حج کا بیان
Explanation of Hajj
1.حج کے واجب ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا قول اور اللہ کے لئے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج کرنا فرض ہے، جنہیں وہاں جانے کی قدرت ہو اور جس نے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ ساری دنیا سے بے نیاز ہے ۔2.اللہ تعالیٰ کا قول کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیدل اور اونٹ پر بہت دور دراز راستوں سے آئیں گے تاکہ وہ اپنے منافع حاصل کریں ۔فجاجا سے مراد وسیع راہیں ہیں ۔3.پالان پر سوار ہو کر حج کرنے کا بیان، اور ابان نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن دینار نے بواسطہ قاسم بن محمد، عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمن کو بھیجا تو ان کو مقام تنعیم سے عمرہ کرایا اور ان کو کجاوہ پر سوار کیا ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ حج میں پالان کو باندھو، اس لئے کہ یہ بھی ایک جہاد ہے اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن زریع نے بواسطہ عروہ بن ثابت، ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک پالان پر حج کیا ۔ حالانکہ وہ بخیل نہ تھے اور بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالان پر حج کیا اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسباب بھی تھا۔4.حج مقبول کی فضیلت کا بیان ۔5.حج اور عمرہ کی میقاتوں کا بیان ۔6.اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم زادراہ ساتھ لے کر جاو7.حج اور عمرہ کے لئے اہل مکہ کے احرام باندھنے کی جگہ کا بیان ۔8.اہل مدینہ کی میقات کا بیان اور یہ لوگ ذوالحلیفہ پہنچنے سے پہلے احرام نہ باندھیں ۔9.اہل شام کے احرام باندھنے کی جگہ کا بیان ۔10.اہل نجد کے احرام باندھنے کی جگہ کا بیان ۔11.میقاتوں سے ادھر ادھر رہنے والوں کے احرام باندھنے کی جگہ کا بیان ۔12.اہل یمن کے احرام باندھنے کی جگہ کا بیان ۔13.اہل عراق کے لئے میقات ذات عرق ہے۔14.ذوالحلیفہ میں نماز پڑھنے کا بیان ۔15.نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ کے راستے سے جانے کا بیان۔16.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ عقیق ایک مبارک وادی ہے ۔17.کپڑے سے خلوق کو تین باردھونے کا بیان ۔18.احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان اور جب احرام باندھنے کا ارادہ کرے تو کیا پہنے اور کنگھی اور تیل ڈالے، اور ابن عباس نے فرمایا ۔ محرم خوشبو سونگھ سکتا ہے اور آئینہ دیکھ سکتا ہے اور کھانے کی چیزیں روغن زیتوں اور گھی کو دوا میں استعمال کرسکتا ہے اور عطاء نے کہا کہ جائز ہے کہ انگوٹھی پہنے اور ہمیانی باندھے اور ابن عمر نے حالت احرام میں طواف کیا اس طرح کہ اپنے پیٹ پر کپڑا باندھے ہوئے تھے، عائشہ رضی اللہ عنہ نے جانگیا (سلا ہوا کپڑا) پہننے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔ ابوعبداللہ (بخاری) نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اونٹ پر ہودج کستے ہیں ۔19.تلبید کرکے احرام باندھنے کا بیان۔20.ذی الحلیفہ کے نزدیک لبیک کہنے کا بیان ۔21.محرم کون سا کپڑا پہنے ؟22.حج میں سوار ہونے اور کسی کو پیچھے بٹھانے کا بیان ۔23.محرم کپڑے، چادر اور تہہ بند میں سے کیا پہنے؟ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کسم میں رنگا ہوا کپڑا پہنا حالت احرام میں، اور عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عورتیں حالت احرام میں نقاب نہ ڈالیں، برقعہ نہ پہنیں اور نہ ایسا کپڑا پہنیں جو ورس سے رنگا ہوا ہو اور نہ زعفران سے رنگا ہوا اور جابرنے فرمایا کہ میں کسم میں رنگے ہوئے کپڑے کو خوشبو نہیں سمجھتا، اور عائشہ رضی اللہ عنہ نے زیور، سیاہ اور گلابی کپڑوں اور عورت کے لئے موزوں کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور ابراہیم نے کہا، اس میں کوئی حرج نہیں، اگر کوئی محرم کپڑے بدلے۔