Narrated by Salim
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَالِمٌ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ فَيَذْکُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَرْجِعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًی لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِکَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَرْخَصَ فِي أُولَئِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اپنے گھر کے کمزوروں کو بھیج دیتے تھے تو وہ لوگ مشعر حرام کے پاس مزدلفہ میں رات کو ٹھہرتے اور ذکر الہی کرتے جس قدر ان کا جی چاہتا، پھر امام کے ٹھہر نے اور واپس ہونے سے پہلے وہ لوگ لوٹ جاتے، بعض تو نماز فجر کے وقت منیٰ پہنچتے اور بعض اس کے بعد آتے جب وہ لوگ منیٰ پہنچتے، تو جمرہ عقبہ پر رمی کرتے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے اجازت دی ہے۔
Narrated Salim: 'Abdullah bin 'Umar used to send the weak among his family early to Mina. So they used to depart from Al-Mash'ar Al-Haram (that is Al-Muzdalifa) at night (when the moon had set) and invoke Allah as much as they could, and then they would return (to Mina) before the Imam had started from Al-Muzdalifa to Mina. So some of them would reach Mina at the time of the Fajr prayer and some of them would come later. When they reached Mina they would throw pebbles on the Jamra (Jamrat-al-Aqaba) Ibn 'Umar used to say, "Allah's Apostle gave the permission to them (weak people) to do so."
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ابن عباس نے بیان کیا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے رات کو بھیجا۔
Narrated Ibn Abbas : Allah's Apostle had sent me from Jam' (i.e. Al-Muzdalifa) at night.
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ
علی رضی اللہ عنہ، سفیان، عبیداللہ بن ابی یزید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات میں اپنے گھر والوں کے کمزوروں کے ساتھ بھیجا۔
Narrated Ibn Abbas: I as among those whom the Prophet sent on the night of Al-Muzdalifa early being among the weak members of his family.
Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَی أَسْمَائَ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَامَتْ تُصَلِّي فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْت نَعَمْ قَالَتْ فَارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا وَمَضَيْنَا حَتَّی رَمَتْ الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتْ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا يَا هَنْتَاهُ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ يَا بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
مسدد، یحیی، ابن جریج، عبداللہ (اسماء رضی اللہ عنہ کے غلام) اسماء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مزدلفہ کی رات مزدلفہ کے پاس اتریں، اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، چنانچہ ایک گھنٹہ تک نماز پڑھی پھر کہا کہ اے بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ ہاں، انہوں نے کہا کہ کوچ کرو، تو ہم لوگوں نے کوچ کیا اور چلتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے کنکریاں ماریں، پھر واپس ہوئیں، اور صبح کی نماز اپنے ٹھہرنے کی جگہ میں پڑھی، عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے تاریکی میں نماز پڑھ لی تو انہوں نے کہا اے بیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔
Narrated 'Abdullah: (the slave of Asma') During the night of Jam', Asma' got down at Al-Muzdalifa and stood up for (offering) the prayer and offered the prayer for some time and then asked, "O my son! Has the moon set?" I replied in the negative and she again prayed for another period and then asked, "Has the moon set?" I replied, "Yes." So she said that we should set out (for Mina), and we departed and went on till she threw pebbles at the Jamra (Jamrat-al-Aqaba) and then she returned to her dwelling place and offered the morning prayer. I asked her, "O you! I think we have come (to Mina) early in the night." She replied, "O my son! Allah's Apostle gave permission to the women to do so."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَکَانَتْ ثَقِيلَةً ثَبْطَةً فَأَذِنَ لَهَا
محمد بن کثیر، سفیان، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سودہ رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ کی رات کو کوچ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، وہ بوجھل اور بھاری بدن کی تھیں تو آپ نے انہیں اجازت دیدی۔
Narrated 'Aisha : Sauda asked the permission of the Prophet to leave earlier at the night of Jam', and she was a fat and very slow woman. The Prophet gave her permission.
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَاسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَکَانَتْ امْرَأَةً بَطِيئَةً فَأَذِنَ لَهَا فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَأَقَمْنَا حَتَّی أَصْبَحْنَا نَحْنُ ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ فَلَأَنْ أَکُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
ابونعیم، افلح بن حمید، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ مزدلفہ میں اترے تو سودہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کی روانگی سے پیشتر روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور وہ سست رفتار عورت تھیں، تو آپ نے اجازت دیدی، وہ لوگوں کے ہجوم سے پہلے ہی روانہ ہوگئیں، اور ہم لوگ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی، پھر ہم لوگ آپ کے ساتھ لوٹے اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتی جیسا کہ سودہ رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تھی تو میرے لئے بہت ہی خوشی کی بات ہوتی۔
Narrated 'Aisha: We got down at Al-Muzdalifa and Sauda asked the permission of the Prophet to leave (early) before the rush of the people. She was a slow woman and he gave her permission, so she departed (from Al-Muzdalifa) before the rush of the people. We kept on staying at Al-Muzdalifa till dawn, and set out with the Prophet but (I suffered so much that) I wished I had taken the permission of Allah's Apostle as Sauda had done, and that would have been dearer to me than any other happiness. ________________________________________