TrueHadith

کیا مٹکے توڑ دالے جائیں، جس میں شراب رکھی جاتی ہے، مشک پھاڑ دی جائے اور کوئی شخص کسی بت یا صلیب یا طنبور یا بے فائدہ چیز کو اپنی لکڑی سے توڑ (ا) ڈالے (تو کیا حکم ہے) اور شریح کے پاس ایک ظبور کے توڑے جانے کا مقدمہ پیش ہوا، تو اس میں تاوان کا حکم نہ دیا۔

Sahih BukhariHadith 2297

Narrated by Salama bin Al-Akwa

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی نِيرَانًا تُوقَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ عَلَی مَا تُوقَدُ هَذِهِ النِّيرَانُ قَالُوا عَلَی الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ قَالَ اکْسِرُوهَا وَأَهْرِقُوهَا قَالُوا أَلَا نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ اغْسِلُوا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ کَانَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ يَقُولُ الْحُمُرِ الْأَنْسِيَّةِ بِنَصْبِ الْأَلِفِ وَالنُّونِ

ابو عاصم ضحاک بن مخلد، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن آگ دیکھی آپ نے پوچھا، یہ آگ کس چیز پر روشن کی جا رہی ہے؟ لوگوں نے بتایا، پالتو گدھے پر (یعنی گدھے کا گوشت پکایا جا رہا ہے) آپ نے فرمایا ہانڈی توڑ دو اور گوشت پھینک دو، لوگوں نے عرض کیا کہ ہم گوشت پھینک دیں اور ہانڈی کو دھو دیں، آپ نے فرمایا اس کو دھو لو۔

Narrated Salama bin Al-Akwa: On the day of Khaibar the Prophet saw fires being lighted. He asked, "Why are these fires being lighted?" The people replied that they were cooking the meat of donkeys. He said, "Break the pots and throw away their contents." The people said, "Shall we throw away their contents and wash the pots (rather than break them)?" He said, "Wash them."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2298

Narrated by 'Abdullah bin Masud

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ وَحَوْلَ الْکَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ الْآيَةَ

علی بن عبداللہ ، سفیان، بن ابی نجیح، مجاہد، ابومعمر، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اس وقت کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ ان بتوں کو مار کر گرا نے لگے اور یہ آیت تلاوت کرنے لگے (وَقُلْ جَا ءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) 17۔ الاسراء : 81) الخ

Narrated 'Abdullah bin Masud: The Prophet entered Mecca and (at that time) there were three hundred-and-sixty idols around the Ka'ba. He started stabbing the idols with a stick he had in his hand and reciting: "Truth (Islam) has come and Falsehood (disbelief) has vanished."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2299

Narrated by Al-Qasim

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا کَانَتْ اتَّخَذَتْ عَلَی سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ فَهَتَکَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ فَکَانَتَا فِي الْبَيْتِ يَجْلِسُ عَلَيْهِمَا

ابراہیم بن منذر، انس بن عیاض، عبیداللہ ، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے حجرے کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، جس پر تصویریں تھیں تو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھاڑ ڈالا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کے دو گدے بنا ڈالے اور وہ دونوں گدے گھر ہی میں تھے، جس پر آپ بیٹھتے تھے

Narrated Al-Qasim: Aisha said that she hung a curtain decorated with pictures (of animates) on a cupboard. The Prophet tore that curtain and she turned it into two cushions which remained in the house for the Prophet to sit on.

Permalink