24.اس شخص کا بیان جو صبح تک ذی الحلیفہ میں ٹھہرے ۔ اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔25.بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان ۔26.لبیک کہنے کا بیان۔27.لبیک کہنے سے پہلے جانور پر سوار ہونے کے وقت تحمید، تسبیح اور تکبیر کہنے کا بیان۔28.اس شخص کا بیان جو اس وقت لبیک کہے جب کہ اس کی سواری سیدھی کھڑی ہوجائے۔29.قبلہ رو ہو کر احرام باندھنے کا بیان ۔ ابومعمر نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بواسطہ ایوب، نافع سے روایت کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب صبح کی نماز ذی الحلیفہ میں پڑھ لیتے تو اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیتے ۔ جب سواری تیار ہوجاتی تو اس پر سوار ہوجاتے جب وہ سیدھی کھڑی ہوجاتی تو قبلہ کی طرف کھڑے کھڑے منہ کرلیتے، جب مقام طوٰی میں پہنچتے تو وہاں رات گزارتے، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی، جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو غسل کرتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے، اسمعیل نے ایوب سے غسل کے متعلق اس کے متابع حدیث روایت کی ہے ۔30.وادی میں اترتے وقت لبیک کہنے کا بیان ۔31.حیض ونفاس والی عورت کس طرح احرام باندھے۔ اہل تکلم بہ (یعنی گفتگو کی) کے معنی میں بولتے ہیں اور استھللنا واھللنا الھلال یہ سب ظہور کے معنی میں بولتے ہیں ۔ واستھل المطھر کے معنی ہیں بادل سے نکلا اور ما اھل لغیر اللہ بہ میں اھل استھلال الصبی سے ماخوذ ہے32.اس شخص کا بیان جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا احرام باندھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (امام بخاری اس بات کی احادیث سے یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مبہم طور پر احرام باندھے کہ فلاں شخص نے جیسا احرام باندھا ہے میں بھی ویسا ہی احرام باندھتا ہوں تو ایسا کرنا جائز ہے ۔ حنفیہ کے نزدیک بھی ایسا احرام باندھے تو احرام صحیح ہوجاتا ہے مگر افعال حج یا عمرہ شروع کرنے سے پہلے احرام کی تعین ضروری ہے ۔)33.اللہ تعالیٰ کا قول کہ حج کے چند مہینے مقرر ہیں جس نے ان مہینوں میں حج کا ارادہ کیا، تو نہ جماع کرے اور نہ گناہ کا کام کرے اور نہ جھگڑا کرے، لوگ آپ سے چاند سے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیں، یہ لوگوں کے لئے اور حج کے لئے وقت معلوم کرنے کا ایک ذریعہ ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے مہینے شوال، ذی قعدہ، اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں اور ابن عباس نے فرمایا کہ سنت یہ ہے کہ حج کے مہینے ہی میں حج کا احرام باندھے اور عثمان رضی اللہ عنہ نے خراسان یا کرمان سے احرام باندھ کر چلنے کو مکروہ سمجھا ہے (دور دراز سے احرام باندھنے کی صورت میں احرام کی پابندیوں کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہے اس لئے اسے پسند نہیں فرمایا)34.تمتع، قران، اور افراد حج کا بیان اور اس شخص کا حج کو فسخ کردینا، جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو۔35.اس شخص کا بیان جو حج کا لبیک کہے اور حج کا نام لے ۔36.نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمتع کرنے کا بیان ۔37.