecca), Sad bin Abi Waqqas took the son of the slave-girl of Zam'a and took him to the Prophet 'Abd bin Zam'a too came along with him. Sad said. "This is the son of my brother and the latter has informed me that he is his son." 'Abd bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! This is my brother who is the son of the slave-girl of Zam'a and was born on his (i.e. Zam'as) bed.' Allah's Apostle looked at the son of the slave-girl of Zam'a and noticed that he, of all the people had the greatest resemblance to 'Utba bin Abi Waqqas. Allah's Apostle then said (to 'Abd), " He is yours; he is your brother, O 'Abd bin Zam'a, he was born on the bed (of your father)." (At the same time) Allah's Apostle said (to his wife Sauda), "Veil yourself before him (i.e. the son of the slave-girl) O Sauda," because of the resemblance he noticed between him and Utba bin Abi Waqqas. Allah's Apostle added, "The boy is for the bed (i.e. for the owner of the bed where he was born), and stone is for the adulterer." (Ibn Shihab said, "Abu Huraira used to say that (i.e. the last statement of the Prophet in the above Hadith 596, publicly.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 3965

Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَفَزِعَ قَوْمُهَا إِلَی أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَسْتَشْفِعُونَهُ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا کَلَّمَهُ أُسَامَةُ فِيهَا تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتُکَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ قَالَ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمَّا کَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَکَ النَّاسَ قَبْلَکُمْ أَنَّهُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْکَ الْمَرْأَةِ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِکَ وَتَزَوَّجَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ فَکَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِکَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مقاتل، عبداللہ، یونس، زہری، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ فتح میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت نے چوری کی (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا) اس کی قوم اسامہ بن زید کے پاس سفارش کرانے کے لئے دوڑی آئی عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جب اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت سے اس عورت کو معاف کردینے) کے بارے میں گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہوگیا اور فرمایا کہ تو مجھ سے اللہ کی (مقرر کردہ) حدود میں سفارش کرتا ہے؟ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے، شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی شایان شان تعریف کرکے فرمایا، اما بعد! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ اگر ان میں کوئی شریف اور بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی ضعیف اور چھوٹا آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کردیتے اس ذات پاک کی قسم! جس کے قبضہ (قدرت) میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوری کرے (اعاذھا اللہ عنہا) تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت پر حکم جاری فرمایا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر اس کی توبہ مقبول ہوگئی اور اس نے (کسی سے) نکاح کرلیا عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد وہ عورت (میرے پاس) آیا کرتی تھی اور اس کی جو ضرورت ہوتی تھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر دیتی۔

Narrated 'Urwa bin Az-Zubair: A lady committed theft during the lifetime of Allah's Apostle in the Ghazwa of Al-Fath, ((i.e. Conquest of Mecca). Her folk went to Usama bin Zaid to intercede for her (with the Prophet). When Usama interceded for her with Allah's Apostle, the color of the face of Allah's Apostle changed and he said, "Do you intercede with me in a matter involving one of the legal punishments prescribed by Allah?" Usama said, "O Allah's Apostle! Ask Allah's Forgiveness for me." So in the afternoon, Allah's Apostle got up and addressed the people. He praised Allah as He deserved and then said, "Amma ba'du ! The nations prior to you were destroyed because if a noble amongst them stole, they used to excuse him, and if a poor person amongst them stole, they would apply (Allah's) Legal Punishment to him. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if Fatima, the daughter of Muhammad stole, I would cut her hand." Then Allah's Apostle gave his order in the case of that woman and her hand was cut off. Afterwards her repentance proved sincere and she got married. 'Aisha said, "That lady used to visit me and I used to convey her demands to Allah's Apostle

Permalink

Sahih BukhariHadith 3966

Narrated by Majashi

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُکَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَی الْهِجْرَةِ قَالَ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا فَقُلْتُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُبَايِعُهُ قَالَ أُبَايِعُهُ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَکَانَ أَکْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ

عمرو بن خالد، زہیر، عاصم، ابوعثمان، مجاشع کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد میں اپنے بھائی کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لی کر آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے بھائی (مجالد) کو آپکی خدمت میں لایا ہوں کہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں آپ نے فرمایا کہ ہجرت کی فضیلت تو مہاجرین نے حاصل کرلی میں نے عرض کیا کہ پھر کس چیز پر آپ اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا اسلام، ایمان اور جہاد پر پھر میں نے ابومعبد سے جو ان دونوں میں سب سے بڑے تھے ملاقات کی اور ان سے (اس حدیث کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا ہے

Narrated Majashi: I took my brother to the Prophet after the Conquest (of Mecca) and said, "O Allah's Apostle! I have come to you with my brother so that you may take a pledge of allegiance from him for migration." The Prophet said, The people of migration (i.e. those who migrated to Medina before the Conquest) enjoyed the privileges of migration (i.e. there is no need for migration anymore)." I said to the Prophet, "For what will you take his pledge of allegiance?" The Prophet said, "I will take his pledge of allegiance for Islam, Belief, and for Jihad (i.e. fighting in Allah's Cause)"

Permalink

Sahih BukhariHadith 3967

Narrated by Mujashi bin Masud

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَی الْهِجْرَةِ قَالَ مَضَتْ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا أُبَايِعُهُ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ وَقَالَ خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ مُجَاشِعٍ أَنَّهُ جَائَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ

محمد بن ابوبکر، فضیل بن سلیمان، عاصم، ابوعثمان، نہدی، مجاشع بن مسعود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ابومعبد کو ہجرت پر بیعت لینے گے لئے لے کر آیا تو آپ نے فرمایا کہ ہجرت تو مہاجرین پر ختم ہو چکی میں اس سے اسلام اور جہاد پر بیعت کرلوں گا پھر میں نے ابومعبد سے ملاقات کرکے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا ہے خالد ابوعثمان مجاشع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی مجالد کو لے کر آئے۔

