Sahih Bukhari — Hadith 1559
Narrated by Ibn Abbas.
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَی وَالِبَةَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَائَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْکُمْ بِالسَّکِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا خِلَالَکُمْ مِنْ التَّخَلُّلِ بَيْنَکُمْ وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا بَيْنَهُمَا
سعید بن ابی مریم، ابراہیم بن سوید، عمرو بن ابی عمرو (مطلب کے غلام) سعید بن جبیر (والبہ کوفی کے غلام) ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ وہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے بہت شور و غل اور اونٹوں کے مارنے کی آواز سنی، تو آپ نے ان کی طرف اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا اے لوگو! تم اطمینان کو اختیار کرو اس لئے کہ اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، أَوْضَعُوا، کے معنی ہیں أَسْرَعُوا یعنی تیز دوڑایا، خِلَالَکُمْ، التَّخَلُّلِ بَيْنَکُمْ سے ماخوذ ہے، (یعنی تمہارے درمیان) فَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا بَيْنَهُمَا ہم نے ان دونوں کے درمیان جاری کیا۔
Narrated Ibn Abbas. : I proceeded along with the Prophet on the day of 'Arafat (9th Dhul-Hijja). The Prophet heard a great hue and cry and the beating of camels behind him. So he beckoned to the people with his lash, "O people! Be quiet. Hastening is not a sign of righteousness." ________________________________________