اللہ بزرگ وبرتر کا قول کہ یہ ان کے لئے ہے جو خانہ کعبہ کے پاس رہتے ہوں، اور ابوکامل فضیل بن حسین بصری نے کہا۔38.مکہ میں داخل ہونے کے وقت غسل کرنے کا بیان ۔ (حافظ ابن حجر نے ابن المنذر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر مستحب ہے لیکن اگر کوئی نہ کرے تو اس پر فدیہ وغیرہ بھی نہیں ہے)39.مکہ میں دن یا رات کو داخل ہونے کا بیان ۔40.مکہ میں کس جانب سے داخل ہو؟41.مکہ سے کس طرف نکلے؟42.مکہ کی فضیلت اور اس کی عمارتوں کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے لوٹ کر آنے کی جگہ اور اس کا مقام بنایا اور و مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناو43.حرم کی فضیلت کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ میں حکم دیا گیا ہوں کہ اس شہر کے رب کی عبادت کروں، جس نے اس کو حرام کیا ہے اور اسی کے لئے تمام چیزیں ہیں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان ہوجاو44.مکہ کے گھروں میں میراث جاری ہونے کا اور اس کے خریدنے اور بیچنے کا بیان۔ اور یہ کہ لوگ خاص مسجد حرام میں برابر ہیں، اللہ تعالیٰ کا قول کی بناء پر کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے اور خانہ کعبہ سے روکتے ہیں جس کو ہم نے لوگوں کے یکساں بنایا ہے وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے رہنے والے اور جس نے الحاد کے ساتھ ظلم کا ارادہ کیا تو ہم اس کو دردناک عذاب چکھائیں گے، ابوعبداللہ (بخاری) نے کہا کہ بادی سے مراد ہے باہر سے آنے والا، محبوس کے معنی ہیں رکے ہوئے ۔45.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں اترنے کا بیان ۔46.اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ نے بیت حرام (کعبہ) کو لوگوں کے ٹھہرنے کا ذریعہ بنایا اور مہینے کو حرام بنایا ۔ ان اللہ بکل شیء علیم تک۔47.کعبہ پر غلاف چڑھانے کا بیان۔48.کعبہ کے منہدم کرنے کا بیان، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا اور وہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔49.ان روایتوں کا بیان جو حجر اسود کے بارے میں منقول ہیں ۔50.خانہ کعبہ کا دروازہ بند کرنے کا بیان اور خانہ کعبہ میں جس طرف چاہے نماز پڑھے ۔51.کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان ۔52.اس شخص کا بیان جو کعبہ میں داخل نہ ہو اور ابن عمر رضی اللہ عنہ اکثر حج کرتے، لیکن خانہ کعبہ میں داخل نہ ہوتے ۔53.اس شخص کا بیان جو اطراف کعبہ میں تکبیر کہے ۔54.رمل کی ابتداء کیونکر ہوئی؟55.حج اور عمرہ میں رمل کرنے کا بیان ۔56.لاٹھی کے ذریعہ حجر اسود کو بوسہ دینے کا بیان ۔57.اس شخص کا بیان جو صرف دونوں رکن یمانی کو بوسہ دے اور محمد بن بکر نے بواسطہ ابن جریج، عمرو بن دینار، ابوالشعشاء سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا، کون ہے جو خانہ کعبہ کی کسی چیز سے پرہیز کرے اور معاویہ رضی اللہ عنہ رکنوں کو چھوتے تھے، تو ان سے ابن عباس نے فرمایا کہ ہم لوگ ان دونوں کو نہیں چھوتے تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ خانہ کعبہ کی کوئی چیز چھوڑنے کی نہیں اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سب کو بوسہ دیتے تھے ۔58.حجر اسود کو بوسہ دینے کا بیان ۔59.حجر اسود کے پاس آکر اشارہ کرنے کا بیان ۔60.حجر اسود کے نزدیک تکبیر کہنے کا بیان ۔61.اس شخص کا بیان، جو مکہ میں آئے اور گھر لوٹنے سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر صفاکی طرف نکلے۔62.مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنے کا بیان اور مجھ سے عمر بن علی نے بواسطہ ابوعاصم، ابن جریج، عطاء بیان کیا کہ جب ابن ہشام نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کیا تو عطاء بن ابی رباح نے کہا، تو انہیں کیونکر روکتا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے مردوں کے ساتھ حج کیا ۔ میں نے پوچھا، پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ؟ انہوں نے کہا قسم ہے میری عمرکی، میں نے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ان کو دیکھا ہے ، میں نے پوچھا مرد، ان عورتوں سے ملتے نہیں تھے، عائشہ رضی اللہ عنہ مردوں سے جدا رہ کر طواف کرتی تھیں، ایک عورت نے کہا، ام المومنین چلئے حجر اسود کو بوسہ دیں ۔انہوں نے کہا تو چل اور انکار کردیا اور ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس طرح نکلتیں کہ پہچانی نہ جاتیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتیں، لیکن جب وہ خانہ کعبہ میں داخل ہونا چاہتیں تو باہر ہی کھڑی رہتیں ، جب مرد باہر نکل جاتے تو اندر جاتیں ، تو میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے اور وہ جوف ثبیر میں ٹھہرتی تھیں،میں نے ان سے پوچھا ان کا پردہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا وہ ایک ترکی قبہ میں تھیں ، ان پر پردہ پڑا تھا اس قبہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کےدرمیان اس کے علاوہ کوئی پردہ حائل نہ تھا اور میں نے ان کو گلابی رنگ کا کرتہ پہنے ہوئے دیکھا63.طواف میں گفتگو کرنے کا بیان ۔64.جب طواف میں تسمہ یا کوئی مکروہ چیز دیکھے، تو اس کو کاٹ دے ۔65.کوئی شخص ننگا ہو طواف نہ کرے اور نہ مشرک حج کرے ۔66.نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا اور سات پھیرے دینے کے بعد دو رکعت نماز پڑھی، اور نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر سات پھیروں پر دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور اسماعیل بن امیہ نے کہا کہ میں نے زہری سے کہا کہ عطاء کہتے تھے، کہ طواف کی دو رکعتوں کی جگہ فرض کی دو رکعتیں کافی ہیں، زہری نے کہا کہ سنت پر عمل کرنا افضل ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی سات پھیرے کئے دو رکعتیں پڑھیں ۔67.اس شخص کا بیان جو کعبہ کے پاس نہ گیا، اور نہ طواف کیا، یہاں تک کہ عرفات چلا گیا اور طواف اول کے بعد واپس ہو۔68.اس شخص کا بیان جس نے مسجد کے باہر طواف کی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے حرم سے باہر نماز پڑھی۔69.اس شخص کا بیان جس نے مقام ابراہیم کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں پڑھیں ۔70.فجر اور عصر کے بعد طواف کرنے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ طواف کی دو رکعتیں نماز پڑھتے تھے، جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجاتا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز کے بعد طواف کیا، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ ذی طوی میں دو رکعتیں پڑھیں ۔ (حنفیہ کے ہاں نماز فجر کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہے ۔ جب سورج طلوع ہوجائے اور وقت مکروہ نکل جائے تب نماز پڑھنی چاہیے)71.مریض کا سوار ہو کر طواف کرنے کا بیان ۔72.حاجیوں کو پانی پلانے کا بیان ۔73.ان روایتوں کا بیان جو زمزم کے متعلق منقول ہیں، اور عبدان نے بواسطہ عبد اللہ، یونس، زہری، انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری چھت کھول دی گئی، اس حال میں کہ میں مکہ میں تھا، پس جبریل اترے اور میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اس کو زمزم کے پانی کے ساتھ دھویا، پھر ایک سونے کا طشت لے کر آئے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، تو اس کو میرے سینہ میں انڈیل دیا، پھر اس کو جوڑ دیا، اور میرے ہاتھ پکڑ کر آسمان دنیا پر چڑھالے گئے تو جبریل نے آسمان دنیا کے خازن سے کہا کہ کھولو، پوچھا کون؟ کہا جبریل!74.قران کرنے والے کے طواف کا بیان ۔75.باوضو طواف کرنے کا بیان ۔76.صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا واجب ہونا اور یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بنائی گئی ہیں ۔77.صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعی دار بنی عباد سے بنی ابی حسین کے کوچوں تک ہے ۔78.حائضہ خانہ کعبہ کے طواف کے سوا تمام ارکان بجالائے اور جب صفا اور مروہ کے درمیان بغیر وضو کے سعی کرے ۔79.یوم ترویہ میں ظہر کی نماز کس مقام پر پڑھے۔80.منیٰ میں نماز پڑھنے کا بیان ۔81.عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔82.منیٰ سے عرفہ کو واپسی کے وقت لبیک کہنے اور تکبیر کا بیان ۔83.عرفہ کے دن دوپہر کو روانہ ہونے کا بیان ۔84.عرفہ میں سواری پروقوف کرنے کا بیان ۔85.عرفہ میں خطبہ مختصر پڑھنے کا بیان ۔86.عرفہ میں ٹھہر نے کا بیان ۔87.عرفہ سے واپسی کے وقت چلنے کی کیفیت کا بیان۔88.عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان۔89.عرفہ سے لوٹنے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اطمینان سے چلنے کا حکم دینا اور لوگوں کی طرف کوڑے سے اشارہ کرنے کا بیان ۔90.مزدلفہ میں دونوں نمازوں کے جمع کرنے کا بیان ۔91.اس شخص کا بیان جو ان دونوں نمازوں کو جمع کرے اور نفل نہ پڑھے۔92.اس شخص کا بیان جو ان دونوں نمازوں میں سے ہر ایک کے لئے اذان واقامت کہے ۔93.اس شخص کا بیان جو اپنے گھر کے کمزوروں کو رات کو بھیج دے تاکہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور جب چاند ڈوب جائے توبھیجے۔94.اس شخص کا بیان جو مزدلفہ میں صبح کی نماز پڑھے ۔95.مزدلفہ سے کب واپس ہو؟96.یوم نحر کی صبح کو رمی جمرہ کے وقت تلبیہ اور تکبیر کا بیان اور راستہ چلنے میں اپنے پیچھے کسی کو بٹھانے کا بیان ۔97.اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو عمرہ کے ساتھ حج کو ملا کر تمتع کرے تو اس کو جو قربانی میسر ہو کرلے اور جس کو میسر نہ ہو تو حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور سات روزے جب تم لوٹ کر جاو98.قربانی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قربانی کے جانور کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانی مقرر کی ہے اس میں تمہارے لئے بھلائی ہے اور تو صف بستہ ہو کر اس پر اللہ کا نام لوجب وہ اپنے پہلو کے بل گرجائیں تو اس میں سے کھاو99.اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے ۔100.اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور راستہ میں خرید لے ۔101.اس شخص کا بیان جس نے ذی الحلیفہ میں اشعار (نشانی) اور تقلید (قلادہ) کی پھر احرام باندھا، نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب مدینہ سے قربانی کا جانور لے جاتے تو ذی الحلیفہ میں اسکی تقلید اور اشعار کرتے اس کے دائیں کوہان میں چھری سے مارتے اس حال میں کہ وہ جانور قبلہ رو لیٹا ہوتا۔102.قربانی کے جانور اور گایوں کے لئے ہار بٹنے کا بیان۔103.قربانی کے جانور کے اشعار کرنے کا بیان اور عروہ مسور رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی تقلید کی اور اس کا اشعار کیا اور عمرہ کا احرام باندھا ۔104.اس شخص کا بیان جو ہاروں کو اپنے ہاتھ سے بٹے ۔105.بکریوں کے گلے میں ہار ڈالنے کا بیان ۔106.