Narrated Mujashi bin Masud: I took Abu Mabad to the Prophet in order that he might give him the pledge of allegiance for migration. The Prophet said, "Migration has gone to its people, but I take the pledge from him (i.e. Abu Mabad) for Islam and Jihad."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3968

Narrated by Mujahid

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُهَاجِرَ إِلَی الشَّأْمِ قَالَ لَا هِجْرَةَ وَلَکِنْ جِهَادٌ فَانْطَلِقْ فَاعْرِضْ نَفْسَکَ فَإِنْ وَجَدْتَ شَيْئًا وَإِلَّا رَجَعْتَ وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ أَوْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

محمد بن بشار، غندر، شعبہ، ابوبشر، مجاہد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں شام کی طرف ہجرت کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ہجرت تو ختم ہو چکی اب تو جہاد ہے لہذا تم جاؤ اور اپنے دل میں غور و فکر کرو اگر تم کچھ (طاقت جہاد کی) پاتے ہو (تو خیر) ورنہ باز آ جاؤ۔ نضر، شعبہ، ابوبشر، مجاہد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہجرت کرنے کو کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اب یا یہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہجرت نہیں رہی۔

Narrated Mujahid: I said to Ibn 'Umar, "I want to migrate to Sham." He said, "There is no migration, but Jihad (for Allah's Cause). Go and offer yourself for Jihad, and if you find an opportunity for Jihad (stay there) otherwise, come back." (In an other narration) Ibn 'Umar said, "There is no migration today or after Allah's Apostle." (and completed his statement as above.)

Permalink

Sahih BukhariHadith 3969

Narrated by Mujahid bin Jabr

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَکِّيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ يَقُولُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ

اسحاق بن یزید یحیی بن حمزہ ابوعمرو اوزاعی عبیدہ بن ابولبابہ مجاہد بن جبر مکی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے کرتے تھے کہ فتح (مکہ) کے بعد ہجرت ختم ہوگئی (کیونکہ تمام ملک دار الاسلام بن گیا) ۔

Narrated Mujahid bin Jabr: 'Abdullah bin 'Umar used to say, "There is no migration after the Conquest (of Mecca)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3970

Narrated by 'Ata' bin Abi Rabah

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلَهَا عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَتْ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ کَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَائَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ

اسحاق بن یزید، یحیی بن حمزہ، اوزاعی، عطاء بن ابی رباح سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ہجرت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اب ہجرت نہیں ہے (پہلے چونکہ اسلام غالب نہ تھا اس لئے) مسلمان اپنے دین کو فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بھاگتا تھا لیکن اب تو اللہ نے اسلام کو غالب کردیا ہے لہذا مومن جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرے ہاں ابھی جہاد اور (اخلاص) نیت باقی ہے۔

Narrated 'Ata' bin Abi Rabah: 'Ubaid bin 'Umar and I visited 'Aisha, and he asked her about the migration. She said, "There is no migration today. A believer used to flee with his religion to Allah and His Prophet for fear that he might be put to trial as regards his religion. Today Allah has rendered Islam victorious; therefore a believing one can worship one's Lord wherever one wishes. But there is Jihad (for Allah's Cause) and intentions." (See Hadith 42, in the 4th Vol. for its Explanation)

Permalink

Sahih BukhariHadith 3971

Narrated by Mujahid

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَکَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَلَمْ تَحْلِلْ لِي قَطُّ إِلَّا سَاعَةً مِنْ الدَّهْرِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَوْکُهَا وَلَا يُخْتَلَی خَلَاهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْکَرِيمِ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا أَوْ نَحْوِ هَذَا رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق، ابوعاصم، ابن جریج، حسن بن مسلم، مجاہد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن (خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن سے مکہ کو حرم قرار دیا ہے لہذا یہ قیامت تک اللہ کے (حکم) حرم کی وجہ سے حرم ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال ہوا نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور علاوہ تھوڑی دیر کے میرے لئے بھی حلال نہیں ہوا نہ اس کے شکار کو بھگانا جائز ہے نہ اس کے کانٹوں کا اکھیڑنا درست ہے نہ اس کی گھاس کا کاٹنا جائز ہے اور نہ اسکی پڑی ہوئی کسی چیز کو اٹھانا جائز ہے علاوہ اس کے جو لوگوں کو اطلاع دے دے، تو عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالمطلب نے کہا سوائے اذخر (گھاس) کے یا رسول اللہ! کیونکہ لوہاروں کو اور ہمارے گھروں میں اس کی ضرورت رہتی ہے تو حضور خاموش ہوئے پھر فرمایا سوائے اذخر کے کہ وہ (اس کا کانٹا) حلال ہے ابن جریج، عبدالکریم، عکرمہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی جیسی روایت کی ہے۔

Narrated Mujahid: Allah's Apostle got up on the day of the Conquest of Mecca and said, "Allah has made Mecca a sanctuary since the day He created the Heavens and the Earth, and it will remain a sanctuary by virtue of the sanctity Allah has bestowed on it till the Day of Resurrection. It (i.e. fighting in it) was not made lawful to anyone before me!, nor will it be made lawful to anyone after me, and it was not made lawful for me except for a short period of time. Its game should not be chased, nor should its trees be cut, nor its vegetation or grass uprooted, not its Luqata (i.e. Most things) picked up except by one who makes a public announcement about it." Al-Abbas bin 'Abdul Muttalib said, "Except the Idhkhir, O Allah's Apostle, as it is indispensable for blacksmiths and houses." On that, the Prophet kept quiet and then said, "Except the Idhkhir as it is lawful to cut."

Permalink