روئی کے ہار بٹنے کا بیان ۔107.جوتوں کا ہار بنانے کا بیان ۔108.قربانی کے جانور کو جھول ڈالنے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ جھول کو صرف کوہان کی جگہ سے پھاڑتے تھے اور جب ذبح کرلیتے تو جھول اس ڈر سے اتار دیتے کہ خون کی وجہ سے خراب نہ ہوجائے پھر اس کو خیرات کردیتے ۔109.اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور راستہ سے خرید لے اور اس کو ہار پہنائے ۔110.اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے ذبح کرنے کا بیان ۔111.منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے کی جگہ پر قربانی کرنے کا بیان ۔112.اس شخص کا بیان جو اپنے ہاتھ سے نحر کرے ۔113.اونٹ کو باندھ کرنحر کرنے کا بیان ۔114.اونٹ کو کھڑا کرکے نحر کر نے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ابن عباس نے فرمایا صواف سے مراد یہ ہے کہ وہ کھڑی ہوں ۔115.قصاب کو قربانی سے کچھ بھی نہ دیا جائے ۔116.قربانی کی کھالوں کے خیرات کئے جانے کا بیان۔117.قربانی کے جانوروں کی جھولوں کے خیرات کئے جانے کا بیان ۔118.اس امر کا بیان کہ قربانی کے جانوروں سے کیا کھائے اور کیا خیرات کرے، اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے بواسطہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ شکار کے بدلہ میں سے اور نذر میں سے نہ کھایا جائے اور اس کے علاوہ کھائے اور عطاء نے کہا کہ تمتع کی قربانی میں سے خود کھائے اور دوسروں کو کھلائے۔119.سر منڈانے سے پہلے ذبح کرنے کا بیان۔120.اس شخص کا بیان جواحرام کے وقت اپنے سر کے بالوں کو جمالے اور احرام سے نکلتے وقت حلق کرانے کا بیان ۔121.احرام کھولتے وقت سر منڈانے یا بال کتروانے کا بیان ۔122.تمتع کرنے والے کا عمرہ کے بعد بال کتروانے کا بیان ۔123.قربانی کے دن زیارت کرنے کا بیان، اور ابوالزبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک موخر کیا124.شام ہونے کے بعد کوئی شخص رمی کرے یا بھول کر یا ناواقفیت میں ذبح کرنے سے پہلے سر منڈالے۔125.جمرہ کے نزدیک سوار ہو کر لوگوں کو مسئلہ بتانے کا بیان ۔126.ایام منیٰ میں خطبہ دینے کا بیان۔127.کیا پانی والے یا دوسرے لوگ منیٰ کی راتوں میں مکہ میں رات گزاریں ؟128.رمی جمار (کنکریاں مارنے) کا بیان اور جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کی اور اس کے بعد زوال کے بعد رمی کی ۔129.بطن وادی (یعنی وادی کے نشیب) سے رمی جمار کرنے کا بیان۔130.سات کنکریاں مارنے کا بیان اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔131.اس شخص کا بیان جو رمی جمرہ عقبہ کرے اور خانہ کعبہ کو اپنے بائیں طرف کرے ۔132.ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنے کا بیان ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔133.جب دونوں جمروں کی رمی کرے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے زمین پر کھڑا ہو۔134.قریب والے اور درمیانی جمرہ کے پاس دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان ۔135.رمی جمار کے بعد خوشبو لگانے اور طواف زیارت سے پہلے سر منڈانے کا بیان ۔136.طواف وداع کرنے کا بیان ۔137.طواف زیارت کے بعد عورت کو حیض آجانے کا بیان ۔138.اس شخص کا بیان جس نے روانگی کے دن ابطح میں عصر کی نماز پڑھی۔139.محصب میں اترنے کا بیان۔140.مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں اور مکہ سے واپسی کے وقت اس بطحاء میں اترنے کا بیان جو ذی الحلیفہ میں ہے۔141.حج کے زمانہ میں تجارت کرنے اور جاہلیت کے بازاروں میں خرید وفروخت کرنے کا بیان ۔142.محصب سے اخیر رات کو چلنے کا بیان۔